صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2935
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: "مَنْ أَنْتِ؟ " فَقَالَتْ: أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: "انْهَدِي 1 إِلَى قُبَاءَ فَأْتِيهِمْ" قَالَ: فَأَتَتْهُمْ فَحُمُّوا أَوْ لَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى مَا لَقِينَا مِنَ الْحُمَّى قَالَ: "إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ طَهُورًا" قَالُوا: بَلْ تَكُونُ طهورا2. [2:1]
حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: بخار نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے جوا ب دیا: میں اُم ّ ملدم ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم قباء کی طرف جاؤ اور وہاں چلے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: وہ وہاں چلا گیا ان لوگوں کو بخار رہنے لگ پڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان لوگوں کو اس کی وجہ سے شدت کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! کیا آپ ﷺ نے یہ بات ملاحظہ کی ہے کہ ہمیں کتنا بخار رہنے لگا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم لو گ چاہو، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کردیتا ہوں و ہ اسے تم سے دور کر دے گا اور گر تم چاہو، تو یہ تمہارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا، تو ان لو گوں نے عرض کی: اسے طہارت کے حصول کا ذریعہ رہنے دیں۔
فَأَتَتْهُمْ فَحُمُّوا أَوْ لَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَقَالُوا: ← "انْهَدِي إِلَى قُبَاءَ فَأْتِيهِمْ" ← أُمُّ مِلْدَمٍ؟ ← أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: "مَنْ أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى
Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2935
