Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 521

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ مُوسَى الْهُجَيْمِيِّ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جابر الْهُجَيْمِيِّ [عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الهُجَيْمي] 1قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٌ فِي بُرْدَةٍ لَهُ وَإِنَّ هُدْبَهَا لَعَلَى قَدَمَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ "عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَقِي وَتُكَلِّمَ أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَلَا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَإِنِ امْرُؤٌ عَيَّرَكَ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِشَيْءٍ تَعْلَمُهُ مِنْهُ دَعْهُ يَكُونُ وَبَالُهُ عَلَيْهِ وَأَجْرُهُ لَكَ وَلَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ دَابَّةً ولا إنسانا 2 ".

حضرت سلیم بن جابر ہجیمی ؓ بیان کرتے ہیں :میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ اس وقت اپنی چادر کو احتباء کے طور پر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کا پلو آپ کے پاؤں پر تھا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو ( خواہ وہ نیکی یہ ہو ) کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں انڈیل دو‘ یا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو اور تم تہبند لٹکانے سے بچو ‘ کیونکہ یہ تکبر کی علامات میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی خامی کے حوالے سے عارد لائے جس کے بارے میں اسے یہ علم ہو کہ یہ خامی تمہارے اندر موجود ہے ‘ تو تم اسے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عارنہ دلاؤ جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ چیز اس میں ہے ‘ تو وہ جو کرتا ہے تم اسے کرنے دو ‘ اس کا وبال اس کے ذمے ہو گا اور تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا اور تم کسی کو برا ہرگز نہ کہنا‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد میں نے کبھی کسی جانور یا انسان کو برا نہیں کہا۔ ( امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’تم پر اللہ تعالیٰ سے ڈرنا لازم ہے ‘‘۔ یہ ایک ایسا حکم ہے ‘ جو تمام مخاطب لوگوں پر فرض ہے کہ وہ تمام حالتوں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں‘ جبکہ اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے شخص کے ڈول میں پانی انڈیل دینا یا اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرتے وقت اسے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ایسے فعل ہیں‘ جن کا حکم دینے کا مقصد استحباب ہے ‘ اور مقصد ثواب کا حصول ہے۔

سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ← سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ← قُرَّةُ بْنُ مُوسَى الْهُجَيْمِيُّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ، بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A chapter of righteousness and kindness · Hadith 521

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2441

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي سَبْعَ رَكَعَاتٍ، وَلَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ السَّادِسَةِ، فَيَجْلِسُ وَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَدْعُو» (1) . [5: 34]

سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں: سیّدہ عائشہؓ سے نبی اکرمﷺ کے وتر کی نماز کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کرکے رکھتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا آپ رات کے وقت اٹھ جاتے تھے۔ آپ مسواک کرتے تھے‘ وضو کرتے تھے۔ پھر سات رکعات ادا کرتے تھے۔ آپ ان کے درمیان صرف چھٹی رکعات کے بعد بیٹھتے تھے۔ آپ بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اور دعا مانگتے تھے۔

وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2441

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2442

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوْتَرَ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَاهُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ» (1) . [5: 34]

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب نو رکعات وتر ادا کرتے تھے‘ تو آپ صرف آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھتے تھے‘ پھر آپ اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرتے تھے اس کا ذکر کرتے تھے اس سے دعا مانگتے تھے‘ پھر آپ بلند آواز میں سلام پھیرتے تھے اس کے بعد آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2442

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2443

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: «كُلُّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُهُ وَأَوْسَطُهُ، فَانْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ إِلَى السَّحَرِ» (2) . [5: 34]

سروق بیان کرتے ہیں: میں نے عائشہؓ سےنبی اکرمﷺ کے وتر کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرمﷺ رات کے ہر حصے میں‘ ابتدائی میں بھی درمیانی میں بھی ‘ وتر ادا کر لیتے تھے جب آپ کا وصال ہوا‘ تو آپ کے وتر ادا کرنے کا آخری وقت صبح صادق سے کچھ پہلے تک تھا۔

وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2443

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2444

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ (1) أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَتَى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: «إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ يَعْنِي الدِّيكَ، وَكَانَ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ (2) . [5: 47]

مسروق بیان کرتے ہیں: میں نے سیّدہ عائشہؓ سے سوال کیا نبی اکرمﷺ وتر کب ادا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب آپ مرغٖ کی آواز سنتے تھے۔ آپ کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا جو باقاعدگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔

الصَّارِخَ يَعْنِي الدِّيكَ، وَكَانَ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ← «إِذَا ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَتَى كَانَ النَّبِيُّ يُوتِرُ؟ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2444

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2445

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ» (1) . «تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَهُ الشَّيْخُ» . [1: 78]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ صبح صادق ہونے سے پہلے ہی وتر ادا کر لو‘‘ اس روایت کو نقل کرنے میں ابن ابو زائدہ نامی منفرد ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2445

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2446

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «مَتَى تُوتِرُ؟» قَالَ: أُوتِرُ ثُمَّ أَنَامُ، قَالَ: «بِالْحَزْمِ أَخَذْتَ» ، وَسَأَلَ عُمَرَ: «مَتَى تُوتِرُ؟» قَالَ: أَنَامُ، ثُمَّ أَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَوْتِرُ، قَالَ: «فِعْلَ الْقَوِيِّ أَخَذْتَ» (1) . [4: 38]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے دریافت کیا: تم وتر کب ادا کرتے ہو۔ انہوں نے عرض کی: میں وتر ادا کرتا ہوں اور پھر سو جاتا ہوں ( یعنی سونے سے پہلے ادا کرتا ہوں ) تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے احتیاطی طریقے کو اپنایا ہے‘ پھر آپ نے حضرت عمرؓ سے دریافت کیا: تم وتر کب ادا کرتے ہو انہوں نے عرض کی: میں سو جاتا ہوں پھر بیدار ہو کر وتر ادا کر لیتا ہوں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے قومی شخص کے طریقے کو اختیار کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَأَبُو يَعْلَى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2446

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2447

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَكَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: «رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ» ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: «رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ» ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكَانَ يَجْهَرُ بِصَلَاتِهِ أَمْ يُخَافِتُ بِهَا؟ قَالَتْ: «رُبَّمَا جَهَرَ بِصَلَاتِهِ، وَرُبَّمَا خَافَتَ بِهَا» ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً (1) . [4: 1]

غضیف بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے عائشہؓ سے کہا: اے ام المومنین آپ کیا کہتی ہیں؟ نبی اکرمﷺ وتر کی نماز رات کے ابتدائی حصے میں ادا کرتے تھے یا آخری حصے میں ادا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: بعض اوقات آپ وتر رات کے ابتدائی حصے میں ادا کر لیتے تھے اور بعض اوقات آخری حصے میں ادا کرتے تھے۔ میں نے کہا: اللہ اکبر‘ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کےلئے مخصوص ہے‘ جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔ میں نے دریافت کیا: اے ام المومنین! آپ کیا کہتی ہیں۔ نبی اکرمﷺ غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کرتے تھے یا آخری حصے میں کرتے تھے۔ سیّدہ عائشہؓ نے فرمایا: بعض اوقات آپ بلند آواز میں قرأت کرتے تھے یا پست آواز میں قرأت کرتے تھے۔میں نے کہا: اللہ اکبر! ہر طرح کی حمدوثنا اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے‘ جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔

غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← بُرْدٍ أَبِي الْعَلاَءِ ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2447

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2448

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ الْأَصْبَغِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الْوِتْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِـ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ، وَفِي الثَّالِثَةِ بِـ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ، وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} ، وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} » (1) . [5: 34]

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الکفرون کی اور تیسری رکعت میں سورۃ اخلاص سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مَيْمُونُ بْنُ الْأَصْبَغِ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2448

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2449

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، [ص:202] عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: زَارَنِي أَبِي يَوْمًا فِي رَمَضَانَ، فَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ، فَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ». [2: 81]

قیس بن طلق بیان کرتے ہیں: ایک دن میرے والد رمضان کےمہینے میں مجھ سے ملنے لے لئے آئے وہ شام تک ہمارے ہاں رہے۔ انہوں نے افطاری کی پھر اس رات انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی تو وتر بھی ادا کر لئے پھر وہ مسجد تشریف لے گئے وہاں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی نماز پڑھائی۔ پھر انہوں نے ایک شخص کو آگے کیا‘ اور بولے: تم اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھا دو کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ایک ہی رات میں دو مرتبہ وتر ادا نہیں کیے جاتے۔

لاَ وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ. ← أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي ← زَارَنِي أَبِي يَوْمًا ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2449

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3774

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ لَهَا: "حُجِّي وَاشْتَرِطِي أن محلي حيث حبستني" 1. [21:1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ سیّدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے وہ بیمار تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سےفرمایا: تم ( حج کا احرام باندھ لو) اور یہ شرط عائد کر و کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی وہاں احرام کھول دونگی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3774

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3775

أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا بن جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عن بن عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ وَهِيَ شَاكِيَةٌ فَقَالَتْ: إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ لَهَا: "حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّيَ حَيْثُ حَبَسْتَنِي" 1. [78:1]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سیّدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے وہ بیمار تھیں۔ انہوں نے عرض کی: میں حج کرنا چاہتی ہوں اور میں بیمار ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم حج (کا احرام باندھ لو) اور یہ شرط عائد کرو کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی وہاں احرام کھول دوں گی۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ طَاوُسًا ← بن جُرَيْجٍ ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3775

chevron_left Previous
1…104105106…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr