Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ وَفَاتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6635

أَخْبَرَنَا السِّخْتِيَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْحِدَ وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصَبًا، وَرُفِعَ قَبْرُهُ مِنَ الْأَرْضِ نَحْوًا مِنْ شِبْرٍ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے لئے لحد بنائی گئی تھی اور اس پر کچھی اینٹیں نسب کی گئی تھیں نبی اکرم ﷺ کی قبر مبار ک کو زمین سے تقریباً ایک بالشت اونچا رکھا گیا تھا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← السِّخْتِيَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the dead, may God bless him and grant him peace · Hadith 6635

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6636

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَاءِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ الرَّجُلُ مِنْهُ الشَّيْءُ قَدْ نَسِيَهُ، فَأَرَاهُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ، فَإِذَا رَآهُ عَرَفَهُ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے اپنے اس قیام کے دوران قیامت تک ہونے والی کسی بھی چیز کو نہیں چھوڑا ہر چیز کے بارے میں گفتگو کی جس نے اسے یاد رکھنا تھا اس نے اسے یاد رکھا اور جس نے بھولنا تھا وہ بھول گیا میرے ساتھی بھی یہ بات جانتے ہیں ان میں سے کوئی شخص بات بھول چکاہو گا لیکن جب میں اسے دیکھوں گا تو مجھے یاد آجائے گا جس طرح کوئی شخص کسی غیر موجود شخص کے چہرے کو یاد کرتا ہے لیکن جب وہ اسے دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔

حُذَيْفَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6636

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6637

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، فَحَدَّثَنَا مَا هُوَ كَائِنٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ السَّاعَةِ، مَا بِي أَقُولُ لَكُمْ: إِنِّي كُنْتُ وَحْدِي، لَقَدْ كَانَ مَعِي غَيْرِي، حَفِظَ ذَاكَ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : نبی اکر م ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے ہم سے لے کر قیامت تک جو کچھ موجود ہونا تھا ۔ اس کے بارے میں ہمیں بتا دیا (حضرت حذیفہ کہتے ہیں : ) میں تم لوگوں سے یہ نہیں کہہ رہا کہ میں صرف تنہا تھا میرے ساتھ دوسرے لوگ بھی تھے ۔ ان میں سے جس نے اسے یاد رکھنا رتھا اس نے یاد رکھا اور جس نے بھول جانا تھا اس نے بھلا دیا ۔

«لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ مَقَامًا، ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6637

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6638

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَدَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَ حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا»

حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ جن کا نام عمر و بن اخطب ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ منبر پر چڑھے ۔ آپ نے خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا پھر آپ منبر سے نیچے اترے آپ نے نماز ادا کی پھر آپ منبر پر چڑھے آپ نے ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا پھر آپ منبر سے نیچے اترے ۔ آپ نےنماز ادا کی پھر آپ منبر پر چڑھے ۔ آپ نے ہمیں خطبہ دیا ' یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ آپ نے ہمیں بتایا : جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہو گا تو جس شخص نے اس بات کو مجھ سے زیادہ یاد رکھا وہ ہم میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا ۔

أَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ، ← عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمد الْيَشْكُرِيُّ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6638

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6639

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ، كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ قَالَ: فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ قَالَ: فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، قَالَ: ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، قَالَ: فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوا: نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا، وَأَقَلَّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں 'نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ''دیگر اُمتوں کے مقابلے میں تمہارا عرصہ اس طرح ہے جیسے عصر کی نما ز سے لیکر سورج غروب ہونے تک کا وقت ہوتا ہے تمہاری یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے ؛ جو کچھ لوگوں کو مزدور رکھتا ہے اور یہ کہتا ہے کون شخص ایک ایک قیراط کے عوض میں دو پہر تک میرے لئے کام کرے گا تو یہودیوں نے دوپہر تک کام کیا ۔ ایک ایک قیراط کے عوض میں پھر اس شخص نے کہا : کون شخص دوپہر سے لیکر عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کرے گا۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو عیسائیوں نے دوپہر سے لے کر عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط کے عوض کام کیا ۔ اس پر یہودی اور عیسائی غصے میں آگئے ۔ انہوں نے کہا: ہم نے زیادہ عمل کیا ہے اور ہمیں تھوڑا معاوضہ دیا گیا ہے تو پروردگار نے فرمایا : میں تمہارے حق کےحوالے سے تم پر کوئی زیادتی کی؟ وہ جواب دیتے ہیں جی نہیں تو پروردگار نے فرمایا : یہ میرا فضل ہے' جسے میں چاہوں گا یہ عطا کروں گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6639

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6640

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ بِالرِّيِّ: حَدَّثَنَا [ص:12] مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، وَقَتَادَةَ، وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا»، وَأَشَارَ بِأُصْبَعَيْهِ، قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ: كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» أَرَادَ بِهِ أَنِّي بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ آخَرُ، لِأَنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَعَلَى أُمَّتِي تَقُومُ السَّاعَةُ «

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ۔ ''مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔'' نبی اکرم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں : قتادہ نے یہ بات کہی ہے ۔ یہ اس طرح ہے جیسے ایک دوسری پر فضیلت حاصل ہو ۔ (امام ابن حبان ؒ فر ماتے ہیں : ) ا س بات کا احتمال موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان مجھے او ر قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہو کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ہوتی ہے یعنی نبی اکرم ﷺ اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آئے گا کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور میری اُمت پر ہی قیامت قائم ہوگی۔

وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» أَرَادَ بِهِ أَنِّي بُعِثْتُ ← أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى قَوْلِهِ «بُعِثْتُ ← كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ← وكان قتادة ← وَالسَّاعَةُ هَكَذَا"، وَأَشَارَ بِأُصْبَعَيْهِ، ← بُعِثْتُ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ، وَقَتَادَةَ، وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← [ص:249] مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6640

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6641

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ [ص:14] الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ [ص:14] الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6641

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6642

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، [ص:15] أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا»

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺ کوسنا کہ آپ نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اور درمیانی انگلی کوملا کر یہ ارشاد فرمایا ۔

وَالسَّاعَةُ هَكَذَا» ← بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى: «بُعِثْتُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ، [ص:15] أَنَّهُ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6642

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6643

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَمَا تَرْضَى [ص:16] أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تماری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون ؑ کی حضر موسیٰؑ کے ساتھ تھی'البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔

أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6643

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6644

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ [ص:17] أَبِي سَعِيدٍ، أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا بَلَغَ ضَجْنَانَ سَمِعَ بُغَامَ نَاقَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَعَرَفَهُ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: مَا شَأْنِي؟ قَالَ: خَيْرٌ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِبَرَاءَةَ، فَلَمَّا رَجَعْنَا انْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي؟ قَالَ: «خَيْرٌ أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ، [وَأَنْتَ مَعِي عَلَى الحَوْضِ] * غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُبَلِّغُ غَيْرِي، أَوْ رَجُلٌ مِنِّي - يَعْنِي عَلِيًّا -»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو (امیر الحج بنا کر ) بھیجا جب و ہ ضجنان کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کی آوا ز کو سنا اور اسے پہچان گئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے توحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : میرا کیا معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا : بہتر ہے نبی اکرم ﷺ نے مجھے (کفار کے ساتھ کئے گئے ہر معا ہدے ) سے لا تعلق ( کے اعلان کے ہمراہ ) بھیجا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) جب ہم لوگ واپس آئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میرا کیا معاملہ ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بہتر ہے تم غار میں میرے ساتھی رہے ہو لیکن صورت حال یہ تھی کہ میرے علاوہ یا مجھ سے تعلق رکھنے والے ( میر ے کسی خاندانی عزیز ) کے علاوہ اور کوئی شخص یہ اعلان نہیں کر سکتا تھا نبی اکرم ﷺ کی مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔

خَيْرٌ، ← بُغَامَ نَاقَةِ عَلِيٍّ فَعَرَفَهُ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: مَا شَأْنِي؟ ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ أَبَا بَكْرٍ فَلَمَّا بَلَغَ ضَجْنَانَ ← [ص:17] أَبِي سَعِيدٍ، أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو رَبِيعَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6644

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6645

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُمْ حِينَ رَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْحَجِّ، فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثَوَّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِلتَّكْبِيرِ سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَقَالَ: هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ، فَإِذَا عَلِيٌّ [ص:20] عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَمِيرٌ أَنْتَ أَمْ رَسُولٌ؟ قَالَ: لَا، بَلْ رَسُولٌ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةَ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بِبَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى إِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةً حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِفَاضَتِهِمْ، وَعَنْ نَحْرِهِمْ، وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الْأَوَّلِ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ، وَكَيْفَ يَرْمُونَ وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ، فَقَرَأَ بَرَاءَةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا «

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ لوگ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس گئے تو نبی اکر م ﷺ نےحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا ہم لوگ ان کے ساتھ آگئے 'یہاں تک کہ جب ہم عرج کے مقام پر پہنچے تو صبح کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی 'جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی پشت کے پیچھے اونٹنی کی آواز سنی۔ وہ تکبیر کہنے سے رک گئے ۔ انہوں نے کہا : یہ تو نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی جدعاء کی مخصوص آواز ہے شاید نبی اکرم ﷺ تشریف لا رہے ہوں تو ہم آ پ کی اقتدا ء میں نماز ادا کریں گے لیکن اس اونٹنی پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سوار تھےحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا امیر کے طور پر آئیں ہے یا قاصد کے طور پر آئے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں بلکہ قاصد کے طور پر آیا ہوں مجھے نبی اکرم ﷺ نے برات کے ہمرا ہ بھیجا ہے جسے میں حج کے موقع پر لوگوں کے سامنے پڑھ دوں گا ۔ (راوی کہتے ہیں : ) پھر ہم لوگ مکہ آگئے ترویہ سے ایک دن پہلے حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا (حج کے احکام بیان کئے ) جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے سورت تو بہ کی تلاوت کی اور اسےمکمل طور پر ختم کیا پھر ہم لوگ ان کے ہمراہ روانہ ہوئے ' یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا انہوں نے لوگوں کو مناسک حض کی تعلیم دی ۔ وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ توبہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ اسے مکمل طور پرختم کیا پھر جب قربانی کا دن آیا اور ہم لوگ واپس آئے تو جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں واپس جانے کے بارے میں بتایا اور قربانی کے بارے میں اور دیگر مناسک کے بارے میں بتایا جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃبرأ ت کی تلاوت کی ' یہاں تک کہ اسے مکمل ختم کیا۔ جب پہلی روانگی کا دن آیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا ۔ ا نہوں نے لوگوں کو بتایا : وہ کیسے روانہ ہوں گے اور کیسے رمی کریں گے ۔انہو ں نے لوگوں کومناسک حج کی تعلیم دی جب وہ فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ توبہ کی تلاوت کی ' یہاں تک کہ اسے مکمل تلاوت کیا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6645

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6646

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، يَقُولُ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً، إِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً، وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ۔ آپ نے فرمایا : تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ تم میں سے سب سے آخر میں میری وفات ہوگی حالانکہ تم میں سب سے پہلے میری وفات ہوگی اور تم میرے بعد مختلف گروہوں میں تقسیم کو کر ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے۔

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6646

chevron_left Previous
1…590591592…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr