Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5525

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، بِحَرَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ [ص:335] أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي، قَالَ: «اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ»

روہ بن نوفل اشجعی اپنے والد کا یہ بیا ن نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبیﷺ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے میں اس وقت پڑھ لیا کروں جب میں اپنے بستر پر ( سونے کے لئے ) آتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم سورہ الکافرون پڑ ھ لیا کرو۔

أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5525

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5526

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ لَنَا، فَتَكْفُلُهَا زَيْنَبُ؟ » قَالَ: ثُمَّ جَاءَ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا، قَالَ: «فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ؟ » قَالَ: جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي، قَالَ: «اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ»

فروہ بن نوفل اپنے کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہیں ہماری سوتیلی صاحب زادی ( کی تعلیم و تربیت ) میں دلچسپی ہے ‘ تاکہ زینب اس کی کفالت کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے (اس بچی کے بارے میں ) دریافت کیا‘ تو انہوں نے عرض کی: میں اسے اس کی ماں کی پاس چھوڑ کر آیا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا پھر تم کس کام سے آئے ہو۔ انہوں نے عرض کی: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں ۔ نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا: تم سورت الکافرون کی تلاوت کیا کرو اور ان اختتامی کلمات کے ہمراہ سو جایا کرو یہ سورت شرک سے بری ذمہ ہونے کا اظہار ہے۔

أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← الصُّوفِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5526

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5527

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: أَوْصَى رَجُلًا أَنْ يَقُولَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ»

حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ بستر پر جائے۔ یہاں ابن کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو یہ تلقین کی کہ وہ یہ پڑھے۔ ’’ اے اللہ ! میں اپنا آپ تیرے سپرد کرتا ہوں میں نے اپنا رخ تیری طرف کیا میں نے پشت کو تیرے سہارے کرے دیا۔ میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا۔ تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے بھی اور تیری ( بے نیازی سے ) ڈرتے ہوئے بھی تیرے علاوہ اورکوئی پناہ گاہ اور نجات کی جگہ نہیں ہے ۔ تیرے مقابلےے میں صرف تیری طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ میں تیری اس کتاب پہ ایمان لایا جسے‘ تو نے نازل کیا اور تیرے اس نبی اکرمﷺ پر ایمان لایا جسے ‘ تو نے مبعوث کیا ہے۔ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ان کلمان کو پڑھنے والا شخص اگر اسی رات میں ) فوت ہو جاتا ہے ‘ تو وہ فطرت ( یعنی دین اسلام ) پر مرے گا۔

الْبَرَاءِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5527

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5528

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيُّ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، غَفَرَ اللَّهُ ذُنُوبَهُ أَوْ خَطَايَاهُ - شَكَّ مِسْعَرٌ - وَإِنْ كَانَ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات عیب سے پاک ہے ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ال کی خطاؤں کی مغفرت کر دیتا ہے یہ شک مسعر نامی راوی کو ہے ( آگے روایت میں یہ الفاظ ہیں ) ’’ خواہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں ‘‘۔

مَنْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيُّ، ← معمر بن سهل الأهوازي ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5528

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5529

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ*، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَخْدِمُهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَدُلُّكِ أَوْ أُعَلِّمُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ، إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ فَسَبِّحِي وَكَبِّرِي وَهَلِّلِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَمْ أَدَعْهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ ؓ خادم مانگنے کے لئے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) کیا میں تمہیں اس چیز کی تعلیم نہ دوں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو۔ جب تم اپنے بستر پر ( سونے کے لئے) جاؤ ‘ تو 33،33 مرتبہ سبحان اللہ ، اللہ اکبر اور لا الہٰ الااللہ پڑھ لیا کرو۔ حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے میں نے اس عمل کو کبھی ترک نہیں کیا ۔ لوگوں نے دریافت کیا جنگ صفین کی رات بھی نہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جنگ صفین کی رات بھی ( میں نے اس عمل کو ترک نہیں کیا)

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5529

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5530

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَضَوَّرَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے ‘ تو یہ پڑھتے تھے۔ ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ ایک ہے وہ غلبے والا ہے وہ آسمان و زمین اور اس کے درمیان موجود تمام چیزوں کا پروردگار ہے۔ وہ غالب ہے اور مغفرت کرنے والا ہے‘‘۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا تَضَوَّرَ مِنَ اللَّيْلِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5530

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5531

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي، وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ أَنْ هَدَيْتَنِيَ، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے ‘ تو آپﷺ یہ پڑھتے تھے۔ ’’ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ اے اللہ‘تو پاک ہے میں اپنے ذنب کی مغفرت تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ میں تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ ! میرے علم میں اضافہ کر او ر میرے دل کو ‘ تونے ہدایت نصیب کی ہے ‘ اس کے بعد اسے ٹیڑھا نہ کرنا اور محض اپنے فضل کے تحت مجھے رحمت عطا کر بے شک‘ تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے‘‘۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← اَبُوْ یَحْیَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5531

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5532

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا، وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ» وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ»

حضرت حذیفہ ؓ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب بستر پر جاتے تھے ‘ تو یہ پڑھتے تھے۔ ’’ اے اللہ ! میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے زندہ ہوتاہوں ( یعنی بیدار ہوتاہوں) اور تیرے نام سے برکت ھاص کرتے ہوئے مرتا ہوں ( یعنی سوتا ہوں ) ‘‘۔ جب نبی ا کرمﷺ بیدار ہوتے تھے ‘ تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے ہمیں موت ( یعنی نیند) دینے کے بعد زندگی ( یعنی بیدار ی ) دی اور اسی طرح لوٹ کر جانا ہے‘‘۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ← «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا، وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ» وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ← کَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِهِ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5532

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5533

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَوَى الرَّجُلُ إِلَى فِرَاشِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ: اخْتِمْ بِخَيْرٍ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ: اخْتِمْ بِشَرٍّ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ، ثُمَّ نَامَ بَاتَتِ الْمَلَائِكَةُ تَكْلَؤُهُ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ، قَالَ الْمَلَكُ: افْتَحْ بِخَيْرٍ، وَقَالَ الشَّيْطَانُ: افْتَحْ بِشَرٍّ، فَإِنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي، وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا» إِلَى آخِرِ الْآيَةِ «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنْ وَقَعَ مِنْ سَرِيرِهِ فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

حضرت جابر ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے ‘ تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کے پاس آتے ہیں ‘ فرشتہ یہ کہتا ہے : بھلائی کے ذریعے ( اپنے دن بھر کے کاموں کا ) اختتام کرو۔ شیطان کہتا ہے: برائی کے ذریعے ( اپنے دن بھر کے کاموں کا ) اختتام کرو‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: ) اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کر کے سوتا ہے ‘ تو فرشتے رات بھر اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں ‘ جب وہ بیدار ہو جائے‘ تو فرشتہ کہتا ہے بھلائی کے ذریعے ( اپنے دن کے کاموں ) کا آغاز کرو اور شیطان کہتا ہے : برائی کے ذریعے آغاز کرو اگر وہ شخص یہ پڑھ لے۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے ُ جس نے میری جان مجھے واپس کر دی اور اسے سونے کے دوران ہی موت نہیں دی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے روکا ہوا ہے ‘ وہ برباد ہو جائیں۔ ( یہ آیت کے آخر تک پڑھنا ہے ) ہر طر ح کی حمد اس کےلئے مخصوص ہے ‘ جس نے آسمان کو اس بات سے روکا ہوا ہے‘ وہ زمین پر گر جائے البتہ اس کی اجازت سے ایسا ہو سکتا ہے‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ) اگر وہ شخص اس چار پائی سے گر کر مر جائے‘ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5533

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5534

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارَهُ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ، وَيُسَمِّي اللَّهَ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنَ، وَلْيَقُلْ: سُبْحَانَكَ رَبِّي، بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے‘ تو وہ اپنے تہبند کے اندرونی حصے کے ذریعے اسے جھاڑ لے اور بسم اللہ پڑھ لے کیونکہ وہ یہ بات نہیں جانتا اس کے بستر پر کیا چیز آئی تھی ‘ پھر جب وہ لیٹنے کا ارادہ کرے ‘تو دائیں پہلو پر لیٹے اور یہ پڑھے۔ ’’ تو پاک ہے اے میرے پروردگار میں تیری مدد کے ذریعے اپنا پہلو ( بستر پر) رکھتا ہوں اور تیری مدد کے ذریعے اسے اٹھاؤں گا اگر ‘ تو نے میری جان کو روک لیا ( یعنی مجھے موت دے دی ) ‘ تو اس کی مغفرت کرنا اگر ‘تو نے اسے چھوڑ دیا ( یعی میں دو بارہ بیدار ہو گیا ) ‘ تو اس چیز کے ہمراہ اس کی حفاظت کرنا جس کے ہمراہ ‘ تو اپنے نیک بندوں کی حٖفاظت کرتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5534

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5535

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «» إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْزِعْ إِزَارَهُ، وَلْيَنْفُضْ بِدَاخِلَتِهَا فِرَاشَهُ، ثُمَّ لْيَتَوَسَّدْ يَمِينَهُ، وَيَقُولُ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَضَعُ جَنْبِي، وَبِكَ ارْفَعُهُ، اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَهَا فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «» سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ «»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے ‘ تو اپنے تہبند کا ( ایک سرا) باہر نکال کر اس کے اندرونی حصے کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑ لے پھر وہ دائیں پہلو کے بل تکیے ( پر سر رکھے ) اور یہ پڑھے۔ ’’ اے اللہ! میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اپنا پہلو ( بستر پر ) رکھتا ہوں اور تیری مدد سے ہی اسے اٹھاؤں گا : اے اللہ! اگر ‘ تو نےاسے روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا ‘ تو اس کی ا س چیز کے ہمراہ حفاظت کرنا جس کے ذریعے ‘ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) سعید مقبری نے یہ روایت حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت اپنے والد کے حوالے سے بھی حضرت ابو ہریرہؓ سے سنی ہے اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5535

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5536

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَاجْعَلْهُ [ص:347] آخِرَ مَا تَقُولُ، فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ» فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ؟ فَقَالَ: «وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ»

حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم بستر پر جانے لگو ‘ تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو پھر اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاؤ پھر یہ پڑھو۔ ’’ اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سامنے جھکا دیا میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا۔ میں رغبت رکھتے ہوئے اور ڈر رکھتے ہوئے اپنی پشت تیرے ساتھ لگا دی ( یعنی تجھ پر آسرا کر لیا) تیرے مقابلے میں تیرے علاوہ اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں ہے۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے‘تو نے نازل کیا ہے اور تیرے اس نبی اکرمﷺ پر ایمان لایا جسے‘ تو نے مبعوث کیا ہے ‘‘۔ ( انبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :) تم ان کلمات کو اپنی آخری گفتگو بتاؤ اگر تم ( اسی رات میں) فوت ہو جاتے ہو تو تم فطرت ( یعنی دین اسلام) پہ فوت ہو گے ۔ حضرت براؓ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں ‘ یا د کرتے ہوئے لفظ ’’تیرے نبی اکرمﷺ پر ایمان لایا ‘‘ کی بجائے‘‘ تیرے رسول پر ایمالایا ‘ پڑھ دیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ( یہ پڑھو ) تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے‘ تو نے مبعوث کیا ہے۔

«وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ← اجْعَلْهُ آخِرَ مَا تَقُولُ، فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ» فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ؟ ← بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← مُعْتَمِرٌ ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5536

chevron_left Previous
1…586587588…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr