Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6081

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ، فَاكْتَوَيْنَا، فَمَا أَفْلَحْنَا، وَلَا أَنْجَحْنَا»

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں (علاج کے طور پر ) داغ لگوانے سے منع کیا تھا ہم نے داغ لگوائے نہ ، ہم نے فلاح پائی اور نہ کامیابی حاصل کی ۔

الْكَيِّ، فَاكْتَوَيْنَا، فَمَا أَفْلَحْنَا، وَلَا أَنْجَحْنَا» ← نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6081

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6082

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «جَاءَ نَاسٌ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَاحِبٍ لَهُمْ أَنْ يَكْوُوهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلُوهُ ثَلَاثًا، فَسَكَتَ، وَكَرِهَ ذَلِكَ» *

حضرت عبداللہ ؓبیان کرتےہیں : کچھ لوگ آئےانہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنے ساتھی کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اسے داغ لگوانا چاہتےہیں نبی اکرم ﷺ خاموش رہے انہوں نے تین مرتبہ اس بارے میں دریافت کیا، لیکن نبی اکرمﷺ خاموش رہے آپﷺ نے اسے پسند نہیں کیا ۔

صَاحِبٍ لَهُمْ أَنْ يَكْوُوهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلُوهُ ثَلَاثًا، فَسَكَتَ، وَكَرِهَ ذَلِكَ» ← «جَاءَ نَاسٌ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6082

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6083

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، [ص:447] عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدٌ فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ، فَنَزَفَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَنَزَفَهُ فَحَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ أُخْرَى» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الزَّجْرُ عَنِ الْكَيِّ فِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ إِنَّمَا هُوَ الِابْتِدَاءُ بِهِ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ تُوجِبُهُ، كَمَا كَانَتِ الْعَرَبُ تَفْعَلُهُ تُرِيدُ بِهِ الْوَسْمِ، وَخَبَرُ جَابِرٍ فِيهِ إِبَاحَةُ اسْتِعْمَالِهِ لِعِلَّةٍ تَحْدُثُ مِنْ غَيْرِ الِاتِّكَالِ عَلَيْهِ فِي بُرْئِهَا ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُّ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتےہیں :غزوہ احزاب کےموقع پر حضر ت سعد ؓ کو تیر لگاان کی ایک رگ کٹ گئی جس میں سے خون بہنےلگا ان کا بازو پھول گیا ۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے ، لیکن ان کا خون بہتا رہا ۔ نبی اکرمﷺ نے دوسری مرتبہ انہیں آگ کے ذریعے داغ لگوائے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6083

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6084

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ*، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ، فَرَأَيْتُ أُمَّتِي، فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ وَهَيْئَتُهُمْ، قَدْ مَلَؤُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَضِيتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، قَالَ: وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»، فَقَالَ عُكَّاشَةُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ»، ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ آخَرُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیاگیا جب میں نے اپنی امت کو دیکھا ،تو ان کی کثرت اور ان کی حالت مجھے بہت اچھی لگی انہوں نے راستوں اور پہاڑوں کو بھردیاتھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد کیا تم راضی ہو میں نے عرض کی: جی ہاں اے میرے پروردگار ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے ہمراہ ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو (زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق) جھاڑپھونک نہیں کرتے(علاج کے طور پر ) داغ نہیں لگواتے اور فال نہیں نکالتےاور وہ اپنے پروردگار پر توکل کرتےہیں ۔ حضرت عکاشہ ؓ نے عرض کی: آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرمﷺ نےدعاکی: اے اللہ ، تو اسے ان میں شامل کرلے پھر ایک اور صاحب نے عرض کی: آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعاکیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے ، تو نبی اکرم اﷺ نے ارشاد فرمایا:عکاشہ تم پر سبقت لےگیا ہے

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6084

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6085

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ حَلَقَةً، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟ » قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ: «مَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا، انْبِذْهَا عَنْكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَمُتْ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ عَلَيْهَا»

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں چھلادیکھا ،تو دریافت کیا یہ کس وجہ سے ہے اس نے بتایا یہ کمزوری کی وجہ سے ہے ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: یہ کمزوری میں صرف اضافہ کرے گا اسے تم اتار دو کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم نے یہ پہنا ہوا ، تو پھر تمہیں اس کے سپرد کردیا جائےگا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6085

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6086

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُبَيْدٍ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ عَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ»

حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتےہیں ،میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے: "جو شخص (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق ) تعویذ لٹکائے،تو اللہ تعالیٰ اس کے (مقصد کو )پورا نہ کرے اور جو شخص (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) کھاگہ لٹکائے اللہ تعالیٰ اس کو (پورا نہ کرے) "

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُبَيْدٍ الْمَعَافِرِيَّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6086

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6087

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ»

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں :

«مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6087

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5310

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْعَقِيقَةِ فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»

یوسف بن ماہک بیان کرتے ہیں : ہم سیدہ حفصہ بنت عبد الرحمٰن ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے ا ن سے عقیقے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بتایا : سیدہ عائشہؓ نے انہیں یہ بات بتائی ہے: نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ( عقیقے میں قربان کی جائے گی)

الْعَقِيقَةِ فَأَخْبَرَتْنَا أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهَا ← دَخَلْنَا عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَسَأَلْنَاهَا ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5310

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5311

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «وَهُوَ الْيَافِعِيُّ شَيْخٌ ثِقَةٌ مِصْرِيٌّ»، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ يَوْمَ السَّابِعِ وَسَمَّاهُمَا، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ عَنْ رَأْسِهِ الْأَذَى»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی پیدائش کے ساتویں دن نبی اکرمﷺ نے ان کا عقیقہ کیا تھا اور ان کا نام رکھا تھا۔ آپ نے یہ حکم دیا تھا کہ ان کے سر پہ تکلیف دہ چیز ( یعنی بولوں کو ) صاف کر دیا جائے۔

رَأْسِهِ الْأَذَى» ← حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ يَوْمَ السَّابِعِ وَسَمَّاهُمَا، وَأَمَرَ أَنْ يُمَاطَ ← «عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ: «وَهُوَ الْيَافِعِيُّ شَيْخٌ ثِقَةٌ مِصْرِيٌّ»، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5311

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5312

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقِيقَةِ قَالَ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا»

سید ہ اُم کرزؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عقیقہ کے بارے میں نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی۔ تمہیں کوئی نقصان نہیں خواہ وہ بکرا ہو یا بکری ہو۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا» ← النَّبِيَّ فِي الْعَقِيقَةِ ← أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّهَا ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5312

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الْعَقِیقَۃِ · حديث 5313

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيِّينَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْعَقِيقَةِ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» فَقُلْتُ لَهُ، يَعْنِي عَطَاءً: مَا الْمُكَافِئَتَانِ؟ قَالَ: مِثْلَانِ ذُكْرَانُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْهِ [ص:130] مِنْ إِنَاثِهِمَا

سیدہ اّم بنو کرزؓ بیان کرتی ہیں :میں نے نبی اکرمﷺ کو عقیقہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہو گی۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ان سے یعنی عطا سے دریافت کیا برابر کی ہونے سے مراد کیا ہے ‘ تو انہوں نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے : وہ دونوں ایک جیسی ہوں تاہم وہ بکرے ہوں ‘ تو یہ میرے نزدیک بکریوں کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوں گے۔

مِثْلَانِ ذُكْرَانُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْهِ [ص:130] مِنْ إِنَاثِهِمَا ← الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ» فَقُلْتُ لَهُ، يَعْنِي عَطَاءً: مَا الْمُكَافِئَتَانِ؟ ← فِي الْعَقِيقَةِ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيِّينَ، ← حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي خُثَيْمٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Bab Al Aqiq · Hadith 5313

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ ذِکْرُ اِبَاحَۃِ الشُّرْبِ فِی الْاَقْدَاحِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ کَرِھَہُ مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ · حديث 5314

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ فَسَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ، فَرَدَّ الرَّجُلُ وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فِي سَاعَةٍ حَارَّةٍ، فَقَالَ لَهُ: «إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنَّةٍ فَاسْقِنَاهُ، وَإِلَّا كَرَعْنَا» وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ: عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاءٌ بَائِتٌ، فَانْطَلِقْ إِلَى الْعَرِيشِ، وَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى عَرِيشَةٍ، فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً، ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَادَ فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ [ص:135] مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ایک انصاری کے ہاں تشریف لے گئے۔ آپﷺ کے ہمراہ ایک صاحب بھی تھے ‘ نبی اکرمﷺ نے اور آپ ﷺ کے ساتھی نے سلام کیا۔ اس شخص نے جواب دیا: اس شخص نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں گرمی شدید ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا اگر تمہارے پاس ایسا پانی ہو جو گزشتہ رات سے مشکیزے میں پڑا ہوا ہو‘ تو وہ ہمیں پلاؤ ورنہ ہم ( کھیت کو پانی دینے والا ) پانی پی لیتے ہیں ۔ وہ شخص اس وقت اپنے باغ کو سیراب کر رہا تھا ۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میرے پاس ایسا پانی ہے ‘ جو رات سے پڑ ا ہوا ہے ‘ پھر وہ چھپر کے پاس گیا وہ ان دونوں کو لےکر اس کے نیچے آ گیا۔ اس نے ایک مشکیزے میں پانی انڈیلا پھر اپنی بکری کا دودھ دوہ کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ نبی اکرمﷺ نے اسے پی لیا پھر اس نے دوبارہ دوہ لیا ‘ تو وہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ تشریف لانے والے صاحب نے بھی اسے پی لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Mentioning the permissibility of drinking in a blasphemy against the saying of those who hate it among the mystics · Hadith 5314

chevron_left Previous
1…559560561…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr