Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1061

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا2 ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يدخل يده في الإناء حتى يغسلها ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَا یَدْرِی اَیْنَ کانتَ تطوف یدہ ۔2:43

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو وہ اس وقت تک پانی میں ہاتھ نہ ڈالے، جب تک انہیں تین دفعہ دھو نہ لے۔ کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي مَرْيَمَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1061

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1062

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلَا يَغْمِسَنَّ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يده" 2. 95:1

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہوا تو وہ اس وقت پانی میں ہاتھ نہ ڈالے ، جب تک انہیں دھو نہ لے، کیونکہ وہ اس بات کو نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات بھر کہاں رہا ہے۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1062

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3011

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ فَرَأَى ابْنًا لَهُ يَرْشَحُ جَبِينُهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "يموت المؤمن بعرق الجبين" 1. [66:3]

عبداللہ بن بریرہ اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ (گھر میں ) داخل ہوئے، تو انہو ں نے اپنے بیٹے کو دیکھا کہ (موت کے قریب) اس کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا، انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کا انتقال پیشانی کے پسینے کے ہمراہ ہوتا ہے۔

"يموت المؤمن بعرق الجبين" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ فَرَأَى ابْنًا لَهُ يَرْشَحُ جَبِينُهُ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← قَتَادَةَ ← الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3011

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3012

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: "مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ" فَقَالُوا:يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنِ الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: "الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ والبلاد والشجر والدواب" 1. [70:3]

حضرت ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ راحت حاصل کرنے والا ہے یا اس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: کون شخص راحت حاصل کرنے والا ہے اور کون وہ ہے، جس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن بندہ دنیا کی پریشانیوں اور تکلیفوں سے راحت حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف چلا جاتا ہے اور جس سے راحت حاصل کی جائے وہ کافر بندہ ہے، جس سے لوگ، شہر، درخت اور جانور راحت حاصل کرتے ہیں۔

أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3012

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3013

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قال: "الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ جُعِلَتْ فِي حَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيُنْطَلَقُ بِهَا إِلَى بَابِ السَّمَاءِ فَيَقُولُونَ مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ هَذِهِ فَيُقَالَ دَعُوهُ يَسْتَرِيحُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمٍّ فَيُسْأَلُ مَا فَعَلَ فُلَانٌ مَا فَعَلَ فُلَانٌ مَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ وَذُهِبَ بِهَا إِلَى بَابِ الْأَرْضِ يَقُولُ خَزَنَةُ الْأَرْضِ مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَنْتَنَ مِنْ هَذِهِ فَتَبْلُغُ بها إلى الأرض السفلى" 1 قَالَ قَتَادَۃَ : وَحَدَّثَنِیْ رَجُلٌ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ اَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِینَ تُجْمَعُ بِالْجَابِیَتِیْنِ ، وَاَرْوَاحُ الْکُفَّارِ تُجْمَعُ بِبُرْھُوتَ : سَبِخَۃٌ بِحَضْرَمَوْتَ۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھٰذَا الْخَبَرُ رَوَاہُ مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ قَسَامَۃ بْنِ زُھَیْرٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، نَحْوَہُ مَرْفُوعًا۔ الْجَابِیَتَانِ بِالْیَمَنِ ، وَبُرْھُوتَ مِنْ نَاحِیَۃِ الْیَمَنِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب مومن کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو رحمت کے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں جب اس کی جان قبض کر لی جاتی ہے، تو اسے سفید رنگ کے کپڑے میں رکھا جاتا ہے فرشتے اسے لے کر آسمان کے دروازے کی طرف جاتے ہیں وہ (یعنی پہلے آسمان کے فرشتے) یہ کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ پاکیزہ بو کبھی محسوس نہیں کی، تو یہ کہا جاتا ہے اسے چھوڑ دو اس نے راحت حاصل کر لی ہے، کیونکہ پہلے یہ غم (کی دنیا) میں تھا، تو دریافت کیا جاتا ہے :فلاں نے کیاعمل کیا فلاں نے کیا عمل کیا اور فلاں عورت نے کیا عمل کیا اور جب کافر شخص کی جان قبض کی جاتی ہے، تو اس لے کر زمین کے دروازے پرآیا جاتا ہے زمین کے نگران کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ بدبو دار کوئی چیز محسوم نہیں کی پھر و ہ اسے لے کر زمین کے سب سے نچلے طبقے تک جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں۔" ایل ایمان کی روحیں"جابیتین" میں اکٹھی ہوئی ہیں اور کفا ر کی روحیں "برہوت " میں اکٹھی ہوتی ہیں جو "حضر موت" میں شور زدہ زمین ہے۔"(امام ابن حباب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے قتادہ سے قسامہ بن زہیر کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سے اسی کی مانند مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ جابیتین یمن میں ہے اور برہوت یمن کا نواحی علاقہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3013

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3014

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قُبِضَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَتَقُولُ اخْرُجِي إِلَى رَوْحِ اللَّهِ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ مِسْكٍ حَتَّى إِنَّهُمْ لِيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا یَشُمُّونَہٗ ، حَتّٰی یَاْتُونَ بِہٖ بَابَ السَّمَاءِ ، فَیَقُوْلُوْنَ : مَا ھٰذِہِ الرِّیحُ الطَّیِّبَۃُ الَّتِیْ جَائَتُ مِنَ الْاَرْض؟ وَلَا یَاْتُونَ سَمَاءً اِلَّا قَالُوْا مِثْلَ ذٰلِکَ ، حَتّٰی یَاْتُونَ بِہٖ اَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِیْنِ فَلَھُمْ اَشَدُّ فَرَحًا بِہٖ مِنْ اَھْلِ الْغَائِبِ بِغَائِبِھِمْ ، فَیَقُوْلُوْنَ مَا : فَعَلَ فُلَانٌ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : دَعُوہُ حَتّٰی یَسْتِرِیحَ ، فَاِنَّہٗ کَانَ فِیْ غَمِّ الدُّنْیَقا ، فَیَقُوْلُ قَدْ مَاتَ ، اَمَاتَکُمْ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : ذُھِبَ بِہٖ اِلٰی اُمِّہِ الْھَاوِیَۃِ ، وَاَمَّا الْکَافِرُ فَیَاْتِیہُ مَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ بِمُسْحٍ ، فَیَقُوْلُوْنَ : اخْرُ جِی اِلٰی غَضِبِ اللہِ ، فَتَخْرُجُ کَاَنْتَنِ رِیحِ جِیفَۃٍ فَتَذْھَبُ بِہٖ اِلٰی بَابِ الْاَرْضِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب مومن کی روح قبض ہوتی ہے، تو رحمت کے فرشتے سفید کپڑا لے کراس کے پاس آتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: (اس جسم سے نکل کر) اللہ تعالیٰ کی مہربانی کر طرف آجاو ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے وہ سب سے پاکیزہ مشک کی خوشبو ہو، یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے ایک دوسرے کو پکڑاتے ہیں اور اسے سونگھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان کے دروازے تک آتے ہیں، تو (آسمان والے) فرشتے یہ کہتے ہیں: اتنی پاکیزہ خوشبو کس چیز کی ہے، جو زمین کی طرف سے آئی ہے وہ فرشتے جس بھی آسمان پر آتے ہیں وہاں یہی جملہ کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر مومنین کی ارواح کے پاس آجاتے ہیں، تو وہ لوگ اس سے مل کر یوں خوش ہوتے ہیں جیسے کسی غیر موجود شخص کے گھر والے اسے مل کر خوش ہوتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ تو دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو، تاکہ یہ آرام کر لے، کیونکہ یہ دنیا کے غموں میں مبتلا تھا، تو وہ (مردہ) یہ کہتا ہے اس کا، تو انتقال ہو چکا ہے کیا توہ تمہارے پاس نہیں آیا، تو وہ لوگ اسے کہتے ہیں: اسے اس ٹھکانے ھاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا(نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:) جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے، تو عذاب کے فرشتے موٹی کھر دی چادر لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: تم نکل کر اللہ کے غضب کی طرف جاو ، تو وہ جان یوں نکلتی ہے جیسے انتہائی بودار مردار ہوتا ہے، تو وہ اس لے کر زمین کے دروازے کی طرف آتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3014

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3015

أخبرنا بن قتيبة حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا یَتَمَنّٰی اَحَدُکُمْ الْمَوْتَ وَلَا یَدْعُوبِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَہُ ، اِنَّہٗ اِذَا مَاتَ انْقَطَعَ عَمَلُہُ ، وَاِنَّہٗ لَا یَزِیْدُ الْمُؤْمِنَ عُمُرُہُ اِلَّا خَیْرًا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کوئی بھی شخص موت کی آرزو نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کے بارےمیں دعا مانگے، کیونکہ جب وہ انتقال کر جائے گا ، تو ا س کا عمل منقطع ہو جائے گا اور مومن کی عمر صرف بھلائی میں اضافہ کرتی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3015

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3016

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ به أو ولد صالح يدعو له" 1. [39:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب انسان مر جاتا ہے، تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے صرف تین اعمال (کا اجرو ثواب منقطع نہیں ہوتا ) صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے یا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ الْهَرَوِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3016

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3017

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ1 فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى حِصْنٍ وَعَدَدٍ وَعِدَّةٍ- قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: حِصْنٌ فِي رَأْسِ الْجَبَلِ لَا يُؤْتَى إِلَّا فِي مِثْلِ الشِّرَاكِ- فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمَعَكَ مَنْ وَرَاءَكَ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي فَأَعْرَضَ عَنْهُ2 فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو مُهَاجِرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ رَهْطِهِ فَحُمَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ حمى شَدِیدَۃً ، فَجَزِعَ ، فَاَخَذَ شَفْرَۃً ، فَقَطَعَ بِھَا رَوَاجِبَہُ فَتَشَخَّبَتْ حَتّٰی مَاتَ ، فَدُفِنَ ، ثُمَّ اِنَّہٗ جَاءَ فَیمَا یَرَی النَّائِمُ مِنَ اللَّیْلِ اِلَی الطُّفَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فِیْ شَارَۃٍ حَسَنَۃٍ وَّھُوَ مُخَمِّرٌ یَدَہٗ ، فَقَالَ لَہٗ الطُّفَیْلُ : اَفْلَانٌ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ :کَیْفَ فَعَلْتَ ؟ قَالَ : صَنَعَ بِیْ رَبِّیْ خَیْرًا ، غَفَرَ لِی بِھِجْرَتِی اِلٰی نَبِیِّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَمَا فَعَلَتْ یَدَاکَ ؟ قَالَ : قَالَ لِی رَبِّی : لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا اَفْسَدْتَ مِنْ نَفْسِکَ قَالَ : فَقَصَّ الطُّفَیْلُ رُؤْیَاہُ عَلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدَیْہِ : اللّٰھُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ ، اللّٰھُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ ، اللّٰھُمَّ وَلِیَدَیْہِ فَاغْفِرْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہہ مکہ مکرمہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ اس طرف تشریف لائیں جہاں قلعہ بھی ہے اور لوگوں کی تعداد بھی ہے اور متعدد (قسم کا سازو سامان) بھی ہے، یہاں ابوزبیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے وہ قلعہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر تھا جہاں انتہائی مشکل سے پہنچا جا سکتا تھا نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا: تمہارےپیچھے جو لوگ ہیں کیا وہ تمہارے ساتھ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے اعراض کیا جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہہ بھی ہجرت کر کے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے ہمراہ ان کے قبیلے کا ایک شخص موجود تھا اس شخص کو شدید بخار ہو گیا وہ گریہ وزاری کرنے لگا اس نے چھری لی اور اس کے ذریعے اپنی رگ کا ٹی اس کا خون بہنے لگا، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا اسے دفن کر دیا گا پھر رات کو خواب میں ایک شخص حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہہ کے پاس آیا جو انتہائی عمدہ حلیے میں تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کو ڈھانپا ہوا تھا طفیل نے اس سے دریافت کیا: تم فلاں ہو؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں۔ حضرت طفیل رضی اللہ عنہہ نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے اس نے بتایا: میرے پروردگار نے میرے ساتھ عمدہ سلوک کیا ہے اور میرے اس کے نبی کی طرف ہجرت کرنے کی وجہ سے میری مغفرت کر دی ہے۔ حضرت طفیل رضی اللہ عنہہ نے دریافت کیا : تمہارے ہاتھ کا کیا ہوا، تو اس نے بتایا: میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا: ہم تمہاری اس چیز کو ہر گز ٹھیک نہیں کریں گے جسے تم نے خود خراب کر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت طفیل رضی اللہ عنہہ نے یہ خواب نبی اکرم ﷺ کو سنایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کیے (اور یہ دعا کی) " اے اللہ ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس کے دونوں ہاتھوں کی بھی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس کے دونوں ہاتھ کی بھی مغفرت کر دے۔"

قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ بِمَكَّةَ1 فَقَالَ: ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3017

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3018

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ قَالَ : حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ ،ع َنْ سُفْیَانَ ، عَنْ ھِشَامٍ بْنِ عُرْوَۃَ ،ع َنْ اَبِیْہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا مَاتَ صَاحِبُکُمْ فَدَعُوْہُ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب تمہارا ساتھی انتقال کر جائے ، تو تم لوگ اسے چھوڑدو۔

عَائِشَةَ ← ھِشَامٍ بْنِ عُرْوَۃَ ،ع َنْ اَبِیْہِ ← مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ ،ع َنْ سُفْیَانَ ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3018

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3019

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إذا مات صاحبكم فدعوه" 1. [43:2]

سّیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب تمہارا ساتھی انتقال کر جائے ، تو تم اسے چھوڑ دو۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ وَوَكِيعٌ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3019

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 421

حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ يا رسول الله أتأذنذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ مُجَاهَدَةَ الْمَرْءِ فِي بِرِّ وَالِدَيْهِ هُوَ الْمُبَالَغَةُ فِي بِرِّهِمَا [421] حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا يعلى بن عطاء عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ اَتَاْذَنُ لِیْ فِی الْجِھَادِ ؟ قَالَ اَلَکَ وَالِدَانِ قَالَ نعم قال اذھب فبر ھما فذھب وھو یحمل الرکاب ۔ (2:1)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیاآپ مجھےجہاد کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘ تو وہ شخص چلا گیا حالانکہ وہ رکاب اٹھا کر آیا تھا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرو أَنَّ رَجُلًا، ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 421

chevron_left Previous
1…535455…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr