صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ صِلَۃِ الرَّحِمِ وَقَطْعِھَا · حديث 450
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى رَجُلٌ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لئن كانذكر مَعُونَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا الْوَاصِلَ رَحِمَهُ إِذَا قَطَعَتْهُ [450] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى رَجُلٌ فقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَئِنْ كان کَانَ کَمَا تَقُوْلُ فَکَانَّمَا تُسِفُّھْمُ الْمَلَّ وَلَا یَزَالُ مَعَکَ مِنَ اللہِ ظُھَیْرٌ مَا دُمْتَ عَلٰی ذلک اَلْمَلَّ: رماد یکون فیہ الشطبۃ ۔(2:1)
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں: ایک شخص آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے کچھ رشتے دار ہیں‘ جن کے ساتھ میں اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتےہیں۔ وہ میرت ساتھ برائی کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ اچھائی کرتا ہوں۔ وہ میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور میں ان کےساتھ بردباری سے پیش آتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر صورت حال اسی طرح ہے جس طرح تم بیان کر رہے ہو‘ تو تم ان پر راکھ پھینکتے ہو ‘ جب تک تم اس طرح کرتے رہو گے اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں : روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ ‘‘ المل ‘‘ سے مراد ایسی راکھ ہے ‘جس میں شطبہ ( یعنی انگاروں کے ٹکڑے ) ہوں۔
أَتَى رَجُلٌ فقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › The door of joining the womb, and cutting it off · Hadith 450
