Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5381

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، قَالَ: [ص:202] حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَلَا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا، وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں’نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ تیار نہ کرو تازہ اور خشک کھجور کو ملا کر نبیذ تیار نہ کرو۔ ان میں سے ہر ایک کی نبیذ علیحدہ تیار کرو‘‘۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← [ص:149] ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5381

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5382

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْحَافِظُ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَلِيلُ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ حَرَامٌ»

حضرت جابر بن عبدا للہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے‘‘۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ← حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْحَافِظُ، بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5382

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5383

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ مِنْهُ، فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو عُثْمَانَ هَذَا اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ سَالِمٍ الْأَنْصَارِيُّ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : ہم نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس چیز کا پیالہ نشہ کر دے اس کو مٹھی بھر پینا بھی حرام ہے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو عثمان نامی راوی کا نام عمرو بن سالم انصاری ہے۔

أَبُو حَاتِمٍ «أَبُو عُثْمَانَ هَذَا اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ سَالِمٍ الْأَنْصَارِيُّ» ← «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَا أَسْكَرَ الْفَرْقُ مِنْهُ، فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ» ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5383

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5384

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ*، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَتَاهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ وِشِرَائِهِ وَالتِّجَارَةِ فِيهِ» فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ؟ » قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَيْعُهُ وَلَا شِرَاؤُهُ وَلَا التِّجَارَةُ فِيهِ لِمُسْلِمٍ، وَإِنَّمَا مَثَلُ مِنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ مَثَلُ بَنِي إِسْرَائِيلَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَلَمْ يَأْكُلُوهَا فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا» ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الطِّلَاءِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَا طِلَاؤُكُمْ هَذَا الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ؟ «قَالُوا: هَذَا الْعِنَبُ يُطْبَخُ ثُمَّ يُجْعَلُ فِي الدِّنَانِ، قَالَ: وَمَا الدِّنَانُ؟ قَالُوا: دِنَانٌ مُقَيِّرَةٌ، قَالَ: أَيُسْكِرُ؟ قَالُوا: إِذَا أَكْثَرَ مِنْهُ أَسْكَرَ، قَالَ: » فَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ «ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ، قَالَ: خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَجَعَ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبِذُوا نَبِيذًا فِي نَقِيرٍ وَحَنَاتِمَ وَدُبَّاءٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُهْرِيقَتْ، وَأَمَرَ بِسِقَاءٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ، فَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي يَسْتَقْبِلُ، وَمِنَ الْغَدِ [ص:205] حَتَّى يُمْسِيَ، فَإِذَا أَمْسَى فَشَرِبَ وَسَقَى، فَإِذَا أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے شراب کی خریدو فروخت اور اس کی تجارت کرنے کے بارے میں دریافت کیا حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ مسلمان ہو۔ انہوں نے جواب دیا:جی ہاں ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا: اسے فروخت کرنا اور اس کی تجارت کرنا کسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔ مسلمانوں میں سے جو شخص ایساکرے گا اس کی مثال بنی اسرائیل کی طرح ہوگی جن کے لئے چربی کو حرا م قرار دیا گیا ‘ تو انہوں نے اسے کھایا‘ تو نہیں ‘ لیکن اسے فروخت کرنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے پھر ان لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے طلاء کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا: چلاء کیا چیز ہے؟ جس کے بارے میں تم لوگ دریافت کر رہے ہو؟ انہوں نے بتایا : یہ انگور کا پکایاجاتا ہے پھر اسے مٹکے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے دریافت کیا دنان سے مراد کیا ہے۔لوگوں نے کہا: اس سے مراد مخصوص قسم کا مٹکا ہے حضرت عبد اللہ ؓ نے دریافت کیا: کیا وہ مشروب نشہ کر دیتا ہے۔ لوگوں نے بتایا جب اسے زیادہ پی لیا جائے ‘ تو نشہ کر دیتا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے ‘ پھر ان لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ سفر پر گئے ہوئے تھے جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے ‘تو آپﷺ کے اصحاب میں سے لوگوں نے نقیر ، حنتم دباء ( یعنی مخصوص قسم کے برتنوں ) میں نبیذ تیار کی تھی ‘ تو نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اسے بہا دیا گیا۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈال کر ( نبیذ تیار کی گھی) نبی اکرمﷺ کے لئے رات کے وقت نبیذ تیار کی گئی ‘ تو اس سے اگلے دن صبح آپ نے اسے پی لیا۔ اس کے بعدا گلی رات آئی اس کے بعد اگلے دن کی شام آئی جب شام آئی‘ تو آپ نے اسے پی لیا اور بلایا بھی جب اس سے اگلے دن کی صبح آئی ‘ تو آپ نے اسے بہا دیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5384

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5385

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأَبُلَّةِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلَاهُ، نَنْبِذُهُ غُدْوَةً، فَيَشْرَبُهُ عَشِيًّا، وَنَنْبِذُهُ عَشِيًّا فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : ہم نبی اکرمﷺ کے لئے مشکیزے میں نبیذ تیار کرتے تھے جس کے منہ کو بند کر دیا جاتا تھا۔ ہم صبح کے وقت نبیذ تیار کرتے تھے ‘ تو نبی اکرمﷺ شام کے وقت اسے پی لیتے تھے اور اگر ہم شام کے وقت تیار کرتے تھے‘ تو نبی اکرمﷺ صبح کے وقت اسے پی لیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5385

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5386

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ، قَالَ: «خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَجَعَ مِنْ سَفَرِهِ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبِذُوا نَبِيذًا فِي حَنَاتِمَ وَنَقِيرٍ وَدُبَّاءٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُهْرِيقَتْ، ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَاءٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ، فَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي تُسْتَقْبَلُ، وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى يُمْسِيَ، فَإِذَا [ص:209] أَمْسَى شَرِبَ وَسَقَى، فَإِذَا أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کےبارے میں یہ بات منقول ہے کچھ لوگ ان کے پاس آئے ان سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بتایا نبی اکرمﷺ سفر پر تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ جب آپﷺ واپس تشریف لائے ‘ تو آپﷺ کےاصحاب میں سے کچھ لوگوں نے حنتم نقیر اور دباء نامی مخصوص قسم کے برتنوں میں نبیذ تیار کی۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اسے بہا دیا گیا پھر نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالا گیا اور نبی اکرمﷺ کے لئے رات کے وقت نبیذ تیارکی گئی اگلے دن کی صبح آپ نے اسے پی لیا اس کے بعد اگلی رات آئی۔ اس کے بعد اگلا د ن آیا‘ یہاں تک کہ جب اس کی شام آئی ‘ تو آپﷺ نے اسےپیا اور لوگوں کو بھی پلایا اس کے اگلے د ن آپﷺ کے حکم کے تحت صبح کے وقت اس نبیذ کو بہا دیا گیا۔

النَّبِيذِ ← جَاءَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5386

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5387

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْبَذُ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ «

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کو جب نبیذ تیار کرنے کےلئے کوئی چیز نہیں ملتی تھی ‘ تو آپﷺ کے لئے پتھر سے بنے ہوئے پیالے میں نبیذ تیار کر لی جاتی تھی۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5387

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5388

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، سَمِعَ عُمَرَ عَلَى الْمِنْبَرِ، مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهِيَ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عمرؓ کو نبی اکرمﷺ کے منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ’’ اما بعد ! اے لوگوں جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی۔ انگور ، کھجور،شہد ،گندم اور جَو اور ویسے خمر ہر اس چیز کو کہتے ہیں: جو عقل کو ڈھانپ لے۔

عُمَرَ عَلَى الْمِنْبَرِ، مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5388

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6154

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ؟ »، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «تَذْهَبُ حَتَّى تَنْتَهِيَ تَحْتَ الْعَرْشِ عِنْدَ رَبِّهَا، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ، فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَتُوشِكُ أَنْ تَسْتَأْذِنَ فَلَا يُؤْذَنُ لَهَا، وَتَسْتَشْفِعَ وَتَطْلُبَ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا: اطْلَعِي مِنْ مَكَانِكِ، فَهُوَ قَوْلُهُ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ [ص:25] الْعَلِيمِ} [يس: 38]»

حضرت ابو ذرغفاری ؓبیان کرتےہیں :سورج غروب ہونے کے قریب ،میں نبی اکرمﷺ کےساتھ مسجد میں موجود تھا آپ ﷺ نے دریافت کیا:کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی :اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتےہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :یہ جاتا ہے ،یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے پھر اجازت مانگتا ہے ،تو اسے اجازت ملتی ہے عنقریب ایسا وقت آئے گا یہ اجازت مانگے گا ،تو اسے اجازت نہیں ملے گی وہ اس سے سفارش طلب کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے ،جب اس طرح کی صورت حال ہوتی ہے ، تو اسے کہا جاتا ہے تم اپنی جگہ سے طلوع ہو جاؤ ۔اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: "سورج اپنے مخصوص راستے پر چلتا ہے یہ غالب اور علم رکھنے والی ذات کا مقرر کردہ (نظام ) ہے"۔

«أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. ← كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← الْمُلَائِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6154

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6155

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا قَدْ وُصِفَ لَكُمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "فرشتوں کو نور سے پیدا کیاگیا ہے جنات کو آگ سے پیداکیا گیا ہےاور انسانوں کو اس چیز سے پیدا کیاگیا ہے، جس کے بارے میں تمہیں بتایاگیا ہے۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6155

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6156

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْجِنُّ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صِنْفٌ كِلَابٌ وَحَيَّاتٌ، وَصِنْفٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ، وَصِنْفٌ يَحُلُّونَ وَيَظْعَنُونَ»

حضرت ابو لثلبہ حشنی ؓ بیان کرتےہیں ،میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے:

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6156

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6157

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ صَيْفِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، مَوْلَى الْأَنْصَارِ أَخْبَرَ بِهِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ، عِنْدَهُ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ. فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا. قَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أُرِيدُ قَتْلَهَا. قَالَ: فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارٍ فَعَايَنْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ، وَكَانَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ، فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ، فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ. فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ، فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ. فَقَالَ: لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَمِ الْحَيَّةُ، فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا، فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ». ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ بِالْمَدِينَةِ قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلَاثِ»

ابو سائب بیان کرتےہیں: میں حضرت ابو سعید خدری ؓکی خدمت میں حاضر ہوا میں ان کے پاس بیٹھا ہو اتھا اسی دوران مجھے ان کے پلنگ کے نیچے کسی چیز حرکت کرنے کی آواز محسوس ہوئی میں نے جائزہ لیا، تو وہاںسانپ موجود تھا،توحضرت ابو سعید خدری ؓ نے دریافت کیا ہو اہے میں نے کہا:یہاں سانپ موجود ہے۔ انہوں نے دریافت کیا تم کیا کرنا چاہتےہو ۔ میں نے جواب دیا :میں اسے مارنا چاہتاہوں ،تو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے اس محلے میں موجود ایک گھر کی طرف اشارہ کیا جو مجھے نظر آرہا تھا ۔ انہوں نے فرماہا:میرا چچا زاد اس گھر میں رہتا تھا غزوۂ احزاب کے موقع پر اس نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگی اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی نبی اکرمﷺ نے اسے اجازت دیدی ۔ آپﷺ نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے ہتھیارساتھ لے کر جائے جب وہ اپنا محلّہ میں آیا ،تو اس نے اپنی بیوی کو گھر کے دروازے پر کھڑا ہوا پایا اس نے نیزے کے ذریعے اس عورت کی طرف اشارہ کیا اس عورت نے کہا :آپ میرے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیجئے پہلے اس بات کا جائزہ لیں میں کیوں باہر آئی ہوں ۔ وہ شخص گھر کے اندر گیا وہاں ایک عجیب وغریب سانپ موجود تھا اس نے اپنے نیزے سے سانپ کو مارا اور پھر اسے اس نیزے میں پررو کر باہر لے آیا وہ سانپ ہل جل رہا تھا ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتےہیں :مجھے نہیں پتہ کہ ان دونوں میں سے کون جلدی مرا؟ وہ آدمی یا سانپ ۔ اس کی قوم کے افراد نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمارے ساتھی کو واپس کر دے ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: تم اپنے ساتھی کےلیے دعا مغفرت کرو پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :کچھ جنات مدینہ منورہ میں رہتے ہین جو اسلام قبول کر چکے ہیں جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو ،تو تین مرتبہ ڈراؤ پھر وہ تمہارے سامنے آجائے ، تو تم اسے قتل کرو تم تین مرتبہ (اسے ڈرانے کے بعد )پھر قتل کرنا۔

أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا. ← تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ. ← جَالِسٌ، عِنْدَهُ ← أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَبَيْنَا ← أَبِي السَّائِبِ ← صَيْفِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، مَوْلَى الْأَنْصَارِ أَخْبَرَ بِهِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6157

chevron_left Previous
1…571572573…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr