صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3691
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ الْحَافِظُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: لَقِیتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ ، فَقُلْتُ : حَدِّثْنِیْ فَاِنَّہٗ کَانَیُعْجِیُنِیْ لُقِیُّکَ وَمَا قَدِمْتُ اِلَّا لِلِقَائِکَ ، فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِالْقَدْرِ ، فَاِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، یَقُوْلُ : مَنْ یَّقْمِ السَّنَۃَ یُصِبْھَا اَوْ دُدْرِکُھَا ، قَال : لَقَدْ عَلِمَ اَنَّھَا فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ ، وَلٰکِنَّہٗ اَحَبَّ اَنْ یّعَمِّیَّ عَلَیْکُمْ، وَاِنَّھَا لَیْلَۃُ سَابعَۃٍ وَّعِشْرِیْنَ بِالْاٰیَۃِ الَّتِی حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَفِظْنَاھَا وَعَرَفْنَاھَا ، فَکَانَ زِرٌّ یُوَاصِلُ اِلَی السَّحْرِ ، فَاِذَا کَانَ قَبْلَھَا بِیَوْمٍ اَوْ بَعقدَھَا صَعِدَ الْمَنَارَۃَ ، فَنَظَرَ اِلٰی مَطْلِع الشَّمْسِ ، وَیَقُوْلُ : اِنَّھَا تَطْلُعُ لَھَا حَتّٰی تَرْتَفِعَ
زربن حبیش کہتے ہیں: میرے ملاقات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ سے ہوئی میں نے ان سے کہا: میرے ساتھ بات چیت کیجئے، کیونکہ آپ سے ملاقات کرنا مجھے پسند ہے میں صرف آپ سے ملنے کے لئےآیا ہوں۔ آپ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ تو یہ کہتے ہیں: جو شخص سال بھر نوافل ادا کرتا رہے وہی اسے پا سکتا ہے، تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: وہ یہ بات جانتے ہیں کہ یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے، لیکن وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں: یہ تم سے مخفی رہے یہ ستائیسویں رات ہو تی ہیں، جس کی ایک مخصوص نشانی ہے، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتا یا تھا اور ہم نے اسے محفوظ رکھا اور اسے جان لیا۔ زر بن حبیش نامی راوی سحری تک صوم وصال رکھتے تھے پھر ستائیسویں رات سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کی بات ہے وہ منارے پر چڑھے۔ انہوں نے سورج کے نکلنے کا جائزہ لیا اور یہ کہا کہ یہ طلوع ہوا ہے، لیکن اس کی شعاع نہیں تھی ، جب تک یہ بلند نہیں ہو گیا۔
لَیْلَۃِالْقَدْرِ فَاِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ← فَاِنَّہٗ کَانَیُعْجِیُنِیْ لُقِیُّکَ وَمَا قَدِمْتُ اِلَّا لِلِقَائِکَ ← لَقِیتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقُلْتُ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ الْحَافِظُ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3691
