Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7364

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْعَرِيَّ، يَقُولُ: [ص:365] سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا يُقَالُ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَلَمْ أُصَحِّحْ جِسْمَكَ، وَأَرْوِيَكَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: "قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے یہ کہا جائے گا: کیا میں تمہارے جسم کو صحیح نہیں کیا تھا۔ کیا میں نے تمہیں ٹھنڈے پانی کے ذریعے سیراب نہیں کیا تھا"۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← [ص:149] ← الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْعَرِيَّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7364

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7365

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، [ص:366] عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا، فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ: أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا؟ فَمَاذَا قَدَّمْتَ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا، فَلَا يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم میں سے کوئی ایک شخص جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو ایک کہنے والا یہ کہے گا: کیا میں نے تمہارے لیے سماعت اور بصارت نہیں بنائی تھی۔ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد عطا نہیں کیا تھا، تو پھر تم نے کیا عمل کیا۔ وہ شخص اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے دائیں اپنے بائیں دیکھے گا، تو اسے کوئی چیز نہیں ملے گی۔ وہ صرف اپنے چہرے کے ذریعے جہنم سے بچ سکے گا، تو تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو۔ خواہ نصف کھجور کے ذریعے کرو، اور اگر یہ بھی نہیں پاتے تو پاکیزہ بات کے ذریعے جہنم سے بچنے کی کوشش کرو"۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7365

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7366

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قَالَ: فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ اسْتَطْعَمْتَنِي وَلَمْ أُطْعِمْكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلَانًا اسْتَسْقَاكَ فَلَمْ تَسْقِهِ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ [ص:367] فُلَانًا لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ، فَلَمْ تَعُدْنِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلَانًا مَرِضَ فَلَوْ كُنْتَ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا:

اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7366

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7367

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَلْقَيَنَّ أَحَدُكُمْ رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ لَهُ: أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ؟ أَلَمْ أَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ فُلَانَةَ خَطَبَهَا الْخَطَّابُ، فَمَنَعْتُهُمْ وَزَوَّجْتُكَ؟ »

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے کوئی ایک شخص قیامت کے دن ضرور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو پروردگار اسے فرمائے گا کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے تھے کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا۔ کیا میں نے تمہاری فلاں عورت کے ساتھ شادی نہیں کروائی تھی، جسے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ لیکن میں نے ا ن لوگوں کی شادی اس کے ساتھ نہیں ہونے دی اور تمہاری شادی کروا دی تھی"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7367

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7368

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ نَهَارًا الْعَبْدِيَّ وَكَانَ سَاكِنًا فِي بَنِي النَّجَّارِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَذْكُرُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ لَهُ: مَا مَنَعَكَ إِذَا رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ أَنْ تُنْكِرَهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حَجَّتَهُ، يَقُولُ: [ص:369] يَا رَبِّ، وَثِقْتُ بِكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ أَوْ فَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ وَوَثِقْتُ بِكَ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے حساب لے گا، یہاں تک کہ وہ اس سے فرمائے گا۔ جب تم نے ایک منکر چیز کو دیکھا تھا، تو تمہیں کس چیز نے اس کا انکار کرنے سے روکا تھا، تو جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی دلیل سکھائے گا، تو وہ عرض کرے گا: اے پروردگار میں نے تجھ پر یقین کیا اور لوگوں سے الگ ہوگیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) میں لوگوں سے الگ ہو گیا اور میں نے تجھ پر یقین کیا"۔

عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر بن حزم ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7368

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7369

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ، فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8]، قَالَ: «ذَاكَ الْعَرْضُ لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ اس کو عذاب دیا جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس شخص سے آسان حساب لیا جائے گا"۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد پیشی ہے ورنہ قیامت کے دن جس بھی شخص سے حساب لیا جائے گا ۔ وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7369

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7370

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، [ص:371] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8]، قَالَ: «ذَاكَ الْعَرْضُ»

677۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ "جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم ! اللہ تعالیٰ ، تو یہ فرماتا ہے۔ "جس شخس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیا جائے گا"۔ تو نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد پیش کرنا ہے۔

«مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ»، فَقُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، [ص:509] ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7370

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7371

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} [الانشقاق: 8]، قَالَ: «ذَاكَ الْعَرْضُ لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم! (ارشاد باری تعالیٰ ہے: ) "جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں عطا کیا جائے گا۔ ا س سے آسان حساب لیا جائے گا"۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد پیش کرنا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7371

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7372

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا»، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: «أَنْ يَنْظُرَ فِي سَيِّئَاتِهِ وَيَتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ هَلَكَ، وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ، حَتَّى الشَّوْكَةُ تَشُوكُهُ»

۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ "اے اللہ مجھ سے آسان حساب لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم! آسان حساب سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: (اس سے مراد یہ ہے ) کہ آدمی کے نامہ اعمال کی طرف پروردگار دیکھے اور پھر اس کے گناہوں سے درگزر کرے کیونکہ اس دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت کا شکار ہوجائے گا۔ مومن کو جو بھی مصیب لاحق ہوتی ہے وہ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، یہاں تک کہ اسے جو کانٹا لگتا ہے (وہ بھی اس کے گناہوں کو ختم کرتا ہے )"۔

قُلْتُ ← «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا»، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← جَرِيرٌ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7372

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7373

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ، إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْسَرَ مِنْهُ، فَلَا يَرَى شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ»، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، وَسَمِعَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ مِنْ [ص:374] أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ الْأَعْمَشِ بَعْدَ الثَّوْرِيِّ، وَكَذَلِكَ وَكِيعٌ فِي وَصْلِهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، رَوَى قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا صَحِيحَانِ.

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام کرے گا، اور اس شخص کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا پھر وہ آدمی اپنے دائیں طرف دیکھے گا، تو اسے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، جو اس نے آگے بھیجی ہو (یعنی کوئی نیک کام کیا ہو) پھر وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا، تو اسے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، جو اس نے آگے بھیجی ہو پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا، تو اس کے سامنے آگ ہوگی۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: تم میں سے جو شخص اپنے چہرے کو آپ سے بچا سکتا ہو (اسے بچانے کی بھر پور کوشش کرے) خواہ وہ کھجور کے نصف حصے کے ذریعے ایسا کرے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) یہ روایت اعمش نے خیثمہ سے سنی ہے۔ انہوں نے یہ روایت عمرو بن مرہ کے حوالے سے بھی خیثمہ سے سنی ہے یہ روایت ابو معاویہ نے نقل کی ہے، اور وہ اعمش کی روایات کے بارے میں ثوری کے بعد سب سے زیادہ علم رکھنے والے شخص ہیں۔ اسی طرح وکیع نے بھی اسے موصول روایت کے طور پر اعمش کے حوالے سے خیثمہ سے نقل کیا ہے۔ قطبہ بن عبد العزیز اور جریربن عبد الحمید نے یہ روایت اعمش کے حوالے سے عمر و بن مرہ کے حوالے سے خیثمہ سے نقل کی ہے، تو اس کے دونوں طرق مستند ہیں۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7373

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7374

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ يَشْكُو أَحَدُهُمَا الْعَيْلَةَ، وَيَشْكُو الْآخَرُ قَطْعَ السَّبِيلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا قَطْعُ السَّبِيلِ: فَلَا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلَّا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْعِيرُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ، وَأَمَّا الْعَيْلَةُ: فَإِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا مِنْهُ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ لَيْسَ بَيْنَهُ، وَبَيْنَهُ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ، وَلَا تُرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ، فَيَقُولَنَّ لَهُ: أَلَمْ أُوتِكَ مَالًا؟ فَلَيَقُولَنَّ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا؟ فَلَيَقُولَنَّ: بَلَى، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، فَلْيَتَّقِ [ص:375] أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک نے تنگدستی کی شکایت کی اور دوسرے نے لوٹ مار کی شکایت کی، تو نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک لوٹ مار کا تعلق ہے، تو تھوڑے ہی عرصے کے بعد تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک قافلہ حیرہ سے روانہ ہوگا، اور مکہ تک آجائے گا، اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ جہاں تک تنگدستی کا تعلق ہے، تو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کوئی شخص اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نکلے گا نہیں اور پھر اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا، جو اس سے اس زکوٰۃ کو قبول کرلے۔ تم میں سے ہر شخص کو اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا اس شخص اور اللہ کی بارگاہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوگا، جو رکاوٹ بن رہا ہو۔ کوئی ترجمان نہیں ہوگا، جو درمیان میں واسطہ ہو، تو پروردگار اس سے فرمائے گا کیا میں نے تمہیں مال عطا نہیں کیا تھا؟ تو وہ جواب دے گا جی ہاں۔ پروردگار فرمائے گا کیا میں نے تمہاری طرف رسول کو نہیں بھیجا تھا۔ وہ بندہ عرض کرے گا جی ہاں پھر وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا، تو اسے جہنم نظر آئے گی۔ وہ بائیں طرف دیکھے گا، تو اسے صرف جہنم نظر آئے گی، تو تم میں سے ہر ایک شخص کو جہنم سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرے، اور اگر یہ بھی نہیں ملتی، تو پاکیزہ بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُحِلِّ بْنِ خَلِيفَةَ ← أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ، ← سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ الْجُهَنِيُّ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَبْدَانِ بن مُحَمَّد الْوَكِيل ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7374

صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7375

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ يُؤْتَى بِرَجُلٍ، فَيُقَالُ: سَلُوهُ عَنْ صِغَارِ ذُنُوبِهِ وَدَعُوا كِبَارَهَا، فَيُقَالُ لَهُ: عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَعَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَاهُنَا، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً»

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "میں جنت میں داخل ہونے والے سب سے آخری جنتی سے واقف ہوں اور جہنم سے نکلنے والے سب سے آخری جہنمی سے واقف ہوں۔ ایک شخص کو لایا جائے گا، اور کہا جائے گا: اس سے اس کے چھوٹے گناہوں کے بارے میں حساب لو، اور اس کے بڑے گناہوں کو چھوڑ دو، تو اس شخص سے دریافت کیا جائے گا: تم نے فلاں، فلاں دن یہ عمل کیا تھا۔ فلاں، فلاں دن یہ، یہ عمل کیا تھا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ! میں نے کچھ اور عمل بھی کیے تھے جو مجھے یہاں نظر نہیں آرہے"۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کو مسکراتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: اس سے فرمایا جائے گا: تمہیں ہر گناہ کے عوض میں نیکی ملتی ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Chapter News on the Resurrection › Chapter News on the Resurrection · Hadith 7375

chevron_left Previous
1…617618619…625
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr