Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1803

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِّ الصِّلْحِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرَقُّفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا لَمْ يَكُونُوا يَجْهَرُونَ بـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ، وَكَانُوا يَجْهَرُونَ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} 1. [5: 34]

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند آواز میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں پڑھتے۔ یہ حضرات بلند آواز میں الحمد للہ رب العالمین پڑھتے تھے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرَقُّفِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1803

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1804

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} ، فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ وَالْإِمَامَ يَقُولُ: آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنُہُ تَاْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تقدم من ذنبہ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: "جب امام غیر المغضوب علیھم ولاالضالین کہے، تو تم آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے۔ جس شخص کا آمین کہنا فرشتے کے آمین کہنے کے ساتھ ہو تو اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجاتا ہے۔" (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان " تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو" اس کا مطلب یہ ہے، فرشتے ریاکاری، شہرت، خود پسندی وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہتے ہیں۔ ان کا آمین کہنا، خالص طور پر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ تو جب قرات کرنے والا شخص، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے، خود پسندی، ریا کاری، شہرت وغیرہ جیسی کسی علت کے بغیر آمین کہے گا، تو اخلاص کے حوالے سے اس کا آمین کہنا، فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگا۔ تو اس صورت میں اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجائے گی۔

الْإِمَامُ فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ وَالْإِمَامَ ← «إِذَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1804

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1805

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ حُجْرًا أَبَا الْعَنْبَسِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَوَضَعَ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى الْيَدِ الْيُسْرَى فَلَمَّا قَالَ: {وَلاَ الضَّالِّينَ} ، قَالَ: "آمِينَ" وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ1. [5: 4]

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں دست مبارک پر رکھا جب آپ نے ولا الضالین کہا تو آپ نے آمین کہا آپ نے (نماز کے آخر میں) اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف (یعنی دو مرتبہ) سلام پھیرا۔

يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ1. ← "آمِينَ" وَسَلَّمَ ← {وَلاَ الضَّالِّينَ} ← فَوَضَعَ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى الْيَدِ الْيُسْرَى فَلَمَّا ← وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← حُجْرًا أَبَا الْعَنْبَسِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1805

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3062

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِذَا ذَکَرَ السَّاعَۃَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاہُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبّہُ ، وَعَلَا صَوْتُہٗ کَاَنَّہٗ مُنْذِرُ جَیْشٍ قَالَ : صُبِّحْتُمْ مُسِّیتُمْ قَالَ : وَکَانَ یَقُوْلُ : اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ ، وَمَنْ تَرَکَ مَالًا ، فَلِاَھْلِہِ ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْ ضَیَاعًا ، فَعَلَیَّ وَاِلَیَّ ، فَاَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ

امام جعفر رضی اللہ عنہہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہہ) کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب قیامت کا ذکر کرتے تھے، تو آپ ﷺ کے رخسار سرخ ہو جایا کرتے تھے آپ ﷺ کا جوش زیادہ ہو جاتا تھاآپ ﷺ کی آواز بلند ہو جاتی تھی یوں جیسے آپﷺ کس لشکر سے ڈراتے ہوئے یہ فرما رہے ہیں کہ وہ عنقریب تم پر حملہ کر دے گا۔ نبی اکرم ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے: " میں مومنین کی جان سے زیادہ ان کےقریب ہوں جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی یا وہ میرے سپرد ہوں گے، کیونکہ میں مومنین کے زیادہ قریب ہوں۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3062

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3063

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّھْرِیِّ ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَال : کَانَ الرَّجُلُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا مَاتَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ سَاَلَ : ھَلْ لَہٗ وَفَاءٌ ؟ فَاِذَا قِیلِ : نَعَمْ صَلّٰی عَلَیْہِ ، وَاِذَا قِیلَ :کَلَّا قَالَ : صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ فَلَمَّا فَتْحَ اللہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفُتُوحَ قَالَ : اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ ، مَنْ تَرَکَ دَیْنًا فَعَلَیَّ ، وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِلْوَارِثِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کر تے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں جب کسی شخص کا انتقال ہوتا اور اس کے ذمے قرض ہوتا ، تو نبی اکرم ﷺ دریافت کرتے تھے کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے، اگر آپ ﷺ کو یہ بتایا جاتا جی ہاں، تو آپ ﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے اور اگر یہ بتایا جاتا جی نہیں، تو آپ ﷺ یہ فرماتے تھے تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو فتوحات عطا کیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں مومنین کی اپنی جان سے زیادہ ان کے قریب ہوں جو شخص قرض چھوڑ کر جائے گا، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا، تو وہ اس کے وارث کو ملے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3063

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3064

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَقَالَ: "أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟ " فَقَالُوا: نَعَمْ, دِينَارَانِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ قَالَ: "أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَمَنْ تَرَكَ دينا فَعَلَیَّ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَارَثَتِہِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتےتھے جس کا ایسی حالت میں انتقال ہوا ہو کہ اس کے ذمے قرض ہو اور ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک میت لائی گئی آپ ﷺ نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمے قرض ہے لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں دو دینار ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ اد ا کر لو، تو حضرت ابق قتادہ رضی اللہ عنہہ نے عر ض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! ان کی ادائیگی میں اپنے ذمے لیتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو فتوحات عطا کر دیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ہر مومن کی جان سے زیادہ اس کے قریب ہوں ، تو جو شخص قرض چھوڑ کر جائے گا اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے ورثاء کو ملے گا۔

أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَيَّ ← صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ. ← نَعَمْ دِينَارَانِ ← "أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3064

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3065

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ قال: حدثنا بن الْمُبَارَكِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَهْلِ بن بيضاء إلا في المسجد1. [1:4]

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم ! اللہ کے رسولﷺ نے حضرت سہل بن بیضا ء رضی اللہ عنہہ کی نماز جنازہ مسجد میں ہی ادا کی تھی۔

وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ عَلَى سَهْلِ بن بيضاء إلا في المسجد1. ← عَائِشَةَ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3065

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا بن أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدٌ قَالَتْ: ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ بَيْضَاءَ فِي المسجد1. [1:4]

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جب حضرت سعد رضی اللہ عنہہ کا انتقال ہوا، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم ان کی میت کو مسجد میں لے آو ، تا کہ میں بھی ان کی نماز جنازہ ادا کر لوں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس بات پر انکار کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ کے رسولﷺ نے حضرت سہل بن بیضا ء رضی اللہ عنہہ کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی تھی۔

ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ← أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدٌ ← أَبِي النَّضْرِ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← بن أبي فديك ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3066

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3067

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا في الصلاة وسطها1. [8:5]

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں ایک خاتون کی تماز جنازہ ادی کی جو بچے کی ولادت کے وقت فوت ہو گئی تھی، تو نبی اکرم ﷺ نماز جنازہ میں اس کے وسط کے مقابلے میں کھڑے ہوئے۔

سَمُرَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3067

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3068

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ بن شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بهم وكبر أربع تكبيرات1. [24:5]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کے انتقال کی اطلاع لوگوں کو اسی دن دے دی تھی جس دن اس کا انتقال ہوا تھا۔ نبی اکرم ﷺ لوگوں کو لے کر عید گاہ تشریف لے گئے تھے آپﷺ نے ان کی صفیں بنوائی تھیں اور (نماز جنازہ میں) چار تکبیریں کہی تھیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3068

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ · حديث 3069

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ بن أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ثُمَّ يُكَبِّرُ خَمْسًا ، فَسَاَلْنَاہُ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ :کَبَّرَھَا اَوْ کَبَّرَھُنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہہ ہمارے جنازوں (کی نمازوں میں) چار تکبیریں کہا کرتے تھے پھر وہ پانچ تکبیریں کہنے لگے ہم نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم ﷺ نے یہ (یعنی پانچوں تکبیر) راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں یہ (پانچ تکبیریں) بھی کہی ہیں۔

ذٰلِکَ فَقَالَ :کَبَّرَھَا اَوْ کَبَّرَھُنَّ رَسُوْلُ اللہِ ← كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا ثُمَّ يُكَبِّرُ خَمْسًا فَسَاَلْنَاہُ ← بن أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in prayer over funeral · Hadith 3069

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4347

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور اس کے برخلاف کام کو اس سے زیادہ بہتر دیکھے تو اسے وہ کام کرنا چاہئے کہ جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دینا چاہئے“۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4347

chevron_left Previous
1…818283…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr