صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1646
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عن بن جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْكُرَّاثِ فَلَمْ يَنْتَهُوا ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا بُدًّا مِنْ أَكْلِهَا فَوَجَدَ رِيحَهَا فَقَالَ: "أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ أَوِ المنتنة؟ من اَکَلَھَا فَلَا یَغْشَنَا فِیْ مَسَاجِدِنَا فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تتأذی مما یتأذی منہ الإنسان۔
حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو گند نا کھانے سے منع کیا لیکن لوگ اس باز نہیں آئے ۔ ان کے لئے اس کو کھا ئے بنا کوئی چارہ نہیں تھا ۔نبی اکرم ﷺ کو اس کی بو محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس خبیث سبزی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس بو دار سبزی سے منع کیا تھا جو شخص اسے کھا لے وہ ہماری مساجد میں نہ آئے ، کیو نکہ فرشتوں کو اس چیز سے تکلیف ہوتی ہے ، جس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔
"أَلَمْ أَنْهَكُمْ ← أَكْلِ الْكُرَّاثِ فَلَمْ يَنْتَهُوا ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا بُدًّا مِنْ أَكْلِهَا فَوَجَدَ رِيحَهَا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ
Hadith 1646
