Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5397

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ہر وہ مشروب جا نشہ کر دے وہ حرام ہے‘‘۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5397

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6162

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ وَطُولِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا خَلْقَهُ قَالَ: اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفْرِ، وَهُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ. قَالَ: فَذَهَبَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَمْ، فَزَادُوهُ: وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَ: فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الْآنَ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا الْخَبَرُ تَعَلَّقَ بِهِ مَنْ لَمْ يُحْكِمُ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ وَأَخَذَ يُشَنِّعُ عَلَى أَهْلِ الْحَدِيثِ الَّذِينَ يَنْتَحِلُونَ السُّنَنَ، [ص:34] وَيَذُبُّونَ عَنْهَا، وَيَقْمَعُونَ مَنْ خَالَفَهَا بِأَنْ قَالَ: لَيْسَتْ تَخْلُو هَذِهِ الْهَاءُ مِنْ أَنْ تُنْسَبَ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى آدَمَ، فَإِنْ نُسِبَتْ إِلَى اللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كُفْرًا، إِذْ {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ} [الشورى: 11]، وَإِنْ نُسِبَتْ إِلَى آدَمَ تَعَرَّى الْخَبَرُ عَنِ الْفَائِدَةِ، لِأَنَّهُ لَا شَكَّ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ عَلَى صُورَتِهِ لَا عَلَى صُورَةِ غَيْرِهِ، وَلَوْ تَمَلَّقَ قَائِلُ هَذَا إِلَى بَارِئِهِ فِي الْخَلْوَةِ، وَسَأَلَهُ التَّوْفِيقَ لِإِصَابَةِ الْحَقِّ وَالْهِدَايَةِ لِلطَّرِيقِ الْمُسْتَقِيمِ فِي لُزُومِ سُنَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ أَوْلَى بِهِ مِنَ الْقَدْحِ فِي مُنْتَحِلِي السُّنَنِ بِمَا يَجْهَلُ مَعْنَاهُ، وَلَيْسَ جَهْلُ الْإِنْسَانِ بِالشَّيْءِ دَالًا عَلَى نَفْيِ الْحَقِّ عَنْهُ لِجَهْلِهِ بِهِ. وَنَحْنُ نَقُولُ: إِنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَحَّتْ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ لَا تَتَضَادَّ، وَلَا تَتَهَاتَرُ، وَلَا تَنْسَخُ الْقُرْآنَ بَلْ لِكُلِّ خَبَرٍ مَعْنًى مَعْلُومٌ يُعْلَمُ، وَفَصْلٌ صَحِيحٌ يُعْقَلُ، يَعْقِلُهُ الْعَالِمُونَ. فَمَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ «: إِبَانَةُ فَضْلِ آدَمَ عَلَى سَائِرِ الْخَلْقِ، وَالْهَاءُ رَاجِعَةٌ إِلَى آدَمَ، وَالْفَائِدَةُ مِنْ رُجُوعِ الْهَاءِ إِلَى آدَمَ دُونَ إِضَافَتِهَا إِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلَا - جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ أَنْ يُشَبَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ - أَنَّهُ جَلَّ وَعَلَا جَعَلَ سَبَبَ الْخَلْقِ الَّذِي هُوَ الْمُتَحَرِّكُ النَّامِي بِذَاتِهِ اجْتِمَاعَ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، ثُمَّ زَوَالَ الْمَاءِ عَنْ قَرَارِ الذَّكَرِ إِلَى رَحِمِ الْأُنْثَى، ثُمَّ تَغَيُّرَ ذَلِكَ إِلَى [ص:35] الْعَلَقَةِ بَعْدَ مُدَّةٍ، ثُمَّ إِلَى الْمُضْغَةِ، ثُمَّ إِلَى الصُّورَةِ، ثُمَّ إِلَى الْوَقْتِ الْمَمْدُودِ فِيهِ، ثُمَّ الْخُرُوجِ مِنْ قَرَارِهِ، ثُمَّ الرَّضَاعِ، ثُمَّ الْفِطَامِ، ثُمَّ الْمَرَاتِبِ الْأُخَرِ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَا إِلَى حُلُولِ الْمَنِيَّةِ بِهِ. هَذَا وَصْفُ الْمُتَحَرِّكِ النَّامِي بِذَاتِهِ مِنْ خَلْقِهِ وَخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَّا آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ الَّتِي خَلْقَهُ عَلَيْهَا، وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ تَقْدُمُهُ اجْتِمَاعُ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، أَوْ زَوَالُ الْمَاءِ، أَوْ قَرَارُهُ، أَوْ تَغْيِيرُ الْمَاءِ عَلَقَةً أَوْ مُضْغَةً، أَوْ تَجْسِيمُهُ بَعْدَهُ، فَأَبَانَ اللَّهُ بِهَذَا فَضْلَهُ عَلَى سَائِرِ مَنْ ذَكَرْنَا مِنْ خَلْقِهِ، بِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نُطْفَةً فَعَلَقَةً، وَلَا عَلَقَةً فَمُضْغَةً، وَلَا مُضْغَةً فَرَضِيعًا، وَلَا رَضِيعًا فَفَطِيمًا، وَلَا فَطِيمًا فَشَابًّا كَمَا كَانَتْ هَذِهِ حَالَةُ غَيْرِهِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشْوِيَّةٌ يَرْوُونَ مَا لَا يَعْقِلُونَ وَيَحْتَجُّونَ بِمَا لَا يَدْرُونَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا ان کا قد 60گز تھا ،جب اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا فرمایا:کیاتو تم اجاؤ اور اس گروہ کو سلام کروں ۔ فرشتے تھے جو بیٹھے ہوئے تھے تم غور سے سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام کرنے کا طریقہ ہوگا ۔نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :حضرت آدم ؑ گئے انہوں نے کہا :السلام علیکم ، تو فرشتوں نے جوا ب میں رحمت اللہ کا اضافہ کیا۔" نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :جنت میں جو شخص بھی داخل ہوگا حضرت آدم ؑ کی طرح اس کاقد60 گز ہوگا اس کے بعد مسلسل انسانوں کے قد کم ہوتے رہے، یہاں تک کہ یہ صورت حال آگئی۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں:)یہ وہ روایت ہے، جس کے ساتھ وہ شخص متعلق ہوا جو علم احادیث میں مہارت نہیں رکھتا اور اس نے اس روایت کی وجہ سے محد ثین پر اعتراضات کیے جو سنت کی خدمت کرتےہیں اور اس پر ہونے والے اعتراض کو پرے کرتےہیں اور جو شخص سنت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ اس کی بھر پور مخالفت کرتےہیں اس شخص نے یہ کہا کہ لفظ صورکہ میں ضمیر یا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوگی ،یاحضرت آدم ؑ کی طرف منسوب ہوگی اگراس کہ نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے ، تویہ چیز کفر ہوگر کیونکہ ارشادباری تعالیٰ ہے۔ "اس کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔" اگر اس کی نسبت حضرت آدم ؑ کی طرف کی جائے ،تو روایت میں فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے تمام انسانوں کی شکل وصورت حضرت آدم ؑ جیسی ہے کسی اور جیسی نہیں ہے۔ اگر اس بات کا قائل شخص تنہائی میں بیٹھ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں التجا ء کرتا اور اس سے حق اور ہدایت کی توفیق کا سوال کرتا جو نبی اکرمﷺ کی سنتوں کو لازم پکڑنے کی صورت میں سیدھا راستہ ہے، تو پھر اس کےلیے مناسب یہ تھا کہ وہ جس حدیث کا مفہوم نہیں جانتا اس کےحوالے سے سنت کے خادمین پر اعتراض نہ کرتا اگرانسان کسی چیز کے بارے علم نہیں رکھتا،یہ چیز تو اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کی ناواقفیت کی وجہ سے حق کی نفی کردی جائے۔ ہم یہ کہتےہیں :نبی اکرمﷺ سےمنقول روایت جب نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو تو اس میں کوئی اعتراض اور اختلاف نہیں ہوگا اورنہ ہی وہ قرآن کو منسوخ کرےگا بلکہ ہر روات کا اپنا مخصوص مفہوم ہوتا ہے اور ہر روایت کا اپنا پس منظر ہوتاہے، جسے اہل علم سمجھ جاتےہیں ہمارے نزدیک نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے "اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی صورت میں پیدا کیا " اس سا مقصد یہ ہےکہ حضرت آدم ؑ کی دیگر تمام مخلوق کی فضیلت کو ظاہر کیا جائے اور اس میں ضمیر حضرت آدم ؑ کی طرف راجع ہے اورضمیر کے حضرت آدم ؑ کی طرف راجع ہونے کا فائدہ یوں ہے کہ اس ضمر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جاسکتی کیونکہ ہمارا پروردگار اس چیز سے بلند وبرتر ہےکہ اسے مخلوق میں سے کسی سے مشابہ قرار دیا جائے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کا سبب ایک ایسی چیز کو قرار دیا ہے ،جو حرکت بھی کرتی ہے اور جس کے وجود میں نشونما کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے یہ مذکور اور مؤ نث کے اجتماع کی صو رت میں (نشونما پاتی ہے) اس کے بعد مادہ تولید مذکر کے مخصوص کام سے مؤنث کے رحم کی طرف منتقل ہو جاتاہے اس کے بعد وہ ایک متعین مدت تک جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے پھر وہ لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر شکل وصورت بن جاتی ہےپھر ایک مخصوص وقت تک وہی رہتا ہے پھر وہ اپنی جگہ سے نکلتا ہے پھر دودھ پلانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دودھ چھڑانے کا مرحلہ آتا ہے پھر دیگر مراتب ہیں جو ہم ذکر کر چکے ہیں ، یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے۔ تو حرکت کرنے والے اور اپنی ذات کے اعتبار سے نشونما کی صلاحیت رکھنے والے کی یہ صفت ہےاللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو ان کی صورت پر پیدا کیا ہے یعنی وہ تخلیق جواس اعتبار سے ہوئی تھی ان کی لمبائی ساٹھ گز تھی ،لیکن ان سے پہلے کسی مذکور اور مؤ نث کا اجتماع نہیں ہوا ۔ مادہ تولید کسی جگہ زائل نہیں ہوا تھا کسی جگہ آکر ٹھہرا نہیں وہ مادہ جمے ہوئے خون یا گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں تبدیل نہیں ہوا اس نے بعد میں ، جسم کی شکل اختیار نہیں کی ، تواللہ تعالیٰ نے اس چیز کے ذریعے ان کی فضیلت کو واضح کر دیا جو وہ دیگر تمام مخلوق پر رکھتےہیں کہ وہ پہلے نطقے کی شکل میں نہیں تھے کہ پھر جما ہوا خون بن جاتے جما ہوا خون نہیں تھےکہ گوشت کا لوتھڑا بن جائے گوشت کا لوتھڑا نہیں تھے کہ دودھ پینےکی نوبت آتی دودھ پینے والے نہیں تھے کہ دودھ چھڑانے کی نوبت آتی دودھ چھڑانے والے نہیں تھے کہ بعد میں نوجوان ہو جاتے جیسا کہ حضر ت آدم ؑ کے علاوہ دیگر انسانوں کی صورت حال ہوتی ہے یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہےکہ محدثین حثویہ فرقے کے سے نظریات رکھتےہیں وہ ایسی چیزیں روایت کر دیتےہیں جن کا فہم حاصل نہیں ہوسکتا اور وہ ایسی چیزوں کے ذ ریعے استدلال کرتےہیں جن کا انہیں پتہ نہیں ہوتا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6162

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6163

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ جَعَلَ إِبْلِيسَ يُطِيفُ بِهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ قَالَ: طَفِرْتُ بِهِ، خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ»

حضرت انس ؓ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: "جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا ،تو ابلیس ان کےجسم کے گرد چکر لگانے لگا جب اس نے انہیں اندر سے خالی دیکھا، تو بولا ۔"میں نے اس کو دیکھ لیا ہے ، یہ مخلوق قابو میں رہنے والی نہیں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6163

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6164

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَطَسَ فَأَلْهَمَهُ رَبُّهُ أَنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلِذَلِكَ سَبَقَتْ رَحْمَتُهُ غَضَبَهُ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا ،تو انہیں چھینک آگئی ان کے پروردگار نے انہیں یہ الہام کیا کہ وہ الحمداللہ کہے ،تو ان کے پروردگار نے ان سے فرمایا:اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6164

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6165

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا نَفَخَ فِي آدَمَ، فَبَلَغَ الرُّوحُ رَأْسَهُ عَطَسَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. فَقَالَ لَهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَرْحَمُكَ اللَّهُ»

حضرت انس بن مالکؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں:

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6165

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6166

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى [ص:38] أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى) الْآيَةَ. قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى ظَهْرِهِ بِيَمِينِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ». فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلُهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلُهُ بِهِ النَّارَ»

مسلم بن یسار جہنمی بیان کرتےہیں:حضرت عمر بن خطاب ؓ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ۔

عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6166

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6167

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ [ص:41] وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: يَرْحَمُكَ رَبُّكَ يَا آدَمُ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى مَلَأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ، فَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ بَيْنَهُمْ، وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ، ثُمَّ بَسَطَهُمَا فَإِذَا فِيهِمَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ، فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَكْتُوبٌ عُمْرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُهُمْ أَوْ مِنْ أَضْوَئِهِمْ لَمْ يَكْتُبْ لَهُ إِلَّا أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: يَا رَبِّ، مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ، وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ عُمْرَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْهُ فِي عُمْرِهِ، قَالَ: ذَاكَ الَّذِي كَتَبْتُ لَهُ. قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَنْتَ وَذَاكَ اسْكُنِ الْجَنَّةَ، فَسَكَنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ، فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجِلْتَ، قَدْ كُتِبَ لِي أَلْفُ سَنَةٍ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ مِنْهَا سِتِّينَ سَنَةً، فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ فَنَسِيتْ ذُرِّيَّتُهُ، فَيَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ [ص:42] وَالشُّهُودِ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان میں روح کو پھونکا ، تو انہیں چھینک آگئی انہوں نے الحمداللہ کہا انہوں نےاللہ کے حکم کے تحت اللہ کی حمد بیان کی تھی ، تو ان کے پروردگار نے ان سے فرمایاتمہارا پروردگار تم پر رحم کرے اے آدم تم ان فرشتوں کے گروہ کے پاس جاؤ جو بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں سلام کرو ،تو حضرت آدم ؑ نےکہا : السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ پھر حضرت آدمؑ اپنے پروردگار کے پاس واپس آئے ،تو پروردگار نے فرمایا:یہ تمہارا اولاد کا سلام کرنے کاطریقہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ بند تھے اللہ تعالیٰ نےفرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو اختیار کرلو ،تو حضرت آدم ؑ نے کہا : میں اپنے پروردگار کے دائیں ہاتھ کو پسند کرتا ہوں ویسے میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ دائیں اور برکت والے ہیں پھر پروردگار نے ان دونوں ہاتھوں کو پھیلایا ،تو ان میں حضرت آدم ؑاور ان کی ذریت موجود تھی ۔حضرت آدم ؑ نے دریافت کیا:اے میرے پروردگار یہ کون لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ تمہاری اولاد ہے ان میں سے ہر شخص کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی ہے ان لوگوں میں ہر شخص تھا جو چمکدار چہرے کا مالک تھا اس کی عمر چالیس سال لکھی ہوئی تھی حضرت آدم ؑ نے کہا: اے میرے پروردگار یہ کون ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص داؤد ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی عمر چالیس برس مقرر کی ہے۔ حضرت آدم ؑ نے عرض کی : اے میرے پروردگار اس کی عمر میں اضافہ کردے ۔ پروردگار نے فرمایا:وہ میں نے اس کیلئے مقرر کر دی ہے ۔ حضرت آدم ؑ نے عرض کی : میں اپنی عمر کے ساٹھ سال اسے دیتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:تم اور وہ (یعنی تمہاری بیوی ) جنت میں رہو ، تو جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہ جنت میں رہے پھر انہیں وہاں سے نکالا گیا ۔ حضرت آدم ؑ اپنی عمر شمار کرتےرہے پھر ملک الموت ان کے پاس آیا ،تو حضرت آدم ؑ نے کہا :کیا تم جلدی نہیں آگئے میری عمر ،تو ایک ہزار سال تھی۔ ملک الموت نے کہا : جی ہاں ، لیکن آپ نے اس میں سے ساٹھ سال اپنے بیٹے داؤد کو دیدئیے تھے، تو حضرت آدم ؑ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے۔حضرت آدم ؑ بھو ل گئے اسی وجہ سے ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے، تو اس دن (کئے گئے معاہدے) کو تحریر کرنے یا گواہ قائم کرنےکا حکم دیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6167

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6168

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى [ص:43] بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ»

حضرت ابوہریرہ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "روحیں گروہوں کی شکل میں رہتی ہیں ان میں سے جو (عالم ارواح میں )ایک دوسرے سے شنا سا ہوتی ہیں وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جو ایک دوسرے سے شناسا نہیں ہوتی وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى [ص:43] بْنُ حَمَّادٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6168

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6169

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَقُولُ: الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، فَقَالَ: لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ يَكْذِبُ عَلَيَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، وَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى، وَمَنْ [ص:44] أَخْطَأَ ضَلَّ»، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَنْ عِلْمِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا

عبداللہبن دیلمی بیان کرتےہیں :میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓکی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا :لوگ یہ کہتےہیں کہ آپ یہ کہتےہیں : وہ شخص بد بخت ہوتا ہے، جو ماں کے پیٹ میں بد بخت ہو، تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: میں کسی شخص کیلئے یہ بات حلال قرار نہیں دیتا کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشادفرماتےہوئے سنا ہے۔ "بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیداکیا پھر اس نے ان پر اپنا نور ڈالا ، تو ان میں سے جسے نور ملا وہ ہدایت پاگیا اور جس تک وہ نور نہیں پہنچا وہ گمراہ ہوگیا اسی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں للہ تعالیٰ کے علم کےحوالے سے (تقدیر مقرر ہوچکی ہےاور ) قلم خشک ہوچکا ہے۔"

دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6169

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5398

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُ [ص:220] أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ خَطَبَ النَّاسَ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ نے کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیا ن کی۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بے شک خمر انگور، کھجور، گندم اور جَو اور مکئی سے بنائی جاتی ہے اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں‘‘۔

كُلِّ مُسْكِرٍ» ← «إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← [ص:220] أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ خَطَبَ النَّاسَ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ: ← أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، ← عَلَى الْفُضَيْلِ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5398

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5399

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، [ص:221] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْجَلَّالَةُ مَا كَانَ الْغَالِبُ عَلَى عَلَفِهَا الْقَذَارَةَ، فَإِذَا كَانَ الْغَالِبُ عَلَى عَلَفِهَا الْأَشْيَاءَ الطَّاهِرَةَ الطَّيِّبَةَ لَمْ تَكُنْ بِجَلَّالَةٍ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے جلالہ ( گندگی کھانے والے) جانوروں کا دودھ پینے اور مجشمہ اور مشکیزے سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ہے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) جلالہ اس جانور کو کہا جاتا ہے ‘ جس کی زیادہ خوراک گندگی ہو ‘ لیکن اگر اس کے چارے میں زیادہ تر چیزیں پاک ہوں پھر وہ جلالہ شمار نہیں ہو گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، [ص:395] ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5399

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5400

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى، بِالْأَبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوهَا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا»

ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا۔ اب تم ان کی زیار ت کرو۔ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا اب جتنا تمہیں مناسب لگے تم اسے اپنے پاس رکھو اور میں نے تمہیں صرف مشکیزے میں نبیذ پینے کی اجازت دی تھی اب تم ( جس برتن میں چاہو ) پیو البتہ نشہ آور چیز نہ پینا‘‘۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى، بِالْأُبُلَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5400

chevron_left Previous
1…573574575…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr