صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6671
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ، قَالَتْ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقُلْتُ: وَمَا لِيَ لَا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ كَفَنًا، وَلَا يَدَانِ لِي فِي تَغْيِيبِكَ، قَالَ: أَبْشِرِي وَلَا تَبْكِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَمُوتُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثٌ، فَيَصْبِرَانِ وَيَحْتَسِبَانِ فَيَرَيَانِ النَّارَ أَبَدًا»، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: «لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ»، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِلَّا وَقَدْ مَاتَ فِي قَرْيَةٍ وَجَمَاعَةٍ، فَأَنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، فَأَبْصِرِي الطَّرِيقَ، فَقُلْتُ: أَنَّى وَقَدْ ذَهَبَتِ الْحَاجُّ وَتَقَطَّعَتِ الطُّرُقُ، فَقَالَ: اذْهَبِي فَتَبَصَّرِي، قَالَتْ: فَكُنْتُ [ص:61] أَشْتَدُّ إِلَى الْكَثِيبِ أَتَبَصَّرُ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُمَرِّضُهُ، فَبَيْنَمَا هُوَ وَأَنَا كَذَلِكَ إِذَا أَنَا بِرِجَالٍ عَلَى رَحْلِهِمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ تَخُبُّ بِهِمْ رَوَاحِلُهُمْ، قَالَتْ: فَأَسْرَعُوا إِلَيَّ حِينَ وَقَفُوا عَلَيَّ، فَقَالُوا: يَا أَمَةَ اللَّهِ، مَا لَكِ؟ قُلْتُ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمُوتُ فَتُكَفِّنُونَهُ؟ قَالُوا: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتْ: أَبُو ذَرٍّ، قَالُوا: صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَفَدَّوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَأَسْرَعُوا إِلَيْهِ حَتَّى دَخَلُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: أَبْشِرُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِنَفَرٍ أَنَا فِيهِمْ: «لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ»، وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ هَلَكَ فِي جَمَاعَةٍ، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ إِنَّهُ لَوْ كَانَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُنِي كَفَنًا لِي أَوْ لِامْرَأَتِي، لَمْ أُكَفَّنْ إِلَّا فِي ثَوْبٍ هُوَ لِي أَوْ لَهَا، إِنِّي أُنْشِدُكُمُ اللَّهَ أَنْ لَا يُكَفِّنَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ أَمِيرًا أَوْ عَرِيفًا أَوْ بَرِيدًا أَوْ نَقِيبًا، فَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفْرِ أَحَدٌ إِلَّا وَقَدْ قَارَفَ بَعْضَ مَا، قَالَ إِلَّا فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: أَنَا أُكَفِّنُكَ يَا عَمِّ، أُكَفِّنُكَ فِي رِدَائِي هَذَا، وَفِي ثَوْبَيْنِ فِي عَيْبَتِي مِنْ غَزْلِ أُمِّي، قَالَ: أَنْتَ فَكَفِّنْنِي، فَكَفَّنَهُ الْأَنْصَارِيُّ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ حَضَرُوا، وَقَامُوا عَلَيْهِ وَدَفَنُوهُ فِي نَفَرٍ كُلُّهُمْ يَمَانٍ
سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی انہوں نے دریافت کیا : تم کیو رو رہی ہو ۔ میں نے کہا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ ایک ویرانے میں مرنے لگے ہیں ۔ میرے پاس اتنا کپڑا بھہ نہیں ہے ' جو آپ کے کفن کے لئے کافہ ہو اور آپ کی عدم موجودگی میں میرے لئے رہنا ممکن نہیں ہے۔ تو حضرت ابوذر غفاری نے فرمایا : تمہارے لئے خوشخبری ہے تم نہ روؤ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: '' جن بھی دو مسلمان (میاں بیوی ) کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اوروہ دونوں صبر سے کام لیں اور ثواب کی امید رکھیں تو وہ کبھی بھی آگ کو نہیں دیکھیں گے'' (یعنی جہنم میں نہیں جائیں گے) (حضرت ابوذر غفاری نے یہ بتایا ) میں نے نبی اکرمﷺ کو تین آدمیوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا : جن میں 'میں بھی موجود تھا ۔ ''تم میں سے کسی ایک شخص کا انتقال ضرور ویرانے میں ہو گا لیکن اس کی نماز جنازہ میں اہل ایما ن کا ایک گروہ شریک ہو گا ۔'' (حضرت ابو ذر غفاری نے فرمایا : ) ان لوگوں میں سے ہر شخص کا انتقال کسی بستی یا لوگوں کے درمیان ہوا میں ان میں سے ایک شخص باقی رہ گیا ہوں ۔ اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے غلط بیان کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے تم راستے کا جائزہ لیتی رہو( سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) میں کہا : اب تو حاجی رخصت ہو چکے ہیں ۔ راستے منقطع ہو چکے ہیں تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور جا کہ جائز ہ لو سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں میں تیزی سے چلتی ہوئی ٹیلے کی طرف گئی اور اس بات کا جائزہ لیا اور واپس آکر ان کی تیمار دار کرنے لگی ۔ ابھی میں اور وہ اسی حالت میں تھے اسے دوران کچھ لوگ اپنی سواریوں پر سوار ہو کر آئے ۔ یوں وہ پرندے ہوں ۔ ان کی سواریاں انہیں لے کر آئیں تھیں ۔ سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب وہ لوگ میرے ٹھہرے تو تیزی سے میری طر ف آئے انہوں نے کہا : اے اللہ کی کنیز تمہارا کیا معاملہ ہے میں نے کہا : ایک مسلمان شخص کا انتقال ہونے لگا ہے۔ کیا آپ لوگ اسے کفن دیں گے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ کون شخص ہے اس خاتون نے جواب دیا : حضرت ابوذر ان لوگؤں نے کہا : وہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں میں نے جواب دیا : جی ہاں تو انہوں نے کہا : میرے ماں باپ ان پر قربان ہو ں پھر وہ تیزی سے چلتے ہوئے حضرت ابوذر غفاری کے پاس آگئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو ذر غٖاری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا تم لوگوں کے لئے خوشخبری ہے ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو کچھ لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سنا : جن میں 'میں موجود تھا '' تم میں سے ایک شخص ویرانے میں انتقال کرے گا اور اس کے جناز ے میں اہل ایمان کا ایک گروہ شریک ہو گا ۔'' پھر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( میرے علاوہ ) ان میں سے ہر ایک شخص کا انتقال لوگوں کے درمیان ہوا ( اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں ) اللہ کی قسم ! میں نے نہ تو غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ۔ اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہو ا جو میرے کفن کےلئے کافی ہو یا میری بیوی کے پاس اتنا کپڑا ہو ا تو صرف میرے یا میری بیوی کے کپڑے میں مجھے کفن دیا جائے میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں تم میں سے وہ شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر ہو یا عریف ہو یا برید ہو یا نقیب ہو (یعنی سرکاری اہل کار ہو ) تو وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جو ان میں سے کسی عہدے ہر فائز ہو البتہ ایک انصاری نوجوان تھا اس نے کہا : اے چچا جان ! میں آپ کو کفن دوں گا ۔ میں آپ کو اپنی اس چادر میں کفن دوں گا اور اپنے ان دو کپڑوں میں دوں گا ' جو میری والدہ نے میرے لئے تیار کئے تھے تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے کفن دینا تو اس انصاری نے وہاں موجود حاضرین کی موجودگی میں حضرت ابوذر غفاری کو کفن دیا اور ان کے (غسل وغیرہ) کے معاملات کی دیکھ بھال کی اور انہی لوگو ں نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا ۔ ان سب کا تعلق یمن سے تھا ۔
أُمِّ ذَرٍّ، ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن الأشتر ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6671
