Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7376

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى قَوْمٍ أَنَا رَابِعُهُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: سِوَايَ»، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا قَامَ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: ابْنُ الْجَذْعَاءِ، أَوِ ابْنُ أَبِي الْجَذْعَاءِ (*).

۔ عبد اللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں ان میں سے چوتھا فرد تھا (یعنی میرے علاوہ تین افراد اور تھے) ان میں سے ایک نے یہ کہا: میں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

سِوَاكَ ← «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← رَابِعُهُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: ← جَلَسْتُ إِلَى قَوْمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7376

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7377

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمَ صَحْوٍ؟ » قُلْنَا: لَا، قَالَ: «هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ إِذَا كَانَ صَحْوًا؟ » قُلْنَا: لَا، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، إِلَّا كَمَا لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا يُنَادِي مُنَادٍ، فَيَقُولُ: لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ أَهْلُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ، وَأَهْلُ الْأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ، وَيَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، وَغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، [ص:378] ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ، فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرًا ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَةً، وَلَا وَلَدًا مَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ، ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ، وَلَا وَلَدٌ مَاذَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ؟ فَيَقُولُونَ: قَدْ فَارَقْنَاهُمْ، وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَإِنَّا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا، قَالَ: فَيَأْتِيهِمُ الْجَبَّارُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَلَا يُكَلِّمُهُ إِلَّا نَبِيٌّ، فَيُقَالُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهَا؟ فَيَقُولُونَ: السَّاقُ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لَهُ رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ يَسْجُدُ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا، ثُمَّ يُؤْتَى بِ الْجَسْرِ، فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَانِي جَهَنَّمَ»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْجِسْرُ؟ قَالَ: «مَدْحَضَةٌ مَزَلَّةٌ عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ، وَكَلَالِيبُ، [ص:379] وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكٌ عُقَيْفَاءُ تَكُونُ بِنَجْدٍ، يُقَالُ لَهَا: السَّعْدَانُ، يَجُوزُ الْمُؤْمِنُ كَالطَّرْفِ، وَكَالْبَرْقِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ، وَكَالرَّاكِبِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا، وَالْحَقُّ قَدْ تَبَيَّنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا وَبَقِيَ إِخْوَانُهُمْ يَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلَا: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ، [ص:380] فَأَخْرِجُوهُ، وَيُحَرِّمُ اللَّهُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمَيْهِ وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ يَعُودُونَ ثَانِيَةً، فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ يَعُودُونَ الثَّالِثَةَ، فَيُقَالُ: اذْهَبُوا، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ حَبَّةً إِيمَانٍ، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ» قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «وَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي فَاقْرَؤُوا قَوْلَ اللَّهِ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40]، فَتَشْفَعُ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ: بَقِيَتْ شَفَاعَتِي، فَيَقْبِضُ الْجَبَّارُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ، يُقَالُ لَهُ: الْحَيَاةُ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ هَلْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ، أَوْ جَانِبِ الشَّجَرَةِ، فَمَا كَانَ إِلَى الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ، وَمَا كَانَ إِلَى الظِّلِّ كَانَ أَبْيَضَ، فَيَخْرُجُونَ مَثْلَ اللُّؤْلُؤَةِ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ، وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: لَكُمْ مَا رَأَيْتُمُوهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: «بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «السَّاقُ الشِّدَّةُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب آسمان صاف ہو، تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے۔ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: چودھویں رات میں جب آسمان صاف ہو، تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے۔ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: پھر اسی طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی، جس طرح ان دونوں کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ ایک منادی یہ اعلان کرے گا: ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے گی، جس کی وہ عیادت کیا کرتے تھے، تو صلیب کی پوجا کرنے والے صلیب کے ساتھ چلے جائیں گے۔ بتوں کی پوجا کرنے والے بتوں کے ساتھ چلے جائیں گے۔ مختلف معبودوں کے پیروکار اپنے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے ان میں سے کچھ لوگوں کا تعلق اہل کتاب سے بھی ہوگا۔ پھر جہنم کو لایا جائے گا، اور اسے یوں پیش کیا جائے گا جیسے وہ سیراب ہے یہودیوں سے کہا جائے گا: تم لوگ کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ جواب دیں گے ہم اللہ کے بیٹے عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا جائے گا تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے تم کیا چاہتے ہو۔ وہ یہ کہیں گے ہم یہ چاہتے ہیں، کہ تو ہمیں سیراب کردے، تو ان سے کہا جائے گا: تم (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ جہنم میں گرجائیں گے۔ عیسائیوں سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے: ہم اللہ کے بیٹے حضرت مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا جائے گا تم نے جھوٹ کہا ہے۔ اس کی ، تو کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے۔ تم کیا چاہتے ہو وہ کہیں گے ہم یہ کہتے ہیں، تو ہمیں سیراب کردے، تو ان سے کہا جائے گا: تم لوگ (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ بھی جہنم میں گر جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے، تو ان سے کہا جائے گا: تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو۔ دوسرے لوگ، تو چلے گئے ہیں، تو وہ کہیں گے ہم ان سے الگ ہیں۔ ہم نے ایک منادی کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، تو ہم لوگ بھی اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ زبردست ذات ان کے پاس آئے گی جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں اس کے ساتھ کلام صرف نبی کرے گا۔ پھر یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے تم اسے کے ساتھ کلام صرف نبی کرے گا۔ پھر یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے تم اسے پہچان لو، تو مسلمان یہ کہیں گے پنڈلی ہے۔ پھر پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا، تو ہر مومن شخص اس کے سامنے سجدے میں چلا جائے گا، اور وہ شخص باقی رہ جائے گا، جس نے دکھاوے اور ریا کاری کے طور پر اس کے لیے سجدہ کیا تھا وہ شخص سجدے میں جانے لگے گا لیکن اس کی پشت اکڑ جائے گی۔ پھر ایک پل لایا جائے گا، اور اسے جہنم کے اوپر لگا دیا جائے گا۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! وہ پل کیا ہے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: وہ پھسلنے اور گرنے کا مقام ہے۔ اس پر کانٹے، آنکڑے اور نوکیلی چیزیں ہوں گی، جیسے نجد میں موجود ایک مخصوص قسم کے پودے پر کانٹے ہوتے ہیں۔ اس پودے کو سعدان کہا جاتا ہے کوئی مومن پلک جھپکنے میں اور کوئی برق کی طرح اور کوئی ہوا کی طرح اور کوئی تیز رفتار گھوڑے کی طرح اور کوئی سوار شخص کی طرف اس پر سے گزرے گا۔ کچھ لوگ سلامتی سے اس پر سے گزر جائیں گے۔ کچھ مخدوش ہوکرگزریں گے کچھ جہنم کے اثرات سے متاثر ہوں گے، یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص گھسٹتا ہوا اس پر سے گزرے گا۔ مومنین کی طرف سے حق اس وقت واضح ہوجائے گا۔ جب وہ یہ دیکھیں گے کہ وہ نجات پاگئے ہیں، اور ان کے کچھ بھائی باقی رہ گئے ہیں، جو یہ کہہ رہے ہیں اے ہمارے پروردگار یہ ہمارے بھائی ہیں یہ ہمارے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ عمل کرتے تھے، تو پروردگار فرمائے گا تم جاؤ اور تمہیں جس کے دل میں ایک دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے، اسے (جہنم میں سے) نکال لو، تو اللہ تعالیٰ ان کی صورتوں کو جہنم کے لیے حرام قرار دیدے گا۔ وہ لوگ اپنے بھائیوں کے پاس آئیں گے۔ جن میں سے بعض لوگ جہنم می پاؤں تک گم ہوں گے بعض نصف پنڈلی تک ہوں گے۔ پھر وہ جہنم سے نکلیں گے۔ پھر وہ دوبارہ اس میں آئیں گے۔ پھر وہ فرمائے گا تم لوگ جاؤ تمہیں جس کے دل میں نصف دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے، اسے (جہنم سے) باہر نکال لو، تو وہ جہنم سے (ایسے لوگوں کو) باہر نکالیں گے پھر وہ تیسری مرتبہ آئیں گے کہا جائے گا تم جاؤ اور جس کے دل میں دانے کے وزن جتنا ایمان تمہیں ملتا ہے، اسے (جہنم سے) نکال لو، تو وہ لوگ انہیں نکال لیں گے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اگر تم لوگ میرے بات کو سچ نہیں سمجھتے تو تم یہ آیت تلاوت کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہے۔ "اے شک اللہ تعالیٰ ذرے کے وزن جتنا بھی ظلم نہیں کرے گا۔ اگر کوئی نیکی ہوگی، تو وہ اسے کئی گنا کردے گا، اور وہ اپنی طرف سے عظیم اجر بھی عطا کرے گا"۔ فرشتے ، انبیاء ، صدیقین شفاعت کریں گے۔ پھر زبردست ذات جو برکت والی ا ور بلند و برتر ہے، اور جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یہ فرمائے گا اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ پھر جبار (اللہ تعالیٰ) ایک مٹھی بھر لوگ جہنم سے نکالے گا وہ ان لوگوں کو نکالے گا، جو جل کر کوئلہ ہوچکے تھے اور انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا، جس کا نام نہر حیات ہے، تو وہ اس میں یوں پھوٹ پڑیں گے جیسے سیلابی پانی کی گزرگاہ میں دانا پھوٹ پڑتا ہے۔ کیا تم نے چٹان کے کنارے پر یا درخت کے کنارے پر اسے دیکھا ہے، اس کا جو حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے، جو حصہ سائے کی طرف ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے، تو وہ لوگ موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ ان کے گلے میں انگوٹھیاں ڈال دی جائیں گی۔ وہ جنت میں داخل ہوں گے، تو اہل جنت یہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں رحمان نے (جہنم سے) آزاد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کیے ہوئے کسی عمل کے بغیر جنت میں داخل کردے گا، جو ان کی بھیجی ہوئی کسی چیز کے بغیر ہوگا ان سے کہا جائے گا: تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ تم کو ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں؛ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے "کہ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) لفظ ساق سے مراد شدت ہے (یعنی معاملہ سخت ہوجائے گا)

قُلْنَا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7377

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7378

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، [ص:383] عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقُولُ إِبْرَاهِيمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبَّاهُ، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلَا: يَا لَبَّيْكَاهُ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ حَرَّقْتَ بَنِيَّ، فَيَقُولُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ ذَرَّةٌ أَوْ شَعِيرَةٌ [ص:384] مِنْ إِيمَانٍ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے اے میرے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا: میں سن رہا ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے اے میرے پروردگار ، تو نے میرے بیٹوں کو جلادیا ہے، تو پروردگار فرمائے گا تم جہنم میں سے ہر اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں ذرے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاط ہیں: ) جَو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہے"۔

إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ حَرَّقْتَ بَنِيَّ، ← الرَّبُّ جَلَّ وَعَلَا: يَا لَبَّيْكَاهُ، ← إِبْرَاهِيمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبَّاهُ، ← النَّبِيِّ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، [ص:345] ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7378

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7379

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ وَعَلَيْهِ حَسَكٌ، وَكَلَالِيبُ، وَخَطَاطِيفُ تَخْطَفُ النَّاسَ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَبِجَنْبَتَيْهِ مَلَائِكَةٌ، يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الرِّيحِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ مِثْلَ الْفَرَسِ الْمُجْرَى، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْعَى سَعْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي مَشْيًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَحْبُو حَبْوًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَزْحَفُ زَحْفًا، فَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا، فَلَا يَمُوتُونَ، وَلَا يَحْيَوْنَ، وَأَمَّا أُنَاسٌ، فَيُؤْخَذُونَ بِذُنُوبٍ وَخَطَايَا، فَيُحْرَقُونَ، فَيَكُونُونَ فَحْمًا، ثُمَّ يُؤْذَنُ فِي الشَّفَاعَةِ فَيُؤْخَذُونَ ضِبَارَاتٍ ضِبَارَاتٍ، فَيَقْذَفُونَ عَلَى [ص:385] نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ»، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا رَأَيْتُمُ الصَّبْغَاءَ شَجَرَةً تَنْبُتُ فِي الْفَضَاءِ؟ فَيَكُونُ مِنْ آخِرِ مَنَ أُخْرِجَ مِنَ النَّارِ رَجُلٌ عَلَى شَفَتِهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، صَرِّفْ وَجْهِي عَنْهَا، فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، قَالَ: وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي شَيْئًا غَيْرَهَا، قَالَ: ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، قَالَ: فَيَقُولُ: عَهْدَكَ وَذِمَّتَكَ لَا تَسْأَلْنِي غَيْرَهَا، ثُمَّ يَرَى أُخْرَى أَحْسَنَ مِنْهَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، حَوِّلْنِي إِلَى هَذِهِ آكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَأَكُونُ فِي ظِلِّهَا، قَالَ: ثُمَّ يَرَى سَوَادَ النَّاسِ وَيَسْمَعُ كَلَامَهُمْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ»، قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: اخْتَلَفَ أَبُو سَعِيدٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: «فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا»، وَقَالَ الْآخَرُ: «فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، فَيُعْطَى الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى «وَعَلَى الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلَى جَانِبِ الصِّرَاطِ ثَلَاثُ شَجَرَاتٍ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جہنم کے پل پر سے لوگ گزریں گے۔اس پر بڑے ، بڑے کانٹے اور آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے، جو لوگوں کو دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے اچک لیں گے۔ اس کے دونوں پہلوؤں پر فرشتے موجود ہوں گے اور وہ یہ کہہ رہے ہوں گے اے اللہ سلامتی عطا کرنا، سلامتی عطا کرنا، تو کچھ لوگ ہوا کی مانند (تیزی سے) گزر جائیں گے۔ کچھ لوگ تیز رفتار گھوڑے کی طرح، کچھ دوڑنے والے شخص کی طرح ، کچھ چلنے والے شخص کی طرح ، کچھ لوگ گھسٹ کر گزریں گے، اور کچھ لوگ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے گزریں گے۔ جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے، جو اس کے اہل ہوں گے، تو وہ جہنم میں نہ، تو مریں گے اور نہ ہی زندہ رہیں گے۔ البتہ کچھ لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے اور خطاؤں کی وجہ سے ان کی گرفت کی جائے گی اور انہیں جلایا جائے گا۔ جب وہ کوئلہ ہوجائیں گے، تو پھر شفاعت کی اجازت دی جائے گی، تو انہیں گروہ گروہ کرکے لیا جائے گا، اور جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، اور وہ یوں پھوٹ پڑیں گے، جس طرح سیلاب کی گزرگاہ میں دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے وہ درخت نہیں دیکھا جو ایسی کھلی جگہ پر اگتا ہے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ) جہنم سے نکالا جانے والا آخری شخص وہ ہوگا، جو جہنم کے کنارے پر ہوگا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے۔ پروردگار فرمائے گا تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پل صراط پر تین درخت ہوں گے وہ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس درخت کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھالوں۔ سائے میں آجاؤں۔ پروردگار فرمائے گا تم یہ عہد کرو تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ شخص دوسرے درخت کو دیکھے گا وہ اس سے زیادہ اچھا ہے، تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کی طرف پھیر دے تاکہ میں اس کا پھل کھالوں اور اس کے سائے میں آجاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پروردگار یہ فرمائے گا تم یہ عہد کرو کہ تم اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگو گے پھر وہ تیسرے درخت کو دیکھے گا کہ وہ اس سے بھی زیادہ اچھا ہے، تو عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ، تو مجھے اس درخت کے پاس لے جا، تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ شخص (جنت میں) لوگوں کے ہجوم کو دیکھے اور ان کا کلام سنے گا، تو عرض کرےگا: اے میرے پروردگار! مجھے جنت میں داخل کردے۔ ابو نضرہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: یہاں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے درمیان (الفاظ کو نقل کرنے) میں اختلاف ہوا۔ ان میں سے ایک کا یہ کہنا تھا: پروردگار اسے جنت میں داخل کردے گا، اور اسے دنیا اور اس کی مانند مزید (جگہ جنت میں عطا کرے گا) اور دوسرے صحابی نے یہ کہا: پھر وہ شخص جنت میں داخل ہوگا، اور اسے دنیا اور اس کی مانند دس گنا (مزید جگہ) عطا کی جائے گی۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) امام ابو یعلی نے اسی طرح یہ بیان کیا ہے کہ پل صراط پر تین درخت ہوں گے حالانکہ روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں۔ پل صراط کےایک طرف (یعنی جنت والی طرف) تین درخت ہوں گے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7379

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7380

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «عَلَى الصِّرَاطِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عبيدة بن حميد ← مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7380

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7381

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَجَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: «أَلَا هَلْ مُشَمِّرٍ لِلْجَنَّةِ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ لَا خَطَرَ لَهَا هِيَ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلَأْلَأُ، وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ، وَقَصْرٌ مُشَيَّدٌ، وَنَهْرٌ مُطَّرِدٌ، وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ نَضِيجَةٌ، وَزَوْجَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ، وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ فِي دَارٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ»، قَالُوا: نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «قُولُوا: إِنْ شَاءَ اللَّهُ»، ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ.

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا جنت کے لیے تیاری کرنے والا کوئی ہے؟ کیونکہ جنت ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ رب کعبہ کی قسم وہ ایک ایسا نور ہے، جو جھلملا رہا ہے۔ ایک ایسا پھول ہے، جو لہلہا رہا ہے۔ ایک ایسا محل ہے، جو مربوط ہے۔ ایک ایسی نہر ہے، جو مسلسل بہتی ہے، وہاں پھل ہیں، جو بہت زیادہ ہیں، اور پکے ہوئے ہیں، اور بیویاں ہیں، جو حسین و جمیل ہیں، اور بہت زیادہ عمدہ لباس ہیں۔ وہ ایک ایسا مقام ہے جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ وہ جگہ سر سبز ہے، ہری بھری ہے ، بلند و برتر ہے ، صحیح و سالم ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو انشاء اللہ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ذکر کیا اور اس کی ترغیب دی۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَجَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7381

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7382

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ»

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جوشخص نا حق طور پر کسی ذمی کو قتل کردے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، اگرچہ اس کی بو ایک سو میل کے فاصلے سے محسوس ہوجاتی ہے"۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7382

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7383

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي عَهْدِهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ»

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7383

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7384

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بِالنَّبَاءَةِ، أَوِ النَّبَاوَةِ مِنَ الطَّائِفِ: «تُوشِكُونَ أَنْ تَعَلَمُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ»، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: «أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ [ص:393] الْمُسْلِمِينَ: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، وَالثَّنَاءِ السَّيِّئَ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ»

۔ ابو بکر بن ابو زہیر ثقفی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نباہ یا نبا وہ کے مقام پر جس کا تعلق طائف سے ہے، خطبے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "عنقریب تم لوگ اہل جہنم کے مقابلے میں اہلِ جنت کو جان لو گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) برے لوگوں کے مقابلے میں بہتر لوگوں کو جان لو گے"۔ (راوی کہتے ہیں ) میرے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔ "اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت کو پہچان لوگے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کس چہز کے ذریعے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی تعریف اور بری تعریف کے ذریعے۔ تم لوگ ایک دوسرے کے بارے میں گواہ ہو"۔

أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ ← أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7384

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7385

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى [ص:394] الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَابْنِ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَالَ مُوسَى أَيْ رَبِّ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ أَعْدَدْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ}» الْآيَةَ [السجدة: 17].

۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اہل جنت میں سب سے بلند مرتبہ کس کا ہوگا، تو پروردگار نے فرمایا: میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کا سامان تیار کیا ہے، اور میں نے اس پر مہر لگا دی ہے وہ ایک ایسی چیز ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہوگا۔ (راوی کہتے ہیں ) اس کا مصداق اللہ کی کتا ب میں موجود (یہ آیت ہے) "کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے"۔

سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ أَعْدَدْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ ← مُوسَى أَيْ رَبِّ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ ← عَلَى الْمِنْبَرِ، يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، وَابْنِ أَبْجَرَ، سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى [ص:394] الْبَلْخِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7385

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7386

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا، وَمَا فِيهِمَا وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ [ص:395] يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ»

۔ ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس اپنے والد (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دو جنتیں ایسی ہیں، جو چاندی سے بنی ہوئی ہیں ان کے برتن ان میں موجود تمام چیزیں چاندی سے بنی ہوئی ہیں۔ دو جنتیں ایسی ہیں جن کے برتن اور تمام چیزیں سونے سے بنی ہوئی ہیں، اور لوگوں اور کے پروردگار کے دیدار کے درمیان صرف کبریائی کی چادر حائل ہے، جو جنت عدن میں پروردگار کی ذات پر ہے"۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7386

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7387

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ رَقَّتْ قُلُوبَنَا، وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ، وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا، وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ، فَقَالَ: «لَوْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّكُمْ، وَلَوْ أَنَّكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ»، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: «لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ أَوِ الْيَاقُوتُ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلْهَا يَنْعَمْ، فَلَا يَبْؤُسُ، وَيَخْلُدْ لَا يَمُوتُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي [ص:397] لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں، اور ہمیں آخرت کی فکر ہوجاتی ہے لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں، تو ہمیں دنیا اچھی لگنے لگتی ہے، اور ہم اپنے بیوی بچوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مستقل اسی حالت میں رہو جو تمہاری حالت اسی وقت ہوتی ہے، جب تم میرے پاس ہوتے ہو ، تو فرشتے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگ پڑیں اور اگر تم اپنے گھروں میں رہنے کے دوران گناہ نہ کرو، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو لے آئے گا، جو گناہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مغفرت کرے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں جنت اور اس کی بناوٹ کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔ اس کا گارا مشک اذفرکا ہے۔ اس کی کنکریاں موتیوں اور یا قوت کی ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگا۔ وہ ہمیشہ نعمتوں میں رہے گا کبھی پریشان نہیں ہوگا، اور ہمیشہ زندہ رہے گا، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور اس کے کپڑے کبھی پرانے نہیں ہوں گے اس کی جوانی ختم نہیں ہوگی۔ تین لوگ ایسے ہیں جن کی دعا مسترد نہیں ہوتی۔ عادل حکمران، روزہ دار شخص جب افطاری کرتا ہے اور مظلوم شخص جس کی دعا بادلوں سے اوپر چلی جاتی ہے۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ عرصے کے بعد کروں۔

قُلْنَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو الْمُدِلَّةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهُ ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← فرج بن رواحة الْمَنْبِجِیُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7387

chevron_left Previous
1…618619620…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr