Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 536

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عن سمي عن أبي صالحذكر رَجَاءِ الْغُفْرَانِ لِمَنْ نَحَّى الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ [536] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیْقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیْقِ فَاَخَذَہُ فَشَکَرَ اللہُ لَہٗ فَغَفَرَ لَہٗ

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ایک شخص ایک مرتبہ راستے میں جا رہاتھا اسے راستے میں کانٹوں کی ایک شاخ نظر آئی اس نے اسےلیا ( اور ایک طرف کر دیا) ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی ‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : ) اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلندو برتر ہے کہ وہ اپنے بندے کا شکر ادا کرے‘ کیونکہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ بھلائی کر کے ان کے ساتھ آغاز کرتاہے ‘ اور پھر اسے ان پر مکمل کر کے ان پر فضل کرتا ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے عمل سے راضی ہو جانا ‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شکر شمار ہو گا‘ جو بندے کے اس فعل پر ہو گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، ← طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ ← أبي صالحذكر رَجَاءِ الْغُفْرَانِ لِمَنْ نَحَّى الْأَذَى ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A chapter of righteousness and kindness · Hadith 536

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 537

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ" 1. [3: 6]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ایک مرتبہ ایک شخص ایک راستے سے جا رہا تھا اسے راستے میں کانٹوں کی ٹہنی ملی۔ اس نے اسے پرے کر دیا‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو قبول کیا اور اس کی مغفرت کر دی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A chapter of righteousness and kindness · Hadith 537

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3116

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ بِفَمِ الصِّلْحِ قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الْأُبُلِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا دَخَلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَيَقُولُ دَعُونِي أُصَلِّي" 1. [71:3]

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب میت قبر میں داخل ہوتی ہے، تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے سورج غروب ہو نے کے قریب ہے تو وہ یہ کہتا ہے : مجھے نماز پڑھ لینے دو۔"

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الْأُبُلِّيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ بِفَمِ الصِّلْحِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3116

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3117

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا قُبِرَ أَحَدُكُمْ أَوِ الْإِنْسَانُ أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا: الْمُنْكَرُ وَالْآخَرُ: النَّكِيرُ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ؟ فَهُوَ قَائِلٌ مَا كَانَ يَقُولُ: فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ محمد عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولَانِ لَهُ: إِنْ كُنَّا لِنَعْلَمُ إنك لتقول ذلك ثم يفسخ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ فَيَنَامُ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ. وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا قَالَ: لَا أَدْرِي كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَكُنْتُ أَقُولُهُ فَيَقُولَانِ لَهُ: إِنْ كُنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ ثُمَّ يُقَالُ لِلْأَرْضِ: الْتَئِمِي عَلَيْهِ فَتَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهَا أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ مُعَذَّبًا حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذلك" 1. قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ خَبَرُ الْاَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْھَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، سَمِعَہُ الْاَعْمَشُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ ، عَنِ الْمِنْھَالِ بْنِ عَمْرٍو ، وَزَاذَانُ لَمْ یَسْمَعْہُ مِنَ الْبَرَاءِ فَلِذٰلِکَ لَمْ اُخَرِّجْہُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب تم میں سے کسی ایک کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) انسان کو قبر میں (دفنا دیا جاتا ہے)، تو دو سیاہ اور زرد رنگ کے فرشتے آتے ہیں ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرےکو نکیر کہا جاتا ہے وہ دونوں اس (مردے) کو یہ کہتے ہیں: تم ان صاحب حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتے ہو، تو وہ وہی کہتا ہے، جو (دنیا میں) کہا کرتاتھا اگر وہ مومن ہو، تو یہ کہتا ہے یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ ہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اوربے شک حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ﷺ ہیں، تو وہ دونوں فرشتے اس سے کہتے ہیں: ہمیں پتہ تھا تم یہی کہو گے، پھر وہ اس کے لیے اس کی قبر کو ستر ضرب ستر بالشت تک کشادہ کر دیتے ہیں اور اس کے لیے قبر کو روشن کر دیتے ہیں اور اس سے کہا جاتا ہے: تم سو جاو ، تو وہ یو ں سو جاتا ہے ، جس طرح دلہن سوتی ہے، جسے صرف وہی بیدار کرتا ہے، جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو یعنی اس کا شوہر،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ(قیامت کے دن) اس کے اس بستر سے اسے اٹھائے گا اور اگر وہ منافق ہو، تو وہ یہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم میں لوگوں کو کوئی بات کہتے ہوئے سنتا تھا، تو وہی بات کہہ دیتا تھا ، تو فرشتے اسے کہتے ہیں: ہمیں پتہ تھا تم یہی کہو گے: پھر زمین سے کہا جاتا ہے: اسے دبوچ لو ، تو وہ اسے یوں دبو چتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں اور اس شخص کو مسلسل عذاب ہو تا رہے گا، یہاں تکہ کہ اللہ اسے ا س کی قبر سے اٹھائے گا۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں:) اعمش نے منہال بن عمرو کے حوالے سے زاذان کے حوالے سے حضرت براء رضی اللہ عنہہ سے جو روایت نقل کی ہے اعمش نے وہ روایت حسن کے حوالے سےعمارہ کے حوالے سے منہال بن عمرو اور ذاذان کے حوالے سے نقل کی ہے لیکن انہوں نے یہ روایت حضرت براء رضی اللہ عنہہ سے نہیں سنی ہے۔ اسی لیے میں نے اس روایت کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3117

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3118

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أن الْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ" 2. [71:3]

): حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بے شک میت لوگوں کے قدموں کی چاپ بھی سنتی ہے جب وہ لوگ واپس جاتے ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3118

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3119

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فِیْ قَوْلِہٖ جَلَّ وَعَلَا ( فَاِنَّ لَہٗ مَعِیشَۃً ضَنْکًا) (طہ:124)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ایک فرمان کے بارے میں فرمایا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) " تو اس کے لیے تنگ زندگی ہو جاتی ہے۔" نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد قبر کا عذاب ہے۔

النَّبِیِّ فِیْ قَوْلِہٖ جَلَّ وَعَلَا فَاِنَّ لَہٗ مَعِیشَۃً ضَنْکًا) (طہ:124) ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3119

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3120

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ1 عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّوْا عَنْهُ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فِي مُحَمَّدٍ- فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ" - قَالَ قَتَادَةُ: وَذُكِرَ لَنَا: أَنَّهُ2 يَفْسَخُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يَبْعَثُونَ- ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: "وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَاقٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ عَلَيْهَا غير الثقلين" 3. [71:3]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اس بٹھاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ یعنی حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ پو چھتے ہیں اگر وہ مومن ہو، تو یہ کہتا ہے میں اس بات کی گوہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ ہیں، تو اس سے کہا جاتا ہے، اپنے جہنم کے ٹھکانے کو دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ تمہیں جنت کا ٹھکانہ عطا کر دیا ہے۔" قتا دہ نامی راوی نے یہ بات ذکر کی ہے ہمارے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ اس شخص کے لیے قبر کو ستر بالشت تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قیامت کے دن تک سبزہ بھر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد قتادہ واپس حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ کی حدیث کی طرف آئے، جس میں یہ الفاظ ہیں (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا) " جہاں تک کافر اور منافق کا تعلق ہے، تو اس سے یہ کہا جاتا ہے تم ان صاحب کے بارے میں کیا کہتے ہو، تو وہ جواب دیتا ہے مجھے نہیں معلوم میں وہی بات کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو تم نے علم حاصل کیا اور نہ ہی (قرآن کی ) تلاوت کی پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے سے بناہوا گرز مارا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ چیخ مارتا ہے، جسے انسانوں اور جنات کے علاوہ زمیں پر موجود ہر چیز سنتی ہے۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3120

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3121

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَنْهَشُهُ وَتَلْدَغُهُ حَتّٰی تَقُومَ السَّاعَۃُ، فَلَوْ اَنَّ تِنِّینًا مِنْھَا نَفَخَتْ فِی الْاَرْجِ مَا اَنْبَتَتْ خَضِرًا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " کافر پر اس کی قبر میں ننانوے اژدھے مسلط کئے جاتے ہیں جو اسے کاٹتے ہیں اور ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا اگر ان میں سے کوئی ایک اژ دہا زمین پر پھونک مار دے ، تو زمین سبزہ پیدا نہ کرے۔"

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبَا الْهَيْثَمِ ← دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3121

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3122

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أبا السمح حدثه عن بن حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْمُؤْمِنَ فِي قَبْرِهِ لَفِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ وَيُرْحَبُ لَهُ قَبْرُهُ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ أَتَدْرُونَ فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} أَتَدْرُونَ مَا الْمَعِيشَةُ الضَّنْكَةُ؟ " قَالُوْا اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ قَال : عَذَابُ الْکَافِرِ فِیْ قَبْرِہِ ، وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ ، اِنَّہٗ یُسَلَّطَ عَلَیْہِ تسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ تِنِّینًا ، اَتَدْرُوْنَ مَا التِّنِّینُ ؟ سَبْعُونَ حَیَّۃً ، لِکُلِّ حَیَّۃٍ سَبْعُ رُءُوسٍ کِلْسَعُونَہٗ ، وَیَخْدِشُونَہٗ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مومن کی قبر ایک سر سبز باغ ہوتی ہے اس کے لیے قبر کو ستر گز تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قبر کو یوں روشن کر دیا جاتا ہے، جس طرح چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے کیاتم لوگ یہ بات جانتے ہو یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے " بے شک اس کے لیے تنگ زندگی ہو گی اور ہم قیامت کے دن اسے نابینا حالت میں زندہ کریں گے۔" کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو تنگ زند گی سے کیا مراد ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسولﷺ زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد قبر میں کافر کو دیا جانے والا عذاب ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس پر ننانوے اژدھے مسلط کئے جائیں گے کیا تم جانتے ہو ، ابن میں سے ایک اژدھا کیا ہو گا۔ وہ ستر سانپوں جتنا ہو گا جن میں سے ہر ایک سانپ کے سات سر ہوں گے جس کے ذریعے وہ اسے کاٹیں گے اور نوچیں گے اور ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3122

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3123

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ1 عَنْ عَمْرَةَ بنت عبد الرحمن اَنَّھَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ ، وَذُکِرَ لَھَا اَنَّ عَبْدَاللہِ ، یَقُوْلُ : اِنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبْ بِبُکَاءِ الْحَیِّ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : یَغْفِرُ اللہُ لِاَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَمَا اِنَّہٗ یَکْذِبْ وَلٰکِنَّہٗ نَسِیَ اَوْ اَخْطَا ، اِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی یَھُودِیَّۃٍ تُبْکَی عَلَیْھَا ، فَقَالَ: اِنَّھُمْ یَبْکُوْنَ عَلَیْھَا وَاِنَّھَا لَتُعَذَّبُ فِیْ قَبْرِھَا

عمرہ بنت عبدالرحمٰن بیان کرتی ہیں: انہوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ یہ کہتے ہیں: میت کو زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمٰن (یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کی مغفرت کرے انہوں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو ئی ہے ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے تھے جس پر رویا جا رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ اس عورت پر رو رہے ہیں اور اس عورت کو اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔

إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، ← لَھَا اَنَّ عَبْدَاللہِ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3123

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3124

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عازب عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا حِینَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : ھٰذِہِ اَصْوَاتُ الْیَھُودِ تُعَذَّبُ فِیْ قُبُوْرِھَا

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے سورج غروب ہونے کے وقت ایک آواز سنی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ یہودیوں کی آواز ہے جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ اس بات کی اطلاع کاتذکرہ کہ لوگوں میں سے جس شخص کو قبر میں عذاب دیا جا تا ہے تو جانور اس کی آواز کو سنتے ہیں

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3124

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3791

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بن جريج، أخبرني عطاء عن جابر ابن عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَیْسَ مَعَہُ شَیْءٌ غَیْرُہُ ، فَقَدِمْنَا مَکَّۃَ صُبْحَ رَابِعَۃٍ مَضَتْ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ ، فَاَمَرَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ نَحِلَّ ، قَالَ : اَحِلُّوْا وَاجْعَلُوھَا عَمْرَۃً ، فَبَلَغَہُ عَنَّا اَنَا نَقُوْلُ : لَمَّا لَمْ یَکُنْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ عَرَفَۃَ اِلَّا خَمْسًا اَمَرَنَا اَنْ نَحِلَّ ، نَرُوحُ اِلَی مِنًی ، وَمَذَاکِیرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِیِّ ، فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطِیبًا ،فَقَالَ : قَدْ بَلَغَنِی الَّذِی قُلْتُمْ ، وَاِنِّیْ لَاَبَرُّکُمْ وَاَتْقَاکُمْ ، وَلَوْلَا الْھَدْیُ لَحَلَلْتُ ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ اَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا اَھْدَیْتُ ، قَالَ : وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِّنْ الْیَمَنِ ، فَقَالَ بِمَ اَھْلَلْتَ ؟ ، قَالَ بِمَا اَھَلَ بِہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَاھْدِ ، وَامْکُتْ حَرَامًا کَمَا اَنْتَ ، قَالَ : وَقَالَ لَہُ سُرَقَۃُ ، یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُمْرَتْنَا ھٰذِہِ لِعَامِنَا اَمْ لِلْاَبَدِ قَالَ : فَقَالَ بَلْ لِلْاَبَدِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم نے یعنی نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اس کے ہمراہ اور کوئی چیز نہیں تھی۔ ہم ذوالحج کی چار تاریخ کی صبح مکہ پہنچ گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ احرام کھول دو اسے عمرے میں تبدیل کر لو۔ پھر آپ کو ہمارے بارے میں یہ پتہ چلا کہ ہم یہ کہتے ہیں: ا ب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں ، اور نبی اکرم ﷺ ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے رہے ہیں کیا ہم ایسی حالت میں منیٰ کی طرف جائیں گے کہ ہماری شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو گی، تو نبی اکرم ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے جو بات کہی ہے وہ مجھ تک پہنچ گئی ہے۔ میں تم سب سے زیادہ نیکوکار اور پرہیز گار ہوں۔ اگر میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لایا ہو تا اور مجھے بعد میں جو خیال آیا ہے، اگر وہ پہلے آ جاتا ، تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا (اور میں بھی احرام کھول دیتا ) راوی بیان کرتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہہ یمن سے آئے، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم نے کیا نیت کی ہے؟ انہوں نے بتایا: وہی نیت کی ہے، جو احرام نبی اکرم ﷺ نے باندھا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم قربانی کا جانور ساتھ لائے ہو تم احرام باندھے رہو، جس طرح ہو۔ راوی کہتے ہیں: حضرت سرا قہ رضی اللہ عنہہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! (حج کے احرام کو ) عمرے میں تبدیل کرنے کا یہ حکم اس سال کے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔

جَابِرِ ابن عَبْدِ اللَّهِ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3791

chevron_left Previous
1…113114115…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr