صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6791
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:201] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُرَاتُ الْقَزَّازُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسيدٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ، وَنَحْنُ تَحْتَهَا إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا تَتَذَاكَرُونَ؟ » قُلْنَا: نَذَكْرُ السَّاعَةَ، قَالَ: «فَإِنَّهَا لَا تَكُونُ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْهَا عَشَرُ آيَاتٍ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَالدُّخَانُ، وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَالدَّابَّةُ، وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ مَوْضِعِ كَذَا»؟ قَالَ: أَحْسَبُهُ، قَالَ: «تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا، وَتَنْزِلُ مَعَهُمْ حَيْثُ يَنْزِلُونَ» ، [ص:202] قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہی :ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ بالا خانہ میں موجود تھے ہم اس کے نیچےموجود تھے پھر اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے جھانک کر دریافت کیا : تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے ہو ۔ ہم نے عرض کی : ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نمودار نہیں ہوتیں سورج کا مغرب سے نکلنا ، دجال ، دھواں ۔، حضرت عیسی بن مریم ( کا نزول ) ، دابۃ الارض ، یاجوج وماجو کا نکلنا ، مشرق میں زمین میں دھنسنا ، مغرب میں زمین میں دھنسنا اور جزیرہ عرب میں زمین میں دھنسنا اور ایک آگ ہوگی ' جو فلاں مقام سے گی (راوی کہتےہیں : ) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وہ ان لوگوں کے ساتھ آرام کرے گےجہاں وہ لوگ آرام کریں گے اور وہ ان کے ساتھ پڑاؤ کرے گی جہاں وہ لوگ پڑاؤ کریں گے ۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے تا ہم اس سند کے ساتھ مر فوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔
حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبَا الطُّفَيْلِ ← الفرات القزاز ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6791
