Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ العَدوٰی وَالطِّیَرَۃِ وَالفَالِ ‹ کِتَابُ العَدوٰی وَالطِّیَرَۃِ وَالفَالِ · حديث 6119

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، النُّقْبَةُ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ، أَوْ بِعَجْبِهِ، فَتَشْتَمِلُ الْإِبِلَ كُلَّهَا جَرَبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ حَيَاتُهَا، وَمُصِيبَاتُهَا، وَرِزْقُهَا». يُرِيدُ: بِيَدِ اللَّهِ قَالَ الشَّيْخُ: الصَّوَابُ: «مَمَاتُهَا» وَلَكِنْ كَذَا: «مُصِيبَاتُهَا» قَالَهُ الشَّيْخُ

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں : ایک دیہاتی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! اونٹ کی موٹی جلد پر، (راوی کو شک ہے یا شاید )پشت کی زیریں ہڈی پر خارش سے پہلے والی جلد کی خرابی لاحق ہوتی ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )، تو تمام اونٹ خارش زدہ ہو جاتےہیں ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا:،تو پہلے کو کس نے بیماری میں مبتلا کیا اس کی زندگی اس کی مصیبت اور اس کا رزق (اللہ تعالیٰ کےدست قدرت میں ہے) (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :) روایت کے متن میں استعمال ہونے والا لفظ "اس کی مصیبت " درست نہیں ہے بلکہ اصل لفظ اس کی موت ہے،تاہم روایت میں اسی طرح منقول ہےاس کی مصیبت یہ بات شیخ نےبیان کی ہے

جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The book of Al-Adawy, Al-Tayer, and Al-Fatal › The book of Al-Adawy, Al-Tayer, and Al-Fatal · Hadith 6119

صیح ابن حبان · کِتَابُ العَدوٰی وَالطِّیَرَۃِ وَالفَالِ ‹ کِتَابُ العَدوٰی وَالطِّیَرَۃِ وَالفَالِ · حديث 6120

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ مَجْذُومٍ، فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَقَالَ: «كُلْ بِاسْمِ اللَّهِ، ثِقَةً بِاللَّهِ، وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ هَذَا هُوَ أَخُو مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، لَيْسَ بِالْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ الْقِتْبَانِيِّ، وَهُمَا جَمِيعًا ثِقَتَانِ»

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے ایک مجذوم شخص کا ہاتھ پکڑ ااسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، فرمایاتم اللہ کا نام لےکر اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے اور اس پر توکل کر کے کھاؤ۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں:) مفضل بن فضالہ نامی راوی یہ مبارک بن فضالہ کا بھائی ہے یہ مفضل بن فضالہ قتبانی نہیں ہے ویسے یہ دونوں راوی ثقہ ہیں

«كُلْ بِاسْمِ اللَّهِ، ثِقَةً بِاللَّهِ، وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ» ← أَخَذَ النَّبِيُّ بِيَدِ مَجْذُومٍ، فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى الْمُخَرِّمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The book of Al-Adawy, Al-Tayer, and Al-Fatal › The book of Al-Adawy, Al-Tayer, and Al-Fatal · Hadith 6120

صیح ابن حبان · کِتَابُ العَدوٰی وَالطِّیَرَۃِ وَالفَالِ ‹ کِتَابُ العَدوٰی وَالطِّیَرَۃِ وَالفَالِ · حديث 6121

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ، وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کو فال پسند تھی اور آپ ﷺ بدشگونی کو نا پسند کرتےتھے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ، وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The book of Al-Adawy, Al-Tayer, and Al-Fatal › The book of Al-Adawy, Al-Tayer, and Al-Fatal · Hadith 6121

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5344

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ»، «[ص:164] أَبُو كَثِيرٍ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ شراب ان دو درختوں سے بنائی جاتی ہے کھجور اور انگور‘‘ ابو کثیر نامی راوی کا نام یزید بن عبد الرحمٰن بن ازینہ ہے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5344

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5345

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ، قَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے بتع ( مخصوص قسم کی شراب) کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ کرے وہ حرام ہے۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5345

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5346

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: [ص:166] مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَقَاطِعُ الرَّحِمِ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ، وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ سَقَاهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةِ» قِيلَ: وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ؟ قَالَ: «نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ فُرُوجِ الْمُومِسَاتِ يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ رِيحُ فُرُوجِهِنَّ»

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ تین لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ باقاعدگی سے شراب پینے والا ، رشتہ داری کے حقوق پامال کرنے والا اور جادو کی تصدیق کرنے والا، جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے مر جائے اللہ تعالیٰ اسے نہر غوطہ میں سے پلائے گا عرض کی گئی : نہر غوطہ کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ و ہ نہر ہے ‘ جس میں عذاب پانے والی عورتوں کی شرم گاہوں سے نکلنے ولا مواد بہتا ہو گا اور ان کی شرم گاہو ں کی بو اہل جہنم کو بھی اذیت پہنچاتی ہو گی‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5346

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5347

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُدْمِنَ خَمْرٍ لَقِيَهُ كَعَابِدِ وَثَنٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ: مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُدْمِنَ خَمْرٍ مُسْتَحِلًّا لَشُرْبِهِ لَقِيَهُ كَعَابِدِ وَثَنٍ لِاسْتِوَائِهِمَا فِي حَالَةِ الْكُفْرِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے وہ بتوں ے عبادت گار کے طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس بات کا احتمال موجود ہے‘ اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے اور اس کے پینے کو حلال سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے ‘ تو وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے جیسے وہ بتوںکا عبادت گزار ہو کیونکہ یہ دونوں صورتیں کفر کی حالت ہونےمیں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5347

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5348

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ [ص:169] بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ خَطِيبًا، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اجْتَنِبُوا أُمَّ الْخَبَائِثِ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ، فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ خَادِمًا، فَقَالَتْ: إِنَّا نَدْعُوكَ لِشَهَادَةٍ، فَدَخَلَ فَطَفِقَتْ كُلَّمَا يَدْخُلُ بَابًا أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ جَالِسَةٍ، وَعِنْدَهَا غُلَامٌ وَبَاطِيَةٌ فِيهَا خَمْرٌ، فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نَدْعُكَ لِشَهَادَةٍ، وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقْتُلَ هَذَا الْغُلَامَ أَوْ تَقَعَ عَلَيَّ، أَوْ تَشْرَبَ كَأْسًا مِنْ هَذَا الْخَمْرِ، فَإِنْ أَبَيْتَ صِحْتُ بِكَ وَفَضَحْتُكَ» قَالَ: «فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: اسْقِينِي كَأْسًا مِنْ هَذَا الْخَمْرِ، فَسَقَتْهُ كَأْسًا مِنَ الْخَمْرِ، فَقَالَ: زِيدِينِي، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا، وَقَتَلَ النَّفْسَ، فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ الْإِيمَانُ وَإِدْمَانُ الْخَمْرِ فِي صَدْرِ رَجُلٍ أَبَدًا، لَيُوشِكَنَّ أَحَدُهُمَا يُخْرِجُ صَاحِبَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُرَيْجٍ هَذَا هُوَ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيُّ»

عبد الرحمٰن بن حارث بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان غنی ؓ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :تمام برائیوں کی جڑ سے اجتنا ب کرو کیونکہ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جو عباد ت کیا کرتا تھا اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ ایک عورت کو اس سے محبت ہو گئی۔ اس نے اپنے خادم کو اس کے پاس بھیجا اور بولی: ہم ایک گواہی کے سلسلے میں تمہیں بلا رہے ہیں وہ جیسے ہی اس کے گھر میں داخل ہوا اس پر یہ دروازے بند کر دیئے گئے ‘ یہاں تک کہ وہ شخص ایک عورت کے پاس پہنچ گیا جو انتہائی خوبصورت تھی اور بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے پاس ایک لڑکا بھی تھا اور ایک صراحی بھی تھی جس میں شراب موجود تھی۔ اس عورت نے کہا: ہم نے تمہیں کسی گواہی کے سلسلے میں نہیں بلایا جبکہ میں نے تمہیں اس لئے بلایا ہے ‘ تاکہ تم یا ‘ تو اس لڑکے کو قتل کر دو یا میرے ساتھ زنا کر لو یا پھر اس شراب کا ایک پیالہ پی لو اگر تم نے میری بات نہیں مانی ‘ تو میں بلند آواز میں چلاؤں گی اور تمہیں رسوا کر دوں گی۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں جب اس شخص نے یہ دیکھا کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں ہے ‘ تو اس نے کہا: تم مجھے شراب کا پیالہ پلا دو۔ اس عورت نے اسے شراب کا پیالہ پلا دیا۔ اس نے کہا : تھوڑی سی اور دو اس کے بعد وہ مسلسل شراب پیتا رہا ‘ یہاں تک کہ اس نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس لڑکے کو قتل بھی کر دیا۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : ) تو تم لوگ شراب سے اجتناب کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قسم کسی بھی شخص کے سینے میں ایمان اور شراب نوشی اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو باہر نکال دیتا ہے۔ ( امام ابن حبانٖؒ فرماتے ہیں: ) عمر بن سعید سریج نامی راوی اہل مدینہ کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں ‘ جس کے حوالے سے عبد الرحمٰن بن اسحاق مدنی نے روایات نقل کی ہیں۔

عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ خَطِيبًا، ← أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5348

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5349

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «فِيَّ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، شَرِبْتُ مَعَ قَوْمٍ، ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ، فَضَرَبَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى أَنْفِي بِلَحْيِ جَمَلٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ، قَالَ: وَأَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ}» [الأنفال: 1]

مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میرے بارے میں شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا میں کچھ لوگوں کے ساتھ شراب پی رہا تھا یہ شراب کو حرام قرار دیئے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ ان میں سے ایک آدمی نے میری ناک پر اونٹ کی ہڈی مار دی میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں آپﷺکے سامنے اس بات کا ذکر کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت سے متعلق حکم نازل کر دیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں: غزوہ بد ر کے موقع پر مجھے ایک تلوار ملی میں نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’ لوگ تم سے مال غنیمت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ تم یہ فرما دو ! انفال اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخصوص ہے‘‘۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← إسحاق بن إسماعيل ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5349

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5350

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، [ص:173] عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: «مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا، قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَكَيْفَ بِأَصْحَابِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا؟ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ}» [المائدة: 93]

حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ ایسی حالت میں فوت ہو گئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے عرض کی۔ ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا ‘ جو ایسی حالت میں فوت ہو گئے کہ وہ شراب پیاکرتے تھے ‘ تو یہ آیت نال ہوئی: ’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ایسے لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اس چیز کے بارے میں ‘ جو وہ کھاتے پیتے رہے‘ جبکہ انہوں نے پرہیز گاری اختیارکی اور وہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ‘‘۔

«مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا، ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ، [ص:143] ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5350

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5351

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، [ص:174] عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَلَمَّا حُرِّمَتْ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ بِأَصْحَابِنَا مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا؟ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا}» [المائدة: 93]

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ کے کچھ اصحاب ایسے عالم میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے جب شراب کو حرام قرار دیا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ کے کچھ اصحاب نےعرض کی: ہمارے ا ن ساتھیوں کا کیابنے گا ‘ جو ایسی حالت میں فوت ہو ئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’جو لو گ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ا ن پر اس حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہو گا ‘ جو وہ کھا تے پیتے رہے‘‘۔

«مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَلَمَّا حُرِّمَتْ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، [ص:174] ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5351

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5352

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهَا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، فَقَالُوا: اكْفَأْهَا، فَكَفَأْتُهَا «فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ؟ قَالَ: الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: میں اپنے محلے میں اپنے چچاؤں کو ( شراب پلا رہا تھا ) میں وہاں سب سےکم سن تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ میں وہاں کھڑا ہوا ان لوگوں کو فضیخ ( نامی شراب) پلا رہا تھا ۔ ان حضرات نے کہا: اسے گرا دو میں نے اسے گرا دیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت انسؓ سے دریافت کیا وہ کس چیز کی شرب ہوتی تھی ؟ انہوں نے فرمایا: خشک اور تازہ کھجوروں سے بنی ہوئی۔ ابو بکر بن انس بیان کرتے ہیں: اس زمانے میں ان لوگوں کی شراب اسی چیز کی ہوتی تھی ‘تو حضرت انس بن مالکؓ نے ان کی اس بات کا انکار نہیں کیا۔

الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، ← اكْفَأْهَا، فَكَفَأْتُهَا «فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ؟ ← قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، ← إِنَّهَا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ← أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ← قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ ← بَيْنَمَا ← سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5352

chevron_left Previous
1…565566567…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr