حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم اس وقت آپ کے پاس موجود تھے "شام کے لئے مبارکباد ہے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "رحمان کے فرشتوں نے اپنے پراس پر پھیلائے ہوئے ہیں"۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ابن شماشہ نامی راوی عبد الرحمٰن بن شماسہ مہری ہے اور یہ اہل مصر کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7304
سالم بن عبد اللہ اپنے والد (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"آخری زمانے میں حضر موت سے ایک آگ تم پر نکلے گی، جو لوگوں کو اکٹھا کرلےگی۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم شام میں رہنا"۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) شام کا آغاز بالس ہے، اور اس کا اختتام عریش مصر ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7305
حضرت عبد اللہ بن حوالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"تم عنقریب کچھ لشکروں کو پاؤگے۔ ایک لشکر شام میں ہوگا۔ ایک لشکر عراق میں ہوگا۔ ایک لشکر یمن میں ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے لیے کسی ایک کو اختیار کر لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر شام کو اختیار کرنا لازم ہے، جو شخص نہیں مانتا وہ (لوگوں کی آبادی سے ہٹ کر ویرانوں میں) اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شام اور اہل شام کے لیے مجھے ضمانت دی ہے"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7306
۔ حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح نصیب ہوئی، تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھوڑوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے اور ہتھیار رکھ دیئے گئے ہیں اور جنگ ختم ہو چکی ہے، اور لوگ یہ کہہ رہے ہیں ، کہ اب لڑائی نہیں ہوگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ غلط کہہ رہے ہیں۔ اب ، تو لڑائی کا وقت آیا ہےاب، تو لڑائی کا وقت آیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو ٹیڑھا کردے گا، جو ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کرنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو رزق عطا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ ایسی صورت پر اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا، اور اہل ایمان کا ٹھکانکہ اس وقت شام ہوگا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7307
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ پر یہ آیت نازل ہوئی۔
"اور ان میں سے بعد میں آنے والے لوگ بھی ہیں، جو ان سے نہیں ملے ہیں"۔
ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس شخص نے دوبارہ سوال دوہرایا اس دوران حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے گزرے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: اگر ایمان ثریا (ستارے) پر لٹکا ہوا ہو، تو اس کی قوم کے کچھ لوگ وہاں سے بھی اسے حاصل کرلیں گے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7308
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"اگر علم ثریا (ستارے) پر ہو، تو فارس کے کچھ لوگ وہاں تک بھی پہنچ جائیں گے"۔ (یا وہاں سے بھی اسے حاصل کرلیں گے)"
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7309
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک شخص کو عرب قبیلے کی طرف بھیجا مجھے نہیں پتہ کہ آپ نے کیا ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے اس شخص کو برا بھلا کہا اور پٹائی کی۔ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور آپ کے سامنے شکایت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اہل عمان کے پاس میرا پیغام رساں آتا، تو وہ اسے برا نہ کہتے اور اس کی پٹائی نہ کرتے۔
أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← أبو الوازع جابر بن عَمْرو ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7310
صیح ابن حبان · بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ ‹ بَابُ اِخبَارِہٖ عَنِ البَعثِ · حديث 7311
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک یہودی کو یہ کہتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔ اس انصار نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس شخص کو طمانچہ رسید کر دیا۔ اس بات کا تذکرہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو اس انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس شخص نے یہ کہا تھا: اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے حالانکہ آپ ہمارے نبی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صور میں پھونک ماری جائے گی، تو آسمانوں اور زمین میں موجودہر چیز بے ہوش ہوکر گر جائے گی۔ ماسوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ چاہے (کہ وہ بے ہوش نہ ہو) پھر اس میں دوسری مرتبہ پھونک ماری جائے گی، تو سب سے پہلے میں اپنا سر اٹھاؤں گا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس وقت عرش کے پائے کو تھامے ہوئے ہوں گے مجھے نہیں معلوم کہ کیا وہ ان افراد میں شامل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ کیا تھا یا مجھ سے پہلے انہوں نے اپنا سر اٹھالیا اور جو شخص یہ کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں، اس نے غلط کہا۔
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: صور کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔
(امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) یہ روایت حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے مشہور ہے لیکن ابو یعلیٰ نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ذکر کیا ہے۔
۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
"ہر بندے کو اسی حالت پر زندہ کیا جائے گا، جس حالت پر وہ مرا تھا مومن کو اس کے ایمان پر اور منافق کو اس کے نفاق پر (زندہ کیا جائے گا)"
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جب اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے، توا گر ان کے درمیان نیک لوگ ہوں، تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ ہلاکت کا شکار ہوجائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عائشہ جب اللہ تعالیٰ اپنے عذاب یافتہ لوگوں پر عذاب نازل کرے گا، اوران کے درمیان نیک لوگ بھی ہوں، تو وہ عذاب انہیں بھی لاحق ہوجاتا ہے لیکن پھر ان کی نیتوں اور ان کے عمل کے حساب سے (قیامت کےدن) انہیں زندہ کیا جائے گا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
"جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے، تو وہ عذاب ان میں موجود ہر شخص تک پہنچ جاتا ہے لیکن پھر انہیں ان کے اعمال کے حساب سے (قیامت کے دن) زندہ کیا جائے گا"۔