Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4251

أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا سُكْنَى لَكِ وَلَا نَفَقَةَ»

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہیں رہائش اور خرچ نہیں ملے گا۔

رَسُولُ اللَّهِ «لَا سُكْنَى لَكِ وَلَا نَفَقَةَ» ← فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ: طَلَّقَنِي زَوْجِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← الشَّعْبِيِّ، ← الْمُغِيرَةِ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4251

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4252

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَمُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَدَاوُدُ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَلْبَتَّةَ، قَالَتْ: «فَخَاصَمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ، فَلَمْ يَجْعَلْ [ص:65] لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ»

امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نبی اکرمﷺ کے فیصلے کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی تھی وہ خاتون بیان کرتی ہیں: رہائش اور خرچ کے بارے میں، میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا، تو نبی اکرمﷺ نے مجھے رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا اور آپﷺ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں ابن ام مکتوم کے ہاں عدت بسر کروں۔

طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَلْبَتَّةَ، ← قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ ← دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا ← الشَّعْبِيِّ، ← سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَمُجَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَدَاوُدُ، كُلُّهُمْ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4252

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4253

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، وَأَمَرَ لَهَا بِنَفَقَةٍ، وَاسْتَقَلَّتْهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ نَحْوَ الْيَمَنِ، فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَ فَاطِمَةَ ثَلَاثًا، فَهَلْ لَهَا نَفَقَةٌ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ وَلَا سُكْنَى»، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا: أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ، فَانْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّكِ إِنْ وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ، وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دے دیں اور انہیں خرچ دینے کی ہدایت کر دی، لیکن اس خاتون نے اس خرچ کو تھوڑا شمار کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کو یمن کی طرف بھیجا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہمراہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرمﷺ اس وقت سیّدہ میمونہ کے گھر میں موجود تھے انہوں نے عرض کی: اب عمروبن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں کیا اسے خرچ ملے گا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسے خرچ اور رہائش نہیں ملے گی پھر نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو یہ پیغام بھجوایا کہ وہ سیّدہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو جائے پھر آپ نے اس خاتون کو پیغام بھجوایا کہ ام شریک کے ہاں مہاجرین اولین آتے جاتے رہتےہیں تم ابن ام مکتوم کے گھر میں منتقل ہو جاؤ، کیونکہ وہاں اگر تم اپنی چادر اتار دوگی ، تووہ تمہیں نہیں دیکھ سکے گا۔ نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو پیغام بھوایا تم اپنی ذات کے حوالے سے مجھ سے آگے نہ نکلنا (یعنی عدت گزرنے کے بعد شادی کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ لے لینا) تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کی شادر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دی۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4253

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4254

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي، وَأَرْسَلَ إِلَيَّ بِخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ، وَخَمْسَةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَقُلْتُ: مَالِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا، وَلَا أَعْتَدُّ فِي مَنْزِلِكُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَتْ: فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «كَمْ طَلَّقَكِ؟ »، قُلْتُ: ثَلَاثَةً، قَالَ: «صَدَقَ، [ص:67] لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، تَلْقِينَ ثَوْبَكِ عِنْدَهُ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي»، قَالَتْ: فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ: مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مُعَاوِيَةَ خَفِيفُ الْحَاذِ وَأَبُو جَهْمٍ فِيهِ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ، - أَوْ يَضْرِبُ النِّسَاءَ، أَوْ نَحْوَ هَذَا - وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ»

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے شوہر ابوعمرو بن حفص نے مجھے طلاق بھجوا دی انہوں نے ”جو“کہ پانچ صاع مجھے بھجوائے اور کھجور کے پانچ صاع بھی بھجوائے میں نے کہا: مجھے صرف یہی خرچ ملے گا؟ میں تمہارے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی انہوں نے کہا: جی نہیں۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے چادر لی اور میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اس نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں میں نے جواب دیا: تین۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر اس شخص نے سچ کہا ہے تمہیں خرچ نہیں ملے گا۔ تم اپنے چچا زاد ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت بسر کرو، کیونکہ وہ نابینا ہیں وہاں تم اپنی چادر اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گزر جائے، تو تم مجھے اطلاع دے دینا۔ سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: متعدد لوگوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ان میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: معاویہ غریب آدمی ہے اور ابوجہم خواتین کے ساتھ سخت رویہ رکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) خواتین کو مارتا ہے یا اس کی مانند کچھ اور الفاظ ہیں، البتہ تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4254

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ النَّفَقَةِ · حديث 4255

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَتْ هِنْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ لِي إِلَّا مَا يُدْخِلُ عَلَيَّ، قَالَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ ہند رضی اللہ عنہا نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی: حضرت ابو سفیان ایک کنجوس آدمی ہے میرے پاس وہی کچھ ہوتا ہے، جو وہ مجھے دیتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اتنا مال حصل کر لو، جو تمہاری اور تمہاری اولاد کی بنیادی ضروریات کے لیے کفایت کر جائے۔

هِنْدٌ لِلنَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Tunnel section · Hadith 4255

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ الْعِيدِ · حديث 3600

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ اَبِیْ عُبَیْدٍ مَوْلٰی ابْنِ اَزْھَرَ ، قَالَ: شَھِدْتُ الْعِیْدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَجَاءَ فَصَلَّی ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : اِنَّ ھٰذَیْنِ یَوْمَانِ نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ صِیَامِھِمَا ، یَوْمُ فِطْرِ کُمْ مِنْ صِیَامِکُمْ ، وَالْاٰخَرُ یَوْمٌ تَاْکُلُونَ فِیْہِ مِنْ نُسُکِکُمْ ، قَالَ اَبُوْ عُبَیْدٍ : ثُمَّ شَھِدْتُ الْعِیْدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَجَاءَ فَصَلَّی انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ ، فَقَالَ : اِنَّہٗ قَدِاجْتَمَعَ لَکُمْ فِیْ یَوْمِکُمْ ھٰذَا عِیْدَانِ ، فَمَنْ اَحَبَّ مِنْ اَھْلِ الْعَالِیَۃِ اَنْ یَّنْتَظِرَ الْجُمُعَۃَ فَلْیَنْتَظِرْھَا ، وَمَنْ اَحَبَّ اَنَّ یَرْجِعَ فَلْیَرْجِعْ ، فَقَدْ اَذِنْتُ لَہٗ ، قَالَ اَبُوْ عُبَیْدٍ : ثُمَّ شَھِدْتُ الْعِیْدَ مَعَ عَلَیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ، وَعُثْمَانُ مَحْضُوْرٌ ، فَجَاءَ فَصَلَّی ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ

ابو عبید جو ابن اظہر کےآزاد کر دہ غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں عید کے موقع پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ کے ہمرا شریک ہوا وہ تشریف لائے انہوں نے نماز ادا کی۔ انہوں نے نماز مکمل کی پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ دو دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے نبی اکرم ﷺ نے منع کیا ہے۔ ایک اس دن جب تم اپنے روزوں کے بعد عید الفطر کرتے ہو اور دوسرا وہ دن جس دن میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔ ابو عبید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہہ کی اقتداء میں بھی عید کی نماز میں شرکت کی، وہ تشریف لائے۔ انہوں نے نماز ادا کی جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: آج کے دن تم لوگوں کی دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں( یعنی آج عید کے دن بھی جمعہ بھی ہے)، تو نواحی علاقوں کے رہنے والے لوگوں میں سے جو شخص جمعہ کا انتظار کرنا چاہے وہ اس کا انتظار کرے اور جو شخص واپس جانا چاہے وہ واپس چلا جائے۔ میں اسے ا جازت دیتا ہوں۔ ابو عبید نامی راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نےحضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہہ کی اقتداء میں نماز عید میں شرکت کی اس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ کو گھر میں محصور کر دیا گیا تھا وہ تشریف لائے انہوں نے نماز ادا کی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی، تو لوگوں کو خطبہ دیا۔

شهدت العيد مع عمر بن الخطاب فجاء فصلى ثم انصرف فخطب الناس ← أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of fasting on the day of Eid · Hadith 3600

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم أيام التشريق · حديث 3601

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أيام منى أيام أكل وشرب" (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَیَّامُ مِنًی اَیَّامُ اَکْلٍ وَّشُرْبٍ ، لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ عَنِ اسْتِعْمَالِ ھٰذَا الْفِعْلِ مُرَادُھَا الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّہِ ، وَھُوَ صَوْمُ اَیَّامِ مِنًی ، فَقَیَّدَ بِالزَّجْرِ عَنْ صَوْمِ ھٰذِہِ الْاَیَّامِ بَلَفْظِ الْاَمْرِ بِالْاَکْلِ وَالشُّرْبِ فِیْھِمَا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " منیٰ کے دن کھانے پینے کے دن ہیں"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" منیٰ کے دن کھانے پینے کے دن ہیں" اس میں لفظی طور پر اس فعل پر عمل کرنے کی اطلاع دی گئی ہے لیکن اس سے مراد اس کے متضاد سے منع کرنا ہے اور وہ متضاد منیٰ کے مخصوص دنوں میں روزہ رکھنا ہے، تو یہاں آپ نے ان ایام میں روزہ رکھنے کی ممانعت کو ان دنوں میں کھانے اور پینے کےحکم کے الفاظ کے ہمراہ مقیر (یعنی بیان) کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting the days of al-Tashreeq · Hadith 3601

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم أيام التشريق · حديث 3602

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الدَّوْرَقِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا : عُمَرُ بْنُ اَبِیْ سَلَمَۃَ ،عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَیَّامُ التَّشْرِیْقِ اَیَّامُ طَعْمٍ وَّذِکْرٍ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَیَّامُ طَعْمٍ ، لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ مُرَادُھَا الزَّجْرُ عَنْ صِیَامِ اَیَّامِ التَشْرِیْقِ ، فَزَجَرَ عَنْ صِیَامِ ھٰذِہِ الْاَیَّامِ بِلَفْثِ اِبَاھَۃِ الْاَکْلِ فِیْھَا ، فَقَالَ : اَیَّامُ طَعْمٍ وَّقَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَذِکْرٍ قَصَدَ بِہِ النَّدْبَ وَالْاِرْشَادَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ایام تشریق کھانے پینے اور ذکر کرنے کے دن ہیں"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتےہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" کھانےکے دن ہیں" یہ لفظی طور پر اطلاع ہے۔ اس سے مراد ایام تشریق میں روزہ رکھے کی ممانعت ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دنوں میں کھانے کے مباح ہونے کے الفاظ کے ذریعے ان ایام میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہےاور یہ ارشاد فرمایا ہے کہ" کھانے کے دن ہیں" اور جبکہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ "ذکر کرنے کے دن ہیں"۔ اس کے ذریعے آپ نے استحباب اور رہنمائی مراد لی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting the days of al-Tashreeq · Hadith 3602

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم أيام التشريق · حديث 3603

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ هُنَّ عِيدُنَا (1) أَهْلَ الْإِسْلَامِ هُنَّ أَيَّامُ أكل وشرب" (2) .

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " عرفہ کا دن اور قربانی کا دن اور ایام تشریق یہ ہماری اہل اسلام کی عید ہے یہ کھانے پینے کےدن ہیں"۔ فصل: عرفہ کےدن روزہ رکھنا

النَّبِيِّ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← سَعْدُ بْنُ يَزِيدَ الْفَرَّاءُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting the days of al-Tashreeq · Hadith 3603

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ · حديث 3604

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبَى بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ، وَلَا أنهى عنه (1) .

عبداللہ بن ابو بحیح اپنے والا کا بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا ہے۔ آپ نے اس دن روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ کے ساتھ حج کیا انہوں نے بھی یہ روزہ نہیں رکھا۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے ساتھ حج کیا ہے۔ انہوں نے بھی یہ روزہ نہیں رکھا۔ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ کے ساتھ حج کیا ہے ۔ انہوں نے بھی یہ روزہ نہیں رکھا، تو میں بھی یہ روزہ نہیں رکھوں گا اور نہ ہی اسے رکھنے کا حکم دوں گا ، البتہ میں اس سے منع بھی نہیں کروں گا۔

حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ فَلَمْ يَصُمْهُ، ← صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ» ← سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عبد الله بن أبي نجيح ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A fasting on the day of Arafah · Hadith 3604

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ · حديث 3605

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتي بِرُمَّانٍ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَكَلَ. قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتي يَوْمَ عَرَفَةَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ مِنْهُ (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عرفہ کے دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں انار پیش کیا گیا ،تو آپ نے اسے کھالیا۔ راوی بیان کرتےہیں: سیّدہ اُمّ فضل رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بات بتائی ہے عرفہ کےدن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا تھا، تو آپ نے اسے پی لیا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A fasting on the day of Arafah · Hadith 3605

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ · حديث 3606

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقال بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ واقف على بعيره فشرب (2) .

سیّدہ اُمّ فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کر تی ہیں: کچھ لوگوں نے ان کی موجود گی میں عرفہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے روزہ رکھنے کے بارے میں اختلاف کیا کچھ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ کچھ کا کہنا تھا نبی اکرم ﷺ نے روزہ نہیں رکھا ہوا، تو سیّدہ اُمّ فضل رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دودھ کا پیالہ بھیجا ۔ آپ اس وقت اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے پی لیا۔

أم الفضل بنت الحارث ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A fasting on the day of Arafah · Hadith 3606

chevron_left Previous
1…151617…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr