Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1732

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ بِفَمِ الصِّلْحِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حبان الأنصاري عن بن مُحَيْرِيزٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَقَالَ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدْ أَكْمَلَهُنَّ وَلَمْ يَنْتَقِصْهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ" 1. [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عُبَادَةَ: "كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ" يُرِيدُ بِهِ أَخْطَأَ. وَكَذَلِكَ قَوْلُ عَائِشَةَ حَيْثُ قَالَتْ لِأَبِي هُرَيْرَةَ. وَهَذِهِ لَفْظَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ لِأَهْلِ الْحِجَازِ إذا أخطأ أحدهم يقال له كذب2. وَاللہُ جَلَّ وَعَلَا نَزَّہَ اَقْدَارَ اَصْحَابِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ اِلْزَاقِ الْقَدْحِ بِھِمْ حَیْثُ قَالَ:( یَوْمَ لاَ یُخْزِی اللہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوا مَعَہُ نُورُ ھُمْ ۔۔۔)(التحریم 8)۔ فَمَنْ اَخْبَرَ اللہُ جَلَّ وَعَزَّ اَنَّہٗ لَا یُخْزِیہِ فِیْ الْقِیَامَۃِ فَبِالْحَرِیِّ اَنْ لَا یُجْرَجَ وَالرَّجُلُ الَّذِیْ سَاَلَ عُبَادَۃَ ھٰذَا: ھُوَ اَبُوْ رفیع المخدجی۔

ابن محیریز بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا کہ اے ابو ولید! میں نے حضرت ابو محمد انصاری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وتر واجب ہیں۔ حضرت عبادہ نے کہا ابو محمد نے غلط کہا ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد کرتے ہوئے سنا ہے: "پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جو شخص انہیں ادا کرے گا اور مکمل کرے گا اور ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی نہیں کریگا، تو اس کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عہد ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص انہیں ادا کرے گا۔ ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی کرے گا، تو اس شخص کیلئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے اور اگر وہ چاہے گا، تو وہ عذاب دے گا اور اگر چاہے گا، تو اس پر رحم کرےگا۔" (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ کہنا "ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے" اس سے مراد انہوں نے غلط کہا ہے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو کہا تھا، اس سے بھی یہی مراد ہے، اہل حجاز کا یہ محاورہ ہے کہ جب کوئی شخص غلط بات کہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے "اس نے جھوٹ کہا ہے"۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اس چیز سے محفوظ رکھا ہے کہ ان میں کوئی قابلِ اعتراض چیز ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اس دن اللہ نے نبی اور اس کے ساتھ موجود اہلِ ایمان کو رسوا نہیں کیا، ان کا نور"۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی کہ وہ قیامت کے دن انہیں رسوا نہیں کرے گا تو وہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ ان پر جرح نہ کی جائے۔ حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کرنے والا شخص ابورفیع مخدجی تھا۔

عُبَادَةُ کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ← الوتر واجب ← أَبَا مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ ← يَا أَبَا الْوَلِيدِ، إِنِّي ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← بن محيريز ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ بِفَمِ الصِّلْحِ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1732

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1733

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: الصَّلَوَاتْ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ کَفَّارَاتٌ لَمَّا بَیْنَھُمَّ مَا لَمْ یَغْشَ الکبائر۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "پانچ نمازیں ایک جمعہ دوسرے جمعے تک (درمیان میں) کیے جانے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جب تک کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1733

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1734

أخبرنا بن قتيبة حدثنا حرملة حدثنا بن وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ1 رَأَى فَتًى وَهُوَ يُصَلِّي قَدْ أَطَالَ صَلَاتَهُ وَأَطْنَبَ فِيهَا فَقَالَ: مَنْ يعرف هذا؟ فقال رجل: أنا، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: لَوْ کُنْتُ اَعْرِفُہُ لَاَمَرْتہُ اَنْ یُطِیلَ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُودَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا قَامَ یُصَلِّی اُتِیَ بِذُونُوبِہٖ فَوَضَعَتْ عَلٰی رَاْسِہِ اَوْ عَاتِقِہِ فَکُلَّمَا رَکَعَ اَوْ سَجَدَ تساقطت عنہ۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔انہوں نے ایک شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے طویل نماز ادا کی تھی اور اس کو خوب کھینچا تھا۔ حضرت عبد اللہ نے دریافت کیا کون شخص اسے جانتا ہے، تو ایک صاحب نے جواب دیا: میں، حضرت عبد اللہ نے فرمایا: اگر میں اسے جانتا ہوتا تو میں اسے ہدایت کرتا کہ یہ رکوع اور سجدہ طویل کرے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ "بندہ جب کھڑا ہوکر نماز ادا کرتا ہے، تو اس کے گناہ لائے جاتے ہیں اور وہ اس کے سر یا کندگے پر کھ دئیے جاتے ہیں اور جب وہ رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے، تو وہ اس سے گر جاتے ہیں"۔

جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَرْطَأَةَ، ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1734

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1735

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَامِنْ عَبْدٍ یَسْجُدُ لِلہِ سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَ اللہُ لَہٗ بِھَا دَرَجَۃً عَنْہُ بِھَا خَطِیئَۃً۔ قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِیتُ اَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَاَلْتُہُ فَقَالَ لِیْ مِثْلَ ذَلِکَ۔(2:1)

معدان بن طلحہ یعمری بیان کرتے ہیں میری ملاقات حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ میں نے ان سے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے نفع عطا کرے تو انہوں نے کہا: تم پر سجدے کرنا لازم ہے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔

بِحَدِيثٍ عَسَى اللَّهُ ← لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ لَهُ: ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1735

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1736

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ مَلَائِکَۃٌ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃُ النَّھَارِ فَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ الَّذِیْنَ بَاتُوا فِیکُمْ فَیَسْاَلُھُمْ رَبُّھُمْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ :کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِی ؟ قَالُوْا: تَرَکْنَا ھُمْ وَھُمْ یُصَلُّونَ وَاَتَیْنَاھُمْ وھم یصلون۔(3:66)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے تمہارے درمیان آتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں پھر جن فرشتوں نے تمہارے درمیان رات بسر کی ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتے ہیں، تو (اللہ تعالیٰ) ان سے سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں: ہم نے انہیں اس حالت میں چھوڑا ہے وہ نماز ادا کررہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ اس وقت بھی نماز ادا کررہے تھے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ رات کے فرشتے اس وقت نیچے اترتے ہیں۔ جب لوگ عصر کی نماز ادا کررہے ہوں، اور اسی وقت میں دن کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے: فرشتے سورج غروب ہونے کے بعد نیچے اترتے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1736

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1737

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ الْفَقِيهُ بِمَنْبِجَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تركناهموَھُمْ یُصَلُّونَ وَاَتَیْنَا ھُمْ وَھُمْ یُصَلُّونَ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے تمہارے درمیان آتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں پھر جن فرشتوں نے تمہارے درمیان رات بسر کی ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتے ہیں، تو (اللہ تعالیٰ) ان سے سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں: ہم نے انہیں اس حالت میں چھوڑا ہے وہ نماز ادا کررہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ اس وقت بھی نماز ادا کررہے تھے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ رات کے فرشتے اس وقت نیچے اترتے ہیں۔ جب لوگ عصر کی نماز ادا کررہے ہوں، اور اسی وقت میں دن کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے: فرشتے سورج غروب ہونے کے بعد نیچے اترتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ الْفَقِيهُ بِمَنْبِجَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1737

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1738

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ حَدَّثَنَا لَا یَلِجُ النَّارَ اَحَدٌ صَلّٰی قَبْلَ طُلُوْعِ الشمس وقب عروبھا۔(2:1)

۔ ابو بکر بن عمارہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز ادا کرتا ہو"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو بکر نامی راوی حضرت عمارہ بن رویبہ کا صاحبزادہ ہے، اس کے والد کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے، ابو بکر نامی راوی کی کنیت ہی اس کا نام ہے۔

لَا یَلِجُ النَّارَ اَحَدٌ صَلّٰی قَبْلَ طُلُوْعِ الشمس وقب عروبھا۔(2:1) ← الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1738

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1739

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ1، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قال: "من صلى البردين دخل الجنة"2. [1: 2]

۔ ابو بکر بن عمارہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں ادا کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو جمرہ نامی راوی بصرہ سے تعلق رکھنے والے "ثقہ" راویوں میں سے ایک ہے، اس کا نام نصر بن عمران ضبعیی ہے۔ ابو حمزہ نامی راوی وہاں کے "متقن" راویوں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام عمران بن ابو عطاء ہے، ان دونوں حضرات نے حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے احادیث کا سماع کیا ہے اور شعبہ نے ان دونوں سے سماع کیا ہے، یہ دونوں ایک ہی زمانے کے ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ1، ← أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1739

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1740

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَرْدَانِبَةَ2، حَدَّثَنَا رَقَبَةُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قال: نعم3. [1: 2]

ابو بکر بن عمارہ بن رویبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ "وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز ادا کرتا ہو"۔

نَعَمْ ← هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنْتَ ← "لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ← رَقَبَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَرْدَانَبَهْ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1740

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1045

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "تَبْلُغُ حِلْيَةُ أهل الجنة مبلغ الوضوء" 1. 2:1

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " اہل جنت کے زیور وہاں تک جائیں گے جہاں تک وضو کیا جاتا ہے۔"

"تَبْلُغُ حِلْيَةُ أهل الجنة مبلغ الوضوء" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1045

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1046

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ. وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: "بَلْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ فقال: "أرأيت لو كانت لرجل خيل غير مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ"؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ: أَلَا هَلُمَّ، أَلَا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بدلوا بعدك. فأقول: فسحقا فسحقا، فسحقا" 1.

حجرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ قبرستان تشریف لے گئے، تو آپ نے یہ دعا پڑھی: " تم پر سلام ہو اے اہل ایمان کی بستی کے رہنے والو! بے شک ہم بھی اللہ نے چاہا تو تم سے آ ملیں گے، میری یہ خواہش ہے میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھ لیا ہوتا۔" لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ؛ تم میرے ساتھی ہو ، ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو بعد میں آئئیں گےاور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہو گا۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ اپنی امت کے بعد میں آنے والے لوگوں کو کیسے پہنچا نیں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارا کی اخیال ہے، کہ اگر کسی شخص کا ایسا سیاہ گھوڑا ہو، جس کے ماتھے اور چاروں پاوں کے پاس سفید نشان ہو، تو وہ مکمل سیاہ گھوڑوں کے درمیان اس کو پہچان نہیں لے گا ۔ لوگوں نے عرض کی : جہ ہاں ، یو رسول اللہ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ بھی جب قیامت کے دن آئین گےتو وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی اور میں غرض ان لوگوں پر پیش رو ہوں گا، اور میرے حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کر دیا جائے گا ، جس طرح گم شدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکار کر کہوں گا ؛ آگے آو! آگے آو! تو کہا جائے گا ان لوگوں نے آپ کے بعد تبدیلی کی تھی ، تو میں کہوں گا : پرے ہو جاو، پرے ہو جاو، پرے ہو جاو۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : )ماضی کی چیز استثنیٰ کرنا نا ممکن ہے۔ استثنیٰ صرف ان چیزوں میں ہو سکتا ہے، جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہوں ۔ استثنیٰ کے بارے میں انسان کی حالت دو طرح کی ہو سکتی ہے ۔ اس وقت جب وہ اپنے ایمان میں استثنیٰ کرتا ہے ان میں سے ایک قسم وہ ہے، جس کو مطلق طور پر کرنا آدمی کے لئے مباح ہے۔ دوسری قسم وہ ہے اس میں انسان استثنیٰ کرے، تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔جہاں تک اس قسم کا تعلق ہے جو جائز نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی سے کہا جائےکیا تم اللہ تعالیٰ اس کے فرزتوں ، اس کی کتابوں ، رسولوں ، جنت ، جہنم ، دوبارہ زندہ ہونے، میزان اور ان جیسی دوسری چیزوں پر یقین رکھتے ہو تو آدمی پر لازم ہے وہ یہ کہے: میں اللہ تعالیٰ کے حق ہونے اور ان چیزوں کے حق ہونے پر ایمان رکھتا ہوں ۔ جب آدمی ان چیزوں کے بارے میں استثنیٰ کرے گا ، تو وہ کافر ہو جائے گا ، اور دوسری قسم یہ ہے، جب آدمی سے سوال کیا جائے کہ کیا تم ان مومنوں میں سے جو نماز قائم کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں اور ان میں خشوع کرتے ہیں اور وہ لغو چیزوں سے اعراض کرتے ہیں ، تو وہ شخص پھر یہ کہے، میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں ان میں سے ہوں گا ۔ یا اس سے یہ کہا جائے کہ کیا تم جنتی ہو، تو جنتین ہونے میں استثنیٰ کر لے۔ یہ فائدہ روایت سے اس طرح ثابت ہوتا ہے، نبی اکرم ﷺ یہ بات ارشاد فرمائی ہے، " بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملیں گے" ۔ یہ اس وقت ہواتھا جب نبی اکرم ﷺ چند صحابہ کے ہمراہ جنت البقیع تشریف لائے تھے ۔ جس میں مومن اور منافق دونوں لوگ تھے " بے شک اگر اللہ نے چاہا تو وہ مسلمان ہو کر تم لوگوں سے آملیں گے۔ اس کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہوتی ہے، لغت اس بات کو درست قرار دیتی ہے ، مستقبل سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کے بارے میں استثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس کے ہونے کے بارے میں شک نہ ہو۔اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: " اگر اللہ نے چاہا تو تم لوگ ضرور بہ ضرور امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1046

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ · حديث 1047

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ عَنِ بن مَسْعُودٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "غر محجلون بلق من آثار الطهور" 2.

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ نے اپنی امت کے جن افراد کو دیکھا نہیں آپ انہیں کیسے پہنچانیں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ وضو کے آثار سے چمک دار پیشانیوں والے ہوں گے۔

بن مَسْعُودٍ، أَنَّهُمْ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The section of E-mail · Hadith 1047

chevron_left Previous
1…474849…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr