Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3699

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: حَجَّ أَبُو طَلْحَةَ وَابْنُهُ، وَتَرَكَانِي فَقَالَ: "يَا أُمَّ سُلَيْمٍ عمرة في رمضان تعدل حجة" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:۔ سیّدہ اُمّ سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ انہوں نے عرض کی: حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہہ اور ان کے صاحب زادے حج پر چلے گئے ہیں اور وہ مجھے چھوڑ گئے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے اُمّ سلیم! رمضان میں عمرہ کرنا حج کرنے کے برابر ہے۔

"يَا أُمَّ سُلَيْمٍ عمرة في رمضان تعدل حجة" ← حَجَّ أَبُو طَلْحَةَ وَابْنُهُ، وَتَرَكَانِي ← جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3699

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3700

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ بِوَاسِطٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْتَامٍ1، حَدَّثَنَا مخلد بن يزيد، عن بن جريج، قال سمت عطاء يحدث عن بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً" 2. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " رمضان میں عمرہ کرنا حج کرنے کے برابر ہے"۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← سمت عطاء ← بن جُرَيْجٍ ← مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْتَامٍ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ بِوَاسِطٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3700

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3701

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أبي، عن بن إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلَ حُنَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: "مَنْ أَهَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِعُمْرَةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". قَالَ: فَرَكِبَتْ أم حيكم إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى أَهَلَّتْ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ1. [2:1]

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " جو شخص مسجد اقصیٰ سے عمرے کا احرام باندھتا ہے اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے"۔ راوی بیا ن کرتے ہیں: اس روایت کی راوی خاتون سیّدہ اُمّ حکیم رضی اللہ عنہا بیت المقدس تشریف لے گئی تھیں اور انہوں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھا تھا۔

فَرَكِبَتْ أم حيكم إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى أَهَلَّتْ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ1. ← "مَنْ أَهَلَّ مِنَ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِعُمْرَةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْأَخْنَسِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلَ حُنَيْنٍ، ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3701

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3702

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نُخْرِجُ وَنُجَاهِدُ مَعَكَ، فَإِنِّي لَا أَرَى عَمَلًا فِي الْقُرْآنِ أَفْضَلَ مِنَ الْجِهَادِ؟ قَالَ: "لَا، إِنَّ لَكُنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ، حَجُّ الْبَيْتِ حَجٌّ مبرور" 1 [2:1]

ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم بھی آپ کے ہمراہ نکلا نہ کریں اور جہاد میں حصہ نہ لیا کریں، کیونکہ میری رائے کے مطابق قرآن میں سب سے افضل عمل جہاد ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ سب سے بہترین جہاد بیت اللہ کا حج ہے۔ ایسا حج جو مبرور ہو۔

أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3702

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3703

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثقيف، قا: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "قَالَ اللَّهُ1: إِنَّ عَبْدًا صَحَّحْتُ لَهُ جِسْمَهُ، وَوَسَّعْتُ عَلَيْهِ فِي الْمَعِيشَةِ يَمْضِي عَلَيْهِ خَمْسَةُ أَعْوَامٍ لا يفد إلي لمحروم" 2. [68:3]

حضرت ابو سعید خدری ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں بندے کے جسم کو میں تندرست رکھوں اور میں اسے کشادگی عطا کروں اور پھر اس پر پانچ سال گزر جائیں اور وہ میری طرف نہ آئے ، تو وہ محروم ہے"۔ باب: حج کا فرض ہونا

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثقيف، قا:

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3703

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3704

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ذَكَرَ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خَطَبَ، فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ"، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَكُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَسَكَتَّ عَنْهُ حَتَّى أَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: "لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بها. ذروني ما تركتم، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عن أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ، فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ". وَذَكَرَ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ نَزَلَتْ في ذلك: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] 1 [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔ ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہر سال ؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا ، تو یہ لازم ہو جاتا ا ور اگر یہ لازم ہو جاتا ، تو تم اسے اد ا نہیں کر پاتے جن معاملات کے بارے میں ، میں تمہیں بتاتا نہیں ہوں تم ان معاملات میں مجھے رہنے دیا کرو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری ) سوالات کرنے اور ان سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے جب میں تم لوگوں کو کسی چیز سے منع کروں، تو اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ انہوں نے یہ بات بھی ذکر کی کہ سورۃ مائدہ میں موجود ہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی تھی۔ " ا ے ایمان والو! ایسی چیزوں کے با رے میں دریافت نہ کرو کہ اگر انہیں تمہارے سامنے ظاہر کر دیا جائے، تو تمہیں برا لگے"۔

مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3704

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ فَضْلُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ · حديث 3705

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ،1 قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ، فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَوَفِي كُلِّ عَامٍ؟ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: "لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ، لَمَا قُمْتُمْ بِهِ" ثُمَّ قَالَ: "ذَرُونِي مَا تركتم، فإنما ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِسْؤَالِھِمْ ، وَاخْتِلَافِھِمْ عَلٰی اَنْبِیَائِھِمْ ، فَمَا اَمَرْتُکُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاْتُوا مِنقہُ مَااسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَھَیْتُکُمْ مِنْ شَیْءٍ فَاجْتَنِبُوْہُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: کیا ہر سال میں ، یہاں تک کہ انہوں نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، لیکن نبی اکرم ﷺ نے ان سے اعراض کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا ، تو تم اسے ادا نہیں کر لے پاتے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب معاملات میں ، میں تمہیں ترک کر دیتا ہوں تم ان میں مجھے رہنے دو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری ) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے میں تمہیں، جس چیز کے بارے میں حکم دوں جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لا و جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں، تو تم اس سے اجتناب کرو۔

"لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ، لَمَا قُمْتُمْ بِهِ" ثُمَّ ← ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ ← أَوَفِي كُلِّ عَامٍ؟ حَتَّى ← "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ" فَقَامَ رَجُلٌ، ← خَطَبَ رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The virtue of Hajj and Umrah · Hadith 3705

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1782

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حدثنا بن عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا صَلَاۃَ لمن لا یقرأ بفاتحۃ الکتاب۔(21:1)

حضرت محمود بن ربیع حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ "اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو (نماز میں) سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا"۔

لَا صَلَاۃَ لمن لا یقرأ بفاتحۃ الکتاب۔(21:1) ← عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بن عُيَيْنَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1782

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1783

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، لِأَنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ، فَيَدْفِنُهُ». [1: 21]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب کوئی شخص نماز کیلئے کھڑا ہوتو اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کررہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کے دائیں طرف ایک فرشتہ ہوتا ہے وہ اپنے بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اس دفن کر دینا چاہئے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ مقتدی پر بھی نماز کے دوران سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ نمازی اپنے پروردگار سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اور مناجات اس وقت ہو سکتی ہیں، جب لفظی طور پر کسی کو مخاطب کیا جائے، تسبیح یا تکبیر پڑھنے یا خاموش رہنے پر (مناجات کا اطلاق نہیں ہوتا)

شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ، فَيَدْفِنُهُ». ← يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ ← يَمِينِهِ، فَإِنَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1783

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1784

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ". فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين فنصهما لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اقرؤوا يقول العبد: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} يَقُولُ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} يَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي وَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ الْعَبْدُ: {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ} {صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ) فَھؤ لاء لعبدی ولعبدی ماسأل ۔(21:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص نماز ادا کرتا ہے اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کرتا وہ نماز نامکمل ہوتی ہے وہ نامکمل ہوتی ہے وہ پوری نہیں ہوتی"۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے کہا: اے ابو ہریرہ ! میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انہوں نے میری کلائی پر چبھوتے ہوئے فرمایا: اے فارسی! تم اسے اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں نے نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کرلیا ہے۔ اس کا نصف حصہ میرے لیے اور اس کا نصف حصہ میرے بندے کیلئے۔ میرا بندہ جو مانگتا ہے وہ اسے ملے گا"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم لوگ تلاوت شروع کرو۔ بندہ کہتا ہے، تمام جہانوں کے پروردگار اللہ کے لئے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے، بندہ کہتا ہے وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے۔ بندہ کہتا ہے وہ روز جزاء کا مالک ہے۔ اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ بندہ کہتا ہے بیشک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں، تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ اس نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔ بندہ کہتا ہے: "تو ہمیں صراب مستقیم پر ثابت قدم رکھ، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا۔ نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر غضب کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے"۔ تو یہ چیزیں میرے بندے کو ملے گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1784

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1785

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا مؤمل بن هشام اليشكري حدثنا إسماعيل بن عُلَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ- وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "إني لأراكم تقرؤون وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ الله هذا قال: "فلا تفعلوا إلا بأم الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بها" 1. [1: 21]

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ کیلئے قرات کرنا مشکل ہوا جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے تم اپنے امام کے پیچھے بھی قرات کرتے ہو۔ راوی کہتے ہیں ہم نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو تم سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو، اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس روایت کاتذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "تم ایسا نہ کرو البتہ سورۃ فاتحہ (کا حکم مختلف ہے)" اس سے آپ کی مراد یہ نہیں ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ کی قرات سے منع کر دیں

قُلْنَا: أَجَلْ ← "إني لأراكم تقرؤون وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ- وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مؤمل بن هشام اليشكري ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1785

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1786

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قال: حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فصاعدا" 1. [1: 21] قال أبو حاتم رضى الله تعالى عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ مَكْحُولٍ: "فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ"، لَفْظَةُ زَجَرَ مُرَادٌ بِهَا2 ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ وَقَوْلُهُ: "فَصَاعِدًا" تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ دون أصحابه3.

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ "اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ اور مزید (کسی سورۃ) کی تلاوت نہیں کرتا"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) مکحول کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "تم ایسا نہ کرو، البتہ سورہ فاتحہ (کا حکم مختلف ہے)" یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، لیکن مراد ابتداء میں نئے سرے سے حکم دینا ہے۔ روایت کے لفظ "فصاعدا" کو زہری کے حوالے سے روایت کرنے میں معمر منفرد ہے، زہری کے دیگر شاگردوں نے یہ لفظ نقل نہیں کیا

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1786

chevron_left Previous
1…707172…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr