Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7424

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: [ص:444] يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ فِيهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ أَحَدَهُمُ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِئَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ وَالشَّهْوَةِ وَالْجِمَاعِ»، فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ: فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَاجَتُهُمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلُ الْمِسْكِ، فَإِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضَمُرَ»

۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: یہودیوں کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: اے ابو القاسم ! کیا آپ اس بات کے قائل ہیں، کہ اہل جنت ، جنت میں کھائیں گے بھی اور پئیں گے بھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ہر جنتی کو کھانے پینے ، شہوت اور صحبت کرنے میں ایک سو آدمیوں جتنی قوت دی جائے گی۔ ان یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو شخص کھاتا اور پیتا ہے۔ اسے قضائے حاجت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی قضائے حاجت پسینے کی شکل میں ہوگی، جو مشک کی طرح کا (خوشبودار) وہ ان کے جسم سے نکل جائے گا، اور پیٹ ویسے ہی ہلکا پھلکا رہے گا۔

لَهُ الْيَهُودِيُّ: فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، ← يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ فِيهَا؟ ← أَتَى النَّبِيُّ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← ثمامة بن عقبة ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7424

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7425

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، [ص:445] وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ سُوقًا يَأْتُونَهُ كُلَّ جُمُعَةٍ فِيهِ كُثْبَانُ الْمِسْكِ، فَتَهِيجُ رِيحُ شَمَالٍ فَتَحْثِي أَوْ فَتَسْفِي فِي وُجُوهِهِمُ الْمِسْكَ، فَيَأْتُونَ أَهْلِيهِمْ، فَيَقُولُونَ لَهُمْ: قَدْ زَادَكُمُ اللَّهُ بَعْدَنَا أَوِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُونَ لَهُمْ: وَأَنْتُمْ قَدْ زَادَكُمُ اللَّهُ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں ایک بازار ہے جس میں اہل جنت ہر جمعے کے دن آیا کریں گے اس میں مشک کے ٹیلے ہیں وہاں شمال کی طرف سے آنے والی ہوا چلے گی، جو ان کے چہروں پر مشک چھڑکے گی۔ جب وہ اپنی بیویوں کے پاس جائیں گے ، تو ان سے کہیں گے ہمارے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہارے حسن و جمال میں اضافہ کیا ہے، تو ان کے اہل خانہ ان سے کہیں گے ہمارے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھی حسن و جمال میں اضافہ کیا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، [ص:445] وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7425

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7426

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغَضَائِرِيُّ بِحَلَبٍ وَكَانَ حِتْرَ النِّعَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ مُوسَى، قَالَ: رَبِّ، أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً؟ فَقَالَ: رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: كَيْفَ أَدْخُلُ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ مِثْلَ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: [ص:447] نَعَمْ أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ: لَكَ هَذَا وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ رَضِيتُ، فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ مَعَهُ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ رَضِيتُ، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ»

۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منبر پر نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے آپ نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اہل جنت میں سب سے کم تر مرتبے کا شخص کون ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک شخص جو اہل جنت کے (جنت میں ) داخل ہوجانے کے بعد آئے گا، تو اسے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہوجاؤ، تو وہ کہے گا میں کیسے اندر جا سکتا ہوں جبکہ لوگ اپنے ٹھکانوں پر پہنچ چکے ہیں اور اپنی ، اپنی جگہ حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم کو جنت میں اتنی جگہ مل جائے، جو دنیا میں کسی بادشاہ کی ہوتی تھی، تو وہ کہے گا جی ہاں اےمیرے پروردگار! میں راضی ہوں، تو اسے کہا جائے گا: تمہیں اتنی جگہ ملتی ہے، اس کی مانند مزید اور اس کی مانند مزید اور اس کی مانند مزید (یعنی مزید تین گناہ اتنی جگہ ملتی ہے) تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔ اسے کہا جائے گا: تمہیں یہ بھی ملتا ہے اور اس کے ہمراہ اس کا دس گنا مزید ملتا ہے، تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں، تو اسے کہا جائے گا: تمہیں اس کے ہمراہ وہ چیز ملے گی، جس کی تمہارے نفس کو خواہش تھی جس کے ذریعے تمہاری آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ، ← مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغَضَائِرِيُّ بِحَلَبٍ وَكَانَ حِتْرَ النِّعَالِ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7426

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7427

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ رَجُلٍ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ خَرَجَ زَحْفًا، فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَدْخُلُ، ثُمَّ يَخْرُجُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ: تَمَنَّهْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، تَنَافَسَ أَهْلُ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ، وَتَضَايَقُوا فِيهَا، فَأَنَا [ص:448] أَسْأَلُكَ مِثْلَهَا، فَيَقُولُ: لَكَ مِثْلَهَا وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ ذَلِكَ، فَهُوَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا»

۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "میں جہنم سے نکلنے والے آخری شخص سے واقف ہوں۔ یہ وہ شخص ہے، جو گھسٹتا ہوا باہر آئے گا۔ اسے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہوجاؤ۔ وہ جنت میں داخل ہوگا پھر وہ باہر آئے گا: اور کہے گا: اے میرے پروردگار ! لوگ ، اپنی جگہوں کو حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: کیا تمہیں وہ زمانہ یاد ہے، جب تم دنیا میں رہ کرتے تھے۔ وہ کہے گا جی ہاں، تو پروردگار فرمائے گا تم آرزو کرو۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اہل دنیا اپنی دنیا کی خواہش کیا کرتے تھے اور دنیا کے بارے میں تنگی کا شکار ہوتے تھے۔ میں تجھ سے اس کی مانند کا سوال کرتا ہوں۔ پروردگار فرمائے گا تمہیں اس کی مانند ملتا ہے اور اس کا دس گنا (مزید) بھی ملتا ہے (نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ) یہ سب سے کم تر درجے کے جنتی کا مقام ہے"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7427

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7428

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، [ص:449] أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَكُونُ فِي النَّارِ قَوْمٌ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يُخْرِجُهُمْ فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ، فَيُغَسَّلُونَ فِي عَيْنِ الْحَيَاةِ، فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيُّونَ لَوْ طَافَ بِأَحَدِهِمْ أَهْلُ الدُّنْيَا لَأَطْعَمَهُمْ وَسَقَاهُمْ وَفَرَشَهُمْ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَزَوَّجَهُمْ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدَهُ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچھ لوگ جہنم میں ہوں گے جب تک اللہ نے چاہا وہ اس میں رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے گا، اور انہیں باہر نکالے گا یہ لوگ جنت میں کم تر درجے کے لوگ ہوں گے ۔ انہیں چشمہ حیات میں غسل دیا جائے گا۔ اہل جنت ان کا نام جہنمی رکھیں گے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک تمام اہل دنیا کے پاس جائے، تو ان سب کو کھلا سکتا ہے پلا سکتا ہے ان سب کو بستر دے سکتا ہے (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ وہ ان کی شادیاں کروا سکتا ہے۔ پھر بھی اس کے پاس جو نعمتیں ہوں گی ان میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، [ص:449] أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7428

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7429

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟ »، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ دُونَهُ سَحَابٌ؟ »، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِي غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ هَذَا مَقَامُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَنَا رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، قَالَ: فَيَأْتِيهِمْ فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا، وَيُضْرَبُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ»، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَجُوزُهُ، وَدَعْوَةُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَبِهِ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ [ص:451] تَدْرُونَ شَوْكَ السَّعْدَانِ؟ »، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَتَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُوبَقُ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُخَرْدَلُ، ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ، مَنْ أَرَادَ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوهُمْ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِعَلَامَةِ آثَارِ السُّجُودِ، قَالَ: وَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ مِنِ ابْنِ آدَمَ أَثَرَ السُّجُودِ، قَالَ: فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدِ امْتُحِشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءٌ، يُقَالُ لَهُ: مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، قَالَ: وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَيَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ: يَا رَبِّ، قَرِّبْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ؟ وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي اللَّهَ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهُ، فَيُقَرِّبُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَلَمَّا [ص:452] قَرَّبَهُ مِنْهَا انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَإِذَا رَأَى مَا فِيهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: أَلَيْسَ قَدْ زَعَمْتَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، قَالَ: فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ جَلَّ وَعَلَا، فَإِذَا ضَحِكَ مِنْهُ أَذِنَ لَهُ بِالدُّخُولِ دُخُولِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا دَخَلَ قِيلَ لَهُ: تَمَنَّ كَذَا وَتَمَنَّ كَذَا، فَيَتَمَنَّى حَتَّى تَنْقَطِعَ بِهِ الْأَمَانِيُّ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا: هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: حَفِظْتُ: » هُوَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا «

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! کیا ہم قیامت کےدن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں، تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جب بادل نہ ہوں، تو کیا تمہٰں چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، تو لوگوں نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسی طرح قیامت کے دن اپنےپروردگار کا دیدار کرو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا، اور یہ فرمائے گا، جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلاجائے ، جو لوگ سورج کی عبادت کرتے تھے وہ سورج کے پیچھے چلے جائیں گے جو چاند کی عبادت کرتے تھے وہ چاند کے پیچھے چلے جائیں گے، جو بتوں کی عبادت کرتے تھے وہ بتوں کے پیچھے چلے جائیں گے اور پھر یہ امت باقی رہ جائے گی، جس میں اس کے منافقین ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس سے مختلف صورت میں آئے گا، جس سے وہ واقف ہوں گے وہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں، تو وہ یہ کہیں گے ہم تم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ہم یہیں رہیں گے جب تک ہمارا پروردگار ہمارے پاس نہیں آتا۔ جب ہمارا پروردگار ہمارے پاس آئے گا توہم اسے پہچان لیں گے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: ان کا پروردگار ان کے پاس اس صورت میں آئے گا، جس سے وہ واقف ہوں گے اور یہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں، تو وہ کہیں گے، تو ہمارا پروردگار ہے پھر جہنم پر پل لگایا جائے گا۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: سب سے پہلے میں اسے عبور کروں گا۔ اس دن تمام رسول یہی دعا کر رہے ہوں گے اے اللہ سلامتی عطا کرنا اے اللہ سلامتی عطا کرنا، اور اس پل پر کچھ آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے جو سعدان نامی پودے کے کانٹوں کی طرح ہوں گے کیا تم جانتے ہو سعدان کے کانٹے کیسے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سعدان کے کانٹوں کی مانند ہوگے۔ البتہ ان کے حجم کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے، اور وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب سے اچک لیں گے، تو کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوگا، اور کوئی (جہنم کے اندر) گر جائے گی، اور پھر نجات پائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرکے فارغ ہوجائے گا، اور اس بات کا ارادہ کرے گا جہنم سے ان لوگوں کو نکالے جو اس بات کی گواہی دیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو یہ حکم دے گا کہ وہ ان لوگوں کو نکال لیں، تو فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات کی علامت کے ذریعے پہچان لیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے یہ چیز حرام قرار دی ہے کہ وہ ابن آدم کے سجدوں کے نشان کو کھا لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ لوگ انہیں نکالیں گے جبکہ وہ لوگ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ ان پر پانی بہایا جائے گا، جسے آب حیات کہا جاتا ہے، تو وہ یوں اُگ جائیں گے، جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں دانہ اگتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان میں سے ایک شخص باقی رہ جائے گا، جو اپنے چہرے کے بل جہنم میں آئے گا، اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اس کی بدبو نے مجھے تنگ کیا ہوا ہے اور اس کی گری مجھے جلا رہی ہے۔ میرا چہرہ جہنم کی طرف سے پھیر دے وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کردی۔ پھر تم نے مجھ سے کوئی اور چیز نہیں مانگنی۔ وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے پھیر دے گا۔ اس کے بعد وہ شخص عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کردے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے یہ نہیں ، کہا تھا تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ اے ابن آدم تمہارے لیے بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو۔ اس کے بعد وہ شخص مسلسل دعا کرتا رہے گا۔ پروردگار فرمائے گا اگر میں نے تمہیں یہ چیز عطا کردی، تو پھر اس کے علاوہ تم مجھ سے کچھ نہیں مانگنا۔ وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا پھر وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پختہ عہد کرے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ اور نہیں مانگے گا، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کردے گا۔ جب اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کردے گا، تو جنت اس کے سامنے آئے گی پھر وہ اس میں موجود (نعمتوں کو) دیکھے گا، اور جتنا اللہ کو منظور ہوگا اتنی دیر خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کردے۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم نے یہ نہیں، کہا تاھ کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگو گے۔ اے ابن آدم تمہاری بربادی ہے تم کتنے وعدہ خلاف ہو۔ وہ عرض کرے گا:اے میرے پروردگار! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت شخص نہ بنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ پروردگار ہنس دے گا۔ جب وہ اس پر ہنس پڑے گا، تو وہ اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ جب وہ جنت میں داخل ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا: اتنی آرزو کرو، اتنی آرزو کرو، وہ آرزو کرے گا، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی۔ پروردگار فرمائے گا تمہیں یہ سب کچھ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں یہ ملتا ہے اور اس کی مانند دس گنا ملتا ہے، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: مجھے یہ الفاظ یاد ہیں تمہیں، یہ ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے، جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہوگا۔

النَّاسُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7429

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7430

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ آخِرَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يُمْشِي عَلَى الصِّرَاطِ، فَهُوَ يَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ أُخْرَى حَتَّى إِذَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَيَقُولُ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْهَا فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ: ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْهَا لَعَلِّي أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَفْعَلَ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ فَاعِلُهُ لِمَا يَرَى مِمَّا لَا صَبَرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْهَا لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ أَدْنِنِي مِنْهَا لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا فَيُدْنِيهِ، مِنْهَا وَيَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا لِمَا يَرَى مَا لَا صَبَرَ لَهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْهَا لِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا [ص:456] وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ أَدْنِنِي مِنْهَا، فَإِذَا دَنَا مِنْهَا سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: أَيُرْضِيكَ يَا ابْنَ آدَمَ أَنْ أُعْطِيكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا، فَيَقُولُ: أَتَسْتَهْزِئُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: مَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ، وَلَكِنَّنِي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ»، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا ذَكَرَ قَوْلَهُ: «أَتَسْتَهْزِئُ بِي؟ » ضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ؟ فَقِيلَ: مِمَّ تَضْحَكُ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَحِكَ «

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا وہ شخص ہوگا، جو پل صراط پر چہرے کے بل چل رہا ہوگا۔ آگ اسے جھلسائے گی، یہاں تک کہ جب وہ پل صراط کو عبور کر لے گا، تو اس کی طرف رخ کرکے کہے گا بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے اس سے نجات عطا کی۔ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ چیز عطا کی ہے، جو اس نے تمام جہانوں میں کسی کو بھی عطا نہیں کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر اس کے سامنے ایک درخت آئے گا وہ کہے گا میرے پروردگار مجھ کو اس کے قریب کردے تاکہ میں اس کے سائے میں آجاؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پروردگار فرمائے گا: اے ابن آدم! اگر میں نے تمہیں یہ چیز دے دی، تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے۔ وہ عرض کرے گا جی نہیں میرے پروردگار پھر وہ معاہدہ کرے گا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا حالانکہ پروردگار یہ بات جانتا ہے کہ وہ ایسا کرے گا۔ کیونکہ اس کو اس پر بھی صبر نہیں ہونا۔ پروردگار اسے اس درخت کے قریب کردے گا۔ وہ اس کے سائے میں آئے گا۔ اس کے پانی کو پئے گا۔ پھر اس کے سامنے ایک اور درخت آئے گا وہ پہلے والے سے زیادہ اچھا ہوگا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کے قریب کردے تاکہ میں اس کے سائے میں آجاؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم نے مجھ سے یہ معاہدہ نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار ! لیکن ، تو مجھے اس کے قریب کردے تاکہ میں اس کے سائے میں آؤں اور اس کا پانی پیوں، تو وہ پروردگار سے یہ عہد کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگے گا۔ پروردگار اسے قریب کردے گا۔ حالانکہ پروردگار کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ اس کے علاوہ بھی مانگے گا کیونکہ پروردگار کو پتہ ہے کہ اس سے اتنا صبر نہیں ہونا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے قریب ایک اور درخت آئے گا، جو پہلے والے دونوں درختوں سے زیادہ خوب صورت ہوگا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کے سائے میں آؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم نے مجھ سے معاہد ہ نہیں کیا تھا کہ مجھ سے اس کے علاوہ تم کچھ نہیں مانگو گے۔ وہ عرض کرے گا جی ہاں میرے پروردگار لیکن، تو مجھے اس کے قریب کردے جب وہ اس کے قریب ہوگا، تو اہل جنت کی آواز یں سنے گا، تو عرض کرے گا: اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کردے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم کیا یہ چیز تمہیں راضی کرے گی کہ میں تمہیں دنیا اور اس کی مانندمزید دے دوں، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! کیا، تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے، جبکہ، تو تمام جہانوں کا پروردگارفرمائے گا میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کررہا ۔ لیکن میں، جو چاہوں اس کو کرنے پر قادر ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یہ الفاظ ذکر کرتے: "کیا تو میرے ساتھ مذاق کررہا ہے" تو مسکرا دیتے پھر وہ یہ فرماتے تھے: تم لوگ مجھ سےاس بارے میں دریافت نہیں کرو گے کہ میں کس بات پر ہنسا ہوں۔ ان سے دریافت کیا گیا: آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کا ذکر کرتے تھے، تو مسکرا دیتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7430

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7431

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ، فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ فَيَدْخُلُ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدِ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَيَرْجِعُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فِي الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ»، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ «

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! " میں جہنم سے نکلنے والے آخری جہنمی سے واقف ہوں وہ ایسا شخص ہے، جو گھسٹ کر باہر آئے گا، تو اسے کہا جائے گا: تم جاؤ اور جنت میں داخل ہوجاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ جائے گا، اور داخل ہوگا، تو لوگوں کو پائے گا کہ انہوں نے اپنی ، اپنی جگہ حاصل کرلی ہے۔ وہ واپس آئے گا، اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! لوگوں نے اپنی رہائش گاہیں حاصل کرلی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس سے کہا جائے گا: کیا تمہیں وہ زمانہ یاد ہے، جب تم دنیا میں ہوا کرتے تھے وہ عرض کرے گا جی ہاں، تو اس سے کہا جائے گا: تم آرزو کرو۔ وہ آرزو کرے گا، تو اس سے کہا جائے گا: تم نے جو آرزو کی ہے وہ تمہیں ملتا ہے اور اس کے ہمراہ مزید ملتا ہے، تو وہ عرض کرے گا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کررہا ہے، جب کہ، تو بادشاہ ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7431

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7432

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانِ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:458] صَالِحُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ*، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمَيْنَ} [الحجر: 2]؟ فَقَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: «يُخْرِجُ اللَّهُ أُنَاسًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا يَأْخُذُ نِقْمَتَهُ مِنْهُمْ، قَالَ: لَمَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ النَّارَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ: أَلَيْسَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ فِي الدُّنْيَا أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ فَمَا لَكُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ، فَإِذَا سَمِعَ اللَّهُ ذَلِكَ مِنْهُمْ أَذِنَ فِي الشَّفَاعَةِ، فَيَتَشَفَّعُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّبِيُّونَ حَتَّى يَخْرُجُوا بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمَّا أُخْرِجُوا، قَالُوا: يَا لَيْتَنَا كُنَّا مَثَلَهُمْ، فَتُدْرِكُنَا الشَّفَاعَةُ، فَنُخْرَجُ مِنَ النَّارِ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمَيْنِ} [الحجر: 2]، قَالَ: فَيُسَمَّوْنَ فِي الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ مِنْ أَجْلِ سَوَادٍ فِي وُجُوهِهِمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَذْهِبْ عَنَّا هَذَا الِاسْمَ، قَالَ: فَيَأْمُرُهُمْ فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهْرٍ فِي الْجَنَّةِ فَيَذْهَبُ ذَلِكَ مِنْهُمْ»

صالح بن ابو طریف بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کے بارے میں کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟

نَعَمْ ← فِي هَذِهِ الآيَةِ ← قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ← صَالِحُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ*، ← أَبِي رَوْقٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانِ بْنِ صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7432

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7433

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا، فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ فِي نَهْرٍ، يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانُ، لَوِ اسْتَضَافَهُمْ أَهْلُ الدُّنْيَا لَأَطْعَمُوهُمْ وَسَقُوهُمْ وَأَتْحَفُوهُمْ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کچھ لوگ جہنم میں جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اتنا عرصہ رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے گا، اور انہیں جہنم سے نکال دے گا، اور وہ جنت کے زیریں حصے میں ایک نہر میں آئیں گے جس کا نام حیوان ہوگا۔ اگر تمام اہل دنیا ان کے مہمان بن جائیں، تو وہ ان سب کو کھلا دیں پلا دیں اور انہیں تحفے دیں (پھر بھی ان کے پاس موجود نعمتیں ختم نہیں ہوں گی) "

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7433

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:461] إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب اہل ایمان جہنم سے نجات پالیں گے، تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک ڈھیر پر روک لیا جائے گا، اور ان کے درمیان آپس میں دنیا میں، جوزیادتیاں ہوئی تھیں ان کا بدلہ دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ پاک و صاف ہو جائیں گے، تو انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، جنت میں (داخل ہونے والا شخص) اپنے مخصوص ٹھکانے سے، اس سے زیادہ واقف ہوگا، جتنا وہ دنیا میں اپنے گھر سے واقف تھا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ [ص:461] إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7434

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7435

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلُ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ، وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، وَلَا يَبْزُقُونَ يُلْهَمُونَ الْحَمْدَ وَالتَّسْبِيحَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ طَعَامُهُمْ لَهُ جُشَاءٌ وَرِيحُهُمُ الْمِسْكُ»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اہل جنت کھائیں گے اور پئیں گے لیکن وہ پیشاب اور پاخانہ نہیں کریں گے، بلغم نہیں نکالیں گے، تھوک نہیں پھینکیں گے۔ انہیں حمد اور تسبیح یوں الہام کی جائے گی، جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے اور ان کا کھانا ڈکار کی شکل میں (ختم ہوجائے گا) اس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی"۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7435

chevron_left Previous
1…622623624625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr