Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1646

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عن بن جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْكُرَّاثِ فَلَمْ يَنْتَهُوا ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا بُدًّا مِنْ أَكْلِهَا فَوَجَدَ رِيحَهَا فَقَالَ: "أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ أَوِ المنتنة؟ من اَکَلَھَا فَلَا یَغْشَنَا فِیْ مَسَاجِدِنَا فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تتأذی مما یتأذی منہ الإنسان۔

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو گند نا کھانے سے منع کیا لیکن لوگ اس باز نہیں آئے ۔ ان کے لئے اس کو کھا ئے بنا کوئی چارہ نہیں تھا ۔نبی اکرم ﷺ کو اس کی بو محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس خبیث سبزی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس بو دار سبزی سے منع کیا تھا جو شخص اسے کھا لے وہ ہماری مساجد میں نہ آئے ، کیو نکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے ، جس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔

"أَلَمْ أَنْهَكُمْ ← أَكْلِ الْكُرَّاثِ فَلَمْ يَنْتَهُوا ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا بُدًّا مِنْ أَكْلِهَا فَوَجَدَ رِيحَهَا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 1646

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1647

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَسَمِعْتَ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مَرَّ بِأْسَهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ: "أَمْسِكْ بِنُصُولِهَا؟ " قَالَ: نعم 1.

سفیان کہتے ہیں ، میں نے عمرو بن دینار سے دریافت کیا :اے ابو محمد !کیا آپ نے حضرت جابر ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں تیر لے کے گزر نے والے شخص سے یہ فرمایا تھا : اس کی دھار کی طرف سے اسے پکڑ کے رکھو ، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔

قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَسَمِعْتَ جَابِرًا ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1647

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1648

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا1.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ حکم دیا جو مسجد سے تیر لے کر گزر رہا تھا وہ وہاں سے گزرتے ہوئے اس کی دھار سے اسے پکڑ کر رکھے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 1648

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1649

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بن عبيد الله بن مسرح بِحَرَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمِّي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِذَا مَرَّ اَحَدُکُمْ فِیْ اَسْوَاقِنَا اَوْ مَسْجِدِنَا بِنَبْلٍ فَلْیُمْسِکْ عَلٰی نصولھا لئلا یصیب أحدا من المسلمین۔

حضرت موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:جب کوئی شخص تیر لے کر ہمارے بازار میں سے یا مسجد میں سے گزرے تو اسے اس تیر کو پھل کی طرف سے پکڑنا چاہیے، تا کہ وہ کسی مسلمان کو لگ نہ جائے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو بُرْدَةَ ← بُرَيْدٌ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَمِّي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بن عبيد الله بن مسرح بِحَرَّانَ

Hadith 1649

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1650

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَبِيعُ وَيَشْتَرِي فِي الْمَسْجِدِ فقولوا لا أربح الله تجارتك" 2.

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو : تو یہ کہو اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں فائدہ نہ دے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1650

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1651

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حدثنا أبو خيثمة قال حدثنا المقرىء1 قَالَ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ لَا أَدَّاهَا اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لهذا" 2.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے : جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے تو یہ کہے اللہ تعالیٰ یہ چیز تمہیں واپس نہ کرے ، کیو نکہ مساجد اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گی ہیں ۔

مَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← المقرىء ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1651

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1652

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص:531] فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ». [2: 28] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَضْمَرَ فِيهِ: لَا وَجَدْتَ، إِنْ عُدْتَ لِهَذَا الْفِعْلِ بَعْدَ نَهْيِي إِيَّاكَ عَنْهُ»

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی تو ایک شخص نے کہا کون شخص سرخ اونٹ کی طرف میری راہنمائی کرے گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :(اللہ کرے) وہ تمہیں نہ ملے یہ مساجد اپنے مخصوص مقصد کے لئے بنائی گی ہیں ۔

رَسُولُ اللَّهِ «لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ». ← رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ، ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ [ص:531] ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1652

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1653

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ شِعْرًا، فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَقَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟ » قَالَ: نَعَمْ. [1: 65] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَمْرُ بِالذَّبِّ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ مَخْرَجُهُ الْخُصُوصُ قُصِدَ بِهِ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَالْمُرَادُ مِنْهُ إِيجَابُهُ عَلَى كُلِّ مَنْ فِيهِ آلَةُ الذَّبِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَ وَالزُّورَ، وَمَا يُؤَدِّي إِلَى قِدْحِهِ، لِأَنَّ فِيهِ قِيَامُ الْإِسْلَامِ وَمَنْعَ الدِّينِ عَنِ الِانْثِلَامِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر ؓ حضرت حسان بن ثابت ؓ کے پاس سے گزرے جب مسجد میں شعر سنا رہے تھے ۔حضرت عمر ؓ نے انہیں جھڑکا تو حضرت حسان بن ثابت ؓ نے کہا میں یہاں اس وقت شعر سنایا کرتا تھا جب یہاں وہ ہستی موجود تھیں جو آپ سے بہتر تھی ، پھر حضرت حسان ؓ حضرت ابو ہریر ہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : میں آپ کو اللہ کی قسم ! دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے (اے حسان ) تم میری طرف سے جواب دو اے اللہ ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کر ۔ تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا : جی ہاں۔نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دفاع کرنے کا حکم ایک ایسا حکم ہے جس کا مخصوص پس منظر ہے ۔نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم تو حضرت حسان ؓ کو دیا تھا لیکن اس مراد یہ کہ ہر وہ شخص جو نبی اکرم ﷺ پر لگائے جانے والے جھوٹے الزام آپ کی طرف منسوب کیے جانے والے جھوٹ اور آپ ہونے والے اعتراضات کے حوالے سے آپ کی طرف سے دفاعط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ ایسا کرنا اس پر لازم ہے۔ ایسی صورت میں اسلام ( کے احکام ) کو قائم کرنے اور دین کو بر بادی سے روکنے کی صورت پائی جاتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1653

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1654

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ حِلَقًا فَقَالَ: مالی أراکم عزین۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ اس وقت مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا وجہ ہے ، میں تمہیں مختلف ٹولیوں میں دیکھ رہا ہوں ۔

مالی أراکم عزین۔ ← خَرَجَ النَّبِيُّ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ حِلَقًا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 1654

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2939

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وهب، قال:حدثنا يونس، عن بن شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَيْهَا امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْتَطْعِمُ، قَالَتْ: فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي إِلَّا تَمْرَةً وَاحِدَةً، فأعطيتها إياها فأخذتها فشقها بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَتْ: ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سترا من النار" 1. [2:1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون ان کے ہاں آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اس عورت نے کھانے کے لیے کچھ مانگا سیّد ہ عائشہ ر ضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے پاس اسے صرف ایک کھجور ملی وہ میں نے اسے دے دی اس نے اس کھجور کو لیا اور اسے دوحصوں میں تقسیم کر کے اپنی بیٹیوں کو دے دیا اس نے خود کچھ نہیں کھایا پھر وہ اٹھی اور چلی گئی نبی اکرم ﷺ میرے ہا ں تشریف لائے میں نے آپ کو اس عورت کے بارے میں بتیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو ان بیٹیوں کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور وہ شخص ان کےساتھ اچھا سلوک کرے، تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وهب، قال: ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 2939

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2940

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ:حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَمُّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍ بِالرَّبَذَةِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُكَ؟ فَقَالَ: مَالِي عَمَلِي، قُلْتُ: حَدِّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إياهم" 1. [2:1]

صعصعہ بن معاویہ بیان کرتے ہیں: میں ربذہ کے مقام پر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: اے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہہ آپ کا مال کیا ہے انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے میں نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ "جس بھی مسلمان کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں ( یعنی بچے کے ماں باپ) کو ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا"۔

الْحَسَنِ، ← جرير بن حازم،قال: ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ

Hadith 2940

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2941

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نِسْوَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ قُلْنَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ مَعَ الرِّجَالِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانَةَ" فَجَاءَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: "لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ" فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: وَاثْنَتَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "واثنتين" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصاری خواتین نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی ہم مردوں کے ہمراہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتی ہیں( آپ ﷺ ہمیں واعظ و نصیحت کیا کیجئے)، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: فلاں خاتون کے گھر میں تم سے ملاقات ہوگی پھر نبی اکرم ﷺ وہاں تشریف لائے آپ ﷺ خواتین کے ساتھ بات چیت کرتے رہے پھر نبی اکر مﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے تو وہ جنت میں داخل ہو گی ان میں سے ایک خاتون نے عرض کی: جس کے دوہوں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس کے دو (بچے فوت) ہوں؟ (اسے بھی یہ اجرو ثواب حاصل ہو گا)

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نِسْوَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ قُلْنَ لَهُ: ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2941

chevron_left Previous
1…567…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr