Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ صِلَۃِ الرَّحِمِ وَقَطْعِھَا · حديث 456

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ قَطِيعَةِ الرَّحِمِ والبغي" 1. [2: 109]

حضرت ابو بکرہ ؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’قطع رحمی اور زنا سے زیادہ کوئی گناہ اس لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے کرنے والے کو دنیا میں بھی سزا دے اور اس کےہمراہ آخرت میں بھی اس کے لئے سزا تیار رکھے‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِي ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of joining the womb, and cutting it off · Hadith 456

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الرَّحْمَۃِ · حديث 457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبْصَرَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فقَالَ إِنَّ لِي عَشْرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ لَا يَرْحَمُ لا يرحم" 2.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : اقرع بن حابس تمیمی نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ حضرت امام حسن ؓ کا بوسہ لے رہے تھے۔ اس نے عرض کی : میرے دس بیٹے ہیں۔ میں نے ان میں سے کسی ایک کا بھی کبھی بوسہ نہیں لیا‘ تو نبی اکرمﷺ نےفرمایا : جوشخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

نَبِيُّ اللَّهِ "مَنْ لَا يَرْحَمُ لا يرحم" ← إِنَّ لِي عَشْرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ ← أَبْصَرَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ النَّبِيَّ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The gate of the womb · Hadith 457

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الرَّحْمَۃِ · حديث 458

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ عَنِ المنكر" 1. [2: 61ذِكْرُ الزَّجْرِ عَنْ تَرْكِ تَوْقِيرِ الْكَبِيرِ أَوْ رَحْمَةِ الصِّغَارِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ [458] أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ عَنِ المنكر" 1. [2: 61

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نبی اکرمﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات بیان کرتے ہیں : آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’اس شخص کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ جو بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا‘ چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے منع نہیں کرتا‘‘۔

المنكر" ← "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ ← بن عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ← تَرْكِ تَوْقِيرِ الْكَبِيرِ أَوْ رَحْمَةِ الصِّغَارِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ← الزَّجْرِ ← المنكر" ← "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمِ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ ← بن عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The gate of the womb · Hadith 458

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الرَّحْمَۃِ · حديث 459

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سليمان عن ثابتذكر مَا يُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اسْتِعْمَالُ التَّعَطُّفِ عَلَى صِغَارِ أَوْلَادِ آدَمَ [459] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عنْ اَنَسِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَزُوْرُ الْاَنْصَارَ وَیُسَلِّمُ عَلٰی صِبْیَانِھِمْ ویمسح رؤوسھم

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ انصار سے ملنے جایا کرتے تھے۔ آپ ان کے بچوں کو سلام کیا کرتے تھے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ← ثابتذكر مَا يُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ اسْتِعْمَالُ التَّعَطُّفِ عَلَى صِغَارِ أَوْلَادِ آدَمَ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The gate of the womb · Hadith 459

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الرَّحْمَۃِ · حديث 460

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بن معروف قال حدثنا بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هكذا وأشار بالسبابة والوسطى" 1.

حضرت سہل بن سعدؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی شہادت کی اور درمیانی انگلی کےذریعے اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی) (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ اس طرح ‘‘۔ اس سے مراد جنت میں داخل کرنے کے حوالے سے ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یتیم کی کفالت کرنے والا شخص اور نبی اکرمﷺ جنت میں ایک ہی مرتبے میں ہوں گے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The gate of the womb · Hadith 460

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ الرَّحْمَۃِ · حديث 461

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنَاتِهِ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْسَلَتْ إِلَيْكَ ابْنَتُكَ أَنْ تَأْتِيَهَا فَإِنَّ صَبِيًّا لَهَا فِي الْمَوْتِ فقَالَ " ائْتِهَا فَقُلْ لَهَا إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ قَالَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ رَجَعَ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا تُقْسِمُ عَلَيْكَ إِلَّا جِئْتَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ رَهْطٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَخَلْنَا فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فِي صَدْرِهِ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرحماء" 1.

حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کےپاس موجود تھے۔ آپ کی ایک صاحبزادی کی طرف سے ایک پیغام رساں آیا ۔ اس نے عرض کی : یا رسو اللہ ! آپ کی صاحب زادی نے آپ کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ آپ ان کےہاں تشریف لے آئیں‘ کیونکہ ان کے صاحب زادے فوت ہونے والے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :تم اس کے پاس جا کر اس سے کہو کہ اللہ تعالیٰ جو چیز واپس لے وہ اس کی ملکیت ہے ‘ جو چیز اسی نے دی ہو وہ چیز بھی اسی کی ملکیت ہے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کی ایک متعین مدت ہے۔ اس لئے اسے صبر سےکام لیتا چاہئے اور ثواب کی اُمید رکھنی چاہئے۔راوی بیان کرتے ہیں : کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ آپ کو قسم دے رہی ہیں۔ آپ ان کے ہاں تشریف لے جائیں‘ تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہو گئے۔ آپ کے ساتھ ہم بھی کھٹے ہو گئے۔ جو انصار کے کچھ افراد تھے ہم ان کے ہاں گئے ا س بچے کو نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا ‘ تو اس کا سانس سینے میں اکھڑ کر آ ر ہا تھا۔ نبی اکرمﷺ کی آنکھوں سےآنسو جاری ہو گئے۔ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کس وجہ سے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’یہ وہ رحمت ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نےاپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم کرتا ہے‘‘۔

كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَجَاءَ رَسُولُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنَاتِهِ فقَالَ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The gate of the womb · Hadith 461

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1774

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ». [5: 33]

۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز ادا کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ "میں سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رُخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری زندگی، میری موت قربانی زندگی اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں۔ اے اللہ! ہم تیرے لیے مخصوص ہیں۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو پاک ہے اور حمد تیرے لیےمخصوص ہیں، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کی دے۔ ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے، تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کردے بے شک برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ سعادت تجھ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے۔ ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے۔ میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں تو برکت والا بلند و برتر ہے اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں، توبہ کرتا ہوں"۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1774

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1775

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْبُسْتَانِيُّ بِدِمَشْقَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَبَّرَ سَکَتَ بین التکبیر والقراءۃ فقلت بأبی وَاُمِّی اَرَاَیْتَ سَکَتَاتِکَ بَیْنَ التَّکْبِیرِ وَالْقِرَاءَۃِ اَخْبَرَنِیْ مَا تَقُوْلُ فِیْھَا ؟ قَالَ: اللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَایَایَ کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللّٰھُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خَطَایَایَ بالماء والثلج والبرد۔(33:5)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے، تو تکبیر اور قرات کے درمیان کچھ دیر خاموش رہتے تھے میں نےعرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ تکبیر اور قرات کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں مجھے بتائیے کہ اس دوران آپ کیا پڑھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (میں یہ پڑھتا ہوں) "اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کردے۔ جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! تو میری خطاؤں کو پانی اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْبُسْتَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1775

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1776

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ [ص:196] عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لَهُ: وَلِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَرْكَعُ، وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلَا يَرْفَعُهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَعُودَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ قَعْدَةُ السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ، أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ» قَالُوا جَمِيعًا: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. [5: 2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرات کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ تکبیر اور قرات کے درمیان جو خاموش ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ پڑھتا ہوں۔

أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1776

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1777

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ قَالَ: اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ اَبِیْ زُرْعَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَبَّرَ فِی الصَّلَاۃِ سَکَتَ ھُنَیْھَۃً قَبْلَ اَنْ یَّقْرَاَ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاَبِیْ وَاُمِّی اَرَاَیْتَ سُکُوتَکَ بَیْنَ التَّکْبِیرِ وَالْقِرَاءَ مَا ھُوَ ؟ قَالَ: اَقُوْلُ: اللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللّٰھُمَّ نَقِّنِیْ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللّٰھُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خطایای بالماء والثلج والبرد۔(12:5)

سعید بن سمعان بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمل کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے ان کو ترک کردیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کیلئے کھڑے ہوئے تھے، تو آپ دونوں ہاتھ بلند کرکے اٹھاتے تھے اور آپ قرات کرنے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے جس میں آپ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگتے تھے اور آپ نماز کے دوران ہر دفعہ رکوع اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1777

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1778

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ». [5: 4]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرات سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ قرات اور تکبیر کے درمیان کیا پڑھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ پڑھتا ہوں) "اے اللہ ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان فاصلہ کردے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے سے میل کو صاف کیا جاتا ہے اے اللہ! میری خطاؤں کو برف پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1778

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1779

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ2 عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَ قَالَ: اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ: مِنْ ھمزہ ونفخہ (ونفثہ)۔(12:5) قَالَ: عَمْرٌو ھَمْزُہُ الْمُوتَۃُ وَنَفْخُہُ :الْکِبْرُ وَنَفْثُہُ :الشعر

۔ جبیر بن مطعم کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کا آغاز کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ "اے اللہ! میں شیطان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے ٹہو کا دینے، پھونگ مارنے اور پھونکنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں"۔ عمرو نامی راوی کہتے ہیں اس کے ٹہو کا دینے سے مراد مرگی ہے اور پھونک مارنے سے مراد تکبر ہے اور اس کے پھونکنے سے مراد شعر کہنا ہے۔

عَمْرٌو ھَمْزُہُ الْمُوتَۃُ وَنَفْخُہُ :الْکِبْرُ وَنَفْثُہُ :الشعر ← اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ: مِنْ ھمزہ ونفخہ (ونفثہ)۔(12:5) ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاۃَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ2 ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1779

chevron_left Previous
1…666768…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr