Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1794

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ2 عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تجزىء صَلَاةٌ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ". قُلْتُ: فَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الْإِمَامِ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي وقال: "اقرأ في نفسك" 3. [2: 92]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "وہ نماز درست نہیں ہوتی جس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے"۔ راوی کہتے ہیں (میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا) اگر میں امام کے پیچھے ہوں، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولے: تم اپنے دل میں (اس کی) تلاوت کرلیا کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1794

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1795

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یَقْرَاْ فِیْھَا بِاُمِّ الْقُرْآنِ فَھِیَ خِدَاجٌ ، قُلْتُ: یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ اِنِّیْ اَحْیَانًا اَکُوْنُ وَرَاءَ الْاِمَامِ قَالَ: یَا ابْنَ الْفَارِسِیِّ اقْرَاْ بِھَا فِیْ نَفْسِکَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: قَالَ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی: قُسِمَتِ الصَّلَاۃُ بَیْنَیْ وَبَیْنَ عَبْدِیْ نِصْفَیْنِ فَنِصْفُھَا لِیْ وَنِصْفُھَا لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَاشَاءَ یَقُوْمُ عَبْدِیْ فَیَقُوْلُ:( الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ )، یَقَوْلُ اللہُ: حَمِدَنِیْ عَبْدِیْ فَیَقُوْلُ:( الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ )، فَیَقُوْلُ اللہُ: اَثْنٰی عَلَیَّ عَبْدِیْ فَیَقُوْلُ:(مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ) ، فَیَقُوْلُ: مَجَّدَنِیْ عَبْدِیْ فَھٰذَا بَیْنَیْ وبین وعبدی ،( اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ) اِلٰی اٰخِرِ السُّورَۃِ فَھٰوُلَاءِ لِعَبْدِیْ وَلِعَبْدِیْ مَا سأل ۔(23:3)

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص نماز ادا کرے اور اس میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہ کرے تو وہ نماز نامکمل ہوتی ہے"۔ راوی کہتے ہیں (میں نے کہا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں) بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو انہوں نے کہا اے فارسی کے بیٹے! تم اسے دل میں پڑھ لیا کرو۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے نماز (یعنی سورۃ فاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہےاس کا نصف حصہ میرے لیے اور نصف حصہ میرے بندے کے لیے ہے۔ اور میرا بندہ جو چاہے گا وہ اسے ملے گا۔ میرا بندہ کھڑا ہوکر یہ کہتا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے بندہ کہتا ہے وہ بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعریف بیان کی ہے بندہ کہتا ہے وہ روز جزا کا مالک ہے اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ یہ (یعنی اگلی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے" ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں" اس کے بعد سورۃ کے آخر تک ہے۔ تو یہ سب کچھ میرے بندے کو ملے گا۔ میرے بندے نے جو مانگا ہے۔ وہ اسے ملے گا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1795

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1796

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:98] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110]، قَالَ: «نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفِي، بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا، سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ»، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: 110]، «أَيْ: بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ»، {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: 110]. [3: 23]

۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے بیان کرتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "تم اپنی نماز کو بلند آواز میں بھی نہ کرو اور پست آواز میں بھی نہ رکھو"۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پوشیدہ طور پر وقت گزار رہے تھے۔ جب آپ اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تھے، تو بلند آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ مشرکین جب سنتے تھے، تو وہ قرآن کو، اس کو نازل کرنے والے کو اور جو اس کو لے کر آیا اسے برا کہتے تھے۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا "تم اپنی نماز کو بلند آواز میں نہ کرو" یعنی قرات کو بلند نہ کرو کہ مشرکین اس کو سن لیں اور قرآن کو برا کہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: " اور تم اسے پست بھی نہ رکھو، اس سے مراد تم اپنے ساتھیوں سے اسے پست بھی نہ رکھو۔ کہ انہیں سنا بھی نہ سکو (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "اور تم اس کے درمیان کا راستہ تلاش کرو"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1796

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1797

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ نُعَيْمِ الْمُجْمِرِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} قَالَ: آمِينَ وَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ فَلَمَّا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمَّا رَفَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا سَجَدَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا رَفَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ قَائِمًا مَعَ التَّكْبِيرِ فَلَمَّا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم2. [5: 4]

نعیم مجمر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی پھر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب انہوں نے غیر المغصوب علیھم ولا الضالین پڑھ لیا تو آمین کہا لوگوں نے بھی آمین کہا جب وہ رکوع میں گئے۔ تو انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ جب انہوں نےاپنا سر اٹھالیا تو سمع اللہ لمن حمدہ کہا پھر انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ پھر جب وہ سجدے میں گئے ، تو انہوں نے اللہ اکبر کہا اور پھر سر اٹھایا تو اللہ اکبر کہا۔ پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوگئے۔ جب وہ دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ پھر انہوں نے سلام پھیرا تو یہ کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم میں سے، سب کے مقابلے میں زیادہ بہت طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔

نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1797

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1101

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَادِ ، اَنَّ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اَمَرَہُ اَنْ یَسْاَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الرَّجْلِ اِذَا دَنَا مِنْ اَھْلِہٖ مَاذَا عَلَیْہِ ؟ فَاِنْ عِنْدِیْ ابْنَتَہٗ وَاَنَا اَسْتَحْیِی اَنْ اَسْاَلَہُ ، قَالَ الْمِقْدَادُ : فَسَاَلْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَلَ: اِذَا وَجَدَ ذٰلِکَ ،فَکْیَنْضَحْ فَرْجَہُ ، وَلْیَتَوَضَّاْ وُضُوْءَ ہُ لِلصَّلَاۃِ ۔1:78

حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابو طالب نے انہیں ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے ( تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے ) تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی ( حضرت علی ؓ نے وضاحت کی ) کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی میری اہلیہ ہیں ۔ اس لئے مجھے خود ان سے حیا آتی ہے۔ حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب وہ شخص اس طرح کی صورت حال پائے تو اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے ۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) حضرت مقداد بن اسود ؓ کا انتقال ۳۳ ہجری میں ہوا جبکہ سلیمان بن یسار کا انتقال ۹۴ ہجری میں ہوا جس وقت سلیمان بن یسار نے ھضرت مقداد بن اسود ؓ سے احادیث کا سماع کیا تھا ۔ اس وقت ان کی عمر دس سال سے کم تھی۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَادِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1101

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1102

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنِي الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ1 عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذكرك، وإذا رأيت الماء، فاغتسل" 2. 78:1

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سو سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرم گاہ کو دھو لو اور جب تم پانی ( منی ) کو دیکھو تا غفل کرو ۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس بات کا مکان موجود ہے ، حجرت علی بن ابو طالب نے حجرت مقداد ؓ کو اس بات کی ہدایت کی ہو کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے اس چیز کا حکم دریافت کریں ۔ حضرت مقداد ؓ نے آپ ﷺ سے دریافت کیا ۔ آپ نے انہیں بتایا پھر حضرت مقداد ؓ نے حضرت علی ؓ کو بتایا پھر حضرت علی نے خود نبی اکرم ﷺ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جس کے بارے میں حضرت مقداد نے انہیں بتایا تھا ، تو یہ دو سوال ہونگے جو مختلف موقعوں پر کئے گئے۔ اور اس بات کی دلیل یہ دونون سوال مختلف موقعوں پر کئے گئے ، یہ ہے ، جب حضرت علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا تھا ، تو آپ نے منی کے نزول کے وقت انہیں غسل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بات حضرت مقداد کی روایت کردہ حدیث میں نہین ہے۔ یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ یہ دو مختلف احادیث ہیں۔

كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ← الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1102

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1103

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ : ( متن حدیث ) : کُنْتُ اَلْقٰی مِنَ الْمَذْیِ شِدَّۃً ، فَکُنْتَ اُکْثِرُالْاِ غْتِسَالَ مِنْہُ ، فَسَاَلْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَنْ ذٰلِکَ ، فَقَالَ: اِنَّمَا یُجْزِئُکَ مِنْہُ الْوُضُوْءُ فَقُلْتُ فَکَیْفَ بِمَا یُصِیْبُ ثَوْبِیْ مِنْہُ ؟ قَالَ: یَکْفِیکَ اَنْ تَاْخُذَ کَفًّا مِنْ مَّاءٍ فَتَنْضَحَ بِھَا مِنْ ثُوْبِکَ حَیْثُ تَرَی اَنَّہٗ اَصَابَہُ ۔1:78

حضرت سہل بن حنیف ؓ بیان کرتے ہیں : مجھے مذی کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ مجھے اس کی وجہ سے بکثرت غفل کرنا پڑتا تھا ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے مین دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرما یا: اس کی وجہ سے تمہارے لئے وضو کر لینا کافی ہے ، میں نے عرض کی کہ اگر یہ میرے کپڑے پر لگ جائے تو کیا ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے لئے اتنا کافی ہے ، تم چلو میں پانی لو اور اسے اپنے کپڑے پر اس جگہ چھڑک لو جہاں تمہیں نظر آرہا ہے کہ یہ لگی ہوئی ہے۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1103

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1104

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ، وإذا رأيت المني فاغتسل" 2. 65:3

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خا رج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سو سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرم گاہ کو دھو لو اور جب تم پانی ( منی ) کو دیکھو تا غفل کرو ۔

كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← أَبِي حَصِينٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1104

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1105

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ القاسم، عن1 بن أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا2 أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: "يَغْسِلُ مذاكيره ويتوضأ "3. 65:3

حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت علی ؓ نے حضرت عمار ؓ کو یہ ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے مذی کے بارے میں دریافت کریں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور وضو کر لے۔

الْمَذْيِ، فَقَالَ: "يَغْسِلُ مذاكيره ويتوضأ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا2 أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ، ← إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ ← عَطَاءٍ، ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1105

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1106

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عن الرَّجُلِ اِذَا دَنَا مِنْ اَھْلِہٖ فَخَرَجَ مِنْہُ الْمَذْیُ مَاذَا عَلَیْہِ ؟ فَاِنْ عِنْدِیْ ابْنَتَہٗ وَاَنَا اَسْتَحْیِی اَنْ اَسْاَلَہُ قَالَ: الْمِقْدَادُ: فَسَاَلَتْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ: اِذَا وَجَدَ اَحَدُکُمْ ذٰلِکَ ، فَکْیَنْضَحُ فَرْجَہُ ، وَلْیَتَوَضَّاْ وُضُوْءَہُ لِلصَّلَاۃِ ۔3:65

حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت علی بن ابو طالب نے انہیں ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے ( تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے ) تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی ( حضرت علی ؓ نے وضاحت کی ) کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی میری اہلیہ ہیں ۔ اس لئے مجھے خود ان سے حیا آتی ہے۔ حضرت مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب وہ شخص اس طرح کی صورت حال پائے تو اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ) ان روایات کو سننے والے بعض ایسے افراد جنہوں نے علم حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور حقیقت کو اس کے اپنے دائرے میں نہیں گھمایا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان روایات کے درمیان اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہےکیونکہ ابو عبدالرحمٰن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا جبکہ ایاس بن خلیفہ کی بیان کردہ روایت میں ہے، انہوں نے حضرت عمار ؓ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کریں جبکہ سلیمان بن یسار ؓ کی روایت میں ہے ، انہوں نے حضرت مقداد ؓ کو ہدایت کی تھی کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کریں ۔ حالانکہ ان روایات کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ اس بات کا احتمال موجود ہے ، پہلے حضرت علی نے حضرت عمار کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کریں ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوعال کیا ۔پھر حضرت علی نے بذات خود نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا ہو۔ میں نے جو چیز نقل کی ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے ، ان میں ہر روایت کا متن دوسری روایت کے متن سے مختلف ہے کیونکہ ابو عبدالوحمٰن سلمی کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں : "میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خا رج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سو سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرم گاہ کو دھو لو اور جب تم پانی ( منی ) کو دیکھو تا غفل کرو۔" ایاس بن خلیفہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت علی ؓ نے حضرت عمار ؓ کو یہ حکم دیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کریں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لے۔ اس روایت میں منی کا تزکرہ نہیں ہے جو ابو عبدالرحمٰن کی نقل کردہ روایت ہے، جبکہ حضرت مقداد کی نقل کردہ روایت میں مذکور ہے، انہوں نے پہلے سوال کیا تھ اتو یہ پہلے والے دو سوالات نہیں ہیں جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ، حضرت مقداد ؓ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت علی بن ابو طالب نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کریں ، جو اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے ، تو اس کی منی خارج ہو جاتی ہے، تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی میری اہلیہ ہیں ۔ میں ( اس لئے براہ راست آپ سے سوال نہیں کر سکتا ) تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے وہ اس بات کی دلالت کرتی ہے ، یہ مختلف سوالات ہیں جو مختلف مواقعوں پر کئے گئے جن کی اپنی مخصوص علتیں ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔؎

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1106

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1107

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ: "لَا تَفْعَلْ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وضوءك للصلاة، وإذا نضحت الماء فاغتسل" 1. 49:4

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی ، میں اس کی وجہ سے سردی کے موسم میں غسل کرتا تھا ، تو اس کی وجہ سے میری پشت کو تکلیف کا شکار ہونا پڑتا تھا ۔ میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا ، یا آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایسا نہ کرو جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو کر نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیا کرو اور جب تم پانی چھڑکو ( یعنی منی خارج ہو ) تو تم غسل کیا کرو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، ← عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1107

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1108

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عن بن شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، في الإناء الواحد1. 10:5

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل کر لیا کرتی تھیں ۔

عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، في الإناء الواحد1. ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1108

chevron_left Previous
1…767778…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr