Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1098

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حدثنا بن جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَطَاءٍ أَيُّ حِينٍ1 أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ لِلْعَتَمَةِ إِمَّا إِمَامًا وَإِمَّا خَلْوًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا، وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا، فَقَالَ عُمَرُ رضي الله تعالى عَنْهُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ تَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يصلوا هكذا" 2. 34:3

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے رات کی نماز ادا کرنے میں تا خیر کر دی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے پھر وہ بیدار ہو گئے ، تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی : نماز، نماز، تو نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ( حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ) گویا کہ یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: " اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں ہدایت کرتا کہ وہ اسے اسی طرح ادا کریں ( یعنی عشا کی نماز کو اسی وقت میں ادا کیا کریں )

بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1098

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1099

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، حدثنا بن جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنَا ابْنِ عُمَرَ، إِنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شُغِلَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَنْ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ يَنْتَظِرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ الصَّلَاةَ غيركم" 1. 34:3

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ عشا کی نماز کے وقت کسی کام میں مصروف رہے، یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں ہی سو گئے پھر ہم بیدار ہو گئے پھر ہم سو ھئے پھر ہم بیدار ہو گئے پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لوئے اور آپ نے فرمایا: " اس وقت رائے زمین پر تمہارے علاوہ اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1099

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1100

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ لِي: مَا حَاجَتُكَ؟ قُلْتُ لَهُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بعد الغائط والبول، وكنت امرأ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ1 -أَوْ مُسَافِرِينَ- أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أيام

زربن حبیش بیان کرتے ہیں : میں حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے دریافت کیا تمہیں کیا کام ہے۔ میں نے ان سے گزارش کی علم کا حصول انہوں نے فرمایا: فرشتے طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے کہا پیشاب کرنے کے بعد ( وضو کرتے ہوئے ) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں میں آپ کے پاس اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی بات سنی ہے، تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم لوگ سفر کی حالت میں ہوں ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جب ہم مسافر ہوں ، تو ہم تین دن اور تین راتوں تک اپمے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے تاہم پاخانہ یا پیشاب یا سونے ( کی وجہ سے وضو ختم ہونے کی صورت میں ہم موزے نہ اتاریں) ( امام ابن حبان رحمتہاللہ علیہ فرماتے ہیں ) رقاد ( رعنی سونے ) کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام ہے۔ اس کا آغاز وہ اونگھ ہے، جو نیند کے شروع میں ہوتی ہے، اور اس کی یہ حالت ہوتی ہے، اس دوران اگر آدمی کے ساتھ کلام کیا جائے، تو وہ سن لیتا ہے اور اگر بے وضو ہو جائے ، تو اسے یہ پتہ ہوتا ہے البتہ اگر وہ ایک طرف ڈھلک جائے ( تو معاملہ مختلف ہے ) اور اس کا اختتام یعنی شعور کا زائل ہو جانا ہے۔ اور اس کی حالت یہ ہوتی ہے ، جب آدمی اس حالت کے دوران بے وضو ہو جائے ، تو اسے پتہ نہیں چلتا اور اگر اس کے ساتھ کلام کیا جائاے تو اسے پتہ نہیں چلتاتو اونگھ کسی بھی شخص پر وضو کو لازم نہیں کر تی ہےخواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو خواہ اونگھنے کی حالت کوئی سی بھی ہو جبکہ نیند وضو کو لازم کر دیتی ہے۔ خواہ وہ کسی بھی حالت میں پائی جائے جو سونے والی کی ہوتی ہے ۔ اس کے ہمراہ بعض اوقات لفظ نوم ( یعنی نیند ) کا اطلاق نعاس ( یعنی اونگھ ) پر بھی ہوتا ہے، اور لفظ نعاس کا اطلاق لفظ نوم پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں کا معنی مختلف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کو بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " اسے اونگھ نہیں آتی ہے اور نیند بھی نہیں آتی ہے " تو جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت صفوان کی نقل کردہ روایت میں نیند ، پاخانے اور پیشاب کو وضو کرنے والی چیزوں میں شامل کر لیا تو جس طرح پیشاب اور ماخانے میں کوئی فرق نہیں ہے یہ دونوں جس کسی سے بھی صادر ہوں گے خواہ وہ تھورے ہو ں یا زیادہ اس شخص پر وضو لازم ہو جائیگا ۔ خواہ پیشاب کرنے والا شخص بیتھ کر کرے یا کھڑے ہو کر کرے یا رکوع کی حالت میں کرے یا سجدے کی حالت میں کرے ، تو ہر وہ شخص جس کی عقل زائل ہو جائے اور وہ سو جائے تو اس پر وضو کرنا لازم ہو جائے گا ۔ خواہ اس کی حالتوں میں اختلاف ہو یا حلتوں میں اتفاق ہو ، کیونکہ اس میں بنیادی علت عقل کا زائل ہو جانا ہے۔ حالت کا تبدیل ہونا بنیادی علت نہیں ہے۔ جیسا کہ پیشاب اور پاخانے میں علت ان دونون کا پایا جانا ہے ۔ پیشاب کرنے والے یا پاخانہ کرنے والے کی حالت کو متغیر ہونا ( علت نہیں ) ہے۔

زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1100

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3706

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ،عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَجَّ بِنَسَائِہِ قَالَ : اِنَّمَا ھِیَ ھٰذِہِ الْحِجَّۃُ ، ثُمَّ عَلَیْکُمْ بِظُھُوْرِالْحُصُرِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : خِطَابُ ھٰذَا الْخَبَرِ وَقَعَ عَلٰی بَعْضِ النِّسَاءِ، اَرَادَ بِہٖ نِسَاءَۃُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَالْقصْدُ فِیہِ بَعْضُ الْاَحْوَالِ ، وَھُوَ الْحَالُ الَّذِی لَا یَکُوْنُ عَلَیْھِنَّ اِقَامَۃُ الْفَرَائِضِ فِیہِ کَالصَّلَاۃِ ،وَالْحَجِّ ، وَمَا اَشْبَھَھُمَا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کے ہمراہ حج کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک یہ حج ہے اور پھر تم پر گھر میں رہنا لازم ہیں۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت کے الفاظ بعض خواتین کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مراد نبی اکرم ﷺ کی ازواج ہیں اور اس میں قصد بعض حالتوں کا کیا گیا ہے۔ اور یہ وہ حالت ہے کہ جب ان خواتین پر اس حالت کے دوران فرائض کو قائم کرنا لازم نہیں تھا جیسے نماز ادا کرنا اور اس جیسے دیگر امور۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3706

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3707

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قَوْلِهِ: {بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [التوبة: 1] ، قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، ثُمَّ أَمَّرَ أَبَا بَكْرٍ عَلَى تِلْكَ الحجة1. [1:4]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں۔ " اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اظہار لا تعلقی ہے"۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ حنین سے واپس تشریف لائے، تو جعرانہ " سے عمرہ کیا تھا پھر آپ نے اس حج کے موقع پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو امیر مقرر کیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قَوْلِهِ: {بَرَاءَةٌ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [التوبة: ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3707

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3708

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بْنِ زِيَادَةَ بْنِ الطُّفَيْلِ اللَّخْمِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا بِالْحَزْوَرَةِ يَقُولُ: "وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أخرجت منك ما خرجت" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عدی زہری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ اپنی سواری پر حزورہ کے مقام پر وقوف کئے ہوئےتھے اور یہ فرما رہے تھے۔ " (اے مکہ) اللہ کی قسم! بے شک تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر (حصہ) ہے اور تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ کی زمیں میں سے سب سےپسندیدہ (جگہ ہے) اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا، تو میں تجھ سے نہ نکلتا"۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاقِفًا ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيَّ، ← الزُّهْرِيِّ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بْنِ زِيَادَةَ بْنِ الطُّفَيْلِ اللَّخْمِيُّ أَبُو الْعَبَّاسِ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3708

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3709

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بن الحسن الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ1 خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلْدَةٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي منك، ما سكنت غيرك" 2. [2:1]

حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " (ا ے مکہ ) تو کتنا پاکیزہ شہر ہے؟ اور مجھے کتنا محبوب ہے؟ اگر میری قوم نے مجھے تجھ سے نکالا نہ ہوتا ، تو میں تیرے علاوہ اور کہیں رہائش نہ اختیار نہ کرتا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← فُضَيْلُ بن الحسن الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3709

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3710

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَرَشِيُّ، حَدَّثَنَا مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ: "الرُّكْنُ وَالْمَقَامُ يَاقُوتَتَانِ مَنْ يَوَاقِيتِ الْجَنَّةِ، وَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ طَمَسَ عَلَى نُورِهِمَا، لَأَضَاءَتَا ما1 بين المشرق والمغرب" 2. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں:۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : آپ نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگا ئی ہوئی تھی۔ " حجرا سود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یواقیت میں سے یاقوت ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے نور پر پر دہ نہ ڈالا ہوتا، تو یہ مشرق اورمغرب کے درمیان کی جگہ کو روشن کر دیتے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ، ← رَجَاءُ بْنُ صُبَيْحٍ الْحَرَشِيُّ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3710

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3711

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "أن لِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ يوم القيامة بحق" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " (قیامت کے دن ) اس حجرا سو د کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہونگے اور یہ قیامت کے د ن ہر اس شخص کے بارے میں حق کے ہمراہ گواہی دے گا، جس نے اس کا استلام کیا تھا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3711

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3712

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ هَذَا الرُّكْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ ينطق به ويشهد لمن استلمه بحق" 1.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس حجرا سود کو ضرور ایسی حالت میں اٹھا ئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہو گی، جن کی مدد سے وہ دیکھتا ہو گا اور ایک زبان ہو گی، جس کی مدد سے وہ کلام کرتا ہو گا اور یہ ہر اس شخص کے بارے میں حق کے ہمراہ گواہی دے گا، جس نے اس کا استلام کیا تھا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← بْنِ خُثَيْمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3712

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3713

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ، حدثنا حجاج بن شاعر، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ جِبْرِيلَ حِينَ1 رَكَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِهِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَاءَ". قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "رَحِمَ اللَّهُ هَاجَرَ، لَوْ تركتها كانت عينا معينا" 2. [4:3]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب جبرائیل نے زمزم کے مقام پر اپنی ایڑی ماری، تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ نے مٹی کو اکٹھا کرنا شروع کیا ( تا کہ پانی کے گرد آڑ بنا لیں) نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہاجرہ پر رحم کرے، اگر وہ اسے ایسے ہی رہنے دیتی، تو یہ ایک بہتا ہوا بڑا چشمہ ہوتا ہے"۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← حجاج بن شاعر، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3713

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الرَّحْمَۃِ · حديث 462

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ أَقُولُ حَدَّثَنِي فقَالَ أَلَيْسَ إِذَا قَرَأْتُهُ عَلَيَّ فَقَدْ حَدَّثْتُكَ بِهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ يَقُولُ "إِنَّ الرَّحْمَةَ لَا تنزع إلا من شقي" 1. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں :میں حضرت ابو القاسم ؓ جو صادق اور مصدوق ہیں ‘ انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’رحمت ‘ صرف بد بخت سے الگ کی جاتی ہے ‘‘۔

"إِنَّ الرَّحْمَةَ لَا تنزع إلا من شقي" ← أَبَا الْقَاسِمِ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا عُثْمَانَ ← فقَالَ أَلَيْسَ إِذَا قَرَأْتُهُ عَلَيَّ فَقَدْ حَدَّثْتُكَ بِهِ ← إِلَيَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ أَقُولُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The gate of the womb · Hadith 462

chevron_left Previous
1…747576…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr