Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6180

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بَأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ قَالَ: فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى»

حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتےہیں :انہیں نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کاپتہ چلا ہے : ایک مرتبہ حضرت آدم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کےدرمیان بحث ہوگئی حضرت موسیٰ ﷺ نے کہا: اے (حضرت )آدم (ؑ)آپ ہمارے جدامجد ہیں آپ نےہمیں رسوائی کا شکار کیا اور ہمیں جنت سے نکلوادیا ۔ حضرت آدم ؑ نے ان سے فرمایا:اے موسیٰ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کےلیے تمہیں منتخب کیا اور اپنے دست قدرت کے ذریعے تمہارے لیے (تورات کو) تحریر کیا تم ایک ایسے مسئلے کے بارے میں مجھے ملامت کررہےہو ، جو میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں ،تو حضرت آدم ؑ حضرت موسیٰ ؑ پر غالب آگئے حضرت آدم ؑ حضرت موسیٰ ؑپر غالب آگئے حضرت آدم ؑ حضرت موسیٰ پر غالب آگئے۔

"احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى". ← أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ الصَّیْرَفِیُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6180

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6181

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا، فَخَرَجَتْ ذُرِّيَّتُهُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ فَمِنْهُمُ الْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَصْفَرُ، وَمِنْهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ وَالطِّيبُ»

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو تمام روئے زمین سے پیدا کیا ہے ، تو ان کی ذریت اسی حساب سے ہوگی ان میں سے کچھ لوگ سیاہ ہیں کچھ سفید ہیں کچھ سرخ ہیں کچھ زرد ہیں کچھ ان کے درمیان ہیں کوئی آسان ہے کوئی غمگین ہے کوئی خراب ہے کوئی عمدہ ہے۔"

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6181

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6182

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: [ص:61] قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: يَا أَبَا الْأَسْوَدِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتُّخِذَتْ بِهِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ؟ فَقُلْتُ: بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَيَكُونُ ذَلِكَ ظُلْمًا؟ قَالَ: فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا، فَقُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ إِلَّا خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ، مَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يَسْأَلُونَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: سَدَّدَكَ اللَّهُ أَوْ وَفَّقَكَ اللَّهُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُكَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَكَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ، أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ، أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَاتُّخِذَتْ عَلَيْهِمْ بِهِ الْحُجَّةُ؟ فَقَالَ: «بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ»، قَالَ: فَلِمَ نَعْمَلُ إِذًا؟ قَالَ: «مَنْ كَانَ اللَّهُ خَلَقَهُ لِوَاحِدَةٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَيْنِ فَهُوَ يُسْتَعْمَلُ لَهَا، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: {وَنَفَسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا} [الشمس: 8]»

ابو اسود دیلی بیان کرتےہیں :حضرت عمران بن حصین ؓ نے مجھ سے فرمایا:اے ابو اسود تمہاری کیا رائے ہے آج لوگ جو عمل کررہے ہیں اور اس بارے میں جو کوشش کررہے ہیں کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے ، جس کے بارے میں ان کے لیے فیصلہ ہوچکا ہے اور سب کچھ طے ہو چکا ہے یا پھر وہ نئے سرے سے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جو نبی اکرمﷺ ان کے پاس تعلیمات لے کے آئے تھے کیا اس وجہ سے ان کے خلاف پیش کی جاسکتی ہے؟ میں نےکہا :بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے ،جس کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے ، جو پہلے گزرچکا ہے ۔حضرت عمران ؓ نےکہا :پھر ،تو یہ ظلم ہوگا ۔راوی کہتےہیں: میں اس بات پر بہت گھبرگیا میں نے کہا :ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کی بادشاہی کے دست قدرت میں ہے اس سے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا جو وہ کرتا ہے ، البتہ لوگون سے یہ سوال کیا جائے گا ، تو حضرت عمران ؓنے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے تمہیں ٹھیک رکھا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے ۔ اللہ کی قسم ! میں نے تم سے یہ سوال صرف اس لیے کیا تھا ،تاکہ تمہاری عقل کے بارے میں اندازہ لگا سکوں (پھر انہوں نے بتایا)

أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6182

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6183

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "نو مولود بچہ اس وقت چیخ کرروتاہے ،جب شیطان اسے ٹھوکر مارتاہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6183

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6184

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، [ص:63] قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ»، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ: وَيَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، وَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا كَانَ مِنْهُ الشَّبَهُ»

حضرت انس ؓبیان کرتےہیں :سیدہ ام سلیم ؓ نے نبی اکرمﷺ سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے ، جو مرد دیکھتا ہے(یعنی اس خاتون کو احتلام ہو جاتا ہے) نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: اے ام سلیم جب عورت یہ چیز دیکھے ،تو اسے غسل کرنا چاہئے ۔ سیدہ اُمّ سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں : مجھے اس بات سے شرم آگئی (میں نے عرض کی )یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا ایسا بھی ہوتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی ہاں مردکا مادہ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے ، جب کہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتاہے ان میں سے جو سبقت لےجائے (راوی کو شک ہے یہ الفاظ ہیں غالب آجائے ،بچے کی مشابہت اسی سے ہوتی ہے۔

أُمُّ سَلَمَةَ، وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ: وَيَكُونُ ذَلِكَ ← النَّبِيُّ لَهَا: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ»، ← الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، ← أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، [ص:63] ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6184

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6185

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ كَانَ الشَّبَهُ»

حضرت انس ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "مرد کا مادہ تولید گاڑھا اور سفید ہوتا ہے ، جبکہ عورت کا مادہ پتلا اور زرد ہوتاہے ان میں سے جو سبقت لے جائے (بچے کی ) مشابہت )اسی کے ساتھ ہوتی ہے) "۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6185

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5415

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةُ، تَعْنِي الشَّاةَ، قَالَ: «فَهَلَّا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا» فَقَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا قَالَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا} [الأنعام: 145]، لَا بَأْسَ أَنْ تَدْبُغُوهُ تَنْتَفِعُونَ بِهِ» قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں :سیدہ سودہ بنت زمعہؓ کی بکری مر گئی۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! فلاں مر گئی ہے۔ ان کی مراد بکری تھی نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے اس کی کھال کو حاصل کیوں نہیں کیا۔ سیدہ سودہ ؓ نے عرض کی: کی اہم ایسی بکری کی کھال حاصل کر یں جو مر چکی ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ تم یہ فرما دو جو چیز میری طرف وحی کی گئی ہے اس میں ‘ میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے کے لئے حرام قرار دی گئی ہو ‘ ماسوائے اس کے جو مردار ہو یا بہا ہوا خون ہو‘‘۔ ( پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا:) ا س میں کوئی حرج نہیں ہے تم اس کی دباغت کر کے اس سے فائدہ حاصل کرو۔ سیدہ سودہ ؓ بیان کرتی ہیں ‘ تو ہم نے اس کو بھجوایا اور اس کی کھال کی دباغت کر لی گئی پھر ہم نے اس کےذریعے مشکیزہ بنا لیا‘ یہاں تک کہ اس میں سوراخ ہو گیا۔

مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5415

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5416

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِفُ الْهَيْئَةِ، فَقَالُ: «هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟ » فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مِنْ أَيِّ مَالٍ؟ » قُلْتُ: مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: «إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يُكْرِمْنِي، وَلَمْ يَقْرِنِي، فَنَزَلَ بِي أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ أَقْرِهِ» «[ص:235] أَبُو الْأَحْوَصِ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، أَبُوهُ مِنَ الصَّحَابَةِ»

ابوا حوص عوف بن مالک اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری حالت بکھری ہوئی تھی۔ نبی اکرمﷺ دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ میں نے عرض کی :جی ہاں ، نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا کس قسم کا مال ہے ؟ میں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال عطا کیا ہے ۔اونٹ بھی غلام بھی بکریاں بھی۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کیا ہو‘ تو اس کا نشان تم پر نظر آنا چاہئے۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے‘ جس کے ہاں میں مہمان بنتا ہوں۔ وہ میری عزت افزائی نہیں کرتا۔ میری مہمان نوازی نہیں کرتا ‘ پھر ایک مرتبہ وہ میرے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرتا ہے‘ تو کیا میں اس کے طرز عمل کا بدلہ دوں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ تم اس کی مہمان نوازی کرو۔ ابو احوص عوف بن مالک بن نضلہ کے والد صحابی تھے۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5416

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5417

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ فِي هَيْئَةِ أَعْرَابِيٍّ، فَقَالَ: «مَا لَكَ مِنَ الْمَالِ؟ » قَالَ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى الْعَبْدِ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ تُرَى بِهِ»

ابو احوص اپنے والدہ کا بیان نقل کرتے ہیں :وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں والے دیہاتی کی شکل میں ملاحظہ کیا ‘ تو دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مال ہے ۔انہوں نے عرض کی: ہر طرح کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نعمت عطا کرے‘ تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے ‘ وہ نعمت اس بندے پر نظر آئے۔

مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ، ← «مَا لَكَ مِنَ الْمَالِ؟ ← أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ فِي هَيْئَةِ أَعْرَابِيٍّ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5417

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5418

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ*، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَابِرٌ: فَقُمْتُ إِلَى غِرَارَةٍ لَنَا فَالْتَمَسْتُ فِيهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا جِرْوَ قِثَّاءٍ فَكَسَرْتُهُ، ثُمَّ قَرَّبْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟ » فَقُلْتُ: خَرَجْنَا بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: جَابِرٌ: وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَهِّزُهُ لِيَذْهَبَ يَرْعَى ظَهَرْنَا، قَالَ: فَجَهَّزْتُهُ ثُمَّ أَدْبَرَ يَذْهَبُ فِي الظَّهْرِ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ لَهُ قَدْ خَلُقَا، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ؟ » قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا، قَالَ: «فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا» قَالَ: فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَهُ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ، أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا؟ » فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ [ص:237] اللَّهِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: «هَكَذَا كَانَتْ نِيَّةُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبِدَايَةِ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ؛ لِأَنَّ جَابِرًا مَاتَ سَنَةَ [ص:238] تِسْعٍ وَسَبْعِينَ، وَمَاتَ أَسْلَمُ مَوْلَى عُمَرَ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ سَنَةَ بِضْعٍ وَخَمْسِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَكَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِذْ ذَاكَ، فَهَذَا يَدُلُّكَ عَلَى أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، وَهُوَ كَبِيرٌ، وَمَاتَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ وَمِائَةَ، وَقَدْ عُمِّرَ

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں : غزوہ انمار کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ایک مرتبہ ہم نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا۔ اسی دوران نبی اکرمﷺ تشریف لے آئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں :میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! سائے کی طرف آجائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ (سواری سے) نیچے اتر آئے۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں :میں اٹھ کر اپنے توشہ دان کی طرف آیا میں نے اس میں تلاش کیا ‘ تو مجھے اس میں ککڑی ملی۔ میں نے اسے توڑا اور پھر اسے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا تمہیں کہاں سے ملی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! ہم اسے ساتھ لے کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں :ہمارا ایک ساتھی تھا جسے ہم سامان تیار کر کے دے دیتے تھے اور وہ ہمارے سواری کے جانوروں کوچرنے کے لئے لےجایا کر تا تھا‘ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے اس کا سامان تیار کیا پھر وہ اس کی پشت پر لاد کر چل پڑا ۔ اس کے جسم پر دو چادریں تھیں جو پرانی ہو چکی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اس کی طرف دیکھا‘ تو دریافت کیا اس کے پاس ا ن دو چادروں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں ہے۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اس کے پاس سامان میں دو کپڑے ہیں جو میں نے اسے پہننے کےلئے دیئے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے بلاؤ اور اسے یہ ہدایت کرو کہ وہ ان کپڑوںکو پہن لئے ‘ پھر و ہ جانے لگا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی گردن پر مارے کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ اس شخص نے یہ بات سن لی اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اللہ کی راہ میں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں ‘ پھر وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کی آغاز میں یہی نیت تھی۔ زید بن اسلم نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے احادیث کا سماع کیا ہے کیونکہ حضرت جابرؓ کا انتقال 79 ہجری میں ہوا تھا اور اسلم کا انتقال حضرت معاویہ ؓ کے عہد حکومت میں 50 ہجری کے آس پاس ہوا تھا۔ مروان بن حکم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی تھی جو اس وقت مدینہ منورہ کا گورنر تھا ‘ تو یہ بات آپﷺ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی۔ انہوں نے حضرت جابر سے احادیث کا سماع کیا ہے وہ بڑی عمر کے آدمی تھے جب کہ زید بن اسلم کا انتقال 136۔ ہجری میں ہوا ۔ ان کی عمر کافی زیادہ تھی۔

فَقُلْتُ: ← نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَةٍ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ ← فَبَيْنَمَا ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5418

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5419

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَضْرِبُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ» فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنْ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں :ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس شخص کے پاس اضافی بوجھ ہو اس کے دیدے‘ جس کے پاس بو جھ نہ ہو اور جس شخص کے پاس اضافی زادِراہ ہو وہ اس کی دیدے جس کے پاس زادراہ نہ وہ پھر نبی اکرمﷺ نے مال کی مختلف اصناف کا ذکر کیا‘ یہاں تک کہ ہمیں یوں محسوس ہونے لگا کہ ہم میں سےکسی کو بھی ‘ کوئی اضافی چیز رکھنے کا حق نہیں ہے۔

مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ← فجعل يضرب يمينا وشمالا ← بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5419

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5420

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ، قَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ كَسَوْتَنِي هَذَا الْقَمِيصَ أَوِ الرِّدَاءَ أَوِ الْعِمَامَةَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ»

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تھے ‘ تو آپ بسم اللہ پڑھتے تھے اور یہ پڑھنے تھے: ’’ اے اللہ! تو نے مجھے یہ قمیض یا چادر یا عمامہ پہنایا ۔ میں تجھ سے اس کی بھلائی کا اور جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں اس کے شر سے اور جس کےلئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘‘۔

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5420

chevron_left Previous
1…576577578…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr