صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2347
امُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي، فَأَوْتَرْتُ» (1) . [3: 61]
سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ رات کے وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تھے۔ میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان میں لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ جب آپ وتر ادا کرنے کا ارادہ کرتے تھے‘ تو آپ مجھے بیدار کر دیتے تھے‘ تو میں بھی وتر ادا کر لیتی تھی۔
«كَانَ النَّبِيُّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← امُ بْنُ عُرْوَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2347
