صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4855
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْعَدْلُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللَّهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ، وَالنَّهْبِ، فَلَمَّا كَفَى اللَّهُ الْعَدُوَّ، وَرَجَعَ الَّذِينَ طَلَبُوهُمْ، قَالُوا: لَنَا النَّفْلُ نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ وَبِنَا نَفَاهُمُ اللَّهُ وَهَزَمَهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنَّا، هُوَ لَنَا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنْ لَا يَنَالَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، قَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ، وَالنَّهْبِ وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا هُوَ لَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] الْآيَةَ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَفِّلُهُمْ، إِذَا خَرَجُوا بَادِينَ الرُّبُعَ، وَيُنَفِّلُهُمْ إِذَا قَفَلُوا الثُّلُثَ، وَقَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبٍ بَعِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسِ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ، وَالْمَخِيطَ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ، فَإِنَّهُ [ص:194] عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ» قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ، وَيَقُولُ: «لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ»
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ بدر کی طرف روانہ ہوئے، تو آپﷺ کا دشمن سے سامنا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا تو مسلمانوں کا ایک گروہ ان کے ساتھ لڑنے کے لیے ان کے پیچھے گیا دوسرا گروہ نبی اکرم ﷺ کے آس پاس ٹھہر گیا۔ ایک گروہ نے لشکر اور لوٹنے کے معاملات سنبھال لیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کی طرف سے اطمینان کر دیا اور وہ لوگ واپس آ گئے جو ان کے پیچھے گئے تھے، تو انہوں نے کہا : اضافی ادائیگی ہمیں ملے گی، کیونکہ ہم دشمن کے پیچھے گئے تھے اور ہماری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہاں سے دو ر کیا ہے اور انہیں پسپا کیا ہے، جو نبی اکرمﷺ کے اردگرد پہرہ دے رہے تھے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! تم اس کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو وہ ہمیں بھی ملے گا، کیونکہ ہم نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کر رہے تھے تا کہ کہیں کوئی دشمن آپﷺ کو نقصانہ پہنچا دے۔ وہ لوگ جو لشکر اور لوٹنے کے نگہبان تھے۔ وہ بولے: اللہ کی قسم ! تم لوگ اس کے ہم سے زیادہ حق دا رنہیں ہو یہ ہمیں ملے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”لو گ تم سے اضافی ادائیگی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “۔ تو نبی اکرم ﷺ نے وہ مال غنیمت ان کے درمیان تقسیم کر دیا اور نبی اکرم ﷺ انہیں عطیے کے طور پر چیزیں دیتے رہے۔ جب وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے تھے ، تو شروع میں ایک چوتھائی دیا گیا اور جب وہ واپس آ گئے تھے ، تو انہیں ایک تہائی حصہ اضافی ادائیگی کے طور پر دیا گیا۔ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے اونٹ کے پہلو کا بال پکڑ کر ارشا د فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں مال غنیمت کے طور پر جو کچھ عطا کرتا ہے اس میں سے اس (بال جتنی بھی) کوئی چیز میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا اس لیے تم سوئی اور دھاگہ تک ادا کرو اور خیانت کرنے سے بچنا ، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے کرنے والے کے لیے رسوائی کا باعث ہوگی۔ تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے، کیونکہ وہ جنت کے دروازوں میں سے ایک ردوازہ ہے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پریشانی اور غم کو ختم کر دیتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ اضافی ادائیگی کو ناپسند کرتے تھے آپﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے: اہل ایمان میں سے خوش حال لوگ اپنے غریبوں کو یہ دے دیں۔
عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← مَکْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْعَدْلُ
Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4855
