صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1145
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُتِيَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَبَسَطَتْ لَهُ عِنْدَ صَوْرٍ، وَرَشَّتْ حَوْلَهُ، وَذَبَحَتْ شَاةً فَصَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا، فَأَكَلَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْنَا مَعَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّى، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ فَضَلَتْ عِنْدَنَا مِنْ شَاتِنَا فَضْلَةٌ، فَهَلْ لَكَ فِي الْعَشَاءِ؟ قَالَ: "نَعَمْ". فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّى العصر ولم يتوضأ2. 20:5
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک انصاری خاتون کے ہاں تشریف لے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس نے کھجوروں کے ایک جھنڈ کے سائے کے قریب آپ کے لئے دستر خوان بچھایااور اس کے ارد گرد پانی چھڑک دیا ۔ اس نے ایک بکری ذبح کی تھی نبی اکرم ﷺ نے اس وا گوشت کھایا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھایا پھر نبی اکرم ﷺ نے کھجوروں کے جھنڈ کے نیچے قیلولہ کیا پھر آپ بیدار ہوئے ، تو آپ نے وضو کیا اور ظہر کی نماز ادا کی ۔اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس کھانے میں سے کچھ بچا ہوا ہے، تو کیا آپ اسے مزید کھانا پسند کریں گے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ، تو آپ نے اسے کھایا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی کھایاپھر آپ نے از سر نو وضو کئے بغیر نماز ادا کی ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1145
