Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6683

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، [ص:77] سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جَابِرُ، أَنَكَحْتَ»؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟ »، قُلْتُ: أَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ؟ قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے فرمایا :ا ے جا بر کیا تم نے شاد ی کر لی ہے ۔ میں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا تم نے قالین استعمال کیا ۔ میں نے عرض کی : ہمارے پاس قالین کہاں سے آئے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عنقریب آجائیں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، [ص:77] ← سُفْيَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقَيْسَرَانِيُّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6683

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6684

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ بِهَا - يَعْنِي - عَرِيفٌ، نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا عَرِيفٌ [ص:78] نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَرَافَقْتُ رَجُلًا فَكَانَ يُجْرَى عَلَيْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الصَّلَاةِ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا، قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مِنْبَرِهِ، فَصَعِدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: حَتَّى مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرُ - وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الْأَرَاكِ - فَقَدِمْنَا عَلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ، فَوَاسَوْنَا فِيهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ، لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَلَكِنْ لَعَلَّكُمْ تُدْرِكُونَ زَمَانًا - أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ - يَلْبَسُونَ فِيهِ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، وَيُغْدَى عَلَيْهِمْ، وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ «

حضرت طلحہ بن عمر و رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے جب کوئی شخص مدینہ منورہ آتا ۔ اس کا وہاں کوئی دوست ہوتا تو وہ اپنے دوست کے ہاں پڑاؤ کرتا تھا اور اگر اس کا کوئی دوست نہ ہوتا تو وہ صفا کے چبوترے پر پڑاؤ کرتا ۔ راوی کہتے ہیں : میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے صفاء کے چبوترے ہر پڑاؤ کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی طرف سے روزانہ کھجوروں کا ایک مد ہماری طرف آیا کرتا تھا ۔ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرا تم ہم نے اس ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹو ں کو جلا دیا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ منبر کی طرف تشریف لے گئے آپ اس پر چڑھے آپ نے اللہ تعالی کی حمدو ثنا ء بیان کی ۔ پھر آپ نے اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی (مشکلات ) کا ذکر کیا' یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: میرے اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ دن ایسے بھی گزرے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے صرف بریر ہوتا تھا ( راوی کہتے ہیں: ) بریر سے مراد پیلو کا پھل ہے۔ (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے تو ان کی زیادہ تر خوراک کھجور ہوتی تھی ۔ انہوں نے اس بارے میں ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے تمہارے لئے روٹی اور گوشت ملے تو میں وہ بھ کھلاؤں گا اور عنقریب تمہیں ایک ایسا زمانہ ملے گا ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم میں سے جو شخص اس زمانے تک پہنچے گا تو لوگ اس میں کعبہ کے پردوں جیسا (عمدہ لباس ) پہنیں گے' اور صبح شام ان کے پاس پیالوں میں (مختلف قسم کی کھانے کی چیزیں ) آئیں گی۔

طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6684

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6685

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، [ص:79] قَالَ: أَخْبَرَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا، وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى لَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ، كَيْفَ تَصْنَعُ»؟:، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَعَفَّفْ»، قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ شَدِيدٌ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ، كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: » اصْبِرْ، يَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ - مَوْضِعٌ بِالْمَدِينَةِ - مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ تَصْنَعُ «؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: » اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ، وَأَغْلِقْ عَلَيْكَ بَابَكَ «، قَالَ: » أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أُتْرَكْ «؟ قَالَ: » فَائْتِ مَنْ أَنْتَ مِنْهُ، فَكُنْ فِيهِمْ «، قَالَ: فَآخُذُ سِلَاحِي؟ قَالَ: » إِذًا تُشَارِكُهُمْ فِيهِ، وَلَكِنْ إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَرُوعَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَرَفَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ «

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ گدھے پر سوارآئے ۔ آپ نے اپنے پیچھے مجھے بٹا لیا پھر آپ نے فرمایا: اے ابوذر تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں کو اتنی شدید بھوک لاحق ہو جائے کہ تم اس بات کی بھی استطاعت نہ رکھو کہ اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو تو پھر تم کیا کر و گے۔ حضرت ابوذر نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بچ کے رہنا پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگوں کو ایسی زبر دست موت لاحق ہو یہاں تک کہ گھر بندے کے ساتھ ہو ' تو پھر تم کیا کرو گت حضرت ابوذر نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم صبر سے کام لینا ( پھر آپ نے فرمایا : ) اے ابوذر تمہارا کیا خیال ہے اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں ' یہاں تک کہ احجارزیت کی جگہ (خون سے ) بھر جائے ۔ (راوی کہتے ہیں ) یہ مدینہ منورہ میں ایک جگہ ہے تو پھر تم کیا کرو گے ۔ حضرت ابوذر نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے گھر میں بیٹھے رہنا اور اپنا دروازہ بند کر لینا ۔ حضرت ابو ذر ٖغفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ کی کیا رائے ہے۔ اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان کے پاس چلے جانا جن کے ساتھ تمہارا تعلق ہے ( یعنی اپنے قبیلے چلے جانا) اور ان کے درمیان رہنا حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا میں اپنا ہتھیار سنبھال لوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس صورت میں تم اس بارے میں ان لوگوں کے حصے دار بن جاؤ گے اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں خوف زدہ کر دے گی تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر رکھ لینا تو وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا وبال اٹھائے گا ( جو تمہیں قتل کر ے گا )

«يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ ← رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ حِمَارًا، وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، ثُمَّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6685

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6686

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:80] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ وَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ، فَشَكَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي طَالِبٍ، فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: «يَا عَمِّ، إِنَّمَا أَرَدْتُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ، وَتُؤَدِّي إِلَيْهِمْ بِهَا الْعَجَمُ الْجِزْيَةَ»، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ»، فَقَامُوا فَقَالُوا: أَجْعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا؟ قَالَ: وَنَزَلَتْ: {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: 1] إِلَى قَوْلِهِ {إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ} [ص: 5]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : جناب ابو طالب بیمار ہو گئے قریش ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ بھی ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس تشریف لائے ۔ ان کے سرہانے کے قریب ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی ۔ابو جہل اٹھا اور وہاں بیٹھ گیا ان لوگوں نے جناب ابو طالب کو نبی اکرمﷺ کی شکایت کی اور بولے آپ کے بھتیجے ! ہمارے مبعودوں پر تنقید کرتے ہیں ۔ جناب ابو طالب نے کہا : اے میرے بھتیجے کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم کے افراد آ پ کی شکایتیں لگا رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اے چا چا جان ! میں انہیں ایک کلمے پر اکٹھا کرنا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے عرب ان کے ماتحت ہوں گے ۔ عجمی انہیں جزیہ ادا کریں گے ۔انہوں نے دریافت کیا : وہ کو سا کلمہ ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لا الہ اللہ تو وہ لوگ کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے کہا : کیا تم مختلف معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنانا چاہتے ہو ۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ''ص' قرآن کی قسم ہے' جو نصیحت کرنے والا ہے۔'' یہ آیت یہاں تک ہے''بے شک یہ بہت حیران کن چیز ہے۔''

أَتَاهُ النَّبِيُّ يَعُودُهُ ← مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6686

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6687

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ حَدَّثَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَيَفْتَحَنَّ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الْأَبْيَضَ - أَوْ قَالَ فِي الْأَبْيَضِ - عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ''مسلمانوں کا ایک گروہ کسریٰ کے خاندان والوں کے خزانے کو ضرور فتح کر ے گا ۔''

فِي الْأَبْيَضِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ← «لَيَفْتَحَنَّ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الْأَبْيَضَ أَوْ ← النَّبِيِّ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ حَدَّثَ أَنَّهُ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6687

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6688

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ خَزَائِنُ فَارِسَ وَالرُّومِ، أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ»؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَكُونُ كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَتَنَافَسُونَ، ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ، ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ، ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ، ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ إِلَى مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ، فَتَحْمِلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : '' جب تمہارے لئے فارس اور روم کے خزانے فتح کر دئیے جائیں تو تم لوگ کیسی حالت میں ہو گے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم ویسے ہی ہوں گے جیسے اللہ تعالی ٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں آجاؤ گے ایک دوسرے سے حسد رکھو گے۔ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو گے ایک دوسرے سے بغض رکھو گے پھر تم عنقریب غریب مہاجرین کی طرف جاؤ گے ' اور ان میں سے کچھ کو دوسروں کی گردنوں پر سوار کر دو گے ''۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَكُونُ كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ، ← «إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ خَزَائِنُ فَارِسَ وَالرُّومِ، أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ»؟ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6688

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6689

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرُ بَعْدَهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ» أَرَادَ بِهِ بِأَرْضِهِ، وَهِيَ الْعِرَاقُ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرُ بَعْدَهُ» يُرِيدُ بِهِ بِأَرْضِهِ وَهِيَ الشَّامُ، لَا أَنَّهُ لَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَلَا قَيْصَرُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کرو گے۔'' (امام ابن حبان ؒ فر ماتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان جب کسریٰ مر جائے تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا ۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد اس کی سر زمین ہے وہ عراق کی سر زمین ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی سر زمین میں ایسا نہیں ہو گا اور وہ سر زمین شام ہے اس سے مراد نہیں ہے کہ ان کے بعد کوئی کسریٰ یا کوئی ﷺقیصر نہیں ہو گا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6689

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6690

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ أَبَدًا، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَأَيْمُ اللَّهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کبھی کسریٰ نہیں ہو گا جب قیصر مر جائے گا اس کے بعد کبھی قیصر نہیں ہو گا ۔ اللہ کی قسم! ان دونوں کے خزانے اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کئے جائیں گے۔''

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6690

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6691

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَحْسُرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ، فَيُقْتَلُ مِنْ [ص:86] كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ»، قَالَ: «يَا بُنَيَّ إِنْ أَدْرَكْتَهُ فَلَا تَكُونَنَّ مِمَّنْ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''عنقریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا جب دریائے فرات سونے کے پہاڑ کو ظاہر کر گا جس پر جس لوگوں کی جنگ ہو گی ۔ اس میں ہر سو میں سے نوے لوگ مارے جائیں گے۔'' (راوی کہتے ہیں : ) اے میرے بیٹے ! اگر تم اس زمانے کو پاؤ تو ان لوگو ں میں شامل ہر گز نہ ہونا جو اس کے لئے لڑائی کریں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6691

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6692

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسُرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشْرَةٍ تِسْعَةٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ' نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ''قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی ' جب تک دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نمودار نہیں ہو گا جس پر لوگ ایک دوسرے سے جنگ کریں گے 'تو ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے ۔''

جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشْرَةٍ تِسْعَةٌ» ← «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسُرَ الْفُرَاتُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6692

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6693

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسُرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''عنقریب دریائے فرات سونے کے خزانے کو ظاہر کر ے گا تو جو شخص وہاں موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6693

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6694

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى التُّسْتَرِيُّ بِعَبَّدَانَ، قَالَ: [ص:88] حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسُرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: عقریب دریائے فرات سونے کے خزانے کو ظاہر کرے گا ' جو شخص وہاں موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ، ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← [ص:149] ← أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ بْنِ مُوسَى التُّسْتَرِيُّ، بِعَبْدَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6694

chevron_left Previous
1…594595596…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr