Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3792

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ أبو بكر، حدثنا أحمد بن مقدام الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ". قَالَتْ: فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، قَالَ: فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كنا بسرف ذكرت المحيضة دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجِ الْعَامَ، وَذَكَرَتْ مَحِيضَتَهَا. قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَافْعَلِي ما يفعل المسلمين فِي حَجِّهِمْ". قَالَتْ: فَأَطَعْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةَ الصَّدْرِ، أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَخْرَجَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ. قَالَتْ: فَأَهْلَلْتُ منه بعمرة1. [78:1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم ذوالحج کا چاند نظر آنے سے کچھ دن پہلے روانہ ہوئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے حج کا احرام باندھنا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے جس نے عمرے کا احرام باندھنا ہو وہ عمرے کا احرام باندھ لے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا کچھ نے عمرے کا احرام باندھ لیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ جب ہم "سرف" کے مقام پر پہنچے، تو مجھے حیض آ گیا نبی اکر مﷺ میرے پاس تشریف لائے ، تو میں رو رہی تھی۔ میں نے کہا: میری یہ آرزو تھی کہ میں اس سال نہ آئی ہو تی پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حیض کا تذکرہ کیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے بال کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور وہ تمام کام کر لو جو مسلمان حج کے موقع پر کرتے ہیں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی جب واپسی کی رات آئی، تو نبی اکرم ﷺ نے حضر ت عبدالرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو حکم دیا وہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لے کر تنعیم گئے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أحمد بن مقدام العجلي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ أَبُو بَكْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3792

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3793

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْعَدْلُ بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خِيَرَةَ، حدثنا بن أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، قَالَ: "اجْعَلُوهَا عَمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ". قَالَ: فَحَلَلْنَا، وَجَعَلْنَاهَا عَمْرَةً، فَلَمَّا كَانَ غَدَاةَ التَّرْوِيَةِ، صَرَخْنَا بِالْحَجِّ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إلى منى2. [78:1]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے عمرے میں تبدیل کر لو، البتہ جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور موجود ہے (وہ ایسا نہ کرے) راوی کہتے ہیں: تو ہم نے احرام کھول دئیے اور اسے عمرے میں تبدیل کر دیا جب ترویہ کی صبح آئی، تو ہم نے پھر حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا ہم منیٰ کی طرف روانہ ہو گئے۔

اجْعَلُوهَا عُمْرَةً؛ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ". ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خِيَرَةَ2 ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْعَدْلُ بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3793

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3794

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حدثنا سليان بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِلُّ بِالْحَجِّ، فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: "مَنْ شَاءَ أَنْ يجعلها عمرة فليجعلها" 1. [78:1]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کااحرام باندھ کر نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ چار ذوالحج کو مکہ (مکرمہ )پہنچنے آپ نے وادی بطحا میں صبح کی نماز ادا کی جب آپ نے نماز ادا کر لی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اسے عمرہ بنانا چاہے وہ ایسا کرے۔ اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ وہ تین روایات جو ہم ذکر کر چکے ہیں وہ صرف حج کا تلبیہ پڑھنے کے بارے میں ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ایسا کیا تھا، ایسا نہیں ہے کہ تمام صحابہ نےایسا کیا تھا

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو شِهَابٍ، ← سليان بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3794

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3795

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَلَيَالِي الْحَجِّ، وحرم الحج، حتى نزلنا بسرف، قالت: فخرج إلى أصحابه، وقال: "مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ. وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فلا". قالت: فلآخذ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا، مِنْ أَصْحَابِهِ. قَالَتْ: فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَانُوا أَهَلَ قُوَّةٍ، وَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: "مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ؟ " قلت: قد سمعت قولك لأصحابك، فمنعت العمرة، قَالَ: "وَمَا شَأْنُكِ؟ " قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدم كتب الله عليك ما كتب عليهن، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا". قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى، فَطَهَرْتُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى، فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الْآخَرِ حَتَّى نزل المحصب، ونزلنا معه فدعا عبد الرحمن بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ افْرُغَا ثُمَّ ائْتِيَا ها هُنَا، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي". قَالَتْ: فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ، وَفَرَغْتُ مِنَ مِنَ الطَّوَافِ ، ثُمَّ جَئْتُہُ سَحْرًا ، فَقَالَ : ھَلْ فَرَغْتُمْ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ فَآذَنَ بِالرَّحِیلِ فِیْ اَصْحَابِہٖ ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ ، فَمَرَّ بِالْبَیْتِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِہٖ ثُمَّ خَرَجَ فَرَکِبَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّھًا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم حج کے مہینے میں حج کے احرام میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم نے "سرف" کے مقام پر پڑاو کیا ، تو نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرہ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے وہ ایسا کر لے، لیکن جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے اس حکم پر عمل کیا اور کچھ نے اسے ترک کر دیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جہاں تک نبی اکر م ﷺ اور آ پ کے اصحاب میں سے کچھ افراد کا تعلق تھا جو صاحب حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور موجود تھا وہ عمرہ ( میں تبدیل ) نہیں کر سکتے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: اے خاتون تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نےعرض کی : میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ہے، لیکن میں اب عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ تم آدم کی بیٹوں میں سے ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہ چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے تم حج کرتی رہو۔ تمہیں عمرے کا بھی موقع مل جائے گا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ حج کے لئے روانہ ہوئےہم منیٰ آ گئے پھر میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے روانہ ہوئی۔ میں نے طواف افاضہ کیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ آخری روانگی کے وقت میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئی، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے وادی محصب میں پڑاو کیا آپ کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاو کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن ابو بکر کو بلوایا آپ نے فرمایا: اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاو اور اسے عمرہ کروا لاو پھر تم دونوں فارغ ہو کے فلاں مقام پر آ جانا میں تم دونوں کے آنے کا انتظار کروں گا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں اس کام کے لئے روانہ ہوئی۔ پھر میں اس سے فارغ ہو ئی پھر میں طواف سے فارغ ہوئی۔ پھر سحری کے وقت وہاں آئی، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ فارغ ہو گئے ہو میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو روانگی کا حکم دیا۔ لوگوں نے روانگی کی تیار ی کی۔ نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز سے پہلے خانہ کعبہ کے پاس گزرے آپ نے اس کا طواف کیا۔پھر آپ وہاں سے باہر نکلے اور سوار ہو گئے۔ پھر آپ مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے روانہ ہو گئے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3795

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3796

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن بكر، حدثنا بن جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حج کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرماتے ہیں: ہم نے حج تمتع کی نیت کی تھی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم منیٰ کی طرف جانے کا ارادہ کرو گے، تو پھر احرام باندھ لینا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: تو ہم نے بطحا سے احرام باندھا تھا۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3796

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3797

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عن كريب مولى بْنُ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ، فَقِيلَ لَهَا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ كَانَ مَعَهَا، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قال: "نعم ولك أجر" 1. [36:4]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا اس خاتون کو بتایا گیا: یہ اللہ کے رسول ہیں، تو اس خاتون نے اپنے بچے جو اس کے ہمرا تھا، کا بازو پکڑا ۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا حج ہوا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں اور تمہیں بھی (اس کا ) اجر ملے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كريب مولى بْنُ عَبَّاسٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3797

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3798

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي بَطْنِ الرَّوْحَاءِ إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقَالَ: "نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ"، ثُمَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: "أَنَا رَسُولُ اللَّهِ" فَأَخْرَجَتْ صَبِيًّا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حج؟ فقال: "ولك أجر" 1. [36:4]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ "روحا " کے نشیبی علاقے سے گزر رہے تھے سامنے سے کچھ لوگ آئے ف میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: آپ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم مسلمان ہیں۔ پھر ایک خاتون نے دریافت کیا: آپ کون ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس خاتو ن نے اپنے بچے کو نکالا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا حج ہو گیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( جی ہاں) اور تمہیں بھی اجر ملے گا۔

رَسُولُ اللَّهِ" فَأَخْرَجَتْ صَبِيًّا، ← امْرَأَةٌ: مَنْ أَنْتَ؟ ← "نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ"، ثُمَّ ← رَجُلٌ مِنْهُمْ: مَنْ أَنْتُمْ؟ ← بَيْنَمَا النَّبِيُّ يَمْشِي فِي بَطْنِ الرَّوْحَاءِ إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3798

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1848

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ - وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَلَاۃَ الصُّبْحِ ، فَثَقُلَتْ عَلَیْہِ الْقِرَاءَۃُ ، فَلَمَّا انصرف قال إنی لأراکم تقرؤون وَرَاءَ اِمَامِکُمْ ؟ قَالَ: قُلْنَا: اَجَلْ وَاللہِ رَسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھٰذا ، قال: فلا تفعلوا إلا بِاُمِّ الْکِتَابِ ، فَاِنَّہٗ لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَاْ بِھَا۔(78:2)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ کیلئے قرات کرنا دشوار ہوا جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا: میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو۔ راوی بیان کرتا ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! ہم تیزی سے تلاوت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو۔ صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ ایسے شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس کی تلاوت نہیں کرتا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان " تم ایسا نہ کرو" یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، اس ے مراد ابتدائی طور پر ازسر نو کوئی حکم دینا ہے، کیونکہ عرب اپنے محاورے میں جب تاکید کے طور پر کسی چیز کا حکم دینے کا ارادہ کرتے ہیں، تو پہلے ممانعت کے الفاظ ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ حکم ہوتا ہے جو وہ مراد لیتے ہیں۔

«فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا». ← قُلْنَا: اَجَلْ وَاللہِ رَسول اللہ ھٰذا ← "إني لأراكم تقرؤون وَرَاءَ إِمَامِكُمْ". ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ- وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَاءَ- ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1848

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1849

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عن ابن شهاب، عن بن أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: "هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا"؟ فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ"؟ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِینَ سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔(21:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو پڑھ کر فارغ ہوئے جن میں آپ نے بلند آواز میں قرات کی تھی۔ پھر آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم میں سے کسی نے ابھی تلاوت کی ہے۔ ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کیا وجہ ہے، قرآن ( کی تلاوت) کے حوالے سے مجھ سے مقابلہ کیا جا رہا ہے" پھر لوگ ان نمازوں میں قرات کرنے سے رک گئے جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے۔ اس وقت جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابن اکیمہ کا نام عمروبن مسلم بن عمار بن اکیمہ ہے، یہ دو بھائی ہیں: عمر و بن مسلم اور عمر بن مسلم، جہاں تک عمر و بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تابعی ہیں، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع کیا ہے اور زہری نے ان سے سماع کیا ہے۔ جہاں تک عمر بن مسلم کا تعلق ہے تو وہ تبع تابعی ہیں۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے سماع کیا ہے اور ان سے امام مالک اور محمد بن عمرو نے روایات نقل کی ہیں۔ یہ دونوں "ثقہ" ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1849

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1850

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي [مَعْشَرٍ] شَيْخٌ بِكُفْرِ تُوثَا3، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرسعني4، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ ، عَنِ الْاَوْزَاعِیِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّھْرِیِّ ، عَنْ سَعِیْدَ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَال : صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَلَاۃَ ، فَجَھَرَ فِیْھَا ، فَقَرَاَ اُنَاسٌ مَعَہُ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ قَرَاَ مِنْکُمْ اَحَدٌ ؟ قَالُوْا: نَعَمْ ، یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اِنِّیْ لَاَقُوْلُ مَالِیْ اُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ: فَاتَّعَظَ المسلمون بذلک ، فلم یکونوا یقرؤون۔(21:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی اس میں بلند آواز میں قرات کی۔ کچھ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں تلاوت کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا کہ کیا تم میں سے کسی ایک نے تلاوت کی ہے، تو لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور (اس کے بعد لوگ آپ کی اقتداء میں) تلاوت نہیں کرتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ الرَّسْعَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يُونُسَ بْنِ أَبِي شَيْخٌ بِكُفْرِ تُوثَا3، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1850

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1851

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: "صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: "هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا"؟ قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أنازع القرآن" 1. قال الزهري: فانتهى المسلون، فلم يكونوا يقرؤون معه. [1: 21] قال أبو حاتم رضي الله تعالى عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ مَشْهُورٌ لِلزُّهْرِيِّ، مِنْ رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَهِمَ فِيهِ الْأَوْزَاعِيُّ -إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ- فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَعَلِمَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ وَهِمَ، فَقَالَ: عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعِيدًا. وَأَمَّا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ؛ أَرَادَ بِهِ رَفْعَ الصَّوْتِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اتِّبَاعًا مِّنْھُمْ لِزَجْرِہٖ ، صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ وَالْاِمَامُ یَجْھَرُ بِالْقِرَاءَۃِ فِیْ قَوْلِہِ: مَالِیْ أنازع القرآن۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ آپ نے بلند آواز میں قرات کی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے دریافت کیا کہ ابھی تم میں سے کسی ایک نے میرے ساتھ تلاوت کی ہے؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ زہری بیان کرتے ہیں: مسلمان اس سے باز آگئے اور وہ لوگ آپ کی اقتداء میں تلاوت نہیں کیا کرتے تھے۔ امام ابو حاتم بیان کرتے ہیں: یہ روایت زہری سے منقول ہونے کے حوالے سے مشہور ہے جو ان کے اصحاب نے ابن اکیمہ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی ہے، اس میں امام اوزاعی کو وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ انہون نے یہ کہا یہ زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب سے منقول ہے۔ ولید بن مسلم یہ بات جانتے تھے کہ انہیں وہم ہوا ہے، اس لئے انہوں نے یہ کہا: یہ اس شخص کے حوالے سے منقول ہے جس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسے سنا ہے۔ انہوں نے سعید کا تذکرہ نہیں کیا۔ جہاں تک زہری کے اس قول کا تعلق ہے لوگ قرات کرنے سے باز آگئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی پیروی کرتے ہوئے آپ کے پیچھے بلند آواز میں تلاوت نہیں کی۔ امام جب بلند آواز میں قرات کر رہا ہو، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہے: " کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ تنازعہ کیا جا رہا ہے"۔

نَعَمْ ← "هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا"؟ ← "صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةً، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مَنْ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1851

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1852

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَرَحُ بْنُ رَوَاحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى بأصحابه، فلما قضى صلاته، أقبل علهيم بوجهه، فقال: "أتقرؤون فِي صَلَاتِكُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ"؟ فَسَكَتُوا، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ قَائِلٌ أَوْ قَائِلُونَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ، قَالَ: "فَلَا تَفْعَلُوا، وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ" 1. [1: 21] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رضي الله تعالى عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رسول الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعَہُ مِنْ اَنَسِ بن مالک ، فالطریقان جمیعا محفوظان۔

کیا وجہ ہے قرآن میں میرے ساتھ تنازعہ کیا جا رہا ہے" اس سے مراد آواز بلند کرنا ہے، آپ کے پیچھے قرات کرنا (مراد) نہیں ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی۔ جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور دریافت کی: کیا تم لوگ اپنی نماز میں امام کے پیچھے تلاوت کرتے ہو جبکہ امام قرات کر رہا وہ؟ تو لوگ خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو ایک صاحب نے عرض کی: یا شاید لوگوں نے جی ہاں ہم ایسا کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو تم میں سے ہر شخص دل میں سورۃ فاتحہ پڑھ لے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو قلابہ نے یہ روایت محمد بن ابو عائشہ سے سنی ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے منقول ہے، انہوں نے یہ روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی سنی ہے، تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← فَرَحُ بْنُ رَوَاحَةَ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1852

chevron_left Previous
1…114115116…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr