Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6647

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ، قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا، وَنَبِيُّهَا حَيٌّ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ [ص:23] وَعَصَوْا أَمْرَهُ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: '' بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے کسی اُمت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ان لوگوں سے پہلے ان کے نبی کی روح قبض کر لیتا ہے اوراس نبی کو ان لوگوں کے لئے پیش رواور پہلے جانے والا بنا دیتا ہے اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر تا ہے تو انہیں عذاب کا شکار کر تا ہے انکا نبی زندہ ہوتا ہے تو وہ اس نبی کی آنکھوں کو ان لوگوں کی ہلاکت کے ذریعے ٹھنڈ ا کرتا ہے۔ جب وہ لوگ اس نبی کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نا فرمانی کرتے ہیں ''۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6647

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6648

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ: «هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَشْرِقُ الْمَدِينَةِ هُوَ الْبَحْرَيْنِ وَمُسَيْلِمَةُ مِنْهَا، وَخُرُوجُهُ كَانَ أَوَّلَ حَادِثٍ حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : اس طرف فتنہ ہو گا فتنہ اس طرف ہو گا وہاں سے شیطان کے سینگ طلوع ہوتے ہیں (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) مدینہ منورہ کا مشرق بحرین ہے او ر مسیلمہ کذاب کا خروج بھی وہیں سے ہوا تھا اور اس کا خروج اسلام میں پیدا ہونے والی سب سے پہلی بدعت تھی۔

«هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ» ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُشِيرُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ← ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6648

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6649

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ وَيَقُولُ: «إِنَّ الْفِتْنَةَ هُنَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ۔ '' بے شک فتنہ اس طرف ہوگا بے شک فتنہ اس طرف ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔''

رأيت رسول الله يشير إلى المشرق ← ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6649

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6650

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:26] عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنْسِيُّ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ، وَمِنْهُمُ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً». ، قَالَ*: وَقَالَ أَصْحَابِي: قَالَ: «هُمْ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا» *

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: '' بے شک قیامت سے پہلے کچھ کذاب ہوں گے' جن میں ایک یمامہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہے اور ایک صنعاء سے تعلق رکھنے والا شخص عنسی ہے ان میں سے ایک حمیر سے تعلق رکھت ہو گا اور ان میں سے ایک دجال ہوگا ' جو فتنےکے اعتبار سے ان سب سے بڑا ہو گا ۔'' راوی بیان کرتے ہیں : میرے ساتھیوں نے یہ بات بیان کی ہے: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کذابوں کی 30 کے قریب ہو گی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6650

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6651

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ [ص:28] حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى يَفِيضَ الْمَالُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ»، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْقَتْلُ الْقَتْلُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''قیامت اس وقت تک قایم نہیں ہو گی ' جب تک 30 دجالوں کا خروج نہیں ہو گا جن میں سے ہر ایک یہ کہتا ہو گا کہ وہ اللہ کا رسو ل ہے یہاں تک کہ مال عام ہو جائے گا ۔ فتنے ظاہر ہوں گے' او ر حرج بکثرت ہو گا لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہﷺ ! حرج سے مراد کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قتل ،قتل

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6651

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6652

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ مُسَافِعٍ*، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: (أَكْثَرَ النَّاسِ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا)، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، (فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ، قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِي شَأْنِهِ) فَإِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ قَبْلَ الدَّجَّالِ، وَإِنَّهُ لَيْسَ بَلَدٌ إِلَّا يَدْخُلُهُ رُعْبُ الْمَسِيحِ، إِلَّا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ»

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مسیلمہ کذاب کے بارے میں کچھ ارشاد فرمانے سے پہلے لوگ بکثرت اس کے معاملے میں بات چیت کیا کرتے تھے پھر نبی اکرم ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمدو ثنا بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ا ما بعد ! جہاں تک اس شخص کے معاملے کا تعلق ہے جس کے معاملے میں تم لوگ اکثر گفتگو کر رہےہوتے ہو ۔ دجال سے پہلے ظاہر ہونے والے 30 کذابوں میں سے یہ ایک کذاب ہے اور دجا ل کا فتنہ ہر شہر میں داخل ہو گا ۔ صرف مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ اس کے ہر داخلے پر دو فرشتے تعینات ہیں جو دجا ل کے رسوخ کو اس سے دور کرتے ہیں

أَبُو بَكْرَةَ: (أَكْثَرَ النَّاسِ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ ← عِيَاضِ بْنِ مُسَافِعٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6652

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6653

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ فِيَ يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَفَخْتُهُمَا، فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ: مُسَيْلِمَةَ وَالْعَنْسِيَّ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشا د فرمایا ہے :

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6653

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6654

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، قَالَ:، قَالَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ: فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ قَدِمَ فِي جَيْشٍ عَظِيمٍ حَتَّى نَزَلَ فِي نَخْلٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقُولُ: إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ بَعْدَهُ تَبِعْتُهُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا مَعَهُ إِلَّا ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «لَوْ أَنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذِهِ مَا أَعْطَيْتُكَ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ، وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي، وَإِنِّي لَأَحْسَبُكَ الَّذِي رَأَيْتُ فِيمَا أُرِيتُ». قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَطَلَبْتُ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُرِيتُ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، [ص:32] فَنَفَخْتُهُمَا، فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَمُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسلمہ ایک بڑا لشکر لے کر آیا ' یہاں تک کہ انہوں نے ایک کھجوروں کے باغ میں پڑاؤ کیا ۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کوملی کہ وہ یہ کہتا ہے کہ اگر حضرت محمد رضی اللہ عنہ اپنے بعد مجھے اپنا نائب مقرر کر دیں تو میں ان کی پیروی کر لوں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت ثابت بن قیس بن شماس تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک میں ایک شاخ تھی ۔ آپ مسیلمہ کے پاس آکر ٹھہرے پھر آپ نے فرمایا : اگر تم مجھ سے یہ شاخ مانگو تو میں تمہیں یہ بھی نہیں دوں گا اور اگر تم منہ پھیر کے چلے جاتے ہو تو اللہ تعالی ٰ تمہارے پاؤں کا ٹ دے گا ۔ ی ثابت میری طرف سے تمہیں جواب دیدے گا میرا تمہار ے بارے میں یہ خیال تھا کہ تم وہی شخص ہو ' جس کے با رے میں مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے خوابوں کے بارے میں تحقیق کی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ''ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے سے بنے ہوے دو کنگن ہیں ۔ میں ان دونوں کی وجہ سے بڑا پریشان ہوا تو میری طرف یہ بات وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں میں نے ان پر پھونک مار دی تو وہ دونوں اڑ گئے میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد وہ دونوں کذاب ہیں جن کا ظہور میرے بعد ہوگا ۔ ایک عنسی ہے' جو صنعا ء کا رہنے والا ہے اور ایک مسیلمہ ہے ' جو یمامہ کا رہنے والا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَرَجُلٍ آخَرَ، ← سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ ← ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6654

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6655

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ فِي النَّاسِ اثْنَانِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''یہ معاملہ (یعنی حکومت ) ہمیشہ قریش میں رہے گی ' جب تک لوگوں میں سے دو آدمی بھی باقی ہیں ۔''

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6655

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6656

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمُقْرِئُ الْخَطِيبُ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ - يَعْنِي الْمَوْتَ -، قَالَ: «إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ»

محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے آپ کے ساتھ بات چیت کی نبی اکرم ﷺ نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ واپس چلی جائے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کی کیا رائے ہے کہ میں دوبارہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں (یعنی اگر آپ کا وصال ہو چکا ہو تو مجھے کیا کرنا چاہئے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آجانا ۔

أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ فَكَلَّمَتْهُ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمُقْرِئُ الْخَطِيبُ، بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6656

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6657

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: [ص:35] حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً، وَسَائِرُهُمْ مُلُوكٌ، وَالْخُلَفَاءُ وَالْمُلُوكُ اثْنَا عَشَرَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ آخِرَهُ يَنْقُضُ أَوَّلَهُ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّ الْخِلَافَةَ ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ، قَالَ: «وَسَائِرُهُمْ مُلُوكٌ»، فَجَعَلَ مَنْ تَقَلَّدَ أُمُورَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ ثَلَاثِينَ سَنَةٍ مُلُوكًا كُلَّهُمْ «، ثُمَّ، قَالَ: » وَالْخُلَفَاءُ وَالْمُلُوكُ اثْنَا عَشَرَ «، فَجَعَلَ الْخُلَفَاءَ وَالْمُلُوكَ اثْنَيْ عَشَرَ فَقَطْ. فَظَاهِرُ هَذِهِ اللَّفْظَةِ يَنْقُضُ أَوَّلَ الْخَبَرِ. وَلَيْسَ بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ كَذَلِكَ وَلَا يَجِبُ أَنْ يُجْعَلَ حِرْمَانُ تَوْفِيقِ الْإِصَابَةِ دَلِيلًا عَلَى بُطْلَانِ الْوَارِدِ مِنَ الْأَخْبَارِ، بَلْ يَجِبُ أَنْ يُطْلَبَ الْعِلْمُ مِنْ مَظَانِّهِ، فَيُتَفَقَّهُ فِي السُّنَنِ حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّ أَخْبَارَ مَنْ عُصِمَ، وَلَمْ يَكُنْ يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا تَتَضَادُّ وَلَا تَتَهَاتَرُ، وَلَكِنْ مَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ بَعْدَ الثَّلَاثِينَ سَنَةً يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهُمْ: خُلَفَاءُ أَيْضًا عَلَى سَبِيلِ الِاضْطِرَارِ، وَإِنْ كَانُوا [ص:37] مُلُوكًا عَلَى الْحَقِيقَةِ، وَآخِرُ الِاثْنَيْ عَشَرَ مِنَ الْخُلَفَاءِ كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. فَلَمَّا ذَكَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِلَافَةَ ثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَانَ آخِرُ الِاثْنَيْ عَشَرَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَكَانَ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، أُطْلِقَ عَلَى مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْبَعِ الْأُوَلِ اسْمُ الْخُلَفَاءِ. وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَضَهُ اللَّهُ إِلَى جَنَّتِهِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِثِنْتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ عَشَرَةٍ مِنَ الْهِجْرَةِ. وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ثَانِيَ وَفَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَيْلَةَ الِاثْنَيْنِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَيْنَ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ وَاثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ يَوْمًا. ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ الثَّانِي مِنْ مَوْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ثُمَّ قُتِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ وَأَرْبَعَ لَيَالٍ. [ص:38] ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا. ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَقُتِلَ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ خَمْسَ سِنِينَ وَثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ إِلَّا أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا. فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ يَوْمُ السَّابِعَ عَشَرَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، بَايَعَ أَهْلُ الْكُوفَةِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ، وَبَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بِإِيلِيَاءَ، ثُمَّ سَارَ مُعَاوِيَةُ يُرِيدُ الْكُوفَةَ، وَسَارَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَالْتَقَوْا بِنَاحِيَةِ الْأَنْبَارِ، فَاصْطَلَحُوا عَلَى كِتَابٍ بَيْنَهُمْ بِشُرُوطٍ فِيهِ، وَسَلَّمَ الْحَسَنُ الْأَمْرَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَذَلِكَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ، وَتُسَمَّى هَذِهِ السَّنَةُ سَنَةُ الْجَمَاعَةِ. ثُمَّ [ص:39] تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ بِدِمَشْقَ يَوْمَ الْخَمِيسِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ، وَكَانَتْ وِلَايَتُهُ تِسْعَ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ إِلَّا لَيَالٍ، وَكَانَتْ لَهُ يَوْمَ مَاتَ ثَمَانٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً. ثُمَّ وَلِيَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ابْنُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَبُوهُ، وَتُوُفِّيَ بِحُوَارَيْنَ - قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى دِمَشْقَ - لِأَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَانَتْ وِلَايَتُهُ ثَلَاثَ سِنِينَ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ إِلَّا أَيَّامًا. ثُمَّ بُويِعَ ابْنُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ يَوْمَ النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ يَوْمَ الْخَامِسِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْآخِرِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَكَانَتْ إِمَارَتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَبَايَعَ أَهْلُ الْحِجَازِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَاسْتَوَى الْأَمْرُ لِمَرْوَانَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ لِثَلَاثِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِدِمَشْقَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ، وَلَهُ ثَلَاثٌ وَسِتُّونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِمَارَتُهُ عَشَرَةَ أَشْهُرٍ إِلَّا لَيَالٍ. ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ [ص:40] فِيهِ أَبُوهُ، وَمَاتَ عَبْدُ الْمَلِكِ بِدِمَشْقَ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَمَانِينَ وَلَهُ اثْنَانِ وَسِتُّونَ سَنَةً، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ الْوَلِيدَ ابْنَهُ يَوْمَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الْمَلِكِ. ثُمَّ تُوُفِّيَ الْوَلِيدُ بِدِمَشْقَ فِي النِّصْفِ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ، وَكَانَ لَهُ يَوْمَ مَاتَ ثَمَانٌ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِمَارَتُهُ تِسْعَ سِنِينَ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ. ثُمَّ بُويِعَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخُوهُ لِأُمِّهِ وَأَبِيهِ، وَتُوُفِّيَ سُلَيْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِعَشْرِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ صَفَرٍ بِدَابِقَ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَلَهُ خَمْسٌ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِمَارَتُهُ سَنَتَيْنِ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ وَخَمْسَ لَيَالٍ. ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ سُلَيْمَانُ، وَتُوُفِّيَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِدَيْرِ سَمْعَانَ مِنْ أَرْضِ حِمْصَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ إِحْدَى وَمِائَةٍ، وَلَهُ يَوْمَ مَاتَ إِحْدَى وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَخَمْسَةَ أَشْهُرٍ وَخَمْسَ لَيَالٍ. [ص:41] وَهُوَ آخِرُ الْخُلَفَاءِ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ خَاطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِهِمْ

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نبی اکر م ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ۔ ''خلافت تیس سال ہو گی اس کے بعد بادشاہوں کے خلفا ء اور بادشاہ بار ہ ہوں گے''۔ (امام حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ وہ روایت ہے جس نے اس شخس کو غلط فہمی کا شکار کیا جئو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ اسکا آخری حصہ اس کے پہلے حصے کا الٹ ہے کیو نکہ نبی اکرم ﷺ نے تو یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ خلافت تیس سال تک ہو گی پھر آپ نے یہ کہا ہے اس کے بعد سارے بادشاہ ہوں گے' تو تیس سال گزرنے کے بعد بھی شخص مسلمانوں کے امور کا نگران بنے گا وہ سب لوگ بادشاہ ہوں گے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :خلفاء اور بادشاہوں کی تعداد بارہ ہو گی تو نبی اکرم ﷺ نے تو خلفاء اور بادشاہ کی تعداد تو صرف بارہ تک محدود کی ہے، اس لئے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ الفاظ ابتدائی حصے کے برعکس ہیں ۔ حالانکہ اللہ تعالی کے فضل و کرم کےتحت ایسا نہیں ہے اور یہ بات لازم نہیں ہے کہ اگر آدمی کسی صحیح دلیل تک پہنچنے کی توفیق سے محروم رہا تو وہ منقول روایات کو غلط قرار دینا شروع کر دے بلکہ یہ بات لازم ہے کہ وہ علم کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل کرے اور سنن کے بارے میں سمجھ بوجھ حاصل کرے تاکہ اسے یہ بات پتہ چل جائے کہ وہ ذات جو معصوم ہے اور جو خواہش نفس سے کلام نہیں کرتے بلکہ وہ وہی کلام کرتے ہیں جو ان کی طرف وحی کیا جاتا ہے ان کے ببیان کردوہ فرامین میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا ۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ تیس سال گزرنے کے بعد جو حکمران آئیں گے انہیں اضطرابی طور پر (یعنی مجبوری کے عالم میں ) خلفاء کہا جا سکتا ہے اگر چہ وہ در حقیقت بادشاہوں گے ' اور ان بارہ خلفاء میں سے آخری عمر بن عبدالعزیز ہے ۔ جب نبی اکرم ﷺ نے یہ با ت ذکر کر دی کہ حقیقی خلافت تیس سال تک ہوگی اور پھر اس کے بعد بارہ خلفاء میں سے آخری عمر بن عبدالعزیز ہے تو ان کا شمار خلفاء راشدیین مہدیین میں ہوگا تو ان کے درمیان اور پہلے چار خلفاء کے درمیان جولوگ آئیں ہیں ان کے لئے لفظ خلفاء استعامل کیا گیا ہے ۔ اس کی صورت یوں ہے جب نبی اکرم ﷺ کی روح مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے قبض کیا اور جنت کی طرف منتقل کیا تو یہ پیر کے دن بار ہ ربیع الاول کی رات 11 ہجری کی بات ہے۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کے وصال کے دوسرے یعنی منگل کے دن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وصال 17 جمادی الثانی کی رات کو ہوا ان کی خلافت دو سال تین ماہ اور بائیس دن بنتی ہے ۔ اس کے بعد اگلے دن یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے اگلے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ۔ ان کی مدت خلافت دس ساپ چھ ماہ چار دن بنتی ہے۔ پھر حضرت عثمان غنی خلیفہ بنے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ان کی مدت خلافت بارہ سال سے بارہ دن کم بنتی ہے پھر حضرت علی بن ابو طالب کو خلہفہ بنا یا گیا وہ شہید ہوئے انکی خلافت پانچ سال تین ماہ بنتی ہے جس میں سے چودہ دن کم ہوں گے جب حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ شہید کیا گیا تو یہ رمضان کی سترہ تاریخ تھی اور سنہ چالیس ہجری تھا ۔ اس کے بعد اہل کوفہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ہات بیعت کر لی اور اہل شام نے حضرت معاویہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر عالیہ میں بیعت کر لی پھر حضرت معاویہ کوفی کی طرف (جنگ کرنے کے لئے ) روانہ ہوئے اور حضرت امام حسن علی رضی اللہ عنہ ان کی طرف روانہ ہوئے انبار کے قریب دونوں کا سامنا ہوا تو انہوں نے ایک معاہدے کے تحت صلح کر لی جس میں کچھ شرائط پائی جاتی تھیں تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے حکومت کا معاملہ حضرت امیرمعاویہ کے سپرد کر دیا ۔ یہ 25 ربیع الاول پیر کے دن کی بات ہے اور اکتالیس ہجری کی بات ہے۔ اس سال کو اجتماعیت کا سال قرار دیا گیا ۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دمشق میں انتقال ہو یہ پیر کے دن بائیس رجب المرجب ساٹھ ہجری کی با ت ہے ۔ ان کی حکومت 19 سال اور چار ماہ سے چھ دن کم تھی جس وقت ان کا انتقال ہوااس وقت ان کی عمر 78 برس تھی۔ اس کے بعد ان کا بیٹا یزید بن معاویہ پیر کے دن ان کا جانشین بنا ' یہ اسی دن کی بات ہے جس دن میں اسکے والد کا انتقال ہوا تھا ۔ اس کا انتقال حواین میں ہو ا جو دمشق کی ایک بستی ہے جو چودہ ربیع الاول سن 64 ہجری کی بات ہے اس وقت اسکی عمر 38 سال تھی اس کی حکومت تین سال 8 ماہ سے کچھ کم تھی۔ پھر اس کے بیٹے معاویہ بن یزید کےہاتھ پر بیعت کی گئی یہ پندرہ ربیع الاول سن 64 ہجری کی بات ہے اس کا انتقال 25 ربیع الثانی 64 ہجری میں ہوا ۔ اس کی حکومت 40 دن تھی جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی عمر اکیس برس تھی۔ پھر اہل شام نے مروان بن حکم کی بیعت کر لی اور اہل حجا ز نے عبداللہ بن زبیر کی بیرت کر لی پھر بدھ کے دن تین ذیقعدہ سن 64 ہجری میں مروان مکمل طور پر حکمران بن گیا ۔ مروان بن حکم کا انتقال رمضان کے مہینے میں دمشق میں 65 ہجری میں ہوا اس وقت اسکی عمر 63 برس تھی اور اسکی حکومت دس ماہ سے کچھ دن کم رہی ۔ پھر اہل شام نےعبدالملک بن مروان کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ یہ اسی دن کی بات ہے جس دن میں اسکے باپ کا انتقال ہوا تھا ۔ عبدالملک کا انتقال دمشق میں شوال میں ہوا یہ سن 86 ہجری کی بات ہے اس وقت اس کی عمر 62 سال تھی پھر اہل شام نے اس کے بیٹے ولید کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ یہ اسی دن کی بات ہے جس دن عبدالملک کا انتقال ہوا تھا ۔ پھر ولید کا انتقال دمشق میں پندرہ جمال الثانی 96ہجری میں ہوا جس دن اس کا انتقال ہوا اس کی عمر 48 برس تھی اور اس کی حکومت 9 سال 8 ما ہ تک رہی پھر سلیمان عبدالملک کے ہا تھ پر بیعت کی گئی جو اس کا سگا بھائی تھا ۔ سلیمان کا انتقال دابق کے مقام پر جمعہ کے دن دس صفر 99 ہجری میں ہوا ۔ اس وقت اس کی عمر 45 سال تھی اور اس کی حکومت دو سال 8 ماہ پانچ دن تک رہی تھی پھر لوگوں نےعمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسی دن بیعت کی جس دن سلیمان کا انتقال ہو اتھا ' عمر بن عبدالعزیز کا انتقال حمص کی س ر زمین پر ''دیر سمعان '' کے مقام پر ہوا یہ جمعہ کے دن کی بات ہے یہ پانچ رجب المرجب ایک سو ایک ہجری کی بات ہے جس دن ان کا انتقال ہو ا اس دن ان کی عمر اکتالیس برس تھی اور ان کی خلافت دو سال پانچ ماہ اور پانچ دن تک رہی ۔ یہ ان بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ تھے جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو آگاہ کیا تھا ۔

أَبُو حَاتِمٍ هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ ← «الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ ← سَفِينَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6657

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6658

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي خُلَفَاءُ، يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ، وَسَيَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفَاءُ، يَعْمَلُونَ مَا لَا يَعْلَمُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ بَرِئَ، وَمَنْ أَمْسَكَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ».

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6658

chevron_left Previous
1…591592593…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr