Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6141

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، [ص:9] عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «هَلْ تَرَوْنَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ الْقَمَرَ أَوِ الشَّمْسَ بِغَيْرِ سَحَابٍ؟ »، قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «فَاللَّهُ أَعْظَمُ». قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ قَالَ: «فِي عَمَاءٍ، مَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَمَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «وَهِمَ فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ مِنْ حَيْثُ فِي غَمَامٍ إِنَّمَا هُوَ فِي عَمَاءٍ، يُرِيدُ بِهِ أَنَّ الْخَلْقَ لَا يَعْرِفُونَ خَالِقَهُمْ مِنْ حَيْثُ هُمْ، إِذْ كَانَ وَلَا زَمَانَ وَلَا مَكَانَ، وَمَنْ لَمْ يُعْرَفْ لَهُ زَمَانٌ، وَلَا مَكَانٌ وَلَا شَيْءٌ مَعَهُ، لِأَنَّهُ خَالِقُهَا، كَانَ مَعْرِفَةُ الْخَلْقِ إِيَّاهُ كَأَنَّهُ كَانَ فِي عَمَاءٍ عَنْ عِلْمِ الْخَلْقِ، لَا أَنَّ اللَّهَ كَانَ فِي عَمَاءٍ إِذْ هَذَا الْوَصْفُ شَبِيهٌ بِأَوْصَافِ الْمَخْلُوقِينَ»

حضرت ابورزین عقیلیؓ بیان کرتےہیں:میں نے عرض کی :یارسول اللہ(ﷺ)! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:کیا جب بادل نہ ہو ،تو تم چودھویں رات کے چاند کو یا سورج کو دیکھ سکتے ہو ۔لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:،تو اللہ تعالیٰ اس سےزیادہ عظیم ہے۔میں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! ہمار اپروردگار آسمان وزمین کو تخلیق کرنے سے پہلے کہا ں تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ مقام عماء میں تھا (یعنی اس کا ادراک حاصل نہیں کیا جاسکتا ) اس کے اوپر اس کے نیچے خلا تھی۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں:) ان الفاظ کو نقل کرنے میں حماد بن سلمہ نامی کو وہم ہو اانہوں نے لفظ غمام نقل کر دیا ہے، حالانکہ لفظ عماء ہے او ر اس کے ذریعے نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے کہ مخلوق میں یہ صلاحیت نہیں ہےکہ اپنے خالق کا حقیقی فیم حاصل کر سکے کیونکہ ان کا پروردگا ر اس وقت بھی موجود تھا ، جب زمانہ اور مکان موجود نہیں تھے اور نہ ہی زمانے یا مکان یا کسی اور چیز کے ساتھ شناخت حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ، تو ان سب چیزوں کا پروردگار ہے ،تو اس کی ذات کے بارے میں مخلوق کی معرفت یوں ہو گی جیسے اس کی ذات مخلوق کے علم کے حوالے سے پردہ عماء میں ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ عماء کی کیفیت میں تھا کیونکہ یہ وہ صفت ہے جو مخلوق کے اوصاف سے مشابہت رکھتی ہے۔

قُلْتُ ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، [ص:9] ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6141

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6142

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:11] عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ»، قَالُوا: قَدْ بَشَّرْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطِنَا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ»، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَا لِنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ، مَا كَانَ؟ فَقَالَ: «كَانَ اللَّهُ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ». قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ بْنَ حُصَيْنٍ رَاحِلَتَكَ أَدْرِكْهَا، فَقَدْ ذَهَبَتْ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُهَا، فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُونَهَا، وَايْمُ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ وَلَمْ أَقُمْ

حضرت عمران بن حصین ؓبیان کرتےہیں :میں نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے بنو تمیم !تم لوگ خوشخبری قبول کرو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہمیں پہلے بھی خوش خبری دے چکے ہیں آپﷺ ہمیں (مال ودولت )عطا کیجئے پھر یمن تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرمﷺ خدمت میں حاضر ہوئے ۔آپﷺ نے فرمایا:اے اہل یمن تم لوگ خوش خبری حاصل کر لو کیونکہ بنو تمیم نے اسے حاصل نہیں کیا ۔ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم اسے قبول کرتےہیں ہم اس لیے حاضر خدمت ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور آپﷺ سے اس معاملے کے آغاز کے بارے میں دریافت کریں کہ یہ کیسے تھا (یعنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا)، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:پہلے اللہ تعالیٰ تھا اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی عرش پانی پر تھا ، پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اس نے ذکر (یعنی لوح محفوظ ) میں ہر چیز تحر یر کردی۔ راوی بیان کرتےہیں :پھر ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا:اے عمران اپنی سواری کو پکڑیں کیونکہ وہ چلی گئی ہے ، تو میں اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا سراب اس سے پہلے ہی منقطع ہو جاتا تھا ۔ اللہ کی قسم! میری یہ خواہش ہےکہ وہ چلی گئی ہوتی لیکن میں وہاں سے نہ اٹھتا۔

قَدْ بَشَّرْتَنَا ← «اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ»، ← إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْاَعْمَشِ ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ {ص:98} عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6142

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6143

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ يَكْتُبُهُ عَلَى نَفْسِهِ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِيَ تَغْلِبُ غَضْبَى». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » وَهُوَ مَرْفُوعٌ فَوْقَ الْعَرْشِ «مِنْ أَلْفَاظِ الْأَضْدَادِ الَّتِي تَسْتَعْمِلَ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا. يُرِيدُ بِهِ تَحْتَ الْعَرْشِ لَا فَوْقَهُ، كَقَوْلِهِ جَلَا وَعَلَا: {وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ} [الكهف: 79] يُرِيدُ بِهِ: أَمَامَهُمْ، إِذْ لَوْ كَانَ وَرَاءَهُمْ لَكَانُوا قَدْ جَاوَزُوهُ، وَنَظِيرُ هَذَا قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلَا: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا} [البقرة: 26] أَرَادَ بِهِ: فَمَا دُونَهَا»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ، تو اس نے اپنی کتاب میں تحریر کیا جو چیز اس نے اپنی ذات پر لازم کی ہے اور وہ تحریر عرش کے اوپر رکھی ہوئی ہے ( اس میں یہ تحریر ہے) "بے شک میری رحمت میرے رب غضب پر غالب ہے۔" (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں :) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : "وہ عرش کے اوپر رکھی ہوتی ہے" یہ ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے، جو عرب اپنے محاورے میں استعمال کرتےہیں ، حالانکہ اس سے مراد عرش کےنیچے ہے عرش کے اوپر مراد نہیں ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ "ان کے پیچھے ایک بادشاہ ہے " اس سے مراد یہ ہے ان کے آگے ایک بادشاہ ہے اگر وہ پیچھے ہوتا ،تو وہ لوگ وہاں سے گزر آئے تھے۔ اس کی مثال اللہ تعالی ٰ کا یہ فرمان ہے: "بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا نہیں کرتا کہ وہ مچھر کی مثال بیان کرے یاجو اس سے اوپر ہے (اس کی مثال بیان کرے) " اس سے مراد یہ ہے کہ جو چیز مچھر سے بھی نیچے ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6143

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6144

أَخْبَرَنَا ابْنُ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابٍ عِنْدَهُ: غَلَبَتْ، أَوْ قَالَ: سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضْبَى. قَالَ: فَهِيَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ». أَوْ كَمَا قَالَ

حضرت ابوہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق (کو پیدا کرنے ) کا فیصلہ کیا، تو اس نےاپنے پاس موجود کتاب میں یہ تحریر کیا کہ میری رحمت میرےغضب پر غالب آگئی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) میری رحمت میرے غضب سے سبقت لے گئی ہے۔" نبی اکرمﷺ فرماتےہیں ، تو یہ تحریر اللہ تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر ہے۔ (راوی کہتےہیں :)یا شاید جیسے بھی آپﷺ نے ارشادفرمایا۔

فَهِيَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ». أَوْ كَمَا ← سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضْبَى. ← فِي كِتَابٍ عِنْدَهُ: غَلَبَتْ، أَوْ ← «لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعْتَمِرٌ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← ابْنُ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6144

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6145

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «حِينَ خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ: أَنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي»

حضرت ابوہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "جب اللہ تعالی ِ نے مخلوق کو پیدا کر دیا تو اس نے اپنے رحمت کےذریعے اپنی ذات پر رحمت کو لازم قرار دیا (اور یہ تحریر کیا) "بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب آگئی۔"

بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ: أَنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي» ← «حِينَ خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6145

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5370

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ

عامر بن سعد اپنے والد( حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اس چیز کے تھوڑے استعمال سے بھی منع کیاہے ‘ جس کی زیادہ مقدار نشہ کر دے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5370

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5371

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ سے بتع ( نامی مخصوص قسم کا شراب ) کے بارے میں دریافت کیاگیا ‘ تو آپﷺ نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے وہ حرام ہے۔

الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ» ← عَائِشَةَ، تَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٌ، وَيُونُسُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5371

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5372

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:194] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ سے بتع ( مخصوص قسم کی شراب ) کےبارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپﷺ نے ارشادفرمایا: ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے وہ حرام ہے۔

الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ» ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ، [ص:348] ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5372

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5373

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُمَا: «بَشِّرَا وَيَسِّرَا، وَعَلِّمَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا» فَلَمَّا وَلَّى مُعَاذٌ رَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعِنَبِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ، وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «غَرِيبٌ غَرِيبٌ»

سعید بن بردہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے انہیں اور حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا۔ آپ ﷺ نے ان دونوں حضرات سے فرمایا تم دونوں خوشخبری سناتا اور آسانی فراہم کرنا تم دونوں تعلیم دینا اور متنفر کرنے کی کوشش نہ کرنا اور تم ایک دوسرے کے ساتھ رہنا جب حضرت معاذ مڑکر چلے گئے ‘ تو حضر ت ابو موسیٰ اشعری واپس آئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ وہاں انگور سے ایک شراب بنائی جاتی ہے ‘جسے پکا لیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جاتی ہے اور مزر ہے ‘ جسے جو سے بنایا جاتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہو وہ چیز جو نماز سے نشہ کر دے ‘ وہ حرام ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ روایت غریب غریب ( یعنی انتہائی زیادہ غریب ) ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5373

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5374

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: [ص:196] سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ مُسْكِرٍ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ حَرَامٌ»

حضرت معاویہ بن ابو سفیانؓ بیان کرتے ہیں ‘میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ ہر نشہ آور چیزہر مومن پر حرام ہے‘‘۔

«كُلُّ مُسْكِرٍ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ حَرَامٌ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ، ← [ص:149] ← يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَطَّارُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5374

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5375

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ، بِمَرْوَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ بِمَرْوَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5375

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5376

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:197] عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، أَمَرَنَا أَنْ يَنْزِلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ، فَقَالَ لَنَا: «يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا» فَلَمَّا قُمْنَا قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا: الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَالْمِزْرُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُوتِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كُلُّ مُسْكِرٍ يُسْكِرُ عَنِ الصَّلَاةِ» قَالَ: «وَأَتَانِي مُعَاذٌ يَوْمًا وَعِنْدِي رَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ، فَسَأَلَنِي مَا شَأْنُهُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقُلْتُ لِمُعَاذٍ: اجْلِسْ» فَقَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِي أَجْلِسُ حَتَّى أَعْرِضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ، فَإِنْ قَبِلَ وَإِلَّا ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ، فَسَأَلَنِي مُعَاذٌ يَوْمًا: كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَقُلْتُ: «أَقْرَؤُهُ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى فِرَاشِي أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا» قَالَ: وَسَأَلْتُ مُعَاذًا: «كَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ؟ » قَالَ: أَقْرَأُ وَأَنَامُ ثُمَّ أَقُومُ فَأَتَقَوَّى بِنَوْمَتِي عَلَى قَوْمَتِي، ثُمَّ أَحْتَسِبُ نَوْمَتِي بِمَا أَحْتَسِبُ بِهِ قَوْمَتِي

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے مجھے اور حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا ‘ تو آپﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے قریب رہے ۔آپﷺ نے ہم سے فرمایا تم دونوں آسانی فراہم کرنا تنگی کا شکار نہ کرنا خوشخبری سنانا متنفرنہ کرنا جب ہم اٹھنے لگے ‘ تو میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہمیں دو طرح کے مشروبات کے بارے میں حکم بیان کر دیجئے جو ہم تیار کرتے ہیں۔ ایک بتع ہے‘جو شہد سے بنایا جاتا ہے ۔ اس کی نبیذ تیار کی جاتی ہے ‘ یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جاتی ہے اور مزر ہے جسے جو اور مکئی سے بنایا جاتا ہے ‘ اس کی نبیذ ہوتی ہے‘ یہاں تک کہ اس میں شدت آ جاتی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ کو کیونکہ جامع اور مانع کلمات عطا کئےگئے تھے اس لئے آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر ہر وہ چیز حرام ہے ‘ جو نشہ آور ہو جو نماز سے روک دے۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک دن حضرت معاذ ؓ میرے پاس آئے اس وقت میرے پاس ایک شخص موجود تھا جو پہلے یہودی تھا ‘ پھر اس نے اسلام قبول کیا پھر یہودی ہو گیا۔ انہوں نے مجھ سے اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا ‘ تو میں نے حضرت معاذ ؓ سے کہا آپ تشریف رکھیں۔ انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا‘ جب تک میں اس اسلام کی پیشکش نہیں کرتا اگر یہ اسے قبول کر لے گا‘ تو ٹھیک ہے ورنہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا ۔ حضرت معاذ ؓ نے اسے اسلام کی پیشکش کی۔ اس نے اسلام قبو ل کرنے سے انکار کر دیا‘ تو حضرت معاذؓ نے اس کی گردن اڑا دی ایک دن حضرت معاذؓ نے مجھ سے دریافت کیا تم قرآن کیسے پڑھتے ہو۔ میں نے جواب دیا: میں قیام کی حالت میں بیٹھ کر اور بستر پر لیٹ کر بھی اسے پڑھ لیتا ہوں۔ حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت معاذؓ سے دریافت کیا آپ کیسے پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا: اس کی تلاوت کرتا ہوں پھر سو جاتا ہوں پھر قیام کی حالت میں پڑھتا ہوں ‘ تو میں اپنی نیند کے ذریعے اپنے قیام کے بارے میں قوت حاصل کرتا ہوں اور مجھے اپنی نیند سے بھی اسی ثواب کی امید ہے ‘ جو اپنے قیام کرنے کے حوالے سے ثواب کی امید ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5376

chevron_left Previous
1…569570571…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr