صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6021
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الأَزدي*، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ نَاشَدَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: «كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا»
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتےہیں : حضرت عمر ؓ نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، تو حضرت حمل بن مالک ؓ کھڑے ہوئے انہوں نےبتایا: میری دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو مار کر دوسری عورت اوراس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کردیا، تو اس بارے میں نبی اکرمﷺ نے تاوان کےطور پر غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دیا کہ اس عورت کو مقتول عورت کے عوض میں قتل کر دیا جائے۔
طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The door of the abyss · Hadith 6021
