صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1680
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ مَكْحُولًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً الْأَذَانُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". وَالْإِقَامَةُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إلا الله" 1.
عبداللہ محیر یز بیان کرتے ہیں : یہ حضرت ابو مخدورہ کے زیر پرورش تھے جب یہ شام جانے لگے تو یہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابو مخدورہ سے کہا میں شام جانے لگا ہوں مجھ سے اذان کے واقعہ کے بارے میں دریافت کیا جائے گا ۔ تو آپ مجھے اس بارے میں بتائے ، تو حضرت ابو مخد ورہ نے بتایا ہم کچھ لوگ روانہ ہوئے ہم حنین کے راستے میں کسی جگہ پر تھے اس وقت نبی اکرم ﷺحنین سے واپس تشریف لا رہے تھے نبی اکرم ﷺ کا سامنا راستے میں ہم سے ہوا اللہ کے رسول کے موذن نے نماز کے لئے نبی اکرم ﷺ کے پاس اذان دی ہم نے اس کی آواز سنی ہم راستے سے ایک طرف ہٹ چکے تھے ، تو ہم نے اس مذاق اُڑانے کے لئے ان کلمات کو بلند آواز میں دہرانا شروع کر دیا ۔نبی اکرم ﷺ نے یہ آواز سن لی ۔آپ نے دریافت کیا : تم میں سے کون اس شخص کو جانتا ہے ، جس کی آواز کو میں نے سنا ہے راوی بیان کرتے ہیں :پھر ہمیں لا کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑا کر دیا گیا ۔نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم میں سے کس کی آواز تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں ۔ سب لوگوں نےمیری طرف اشارہ کیا ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر ان سب کو نبی اکرم ﷺ نے چھوڑ دیا ۔ اور مجھے اپنے پاس روک لیا ۔ میرے نزدیک اس سے زیادہ ناپسنددیدہ چیز اور کوئی نہیں تھی جس کا حکم مجھے اللہ کے رسول مجھے دیں۔آپ نے مجھے اذان دینے کا حکم دیا نبی اکرم ﷺنے بذات خود مجھے اذان کے کلمات سکھائے آپ نے فرمایا : تم یہ کہو۔جب وہ اذان دے کر فارغ ہوئے ،تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے بلایا اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں تھوڑی سی چاندی تھی آپ نے دعا کی اے اللہ اس میں برکت دیں اور اس پر برکت دے ۔ راوی کہتے ہیں مین نے عرض کی : یا رسول اللہ !آپ مجھے اذان دینے کا حکم دیجیےنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:ہم تمہیں حکم دیتے ہیں :راوی کہتے ہیں ، تو میرے دل میں نبی اکرم ﷺ کے لئے جتنی بھی ناپسند یدگی تھی وہ سب محبت میں تبدیل ہو گی پھر مین نبی اکرم ﷺ کے مقرر کردہ گورنر حضرت عتاب بن اسید کے پاس آیا تو نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت میں نے مکہ میں اذان دینا شروع کر دی ۔ ابن جریج کہتے ہیں میرے خاندان کے کئی افراد نے ابن محریز کے حوالے سے یہ روایت حضرت ابو مخدرہ کے حوالے سے مجھے سنائی ۔
أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ ← عَامِرٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ مَكْحُولًا ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1680
