Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3667

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ الِاعْتِكَافَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ لِتَعْتَكِفَ (1) مَعَهُ، فَأَذِنَ لَهَا، فَضَرَبَتْ خِبَاءَهَا، فَسَأَلَتْهَا حَفْصَةُ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا لِتَعْتَكِفَ مَعَهَا (2) ،فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ ضَرَبَتْ مَعَهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً غَيُورًا، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِيَتَهُنَّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا هَذَا، آلْبِرَّ تُرِدْنَ بِهَذَا؟ " فَتَرَكَ الِاعْتِكَافَ حَتَّى أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ إِنَّهُ اعْتَكَفَ في عشرين (3) من شوال (4) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے اعتکاف کا ارادہ کیا ۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اجازت مانگی کہ وہ بھی آپ کے ہمراہ اعتکاف کریں۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا خیمہ لگوا لیا۔ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اجازت مانگی وہ بھی آپ کے ہمراہ اعتکاف کریں جب سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ بات دیکھی، تو انہوں نے بھی اپنا خیمہ ساتھ لگوا لیا وہ مزاج کی تیز خاتون تھیں۔ جب نبی اکرم ﷺ نے ان خواتین کے خیمے دیکھے، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا ان خواتین نے ان کے ذریعے نیکی کا رادہ کیا ہے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اعتکاف کو ترک کر دیا، یہاں تک کہ جب رمضان کا مہینہ گزر گیا، تو آپ نے شوال میں بیس (20) دن اعتکاف کیا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3667

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3668

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ وَهُوَ يَعْتَكِفُ فَأَغْسِلُهُ (2) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر (مسجد سے باہر ) کی طرف نکال دیتے تھے، تو میں اسے دھو دیا کرتی تھی۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُخْرِجُ رَأْسَهُ وَهُوَ يَعْتَكِفُ فَأَغْسِلُهُ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3668

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3669

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعُمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ مُعْتَكِفٌ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَتِهِ (1) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ بعض اوقات اپنا سر میری طرف بڑھا دیتےتھے۔ آپ اس وقت مسجد میں اعتکاف کیے ہوئے ہوتے تھے میں اس میں کنگھی کر دیا کرتی تھی نبی اکرم ﷺ (صرف) قضائے حاجت کے لئے گھر میں تشریف لاتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3669

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3670

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْتِینِیْ وَھُوَ مُعْتَکِفٌ فِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی یَتَّکِءَ عَلٰی عَتَبۃِ بَابِی ، وَاَنَا فِیْ حُجْرَتِی ،وَسَائِرُہُ فِی الْمَسْجِدِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لاتے تھے۔ آپ نے اس وقت مسجد میں اعتکاف کیا ہوتا تھا یہاں تک کہ آپ میرے دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ ٹیک لگا لیتے تھے میں اس وقت اپنے حجرے میں ہوتی تھی اور نبی اکرم ﷺمسجد میں ہوتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3670

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3671

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ لَأَنْقَلِبَ، فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي، وَكَانَ مَنْزِلُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَرَأَنَا رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قنعا رؤوسهما، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ" فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "إِنَّ الشَّیْطَانَ یجْر،ی مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ ،وَاِنِّیْ خِفْتُ اَنْ یَّقْذِفَ فِیْ قُلُو بُکُمَا شَیْئًا ، اَوْ قَالَ : شَرًّا

امام زین العابدین رضی اللہ عنہہ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اعتکاف کیا ہوا تھا میں آپ کی زیارت کے لئے رات کے وقت آ پ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں آپ کے ساتھ بات چیت کرتی رہی پھر جب میں واپس آنے کے لئے اٹھی، تو آپ میرے ساتھ کھڑے ہوئے، تا کہ مجھے رخصت کریں۔ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا گھر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر کے پاس تھا۔ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے ہمیں دیکھا جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو انہوں نے اپنے سر جھکا لئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو ! یہ صفیہ بنت حیی ہے( جو میری زوجہ ہے) ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! سبحان اللہ ! (ہم آپ کے معاملے میں ایسا سوچ سکتے ہیں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:شیطان انسا ن کی رگوں میں خون کی جگہ دوڑتا ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں خیال نہ ڈال دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) برا خیال نہ ڈال دے۔

صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3671

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3672

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعُمْرَةَ عَنْ عَائِشَۃَ ، اَنَّھَا قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اعْتَکَفَ اَدْنٰی ، اِلَیَّ رَاْسَہٗ فَاُرَجِّلہُ ، فَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ اِلَّا لِحَاجَۃِ الْاِنْسَانِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ جب اعتکاف کیے ہوئے ہوتے تھے، تو آپ اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تھے میں اس میں کنگھی کر دیتی تھی آپ گھر میں صرف قضائے حاجت کے لئے تشریف لایا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3672

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1054

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ1 إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ، وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ، فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ، وَأَتَتْنَا بِقِنَاعٍ -وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ التَّمْرُ- فَأَكَلْنَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقال: "هل ھَلْ اَصَبْتُمْ شَیْئًا ؟ اَوْ اٰمُرُلَکُمْ بِشَیْءٍ ؟ قُلْنَا: نَعَمْ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَیْنَمَا نَحْنُ مِنْ رَسُوْلِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ ، اِذَ رَفَعَ الرَّاعِی غَنَمَہُ اِلَی الْمُرَاحِ وَمَعَہٗ سَخْلَۃٌ تَیْعْرُ ، فَقَالَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا وَلَّدْتَ ؟ قَالَ بَھْمَۃٌ قَالَ: اذْبَحْ مَکَانَھَا شَاۃً ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیَّ فَقَالَ: لَا تحسِبَنَّ وَلَمْ یَقُلْ لَا تحسَبَنَّ اَنَّا مِنْ اَجَلِکَ ذَبَحْنَاھَا ، اِنَّ لَنَا غَنَمًا مِائَۃً لَا تَزِیْدُ ، فَمَا وَلَدَتْ بَھْمَۃً ذَبَحْنَا مَکَانَھَا شَاۃً قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّ لِیَ امْرَاۃً فِیْ لِسَانِھَا شَیْءٌ ، قَالَ: فَطَلِّقْھَا اِذًا قَالَ :قُلْتُ :یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ لِیْ مِنْھَا وَلَدًا ، وَلَھَا صُحْبَۃً قَالَ: عِظْھَا، فَاِنْ یَکُ فِیْھَا خَیْرٌ ، فَسَتَقْبَلُ ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِیْنَتَکَ ضَرْبَکَ اَمَتَکَ قَالَ :قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْبِرْنِیْ َعَنِ الْوُضُوْءِ ، قَالَ اَسْبِغِ الْوُضُوْءَ ، وَخَلِّلْ بَیقنَ اَصَابِعِکَ ، وَبَالِغْ فِی الْاِسْتِنْشَاقِ اِلَّا اَنْ تَکُونَ صَائِمًا ۔3:65

عاصم بن لقیط بن سمرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں بنو مثفق کے وفد میں شامل ہو کےنبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آپ ہمیں اپنے گھر میں نہیں ملے۔ ہم سیدہ عائشہ ؓ کے ہاں گئے تھے۔ انہوں نے ہمارے لئے خزیرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا ۔ وہ تیار ہو گیا وہ ہمارے پاس ایک تھال میں کھجوریں لے کر آئی۔ ہم انہیں کھا رہے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے۔ آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے کوئی چیز کھائی ہے یا میں تمہارے لئے کسی چیز کا حکم دوں۔ ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ، ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران چرواہا نبی اکرم ﷺ کی بکریاں لے کر ان کے باڑے کی طرف جا رہا تھا ۔ اس کے ساتھ ایک بکری تھی جو آواز نکال رہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا اس نے بچہ کو جنم دیا ہے۔ اس نے جواب دیا ؛ جی ہاں ، بچہ پیدا ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس بچہ کی جگہ ایک بکری کو ذبح کر دوپھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ یہ نہ سمجھنا ہم تمہاری وجہ سے اسے ذبح کر رہے ہیں ۔ ہمارے پاس ایک سو بکریان ہیں ۔ اس سے زیادہ نہیں ہوتی جب بھی بچہ پیدا ہوتا ہےتوب ہم اس بچہ کی جگہ ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میری ایک بیوی ہے جس کی زبان میں کچھ تیزی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے طلاق دے دو۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میرا اس سے بچہ بھی ہے اور بہت پرانا ساتھ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے تصیحت کرو اگر اس میں بھلائی ہو گی ، تو وہ اسے قبول کر لے گی، تاہم تم اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جس طرح کنیز کو مارا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وضو کے لئے بتائیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اچھی طرح وضو کرو انگلیوں کے درمیاں خلال کرو۔ ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو البتہ اگر تم روزے کی حالت میں ہو ( ہو ، تو اس کا حکم مختلف ہے) ہے.

أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1054

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1055

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَتَوَضَّؤُوا وَهُمْ عِجَالٌ. قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ، وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ" 1. 78:1

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف واپس آرہے تھے۔ راستہ میں کچھ لوگ عصر کی نماز کے وقت تیزی سے آگے بڑھے۔ انہوں نے جلد بازی میں وضو شروع کیا۔ حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں : جب ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو ان کی ایڑیاں خشت تھیں۔چمک رہی تھیں ، وہاں پانی نہیں لگا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے تم لوگ اچھی طرح وضو کرو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي يَحْيَى، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1055

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1056

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: صَلَّى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ -رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ- الْفَجْرَ، ثُمَّ دَخَلَ الرَّحَبَةَ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، فَأَخَذَ الْإِنَاءَ بِيَمِينِهِ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَسَارِهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، غَسَلَ كَفَّيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، فَغَرَفَ مِنْهُ مَاءً، فَمَلَأَ فَاهُ، فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخَّرَهُ، ثُمَّ أَدْخَلَ الْيُمْنَى، فَأَفْرَغَ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، فَغَسَلَهَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا، فَغَسَلَ الْأُخْرَى، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم فهذا وضوءه1. 2:5

عبد بن خیر بیان کرتے ہیں : حضرت علی ابن ابو طالب نے فجر کی نماز پڑھائی پھر صحن میں تشریف لائےہم بھی ان کے ساتھ آگئے۔ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا۔ ایک لڑکا ان کے پاس ایک برتن لے کر آیا۔ انہوں نے برتن کو دائیں ہاتھ میں پکڑا اور اپنے بائیں ہاتھ سے پانی انڈیلااور اسے تین مرتبہ دھو لیا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھو لئے پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا پھر اس میں سے چلو لے کر اپنے منہ میں بھرا اور کلی کی اور ناک صاف کیا۔ ایسا ناہوں نے تین مرتبہ کیا۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا پھر چہرے کو تین مرتبہ دھو لیا پھر دونوں بازووں کو تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے سر کا اور پیچھے والے حسہ کا مسح کیا پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے دائیں پاووں پر انڈیلا اور اسے دھو لیا پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اسے باہر نکالاپھر دوسرے پاووں کو دھویا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو ( یعنی وہ یہ چاہتا ہو) کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے وضو کو دیکھے ، تو یہ نبی اکرم ﷺکے وضو کا طریقہ ہے۔

عبد خير ← خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1056

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1057

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بن سبرة قال: صليت مع عَلِيَّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ -رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ- الظُّهْرَ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُ كَانَ يَجْلِسُهُ1 فِي الرَّحَبَةِ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأَخَذَ مِنْهُ كفا، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَمَسَحَ وَجْھَہٗ وَذِرَاعِیْہِ ، وَمَسَحَ بِرَاْسَہٖ ، وَمَسَحَ رِجْلَیْہِ ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ اِنَائِہِ ، ثُمَّ قَالَ: اِنِّیْ حُدِّثْتُ اَنَّ رِجَالًا یَکْرَھُوْنَ اَنْ یَشْرَبَ اَحَدُھُمْ وَھُوَ قَائِمٌ ، وَاِنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَ کَمَا فَعَلْتُ، وَھٰذَا وُضُوْءُ مَنْ لَمْ یُحْدِثُ 2:1

نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی ابن ابو طالب کی اقتدا میں نماز ظہر ادا کی پھر وہ اس بیٹھک کی طرف تشریف لے گئے جہاں وہ کھلے میدان میں بیٹھتے تھے وہ تشریف فرما ہوئے ان کے ارد گرد ہم بھی بیٹھ گئے پھر عصر کی نماز کا وقت ہوا تو ایک برتن لایا گیاجس میں پانی موجود تھا۔ انہون نے اس میں سے ایک چلو لیا اس کے ذریعے کلی کی ناک صاف کیا ۔ اپنے چہرے اور دونوں بازووں کا مسح کیا ۔ اپنے سر کا مسح کیا ۔ دونوں پاوں کا مسح کیا پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے اس برتن میں بچے ہوئے پانی کو پی لیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی۔ مجھے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ لوگ اس بات کو نا پسند کرتے ہیں، وہ کھڑے ہو کر پانی پئیں۔ حالانکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس طرح میں نے کای ہے، یہ اس شخص کا وضو ہے جو پہلے سے باوضو ہو۔

النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1057

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1058

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وهب، قال: أخبرنا يونس، عن بن شِهَابٍ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، -رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ- دَعَا بِوَضُوءٍ فتوضأ وَغَسَلَ کَفَّہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثم غسل وجھہ ثلاث مرات ، ثم غسل یَدَہُ الْیُمْنَی اِلَی الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرَی مِثْلَ ذٰلِکَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَاْسِہٖ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُمْنَی اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی مِثْلَ ذٰلِکَ ، ثُمَّ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، تَوَضَّاَ نَحْوَ وُضُوْئِی ھٰذَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :(مَنْ) تَوَضَّاَ نَحْوَ وُضُوْئِی ھٰذَا ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ فَیْھِمَا نَفْسَہُ ، غَفَرَ اللہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ۔5:2

حمران بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی ؓ وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا ، انہوں نے اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے ، پھر کلی کی ، پھر ناک میں پانی ڈالا۔ پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر دائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر بائیں بازو کو اسی طرح دھویاپھر اپنے سر کا مسح کیا پھر دائیں پاوں کو ٹخنوں تک دھویا پھر بائیں پاوں کو اسی طرح دھویا پھر یہ بات بیان کی۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " جو شخص میرے اس وضو کی طرھ وضو کرے پھر اٹھ کر دو رکعت ادا کرے اس دوران وہ اپنے خیالوں میں گم نہ ہو ۔

أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، -رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ- دَعَا بِوَضُوءٍ فتوضأ ← أن حمران مولى عثمان ← بن شهاب أن عطاء بن يزيد الليثي ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1058

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1060

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مولى عثمان اَنَّہٗ رَاَی عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوْءٍ ، فَاَفْرَغَ عَلٰی یَدَیْہِ مِنْ اِنَائِہِ فَغَسَلَھُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ اَدْخَلَ یَمِیْنَہُ فِیْ الْوَضُوْءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَاسْتَنْثَرَ ، وَغَسَلَ وَجْھَہٗ ثَلَاثًا ، وَیَدَیْہِ اِلَی الْمِرْفَقَیْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَاْسِہٖ ،ثُمَّ غَسَلَ کُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَیْہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَوَضَّاُ نَحْوَ وُضُوْئِی ھٰذَا ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ تَوَضَّاَ مِثْلَ وُضُوْئِ ھٰذَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لَا یُحَدِّثُ فِیْھِمَا نَفْسَہُ غُفِرَ لَہُ ما تقدمَ من ذنبہ ۔5:2

حمران بیان کرتے ہیں : میں نے ھجرت عثمان غنی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا۔ انہوں نے برتن میں سے دونون ہاتھوں پر پانی انڈیل کر تین مرتبہ دھویا پھر اپنا دایان ہاتھ وضو کے پانی میں داخل کر کے کلی کی اور ناک مین پانی ڈالا پھر ناک صاف کیا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور دونوں بازووں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا ۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر ہو پاوں کو تین مرتبہ دھویا پھر یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: " جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر اٹھ کر دو رکعات ادا کرے اور اس دوران اپنے خیالوں میں گم نہ ہو تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتین ہے۔"

عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1060

chevron_left Previous
1…525354…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr