Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 382

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يعملها فإنذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ تَارِكَ السَّيِّئَةِ إِنَّمَا يُكْتَبُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً إِذَا تَرَكَهَا لِلَّهِ [382] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا أَرَادَ عَبْدِي أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَلَا تَكْتُبُوهَا عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلْهَا فإن فإن عَمِلَھَا فَاکْتُبُوھَا مِثْلَھَا فَاِنْ تَرَکَھَا مِنْ اَجْلِیْ فَاکْتُبُوھَا حَسَنَۃً فَاِنْ اَرَادَ اَنْ یَّعْمَلَ حَسَنَۃً فاکتبو ھا لہ حسنۃ فَاِنْ تَرَکَھَا مِنْ اَجْلِیْ فَاکْتُبُوھَا حَسَنّۃً فَاِنْ اَرَاَ اَنْ یَّعْمَلَ حَسَنَۃً فَاکْتُبُوھَا لَہٗ حَسَنۃً فَاِنْ عَمِلَھَا فَاکْتُبُوھَا لَہٗ عَشْرَۃَ اَمْثَالِھَا اِلٰی سبع مائۃ صعف (68:3)

اس بات کے بیان کا تذکرہ ‘ برائی کے ترک کرنے والے کو اس عمل کی وجہ سے ایک نیکی ملتی ہے ‘ جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کیلئے برائی کو ترک کیا ہو

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 382

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 383

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِالْحَسَنَةِ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَإِنْ هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ أَكْتُبْهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا كتبتها واحدة" 2.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے ‘جب میرا بندہ نیکی ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا‘ تو میں اسے ایک نیکی کے طور پر نوٹ کر لیتا ہوں اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے ‘ تو میں اسے دن نیکیوں کے طور پر نوٹ کر لیتا ہوں اور اگر میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کر لیتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو میں اسے نوٹ نہیں کرتا اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے : تو میں اسے ایک (برائی ) کے طور پر نوٹ کر تا ہوں‘‘۔ (امام بن حبان فرماتے ہیں : ) اللہ تعالی ٰ کا یہ فرمان : ’’ جب میرا بندہ ارادہ کرتا ہے‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے جب وہ عزم کرتا ہے ‘ تو یہاں عزم کے لئے لفظ ’’ہم ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے :’’ ہم‘‘ کی انتہا عزم ہے ‘ اور عرب اپنے محاورے میں کسی ابتداء والے اسم کا اطلاق انتہا پر کر دیتے ہیں ‘ اور انتہا والے اسم کا اطلاق آغاز پر کر دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے : ارادہ کرنا آدمی کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جاتا ‘ کیونکہ وہ صرف ایک خیال ہے اس کا کوئی حکم نہیں ہو گا۔ اور اس میں اس بات کا احتمال بھی موجود ہے کہ ‘ جو شخص نیکی ارادہ کرتا ہوا اللہ تعالیٰ اس کے لئے نیکی لکھ لیتا ہے اگرچہ اس نے اس کا پختہ ارادہ نہ کیا ہو اس اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اسلام کی فضیلت کی وجہ سے ایسا کر دیتا ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ کا بندے کو اسلام کی توفیق دینا ایک فضل ہے ‘ جو اس نے اپنے بندے پر کیا ہے ‘ اور بندہ جس نیکی کا ارادہ کرتا ہے ‘ اور اس پر عمل نہیں کرتا ہے اس کو نوٹ کر لینا بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہو گا ‘ اور بندہ جس برائی ارادہ کر کرتا ہے ‘ اور اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو اگر اللہ تعالیٰ اسے نوٹ کر لیتا ہے ‘ تو یہ انصاف کے مطابق ہو گا۔ لیکن ‘ کیونکہ اس کا فضل اس کے انصاف سے آگے نکل گیا ہے اس طرح اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے ‘ تو اس کے فضل اور اس کی رحمت میں یہ بات شامل ہے کہ مسلمانوں کے کمسن بچے ‘جب تک بالغ نہیں ہو جاتے اس وقت تک ان کا کوئی گناہ نوٹ نہ کیا جائے ‘ اور ان کی نیکیاں نوٹ کی جائیں۔ تو یہ اسی طرح ہو گا‘ اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 383

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 384

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا قَالَ " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبْتُ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبْتُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وإن هم بسيئة فلم يعملها لَمْ اَکْتُبْ عَلَیْہِ فَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبْتُھَا عَلَیْہِ سیئۃ واحدۃ ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے ‘ اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو میں اسے کے لئے ایک نیکی نوٹ کر لیتا ہوں اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے ‘ تو میں اس کے لئے دس گنا سے ساتھ سو گنا تک نوٹ کر لیتا ہوں اگر وہ ایک برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو میں اس کے خلاف کچھ نوٹ نہیں کرتا اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو میں اس کے خلاف ایک برائی نوٹ کرتا ہوں ‘‘۔

اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 384

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 385

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حدثنا بن الْمُبَارَكِ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي2 حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] ؟ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ "بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عن اللْمُنْکَرِ حَتّٰی اِذَا رَاَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَھَوًی مُتَّبَعًا وَدُنْیَا مُؤْثَرَۃً وَاِعْجَابَ کُلِّ ذِیْ رَاْی بِرَاْیِہِ فَعَلَیْکَ نَفْسَکَ وَدَعْ اَمْرَ الْعَوإامِّ فَاِنَّ مِنْ وَرَائِکُمْ اَیَّامًا الصَّبْرُ فِیْھِنَّ مِثْلُ قَبْصِ عَلَی الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِیْھِنَّ مِثْلُ اُجْرِ خَمْسِینَ رَجُلًا یَعْمَلُوْنَ مِثْلَ عَمَلِہٖ قَالَ وَزَادَنِیْ غَیْرُہٗ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَجْرُ خَمْسِینَ مِنْھُمْ قَالَ خمسین منکم

ابو اُمیہ شعبانی بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نےکہا : اے ابو ثعلبہ ! آپ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ’’جب تم لوگ اطاعت کر لو‘ تو گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ‘‘۔ تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم نے ایک ایسے شخص سے اس بارے میں دریافت کیا ہے ‘ جو اس بارے میں جانتا ہے میں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال کیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور ایک دوسرے کو برائی سے منع کرو‘ یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ کنجوسی کی پیروی کی جانے لگی ہے ، خواہش نفس کے پیچھے چلنے لگ پڑے ہیں۔ دنیا کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ ہر سمجھدار شخص اپنی رائے کے بارے میں خود پسندی کا شکار ہو چکا ہے ‘ تو اس وقت تم پر صرف اپنا خیال رکھنا لازم ہےتم لوگوں کے معاملے کو ترک کر دو‘ کیونکہ اس کے بعد ایسے دن آئیں گے جن میں صبر کرنا انگارے کو مٹھی میں لینے کی مانند ہو گا۔ ان دنوں میں عمل کرنے والے شخص کو اس کے عمل جیسے پچاس آدمیوں کے عمل کا ثواب ملے گا۔ جبکہ دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں سے پچاس آدمیوں کا اجر ملے گا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم لوگوں میں سےپچاس آدمیوں کا اجر ملے گا۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) اس بات کا امکان موجود ہے کہ ابن مبارک نے یہ الفاظ نقل کیے ہوں کہ دوسرے راوی نے مجھے مزید ( الفاظ ) بیان کیے ہیں۔

أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ ← عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ ← عتبة بن أبي حكيم ← بن الْمُبَارَكِ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 385

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 386

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ امرأة بغيا رأت كلباذكر الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ الْكَبَائِرَ الْجَلِيلَةَ قَدْ تُغْفَرُ بِالنَّوَافِلِ الْقَلِيلَةِ [386] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِیْ یَوْمٍ حَارٍّ یُطِیفُ بِبِئْرٍ قَدْ اَدْلَعَ لِسَانَہٗ مِنَ الْعَطَشِ فَنَزَعَتْ لَہٗ فَسَقَتْہُ فَغُفِرَ لھا ۔(6:3)

حضرت ابو ہریر ہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ’’ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتے کو دیکھا جو ایک کنویں کے کنارے چکر لگا رہا تھا‘ اور وہ اپنی زبان کی شدت کی وجہ سے باہر نکال رہا تھا۔ اس عورت نے اسےپانی نکال کر دیا اور اسے پلایا ‘ تو اس عورت کی مغفرت ہو گئی‘‘۔

الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 386

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1705

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ" 1.

ابو ملیح اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں :انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز کو قبول نہیں کرتا اور خیانت کے مال میں صدقے کو قبول نہیں کرتا ۔

"لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ" ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← أَبَا الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1705

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1706

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ1 أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ وَصَلَّی الصَّلَوَاتِ کُلَّھَا بِوَضُوءٍ واحد۔

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺنے وضو کرتے ہوئے اپنے موذوں پر مسح کیا آپ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کیں۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1706

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1707

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بوضوء واحد1.

ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لئے وضو کیا کرتے تھے ۔ جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے ایک ہی وضو کے ساتھ تمام نمازیں ادا کیں

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1707

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1708

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ قُدَیْدٍ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ فَضَالَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ وَقَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتِ کُلَّھَا یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ بِوَضُوْءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ فَقَالَ لَہٗ عُمَرُ اِنِّیْ رَاَیْتُک الْیَوْمَ صَنَعْتَ شَیْئًا لَمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ قَبْلَ الْیَوْمِ ، قَالَ: عَمْدًا فَعَلْتُ یَا عُمَرُ۔

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن تمام نمازیں ایک ہی وضو کے ساتھ ادا کیں ۔آپ نے ( وضو کرتے ہوئے ) اپنے موزوں پر مسح کیا ،حضرت عمر ؓ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میں نے آج آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جو آج آپ آج سے پہلے نہیں کیا کرتے تھے ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :اے عمر ! میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، وَقَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1708

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1709

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا وَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ فَصَلُّوا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكَ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ فيه للمسلمين بركة1.

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے سیدہ اسماؓ سے عارضی استعمال کے لئے ایک ہار لیا وہ گم ہو گیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا۔ ان لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا ۔انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز ادا کر لی ۔جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اس بات کی شکایت آپ کے سامنے کی ،تو تمیم کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گی ۔ اس پر حضرت اسیدبن حفیر ؓ نے کہا (یعنی سیدہ عائشہ ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ) اللہ تعالیٰ نے آ پ کو جزائے خیر عطا کرے اللہ کی قسم ! جب بھی آپ کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے نکلنے کا راستہ بنا دیا ، اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1709

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1710

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِ وَقَدْ كَشَفَ فَخِذَهُ فَقَالَ: "غطها فإنها عورة" 1.

حضرت جریر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے انہوں نے اس وقت اپنے زانوں سے کپڑا ہٹایا ہو تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے ڈھانپ لو، کیو نکہ یہ پردے کی چیز ہے ۔

جَدِّهِ جَرْهَدٍ ← زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1710

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ شُرُوطِ الصَّلَاةِ · حديث 1711

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ بن سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" 1.

سیدہ عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز چادر کے بغیر قبول نہیں کرتا ۔

"لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← بن سِيرِينَ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the terms of prayer · Hadith 1711

chevron_left Previous
1…343536…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr