Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5421

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، [ص:241] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ كَسَوْتَنِي هَذَا فَلَكَ الْحَمْدُ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے ‘ تو آپ اس کپڑے کا نام لے کر یہ دعا پڑھتے تھے: ’’ اے اللہ ! تو نے مجھے یہ ( چادر یا قمیص ٌ) پہنائی ہر طرح کی حمد تیرے لئے مخصوص ہے۔ میں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ، [ص:241] ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5421

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5422

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَبِسَ قَمِيصًا بَدَأَ بِمَيَامِنِهِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب قمیض پہنتے تھے ‘ تو دائیں طرف سے آغاز کرتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5422

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6186

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:64] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ آدَمَ لَمَّا أُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: أَيْ رَبِّ {أَتَجْعَلُ فِيهَا مِنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ} [البقرة: 30]، قَالُوا: رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ، قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ، قَالُوا: رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ، قَالَ: فَاهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ: فَمُثِّلَتْ لَهُمُ الزَّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ، قَالَا: وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ، فَقَالَا: لَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا، فَذَهَبَتْ، ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحٍ مِنْ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا وَقَتَلَا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَفَاقَا، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا مِنْ شَيْءٍ أَثِيمًا إِلَّا فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا، فَخُيِّرَا عِنْدَ ذَلِكَ بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ، فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الزَّهْرَةُ هَذِهِ امْرَأَةٌ كَانَتْ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، لَا أَنَّهَا الزَّهْرَةُ الَّتِي هِيَ فِي السَّمَاءِ الَّتِي هِيَ مِنَ الْخُنَّسِ»

ٖرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتےہیں:میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے ،جب حضرت آدم ؑ کو زمین پر اتار اگیا ، تو فرشتوں نےکہا :اے پروردگار ! "کیا تواس میں اسے (اپنا خلیفہ ) بنا رہا ہے ،جو اس میں فساد کرےگا ار خون بہائے گا جب کہ ہم تیری حمد کے ہمراہ تسبیح بیان کرتےہیں اور تیری پاکی بیان کرتےہیں"۔ تو پروردگار نے فرمایا: میں وہ علم رکھتا ہو ں جو تم نہیں جانتے"ان فرشتوں نے عرض کی :ہم اولاد آدم کے مقابلے میں تیرے زیادہ فرمانبردار ہیں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایاتم فرشتون میں سے کوئی سے دو فرشتے لے آؤ تو ہم اس بات کو ظاہر کردیں گے کہ وہ کیا عمل کرتےہیں ان لوگوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ہاروت اور ماروت (بیش خدمت ہیں ) ،تو پروردگار نے فرمایا: تم دونوں زمین پر اتر جاؤ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ان کے سامنے زہرہ نام کی ایک خوبصورت ترین عورت آئی وہ دونوں اس کےپاس آئے انہوں نے اس سے زنا کی خواہش کا اظہار کیا ،تو اس نےکہا :جی نہیں ۔اللہ کی قسم! جب تک تم لوگ یہ شرکیہ کلمہ نہیں کہو گے (میں تمہارے ساتھ زنا نہیں کروں گی ) ان دونوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم کبھی بھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں قرار دیں گے وہ ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی پھر وہ ایک بچے کو گود میں اٹھا کر واپس آئی ان دونوں نے پھر اس نے سامنے زنا کی خواہش کا اظہار کیا ،تو اس نے کہا :جی نہیں اللہ کی قسم ! جب تک تم اس بچے کو قتل نہیں کرتے(میں تمہاری بات نہیں مانوں گی ) ان دونوں نے کہا : جی نہیں اللہ کی قسم ! ہم کبھی قتل نہیں کریں گے وہ پھر چلی گئی پھر وہ شراب کا پیالہ اٹھا کر چلی آئی پھر ان دونوں نے اس سے خواہش کا اظہار کیا اس نے کہا :جی نہیں ۔اللہ کی قسم !جب تک تم یہ شراب نہیں پیتے (میں تمہاری خواہش پوری نہیں کروں گی ) ان دونوں نے شراب پی لی دو دونوں مدہوش ہو گئے انہوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا جب انہیں ہوش آیا ،تو اس عورت نے کہا :اللہ کی قسم! تم نے ہر گناہ اسی وقت کیا جب تم دونوں مدہوش ہوگئے تھے ۔ (نبی اکرم ﷺ فرماتےہیں ) پھر ان دونوں کو اس وقت دنیاوی عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا ،تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کرلیا۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں:) ایک عورت تھی جو اس زمانے میں موجود تھی اس سے مرادزہرہ نامی ستارہ نہیں ہے ،جو آسمان میں ہوتا ہے ، جو خنس (چھپنے والے ستاروں ) میں سے ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6186

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6187

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ [ص:67] أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتےہیں :میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتےہوئے سناہے ۔ "ابلیس کا تخت پانی پر ہوتا ہے پھر وہ اپنی مہم روانہ کرتا ہے ان میں سے اس کے نزدیک زیادہ عظیم وہ ہوتا ہے ، جو زیادہ فتنہ پیدا کرے۔"

«عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ [ص:67] أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً» ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6187

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6188

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُورِ بْنِ سَيَّارٍ بِأَرْغِيَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَجِدُ فِي صَدْرِيَ الشَّيْءَ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں :ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی :یارسول اللہ(ﷺ)! مجھے اپنے ذہن میں ایساخیال محسوس ہوتاہے کہ میں جل کر کوئلہ ہوجاؤں گا یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس خیال کے بارے میں کوئی بات کروں ،تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ اکبر ،الل اکبر، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کےلیے مخصوص ہے، جس نے اس معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادٌ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُورِ بْنِ سَيَّارٍ بِأَرْغِيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6188

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6189

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَصْبَحَ إِبْلِيسُ بَثَّ جُنُودَهُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَضَلَّ الْيَوْمَ مُسْلِمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ، قَالَ: فَيَخْرُجُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَيَقُولُ: أَوْشَكَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، وَيَجِيءُ هَذَا فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عَقَّ وَالِدَيْهِ، فَيَقُولُ: أَوْشَكَ أَنْ يَبَرَّ، وَيَجِيءُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى أَشْرَكَ فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى زَنَى فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَتَلَ فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيُلْبِسُهُ التَّاجَ»

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: "جب صبح ہوتی ہے، تو شیطان اپنا لشکر پھیلا دیتا ہے اور یہ کہتا ہےآج جو شخص کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اسے تاج پہناؤں گا۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ان میں سے ایک شخص آتا ہے اور یہ کہتا ہے میں نے آج پوری کوشش کی ،یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی شیطان کہتا ہے ہو سکتا ہے وہ شخص دوسری شادی کرلے پھر دوسرا شخص آتا ہے اور کہتا ہے میں نے آج پوری کوشش کی ، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی شیطان کہتا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ بعد میں فرمانبردار بن جائے ایک اور شیطان آتا ہے وہ یہ کہتا ہے میں نے آج پوری کوشش کی کہ ایک آدمی نے شرک کرلیا شیطان کہتا ہے کہ تم واقعی تم ہو پھر ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے میں نے پوری کوشش کی ،یہاں تک کہ ایک آدمی نے زنا کر لیا شیطان کہتاہے تم نے واقعی کام کیا ہے ایک اور آتا ہے وہ یہ کہتاہے میں نے آج پوری آج پوری کوشش کی ، یہاں تک کہ ایک آدمی نے قتل کر دیا ، تو شیطان کہتاہے تم نے واقعی ہی کام کیاہے پھر وہ اپنا تاج اسے پہنا دیتا ہے۔

أَنْتَ أَنْتَ، وَيُلْبِسُهُ التَّاجَ» ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَتَلَ ← أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ هَذَا، ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى زَنَى ← أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ، ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى أَشْرَكَ ← أَوْشَكَ أَنْ يَبَرَّ، وَيَجِيءُ هَذَا، ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عَقَّ وَالِدَيْهِ، ← أَوْشَكَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، وَيَجِيءُ هَذَا ← لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ← فَيَخْرُجُ هَذَا، ← مَنْ أَضَلَّ الْيَوْمَ مُسْلِمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ، ← «إِذَا أَصْبَحَ إِبْلِيسُ بَثَّ جُنُودَهُ، ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6189

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5423

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ، يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: سفید کپڑے پہنو اور سفید کپڑے میں اپنے مردوں کو کفن دو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر ہے اور تمہارے سرموں میں سب سے بہترین اثمد ہے وہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتاہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5423

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5424

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَلَمِ فِي إِصْبَعَيْنِ»

حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے دو انگلیوں جتنے نشان ( یعنی کپڑے پر ریشمی پٹی ) لگانے کی اجازت دی ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5424

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5425

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ حَمَّادِ ابْنِ أُخْتِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرمﷺ مکہ میں داخل ہوئے ‘ تو آپ نےسیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔

«دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادِ ابْنِ أُخْتِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5425

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5426

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اشتمال صماء اور احتباء کے طور پر ایک کپڑا پہننے سے منع کیا ہے۔

اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ» ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ نَهَى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5426

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5427

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَهُوَ أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ وَيَبْدُو شِقُّهُ، وَالْآخَرُ أَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ»

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں ؛ نبی اکرمﷺ نے دو طرح کا لباس پہننے سے منع کیا ہے۔ اشتمال صماء سے اس سے مراد یہ ہے: آدمی ایک کپڑے کو اس طرح سے لپیٹ لے کہ اس کے دونوں کنارے اس کے کندھے پر ہوں اور اس کا پہلو ظاہر ہو رہا ہو اور دوسرا یہ ہے: آدمی ایک کپڑے کو احتبا کے طور پر اس طرح لپیٹ لے کہ اس کپڑے کا کوئی بھی حصہ ا س کی شرمگاہ پر نہ ہو۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5427

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5428

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قُبَاءَ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ، ثُمَّ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ نَزَعْتَهُ؟ فَقَالَ: «جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَنَهَانِي عَنْهُ» قَالَ: فَجَاءَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكْرَهُهُ وَتُعْطِينِيهِ، قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُعْطِكَ لِتَلْبَسَهُ، وَإِنَّمَا أَعْطَيْتُكَ لِتَبِيعَهُ» فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ

حضرت جابر عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں:نبیاکرمﷺ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے ایک دن ریشم کی بنی ہوئی قبازیب تن کی جو آپﷺ کو تحفے کے طور پر پیش کی گئی تھی ‘ پھر آپﷺ نے اسے اتار دیا۔ آپﷺ نے و ہ حضرت عمر بن خطابؓ کو بھجوایا۔ عرض کی گئی یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ نے اسے اتارکیوں دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے اس سے منع کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت عمر بن خطابؓ روتے ہوئے آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آپ نے خود اسے نا پسند کیا ہے اور پھر یہ مجھے عطا کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :یہ میں نے تمہیں اس لئے عطا نہیں کہ ہے‘ تم اسے پہن لو یہ میں نے تمہیں اس لئے عطا کی ہے ‘ تم اسے فروخت کرو ‘ تو حضرت عمرؓ نے دو ہزار درہم کے عوض میں اسے فروخت کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5428

chevron_left Previous
1…577578579…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr