صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6611
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ [ص:581] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ»
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو ا تو آپ کی ازواج نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تا کہ نبی اکرم ﷺکی طرف سے ملنے والی اپنی وراثت کا مطالبہ کریں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا کیا نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6611
