Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3048

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَازَةِ قَالَ: وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهَا وَأَبَا1 بَكْرٍ وعمر وعثمان قال الزهري: وكذلك السنة2. [1:4]

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور یہ بات بیان کرتے تھے: نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ بھی جنازے کے آگے چلا کرتے تھے۔ زہری بیان کرتے ہیں: سنت بھی یہی ہے۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in carrying the funeral and its saying · Hadith 3048

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3049

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الرَّاكِبُ فِی الْجَنَازَۃِ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ ، وَالْمَاشِی حَیْثُ شَاءَ مِنْھَا ، وَالطِّفْلُ یُصَلّٰی عَلَیْہِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جنازے کے ساتھ سوار ہو کر چلنے والا جنازے کے پیچھے چلے گا اور پیدل چلنے والا جہاں چاہے گا چلے گا اور ( نا بالغ) بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔"

"الرَّاكِبُ فِی الْجَنَازَۃِ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ وَالْمَاشِی حَیْثُ شَاءَ مِنْھَا وَالطِّفْلُ یُصَلّٰی عَلَیْہِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أَبِيهِ ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in carrying the funeral and its saying · Hadith 3049

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3050

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا ذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ قَالَ: "إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً فَقُومُوا" 1. [96:1]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ایک جنازہ ہمارے پاس سے گزرا نبی اکرم ﷺ اس کے لیے کھڑے ہو گئے جب ہم اسے کندھا دینے کے لیے آگے بڑھے، تو وہ ایک یہودی کا جنازہ تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: موت کی مخصوص گھبراہٹ ہوتی ہے جب تم جنازے کو دیکھا کرو، تو کھڑے ہو جایا کرو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3050

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3051

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فقوموا حتى تخلفكم أو توضع" 1. [96:1]

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ' جب تم جنازے کو دیکھو، تو کھڑے ہو جاو، یہاں تک کہ وہ آگے گزر جائے یا اسے (زمین پر) رکھ دیا جائے۔"

عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3051

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3052

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ: حدثني الليث بن سعد عن بن شهاب عن سالم عن بن عُمَرَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: "إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ" 1. [96:1]

حضرت عامر بن ربیعہ عدوی رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب تم جنازے کو دیکھو، تو اس کے لیے کھڑے ہو جاو، یہاں تک کہ وہ آگے گزر جائے۔"

"إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ" ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيِّ ← بن عُمَرَ ← سَالِمٍ ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3052

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ · حديث 3053

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَمُرُّ بِنَا جَنَازَةُ الْكَافِرِ أَفَنَقُومُ لَهَا؟ قال: "نعم فَقُومُوا لَھَا ، فَاِنَّکُمْ لَسْتُمْ تَقُومُوْنَ لَھَا ، اِنَّمَا تَقُومُوْنَ اِعْظَامًا لِلَّذِی یَقْبِضُ الْاَرْوَاحَ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیااس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے پاس سے بعض اوقات کسی کافر کا جنازہ بھی گزرتا ہے، تو کیا ہم اس کے لیے بھی کھڑے ہو جائیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں تم اس کے لیے کھڑے ہو جاو، کیونکہ تم اس میت کے لیے کھڑے نہیں ہو رہے بلکہ تم اس کے احترام میں کھڑے ہو رہے ہو، جو روح کو قبض کرتا ہے۔

سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on standing up for funeral · Hadith 3053

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1092

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ حَنْطَبٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، يُسْنِدُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ1. 1:4

مطلب بن حنطب بیان کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ تین مرتبہ وضو کرتے تھے اور اس بات کی نسبت حضرت محمد ﷺ کی طرف کرتے تھے۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1092

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1093

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَنَا فِي الْبَيْتِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ1. 2:5

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے " دو مرتبہ " وضو کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1093

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1094

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ2 بْنِ يُوسُفَ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زيد بن الحباب، عن بن ثَوْبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عن الأعرج عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ توضأ مرتین مرتین۔ 4:1

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے "دو مرتبہ" وضو کیا

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← بن ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ2 بْنِ يُوسُفَ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1094

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1095

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم، فتوضأ مرة مرة2. 1:4

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے وضو کے بارے میں تم سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ ( بھی) وضو کیا۔

أَعْلَمُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ، فتوضأ مرة مرة2. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1095

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1096

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، أَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا أَتَى زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا، فَلَمَّا أُخْبِرَ حَلَفَ لَا يَنْتَهِي حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: «مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟ » فَانْتُدِبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَا: [ص:376] نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكُونَا بِ فَمِ الشِّعْبِ»، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنَ الْوَادِي، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ: أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَ، أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ؟، قَالَ: اكْفِنِي أَوَّلَهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ فَنَامَ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي، وَأَتَى زَوْجُ الْمَرْأَةِ، فَلَمَّا رَأَى شَخَصَ الرَّجُلِ، عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةَ الْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ، وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، وَثَبَتَ قَائِمًا يُصَلِّي، ثُمَّ عَادَ لَهُ الثَّالِثَةَ، فَوَضَعَهُ فِيهِ، فَنَزَعَهُ، فَوَضَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ وَقَالَ: اجْلِسْ، فَقَدْ أُتِيتُ، فَوَثَبَ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نَذِرَ بِهِ، هَرَبَ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَفَلَا أَهْبَبْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ؟، قَالَ: كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا، فَلَمَّا تَابَعَ عَلَيَّ الرَّمْيَ رَكَعْتُ فَآذَنْتُكَ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ، لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا أَوْ أُنْفِذَهَا [4: 50]

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ غزوہ ذات الرقاع میں روانہ ہوئے ، مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی بیوی کو قتل کر دیا ( یا اسے نقصان پہنچایا) جب نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لارہے تھے ، تو اسی دوران اس عورت کا شوہر وہاں آ چکا تھا ۔ جو پہلے وہاں موجود نہیں تھا۔ جب اسے اس بارے میں بتا یا گیا، تو اس نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ وہ اس وقت تک بعض نہیں آئے گا ، جب تک حضرت محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے کسی کا خون نہیں بہائے گا ۔ وہ نبی اکرم ﷺ کا پیچھا کرتے ہوئے آیا، نبی اکرم ﷺ نے ایک جگہ پڑاو کیا اور فرمایا: آج رات کون یہاں ہماری پہرے داری کرے گا ۔ تو مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے آپ کو پیش کیا ۔ ان دونوں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! ہم ایسا کریں گے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم گھاٹی کے سرے پر رہنا، راوی بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے وادی کی گھاٹی میں پڑاو کر لیا ۔ جب یہ دونوں صاحبان گھاٹی کے سرے کی طرف جانے کے لئے نکلے، تو انصاری شخص نے مہاجر کو کہا کہ آپ کو کیا پسند ہے، میں رات کے کون سے حصہ میں آپ کی جگہ کفایت کروں ، ابتدائی حصے میں یا آخری حصے میں ؟تو مہاجر نے کہا اس کےابتدائی حصے میں میں کفایت کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: مہاجر شخص لیٹ کر سو گیا، انصاری اٹھ کر نماز ادا کرنے لگا۔اس دوران اس عورت کا شوہر آیا جب اس نے اس شخص کے ہیولے کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ لوگوں کا پہرے دار ہے۔ اس نے ایک تیر مارا وہ جا کر اس انصاری کو لگا۔ انصاری نے اس تیر کو نکال کر ایک طرف رکھا اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگا پھر اس شخص نے انصاری کو دوسرا تیر ماراوہ بھی اسے لگا۔ انصاری نے اسے باہر نکالا اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرتا رہا ۔ پھر اس نے تیسری مرتبہ تیر مارا وہ بھی اسے لگا۔ انصاری نے اسے باہر نکالا اور اسے ایک طرف رکھ دیا پھر وہ رکوع میں چلا گیا پھر اس نے سجدہ کیا پھر اس نے اپنے ساتھی کو بیدار کیا اور کہا اٹھو! کہ مجھ پر حملہ ہو گیا ہےتو وہ ( مہاجر) فورا اٹھ گیا جب اس نے ان دو آٓدمیوں کو دیکھا تو اسے اندازہ ہو گیا کہ اب مجھے مشکل ہو جائے گی ، تو وہ شخص بھاگ گیا۔جب مہاجر نے انصاری کا بہتا ہوا خون دیکھا تو بولا کہ سبحان اللہ!جب اس نے تمہیں پہلی مرتبہ تیر مارا تھا تو تم نے مجھے بیدار کیوں نہیں کیا تھا ، تو انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت کی تلاوت کر رہا تھا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے ختم کرنے سے پہلے ہی منقطع کر دوں لیکن جب اس نے مسلسل مجھے تیر مارے تو میں رکوع میں چلا گیا ۔ میں نے تمہیں اطلاع کی ، اللہ کی وسم ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے جس کام کی حفاظت کو حکم دیا ہے میں اسے ضائع کر دوں گا ، تو میرے اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان چلی جاتی یا پھر یہ ہے، میں اسے مکمل کر لیتا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1096

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1097

أخبرنا محمد بن إسحاق بن حزيمة، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بن أبي كثير، أن بن عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ حَدَّثَهُ، أَنَّ مَعْدَانَ بْنَ طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَ أنا صببت له وضوءاً1. 9:5

معدان بن طلحہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو دردا نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے قے کر کے روزہ ختم کر دیا تھا ( راوی کہتے ہیں ) پھر میری ملاقات دمشق میں حضرت ثوبان ؓ سے ہوئی میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے یعنی حضرت ابو دردا نے سچ کہا ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کروایا تھا۔

أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ ← أَنَّ مَعْدَانَ بْنَ طَلْحَةَ ← أَنَّ يَعِيشَ بْنَ الْوَلِيدِ ← يَحْيَى بن أبي كثير، أن بن عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيَّ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبُو مُوسَى، ← محمد بن إسحاق بن حزيمة،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1097

chevron_left Previous
1…737475…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr