صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6647
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ، قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا، وَنَبِيُّهَا حَيٌّ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ [ص:23] وَعَصَوْا أَمْرَهُ»
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: '' بے شک اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے کسی اُمت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ان لوگوں سے پہلے ان کے نبی کی روح قبض کر لیتا ہے اوراس نبی کو ان لوگوں کے لئے پیش رواور پہلے جانے والا بنا دیتا ہے اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر تا ہے تو انہیں عذاب کا شکار کر تا ہے انکا نبی زندہ ہوتا ہے تو وہ اس نبی کی آنکھوں کو ان لوگوں کی ہلاکت کے ذریعے ٹھنڈ ا کرتا ہے۔ جب وہ لوگ اس نبی کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نا فرمانی کرتے ہیں ''۔
اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6647
