Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7412

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ، لَا يَقْطَعُهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7412

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7413

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا طُوبَى؟ قَالَ: «شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ مِائَةِ سَنَةٍ، ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَكْمَامِهَا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! طوبیٰ کیا چیز ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، جس کی مسافت ایک سو سال کی ہے۔ اہل جنت کےکپڑے اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں۔

لَهُ رَجُلٌ: ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7413

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7414

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:430] مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَخِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، يَقُولُ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا فَاكِهَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «فِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى»، فَقَالَ: أَيُّ شَجَرِنَا تُشْبِهُ، قَالَ: «لَيْسَ تُشْبِهُ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ؟ »، قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَإِنَّهَا شَجَرَةٌ بِالشَّامِ تُدْعَى الْجُمَيْزَةَ تَشْتَدُّ عَلَى سَاقٍ، ثُمَّ يُنْشَرُ أَعْلَاهَا»، قَالَ: مَا عِظَمُ أَصْلِهَا؟ قَالَ: «لَوِ ارْتَحَلْتَ جَذَعَةً مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ مَا أَحَطْتَ بِأَصْلِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تُرْقُوَتَاهَا هَرَمًا»

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا۔ جنت کے پھل کیسے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت طوبیٰ ہے۔ دیہاتی نے دریافت کیا۔ ہمارے درختوں میں سے کون سا درخت اس سے مشابہت رکھتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے علاقے کا کوئی درخت اس سے مشابہت نہیں رکھتا کیا تم شام گئے ہو۔ اس نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام میں ایک درخت ہے جس کان نام جمیزہ ہے، اس کے تنے کو باندھا جاتا ہے اور پھر اوپر ی حصے کو کھول دیا جاتا ہے۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا: (جنت کے اس درخت) کی جڑ کتنی بڑی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے گھر کے اونٹوں میں سے ایک کم سن اونٹ پر پالان رکھو، تو پھر بھی تم اس کی جڑ کو اس وقت تک عبور نہیں کر سکو گے جب تک اس اونٹ کی ہڈیاں بڑھاپے کی وجہ سے ٹوٹ نہیں جاتیں۔

لَا۔ ← «لَيْسَ تُشْبِهُ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ؟ ← «فِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى»، فَقَالَ: أَيُّ شَجَرِنَا تُشْبِهُ، ← قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: مَا فَاكِهَةُ الْجَنَّةِ؟ ← عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ، أَنَّهُ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← أَخِي، أَنَّهُ ← [ص:430] مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7414

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7415

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: «رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ، وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ: نَهْرَانِ بَاطِنَانِ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ»

حضرت مالک بن معصعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: میرے سامنے سدرۃ المتہیٰ آیا، تو اس کے پھل ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے۔ وہاں چار نہریں تھیں دو نہریں باطنی تھیں اور دو نہریں ظاہری تھیں۔ میں نے دریافت کیا: جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: جہاں تک باطنی دو نہروں کا تعلق ہے، تو وہ جنت میں ہیں اور جہاں تک ظاہری دو نہروں کا تعلق ہے تو وہ نیل اور فرات ہیں۔

مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7415

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7416

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمِّرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، [ص:433] قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَزِيدَ الْبِكَالِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، يَقُولُ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فِيهَا عِنَبٌ - يَعْنِي: الْجَنَّةَ - يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: مَا عِظَمُ الْعُنْقُودِ مِنْهَا، قَالَ: «مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ لَا يَنْثَنِي وَلَا يَفْتُرُ»، قَالَ: مَا عِظَمُ الْحَبَّةِ مِنْهُ؟ قَالَ: «هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ قَطُّ عَظِيمًا؟ » قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَسَلَخَ إِهَابَهُ، فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ، وَقَالَ: ادْبُغِي لَنَا هَذَا ثُمَّ افْرِي لَنَا مِنْهُ دَلْوًا نَرْوِي بِهِ مَاشِيَتَنَا»، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ تُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَعَامَّةُ عَشِيرَتِكَ»

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس میں انگور ہوں گے۔ اس کی مراد یہ تھی کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: اس کے گچھے کتنے بڑے ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنی مسافت جتنے، جو ایک "ابقع کوا" رکے بغیر مسلسل اڑتے ہوئے ایک ماہ میں طے کرتا ہے۔ دیہاتی نے دریافت کیا: اس کا دانہ کتنا بڑا ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ کیا تمہارے والد نے اپنی بکریوں میں سے کبھی کوئی بڑا نر جانور ذبح کیا ہے۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: انہوں نے اس کی کھال بھی اتاری ہوگی، اور وہ تمہاری والدہ کو دی ہوگی اور یہ کہا ہوگا: تم ہمارے لیے اس کی دباغت کردو، اور پھر اس کے ذریعے ہمارے لیے ایک مشکیزہ تیار کردینا تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جانوروں کو پانی دیں۔ اس دیہاتی نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر اس نے کہا: وہ ایک دانہ تو مجھے اور میرے تمام اہل خانہ کو سیر کردے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور تمام خاندان کے اکثر افراد کو بھی (سیر کردے گا)

قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: فِيهَا عِنَبٌ يَعْنِي: الْجَنَّةَ ← عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← عَامِرُ بْنُ يَزِيدَ الْبِكَالِيُّ، أَنَّهُ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← أَخِي، أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، [ص:433] ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7416

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7417

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: [ص:434] حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَا فِيهَا جَمِيعًا»، اقْرَؤُوا إِنْ شِئْتُمْ: {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ، وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} [آل عمران: 185] «

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سےبہتر ہے۔ اگر تم چاہو، تو یہ آیت تلاوت کرلو۔ "جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیاوی زندگی، تو صرف دھوکے کا سامان ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← [ص:149] ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7417

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7418

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَقَابُ قَوْسٍ، أَوْ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جنت میں کمان رکھنے کی جگہ یا کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا سے زیادہ بہتر ہے"۔

أَبِي يُونُسَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7418

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7419

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، [ص:436] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَجْتَمِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: أَيْنَ فُقَرَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَمَسَاكِينُهَا؟ قَالَ: فَيَقُومُونَ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَاذَا عَمِلْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا ابْتَلَيْتَنَا فَصَبَرْنَا، وَآتَيْتَ الْأَمْوَالَ وَالسُّلْطَانُ غَيْرَنَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: صَدَقْتُمْ، قَالَ: فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ، وَيَبْقَى شِدَّةُ الْحِسَابِ عَلَى ذَوِي الْأَمْوَالِ وَالسُّلْطَانِ»، قَالُوا: فَأَيْنَ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «يُوضَعُ لَهُمْ كَرَاسِيُّ مِنْ نُورٍ، وَتُظَلِّلُ عَلَيْهِمُ الْغَمَامُ، يَكُونُ ذَلِكَ الْيَوْمُ أَقْصَرَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنْ سَاعَةٍ مِنْ نَهَارٍ»

۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تم لوگ قیامت کے دن اکٹھے ہوگے، تو یہ کہا جائے گا: امت کے غریب لوگ اور مسکین لوگ کہاں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو لوگ کھڑے ہوں گے، تو ان سے کہا جائے گا: تم نے کیا عمل کیا؟ وہ یہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا، تو ہم نے صبر سے کام لیا، تو نے اموال اور حکومت دوسروں کو دے دی، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے سچ کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو وہ لوگ دوسرےلوگوں سے پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے، اورحساب کی سختی مالدار لوگوں اور حکمرانوں کے لیے باقی رہ جائے گی۔ لوگوں نے دریافت کیا: اس دن مومن کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ان کے لیے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی، اور ان پر بادل نے سایہ کیا ہوا ہوگا، اور وہ دن اہل ایمان کے لیے (دنیاوی) دن کی ایک گھڑی سےبھی چھوٹا ہوگا"۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي کَثِيرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← محمد بن سعيد الأنصاري، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7419

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7420

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا، يَقُولُ: اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ فَأَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ أُمَّتِي عَلَى [ص:437] صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَأِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ دُرِّيٍّ أَوْ دُرِّيءٍ - شَكَّ سُفْيَانُ - لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزُبُ»

۔ محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ کچھ مردوں اور خواتین کے درمیان اس بات پر بحث ہوگئی کہ ان میں سے کس کی تعداد جنت میں زیادہ ہوگی۔ وہ لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: میری امت کا سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوگا۔ اس کے بعد والے لوگ آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارے کی مانند ہوں گے۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں سفیان نامی راوی کو شک ہے۔ ) ان میں سے ہر ایک فرد کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے اندر سے بھی دکھائی دے گا، اور جنت میں کوئی کنوار ہ نہیں ہوگا۔

اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ فَأَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلُوهُ، ← مُحَمَّدًا ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7420

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7421

َخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «هَلْ [ص:439] تَدْرُونَ مَنْ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلَقِ اللَّهِ؟ » قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلَقِ اللَّهِ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ يُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ، وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلَائِكَتِهِ: إِيتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ، فَيَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: رَبَّنَا نَحْنُ سُكَّانُ سَمَاوَاتِكَ، وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِيَ هَؤُلَاءِ، فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَتُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ، وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً، قَالَ: فَتَأْتِيهِمُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ: {سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ} [الرعد: 24]»

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ، ← مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← الْمُقْرِئُ ← هَارُونُ بن معروف ← َخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7421

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7422

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، فَقَالَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا، فَقَالَ: لِمَ تَدْفَعُنِي؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّمَا أَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي [ص:441] سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي»، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «يَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ أَخْبَرْتُكَ»، قَالَ: أَسْمَعُ مَا تُحَدِّثُ، فَنَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ بِعُودٍ مَعَهُ، وَقَالَ: «سَلْ»، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ»، قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً؟ فَقَالَ: «فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ»، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ»، قَالَ: مَا غَدَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا؟ قَالَ: «يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا»، قَالَ: فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا نَبِيٌّ، قَالَ: «يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟ »، فَقَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنِي جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ، فَقَالَ: «مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ، فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللَّهِ»، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: لَقَدْ صَدَقْتَ، وَإِنَّكَ لِنَبِيٌّ وَانْصَرَفَ، فَذَهَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي وَمَالِي عِلْمٌ بِشَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى أَتَانِيَ اللَّهُ بِهِ»

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ اسی دوران یہودیوں کا ایک عالم آیا اور بولا: اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو سلام ہو، میں نے اسے دھکا دیا، تو وہ گرنے کے قریب ہوا اس نے مجھے کہا تم نے مجھے دھکا کیوں دیا ہے۔ میں نے کہا: کیا تم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نہیں ،کہ سکتے، یہودی نے کہا: میں نے انہیں ان کے نام سے بلایا ہے۔ وہ نام جو ان کے گھر والوں نے ان کا رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرا نام محمد ہے۔ یہ وہ نام ہے ، جو میرے گھر والوں نے میرا رکھا ہے۔ اس یہودی نے کہا: میں آپ سے سوال کرنے کے لیےآیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں خبر دوں، تویہ تمہیں فائدہ دے گی۔ اس نے کہا: آپ جو بیان کر رہے ہیں میں اسے غور سے سن رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی، جس کے ذریعے آپ زمین کرید رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سوال کرو۔ اس یہودی نے دریافت کیا، جس دن زمین کو دوسری زمین میں اور آسمانوں کو تبدیل کردیا جائے گا اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ پل صراط سے کچھ پہلے ایک تاریکی میں ہوں گے۔ اس نے دریافت کیا: سب سے پہلے اسے کون لوگ عبور کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غریب مہاجرین۔ یہودی نے دریافت کیا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے ان کی خوراک کیا ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ۔ اس نے دریافت کیا: اس کے بعد ان کی خوراک کیا ہوگی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کے لیے جنت کا بیل ذبح کیا جائے گا، جو جنت کے اطراف میں چرتا رہا ہوگا۔ یہودی نے دریافت کیا: ان لوگوں کا مشرو ب کیا ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک ایسے چشمے سے آئے گا، جس کا نام سلسبیل ہے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ اس نے بتایا: میں آپ سے ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آیا تھا۔ جن کے بارے میں روئے زمین پر کوئی نہیں جانتا صرف کوئی نبی جان سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تمہیں کچھ کہوں، تو اس کا تمہیں فائدہ ہوگا۔ اس نےکہا: میں اپنے کانوں کے ذریعے سن رہا ہوں میں نے آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرنا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا مادہ تولید سفید ہوتا ہے، اور عورت کا مادہ زرد ہوتا ہے، جب وہ دونوں ملیں اور مرد کا مادہ عورت کی منی پر غالب آجائے تو اللہ کے حکم کے تحت لڑکا ہوتا ہے۔ جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آجائے ، تو اللہ کے حکم کے تحت لڑکی ہوتی ہے۔ یہودی نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ آپ واقعی نبی ہیں پھر وہ چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی اس نے مجھ سے جن چیزوں کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ مجھے ان کے بارے میں علم نہیں تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اس کا علم دے دیا گیا۔

لِمَ تَدْفَعُنِي؟ فَقُلْتُ، أَلَا تَقُولُ: ← فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا، ← سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، ← كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ جَاءَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، ← أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ؛ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7422

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7423

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ*، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِي نَخْلٍ لَهُ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ، فَإِنْ أَنْتَ أَخْبَرْتَنِي بِهَا آمَنْتُ بِكَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الشَّبَهِ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا»، قَالَ: ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا الشَّبَهُ إِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ، وَأَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، [ص:443] فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ رَأْسُ ثَوْرٍ وَكَبِدُ حُوتٍ»، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ، وَإِنَّهُمْ إِنْ سَمِعُوا بِإِيمَانِي بِكَ بَهَتُونِي، وَوَقَعُوا فِيَّ، فَأُحِبُّ أَنِّي أَبْعَثُ إِلَيْهِمْ، فَبَعَثَ فَجَاؤُوا، فَقَالَ: «مَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ؟ » قَالُوا: سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا، وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا، وَخَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ أَتُسْلِمُونَ؟ »، فَقَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ أَنْ يَقُولُ ذَلِكَ مَا كَانَ لِيَفْعَلَ، فَقَالَ: اخْرُجْ يَا ابْنَ سَلَامٍ «فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: بَلْ هُوَ شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا، وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا، قَالَ: أَلَمْ أُخْبِرْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّهُمْ قَوْمٌ بُهْتٌ

۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت اپنے کھجوروں کے باغ میں تھے۔ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: میں آپ سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ جن کے بارے میں کسی نبی کو ہی علم ہو سکتا ہے، اگر آپ نے مجھے ان کے بارے میں بتادیا، تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بچے کی ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ ) مشابہت کے بارے میں دریافت کیا، اور اس چیز کے بارے میں دریافت کیا ، جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی، اور اس بارے میں دریافت کیا، کہ اہل جنت سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ابھی جبرائیل نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: وہ، تو یہودیوں کے نا پسندیدہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک مشابہت کا تعلق ہے، جب مرد کا مادہ عورت کے مادے پر سبقت لے جائے ، تو بچہ باپ کے مشابہ ہوتا ہے، اور اگر عورت کا مادہ مرد کے مادے پر سبقت لے جائے، تو بچہ عورت کے مشابہہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو سب سے پہلے ایک آگ اکٹھا کرے گی، جو مشرق کی طرف سے آئے گی، اور ان کو اکٹھا کرکے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ بیل کا سر ہو گا، اور مچھلی کا جگر ہوگا پھر انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہودی بہتان طراز لوگ ہیں اگر انہوں نے یہ سن لیا کہ میں آپ پر ایمان لایا ہوں، تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے۔ میرے خلاف بولیں گے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں انہیں بلوالوں ۔ پھر حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں پیغام بھیجا یہودی آگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: عبد اللہ بن سلام کی کیا حیثیت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے صاحب زادے ہیں اور ہمارے عالم ہیں اور ہمارے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ ہمارے بہترین فرد ہیں اور ہمارے بہترین فرد کے صاحبزادے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہو مسلمان ہوجائے، تو کیا تم بھی مسلمان ہوجاؤ گے۔ ان لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ انہیں اس بات سے بچائے کہ وہ یہ بات کہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن سلام باہر آؤ۔ وہ نکل کر ان کے سامنے آئے، اور انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو ان یہودیوں نےکہا: بلکہ یہ ہمارے بدترین فرد اور بدترین فرد کے بیٹے ہیں ہمارے جاہل فرد اور جاہل فرد کے بیٹے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں نے آپ کا بتایا نہیں تھا کہ یہ بہتان طراز لوگ ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ وَحُمَيْدٌ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7423

chevron_left Previous
1…621622623624625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr