صیح ابن حبان · کِتَابُ العَدوٰی وَالطِّیَرَۃِ وَالفَالِ ‹ کِتَابُ العَدوٰی وَالطِّیَرَۃِ وَالفَالِ · حديث 6119
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النُّقْبَةُ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ، أَوْ بِعَجْبِهِ، فَتَشْتَمِلُ الْإِبِلَ كُلَّهَا جَرَبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ حَيَاتُهَا، وَمُصِيبَاتُهَا، وَرِزْقُهَا». يُرِيدُ: بِيَدِ اللَّهِ قَالَ الشَّيْخُ: الصَّوَابُ: «مَمَاتُهَا» وَلَكِنْ كَذَا: «مُصِيبَاتُهَا» قَالَهُ الشَّيْخُ
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں : ایک دیہاتی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! اونٹ کی موٹی جلد پر، (راوی کو شک ہے یا شاید )پشت کی زیریں ہڈی پر خارش سے پہلے والی جلد کی خرابی لاحق ہوتی ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )، تو تمام اونٹ خارش زدہ ہو جاتےہیں ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا:،تو پہلے کو کس نے بیماری میں مبتلا کیا اس کی زندگی اس کی مصیبت اور اس کا رزق (اللہ تعالیٰ کےدست قدرت میں ہے) (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :) روایت کے متن میں استعمال ہونے والا لفظ "اس کی مصیبت " درست نہیں ہے بلکہ اصل لفظ اس کی موت ہے،تاہم روایت میں اسی طرح منقول ہےاس کی مصیبت یہ بات شیخ نےبیان کی ہے
جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ
Sahih Ibn Hibban · The book of Al-Adawy, Al-Tayer, and Al-Fatal › The book of Al-Adawy, Al-Tayer, and Al-Fatal · Hadith 6119
