Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1674

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى عَنِ بن عُمَرَ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ وَالْاِقَامَۃُ مَرَّۃً غَیْرَ اَنَّہٗ یَقُوْلُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ فَاِذَا سَمِعْنَا الْاِقَامَۃَ تَوَضَّاْ نَا ثم جئنا إلی الصلاۃ۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں اذان کے کلمات دو مرتبہ ہوتے تھے اور اقامت ایک مرتبہ ہوتی تھی تاہم قد قامت الصلوۃ کو دو مرتبہ کہا جاتا تھا جب ہم اقامت سنتے تھے ، تو ہم وضو کر لیتے تھے اور نماز کے لئے آ جاتے تھے ۔

ثم جئنا إلی الصلاۃ۔ ← الْاِقَامَۃَ تَوَضَّاْ ← قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ فَاِذَا ← إِنَّمَا كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللہِ مَرَّتَیْنِ وَالْاِقَامَۃُ مَرَّۃً غَیْرَ اَنَّہٗ ← بن عُمَرَ ← مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى ← أَبَا جَعْفَرٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1674

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1675

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرُ الْإِقَامَةَ». [1: 94] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «مَا رَوَى هَذَا عَنِ ابْنِ كَثِيرٍ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ثِقَةٌ، غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، وَأَبِي خَلِيفَةَ».

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں :حضرت بلال ؓ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان کے کلمات جفت اور اقامت کے کلمات طاق اعداد میں کہے ۔(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں ) ابن کثیر کے حوالے سے شعبہ سے منقول اس روایت کو کسی بھی ثقہ راوی نے نقل نہیں کیا صرف محمد بن ایوب رازی اور ابو خلیفہ نے نقل کیا ہے ۔

أَبُو حَاتِمٍ «مَا رَوَى هَذَا ← أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1675

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1676

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ"3.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے حضرت بلال ؓ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اذان کے کلمات جفت اعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق تعداد میں کہیں ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1676

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1677

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ قال سمعت أبا المثنى قال: سمعت بن عُمَرَ يَقُولُ كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى وَالْإِقَامَةُ وَاحِدَةٌ غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ مَرَّتَيْنِ 1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ أَبُو جَعْفَرٍ هَذَا هُوَ إِمَامُ مَسْجِدِ الْأَنْصَارِ بِالْكُوفَةِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مهران بن المثنى 2، المثنی ، وأبو المثنی: اسمہ مسلم بن المثنی۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں اذان دو،دو کلمات پر مبنی ہوتی تھی ، اور اقامت کے کلمے پر مبنی ہوتی تھی ،تاہم کو دو مرتبہ کہا جاتا تھا ۔(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں )ابو جعفر نامی راوی کوفہ میں انصار کی مسجد کا امام تھا ، اس کا نام محمد بن مسلم بن مہران بن مثنی ہے ، جبکہ ابو مثنی نامی راوی کا نام مسلم بن مثنیٰ ہے ۔

قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ مَرَّتَيْنِ. ← كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ مَثْنَى مَثْنَى وَالإِقَامَةُ وَاحِدَةٌ غَيْرَ أَنَّهُ ← بن عُمَرَ ← أَبَا الْمُثَنَّى ← أبو جعفر ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْجُعْفِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1677

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1678

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا الْحَذَّاءَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّهُمُ الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤَذِّنُونَ بِهِ عَلَمًا لِلصَّلَاةِ فَأُمِرَ بِلَالٌ أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة1.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے اس چیز کو تلا ش کیا جس کے ذریعے وہ لوگوں کو اطلاع دیں اور وہ چیز نماز کے لئے مخصوص نشان ہو ،حضرت بلال ؓ کو یہ حکم دیا گیا وہ اذان کے کلمات جفت اعداد میں اور اقامت کے کلمات طاق اعداد میں کہیں ۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدًا الْحَذَّاءُ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1678

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1679

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ لِيُضْرَبَ بِهِ، لِيَجْتَمِعَ النَّاسُ إِلَى الصَّلَاةِ، أَطَافَ بِي مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، وَفِي يَدَهِ نَاقُوسٌ يَحْمِلُهُ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: فَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قُلْتُ: أَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُؤَذِّنَ تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا [ص:573] رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قُمْ فَأَلْقِ عَلَى بِلَالٍ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا» فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِي عَلَيْهِ، وَيُؤَذِّنُ بِذَلِكَ، فَسَمِعَ عُمَرُ صَوْتَهُ، وَهُوَ فِي بَيْتِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَقَامَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، يَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْحَقِّ لَأُرِيتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ». [1: 94]

حضرت عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں :جب نبی اکرم ﷺ نے ناقوس کے بارے میں حکم دیا گیا اسے بچایا جائے تاکہ لوگ نماز کے لیے اکھٹے ہو جائیں تو رات کے وقت جب میں سویا ہوا تھا میرے پاس ایک شخص آیا جس نے دو سبز چادریں پہنی ہوئی تھی ، اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس تھا جو اس نے اٹھایا ہو اتھا ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے بندے: کیا تم اس ناقوس کو فروخت کرو گے اس دریافت کیا : تم اس کا کیا کرو گے ؟ میں نے جواب دیا : میں اس کے ذریعے نماز کی طرف دعوت دوں گا ۔ اس دریافت کیا : میں تماری رہنمائی اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف نہ کروں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں: وہ بولا جب تم اعلان کرنے کا ارادہ کرو تو تم یہ کہو :پھر وہ کچھ پیچھے ہٹا اور بولا : جب تم نماز قائم کرنے لگو (یعنی اقامت کہو ) تو تم یہ کہو۔

أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1679

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2955

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عُودُوَا الْمَرْضَى واتبعوا الجنائز تذكركم الآخرة" 1. [95:1]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بیماروں کی عیادت کر و جنازوں کے ساتھ جاو یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2955

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2956

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةَ حَتَّى يَجْلِسَ فَإِذَا جلس غمر فيها" 1. [2:1]

حضرت جابر بن عبداللہ رض اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے، تو وہ جب تک وہا ں بیٹھا رہے رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے اور جب تک وہ بیٹھا رہے وہ اس میں ڈوبا رہتا ہے۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2956

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2957

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ غُلَامُ طَالُوتَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهَ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حتى يرجع" 1. [2:1]

حضرت ثو بان رضی اللہ عنہہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے، تو و ہ واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔"

النَّبِيِّ ← ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو کَامِلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْبَصْرَةِ غُلَامُ طَالُوتَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2957

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2958

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ زَارَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا عَمْرُو أَتَزُورُ حَسَنًا وَفِي النَّفْسِ مَا فِيهَا؟ قَالَ: نَعَمْ يَا عَلِيُّ لَسْتَ بِرَبِّ قَلْبِي تَصْرِفُهُ حَيْثُ شِئْتَ فَقَالَ عَلِيٌّ: أما أن ذلك لا يمنعني مم أَنْ أُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: "ما من امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا اِلَّا ابْتَعَثَ اللہُ سَبْعِینَ اَلْفَ مَلَکٍ یُصَلُّوْنَ عَلَیْہِ فِیْ اَیِّ سَاعَاتِ النَّھَارِ کَانَ حَتّٰی یُمْسِیَ وَاَیِّ سَاعَاتِ اللَّیْلِ کَانَ حَتّٰی یُصْبِحَ

عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں: عمرو بن حریث، حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہہ کی عیادت کرنے کے لیے گئے ، تو حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہہ نے ان سے فرمایا: اے عمرو! کیا تم حسن سے ملنے کے لیے آئے ہو جب کہ تمہارے ذہن میں کچھ اور ہے، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہہ نے عرض کی: اے حضرت علی رضی اللہ عنہہ جی ہاں (میں حضرت حسن رضی اللہ عنہہ سے ملنے آیا ہوں) آپ پروردگار نہیں ہیں کہ میرے دل کو جیسے چاہیں پھیر دیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: میں صرف تمہیں ایک نصیحت کرنا چاہتا تھا میں نے نبی اکر م ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بھی کوئی مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کرنے کے لیے جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو بھیجتا ہے، جو اس شخص کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں خواہ وہ دن کی کسی بھی گھڑی میں ( عیادت کے لیے جائے) اور وہ فرشتے شام تک ایسا کرتے ہیں اور اگر وہ رات کی کسی بھی گھڑی میں جائے ، تو صبح تک ( دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں) ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ زَارَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2958

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2959

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ فَقَالَ: "لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ" فَقَالَ: كَلَّا بَلْ حِمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُورِدُهُ الْقُبُورَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فنعم إذا" 1. [8:5]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ایک دیہاتی کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، اگر اللہ نے چاہا ، تو یہ طہارت کے حصول کا ذریعہ ہو گا، تو وہ بولا: جی نہیں یہ بخار ہے، جو ایک بوڑھے شخص پر بھڑک رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا دے گا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو پھر ایسا ہی ہو گا۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2959

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2960

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: "اذْهَبُوا بِنَا إِلَيْهِ نَعُودُهُ" فَأَتَوْهُ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عَلَى رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْفَعُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَنْظُرُ إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: انْظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ أَبُو الْقَاسِمِ, فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ محمد رَسُولَ اللَّهِ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الحمد الله الذي أنقذه من نار جهنم" 1. [9:5]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی لڑکا نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہو گیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ میرے ساتھ اس کی عیادت کرنے کے لیے چلو وہ لوگ اس کے پاس آ ئے اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم یہ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میں اس کی وجہ سے قیامت کے دن تمہاری شفاعت کروں گا اس لڑکے نے اپنے باپ کی طرف دیکھنا شروع کیا، تو اس کے باپ نے اس سے کہا: تم اس بات کا جائزہ لو کہ حضرت ابوالقاسم ﷺ تمہیں کیا کہہ رہے ہیں (یعنی ان کی بات مان لو)، تو اس لڑکے نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس نے اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2960

chevron_left Previous
1…171819…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr