Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4299

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا [ص:136] جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ، أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا وَضَعَتْ تَشَوَّفَتِ الْأَزْوَاجَ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَمَا يَمْنَعُهَا وَقَدِ انْقَضَى أَجَلُهَا»

ابو سنابل بیان کرتے ہیں: سیّدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تئیس یا شاید پچیس دن بعد بچے کو جنم دے دیا جب اس نے بچے کو جنم دے دیا، تو شادی کرنے کے لیے آراستہ ہوئی اس پر اعتراض کیا گیا اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا گیا تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اب اس کے لیے کیا چیز رکاوٹ ہے، جب کہ اس کی عدت ختم ہو چکی ہے۔

أَبِي السَّنَابِلِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4299

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4300

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، [ص:137] عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لَا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، فَمَرَّةً يُحَدِّثُ عَنْ هَذَا، وَأُخْرَى عَنْ ذَلِكَ

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تم لوگ ہمارے لیے ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو مشتبہ نہ کرو ام ولد کی عدت وہی ہو گی جو بیوہ عورت کی عدت ہوتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ابن ابو عروبہ نے یہ روایت قتادہ سے سنی ہے اور مطروراق نے یہ روایت رجاء بن حیوہ سے سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے اس سے نقل کر دیا اور ایک مرتبہ اس سے نقل کر دیا۔

ذَلِكَ ← هَذَا، وَأُخْرَى ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، فَمَرَّةً ← قَتَادَةَ، وَمَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبُو حَاتِمٍ ← لَا تُلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا «عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا» ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، [ص:137] ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مَطَرٍ، ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4300

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4301

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ [ص:138] الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى هَالِكٍ أَكْثَرِ مِنْ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تَحُدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے انتقال پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی“۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ [ص:138] الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4301

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4302

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمَ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے اس کا سوگ چار ماہ دس دن تک ہو گا“۔

عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، ← صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4302

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4303

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ شوہر کا معاملہ مختلف ہے “۔

النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4303

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ فَصْلٌ فِي إِحْدَادِ الْمُعْتَدَّةِ · حديث 4304

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبِ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ، أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِهِ بَطْنَهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» وَقَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ فَدَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحُدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» قَالَتْ زَيْنَبُ: وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا [ص:141] زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَاهَا فَنُكَحِّلُهَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا»، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: «لَا، إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ. [قَالَ حُمَيد: فَقُلتُ لِزَينَبَ وَمَا تَرْمِي بِالبَعرَة عَلَى رَأس الحَوْل؟ فَقَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ المَرأةُ إِذَا تُؤتى بِدَابَّة - حِمَارٌ، أَوْ شَاةٌ، أَوْ طَائِرٌ - فَتَفتضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفتَضُّ بِشَيء إِلاَّ مَاتَ، ثُمَّ تَخرج فتُعطي بعرة، فترمي، ثُمَّ تُراجع - بَعدُ - مَا شَاءت مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ. سُئِلَ مَالكٌ: مَا تَفْتَضُّ بِهِ؟ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا] *.

سیّدہ زینب بنت ابو سلمہ رضی اللہ عنہا نے تین روایات نقل کی ہیں۔ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے والد حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا تو سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہ نے زرد رنگ منگوایا جس میں خلوق یا شاید کوئی دوسری خوشبو ملی ہوئی تھی انہوں نے اس کا کچھ حصہ کسی لڑکی کو لگایا اور پھر تھوڑا سا اپنے پیٹ پر لگا لیا، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، لیکن میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ اپنے شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن تک کرے گی“۔ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ میں سیّدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا انہوں نے خوشبو منگوائی اور تھوڑی سی خوشبو لگا لی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آپﷺ نے منبر پر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے، وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ کا سوگ کرے البتہ اپنے شوہر کا سوگ وہ چار ماہ دس دن تک کرے گی“۔ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی والدہ حضرت ام سلمہرضی اللہ عنہا کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ایک خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میری بیٹی بیوہ ہے اس کی آنکھیں دکھتی ہیں، تو کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں ایسا شاید دو یا تین مرتبہ ہوا ہر مرتبہ نبی اکرمﷺ یہی فرماتے رہے جی نہیں یہ (یعنی اس کی عدت کی مدت) چار ماہ دس دن ہے پہلے زمانہ جاہلیت میں کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھی (پھر اس کی عدت پوری ہوتی تھی) حمید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: ایک سال کے بعد مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بتایا: (بیوہ عورت کی عدت گزرنے کے بعد ) عورت کے پاس کوئی جانور جیسے گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تھا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی تھی۔ عام طور پر وہ جانور مرجایا کرتا تھا۔ پھر وہ عورت (اپنی کوٹھڑی سے ) باہر نکلتی تھی، اسے ایک مینگنی دی جاتی تھی، جسے وہ پھینک دیتی تھی۔ اس کے بعد وہ خوشبو وغیرہ استعمال کرنا شروع کرتی تھی۔ امام مالک سے سوال کیا گیا: روایت کے الفاظ، تَفتَضُّ بِہِ سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ کہ وہ عورت اپنا ہاتھ اس جانور کی کھال پر پھیرتی تھی۔

زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › A chapter in the setting of the waiting period · Hadith 4304

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2373

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا، لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ» (1) . [1: 95]

حضرت سہل بن ابوحثمہؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص سترہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرے تو اسے سترہ کے قریب کھڑے ہونا چاہئے تاکہ شیطان اس کی نماز کو منقطع نہ کر دے۔‘‘

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2373

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2374

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ» (1) . [5: 8]

حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کی جائے نماز اور ( قبلہ کی سمت والی ) دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے جتنی جگہ ہوتی تھی۔

«كَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ» ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2374

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2375

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَمُرُّ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، وَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ» (1) . [3: 61]

حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص سترہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرے تو اسے سترہ کے قریب ہونا چاہئے کیونکہ شیطان اس کے اور سترہ کے درمیان میں سے گزرتا ہے‘ تو آدمی کو کسی کو اپنے آگے سے گزرنے نہیں دینا چاہئے۔‘‘

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2375

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2376

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي (2) مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ (3) ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ أَمَامَهُ» (4) . [3: 61]

۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص نماز ادا کرنے لگے‘ تو اسے اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لینی چاہئے۔ اسے کوئی لاٹھی گاڑھ لینی چاہئے اگراس کے پاس لاٹھی نہ ہو‘ تو پھر لکیر کھینچ لینی چاہئے پھر اس کے سامنے سے جو شخص گزرے گا وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2376

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2377

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ تُرْكَزُ لَهُ الْعَنَزَةُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا» (1) . [3: 61]

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺکے لئے نیزہ گاڑہ دیا گیا آپ نے اس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2377

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2378

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى رِاحِلَتِہٖ َالَ نَافِعٌ: وَرَاَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یُصَلِّیْ اِلٰی رَاحِلَتِہٖ ۔(61:3)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺکو دیکھا ہے۔ آپ اپنی سواری کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے۔ نافع بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو اپنی سواری کی طرف رُخ کر کے نماز ادا ہوئے دیکھا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2378

chevron_left Previous
1…505152…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr