Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ النَّوَافِلِ · حديث 2467

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، اَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْاَوَّلِ مِنْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ ، قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتِیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ بَعْدَ اَنْ یَّتَبَیَّنَ لَہُ الْفَجْرُ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْاَیْمَنِ حَتّٰی یَاْتِیَہُ الْمُؤَذِّ نُ لِلْاِقَامَۃِ ۔(4:5)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: مؤذن جب فجر کی نماز کی پہلی اذان دے کر خاموش ہوتا تھا نبی اکرمﷺاٹھ کر دو مختصر رکعات فجر کی نماز سے پہلے ادا کر لیتے تھے یہ صبح صادق ہو جانے کے بعد ادا کرتے تھے‘ پھر آپ اپنے دائیں پہلوکے بل لیٹ جاتے تھے یہاں تک کہ مؤذن آپ کو نماز قائم ہونے کی اطلاع دینے کےلئے آجاتا تھا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ ← مُحَمَّدٍ ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Bab Al-Nafil · Hadith 2467

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ النَّوَافِلِ · حديث 2468

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ» فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يَجْزِي أَحَدُنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ أَكْثَرَ (1) وَجَبُنَّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: «مَا ذَنْبِي إِنْ حَفِظْتُ شَيْئًا وَنَسُوا» (2) . [1: 78]

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص فجر کی دو رکعات سنت ادا کر لے‘ تو اسے دائیں پہلو کے بل لیٹ جانا چاہئے‘‘۔ اس پر مروان نے ان سے کہا: کیا کسی شخص کےلئے یہ بات جائز ہے‘ وہ لیٹنے سے پہلے مسجد کی طرف چل پڑے تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: جی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: اس بات کی اطلاع حضرت ابن عمرؓ کو ملی‘ تو وہ بولے: حضرت ابوہریرہؓ نے زیادہ سختی کر دی ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سےدریافت کیا گیا: کیا حضرت ابوہریرہؓ جو کہہ رہے ہیں کیا آپ اس سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا: جی نہیں انہوں نے ہم پر لازم ہونے والی چیزیں یاد رکھی ہیں‘ جنہیں وہ بھول گئے تھے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Bab Al-Nafil · Hadith 2468

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4405

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ*، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ مِنَّا، وَقَالَ: «مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ حَدًّا فَعُجِّلَتْ لَهُ عُقُوبَتُهُ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ أُخِّرَ عَنْهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ»

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیا ن کرتےہیں: نبی اکرمﷺ نے ہم سے بھی اسی طرح بیعت لی جس طرح ہماری خواتین سے لی تھی آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص ان میں سے کسی ایک قابل حد چیز کا مرتکب ہو جائے اور اسے دنیا میں سزا دے دی جائے ، تو یہ چیز اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس شخص سے یہ بات مؤخر ہو جائے (یعنی اسے دنیا میں سزا نہ ملے) تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا اگر وہ چاہے گا، تو اس پر رحم کر دے گا اور اگر چاہے گا، تو اسے عذاب دیدے گا۔

أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ مِنَّا، ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › The Boundaries Book · Hadith 4405

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4406

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهُمْ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ»

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب فساد ہی فساد ہوں گے، جو شخص اس امت میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرے، جبکہ وہ لوگ اکٹھے ہوں ، تو اسے تلوار کے ذریعے قتل کر دو، خواہ وہ جو کوئی بھی ہو “۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَرْفَجَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › The Boundaries Book · Hadith 4406

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4407

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ، بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةَ نَفَرٍ: التَّارِكُ لِلْإِسْلَامِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ»، قَالَ الْأَعْمَشُ، فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ، فَحَدَّثَنِي عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ایسے کسی بھی شخص کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، البتہ تین لوگوں کا حکم مختلف ہے، اسلام کو ترک کر کے (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص ، شادی شدہ زانی اور وہ شخص جسے کسی دوسرے (کے قتل کے بدلے میں ) قتل کیا جائے “۔ اعمش بیا ن کرتے ہیں : میں نے یہ روایت ابراہیم کو سنائی تو انہوں نے مجھے اسود کے حوالے سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول اسی کی مانند روایت سنائی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › The Boundaries Book · Hadith 4407

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ كِتَابُ الْحُدُودِ · حديث 4408

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”کسی ایسے شخص کا خون بہانا جائز نہیں ہے، جو اس بات کی گواہی دیتا ہو، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور” میں“ اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، البتہ تین لوگوں کا حکم مختلف ہے، شادی شدہ زانی ، جان کے بدلے میں جان، اور اپنے دین (یعنی دین اسلام) کو ترک کر کے (مسلمانوں کی ) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص (یعنی انہیں قتل کیا جائے گا) “۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › The Boundaries Book · Hadith 4408

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4409

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»

): حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاؤں، تو اسے مہلت دوں، جب تک میں چار گواہ نہیں لے آتا؟ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: جی ہاں!

لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4409

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4410

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا ظَهْرَ فِي قَوْمٍ الزِّنَى وَالرِّبَا إِلَّا أَحَلُوا بِأَنْفُسِهِمْ عِقَابَ اللَّهِ جَلَّا وَعَلَا»

عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد (حضر ت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی قوم میں زنا اور سود عام ہو جائیں، تو وہ لوگ اپنےلیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو حلال کر لیتے ہیں “۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4410

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4411

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَدْرُونَ [ص:260] مَنِ الْمُفْلِسُ؟ »، قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ، وَلَا مَتَاعَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، وَقَدْ شَتَمَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَ مَا عَلَيْهِ أَخَذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو،”مفلس“ کون ہوتا ہے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہمارے درمیان وہ شخص مفلس شمار ہوتا ہے، جس کے پاس درہم نہ ہوں اور سازو سامان نہ ہو، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہو گا، جو قیامت کے دن نماز، روزہ، اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، اور اس نے (دنیا میں ) کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، کسی کو مارا پیٹا ہو گا، تو اس شخص کو بٹھایا جائے گا اور اس کی کچھ نیکیاں کسی کو دے دی جائیں گی، کچھ نیکیاں کسی (دوسرے) کو دے دی جائیں گی ، یہاں تک کہ جب اس کے ذمے لازم ادائیگی سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی، تو دوسروں کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دئیے جائیں گے اور پھر اس شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4411

صیح ابن حبان · کتاب الحدود ‹ بَابُ الزِّنَى وَحَدِّهِ · حديث 4412

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چور، چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، زانی، زنا کرتےہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا اسے پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔ (تا ہم) اس کے بعد توبہ کی گنجائش ہوتی ہے “۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← الصُّوفِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Book boundaries › Only the door of fornication · Hadith 4412

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1167

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ اُمُّ سُلَیْمِ امْرَاَۃُ اَبِیْ طَلْحَۃَ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمِ ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ ، ھَلْ عَلَی الْمَرْاَۃِ مِنْ غُسْلٍ اِذَا ھِیَ احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، اِذَا رَاَتِ الماء۔3:65

سیدہ ام سلمہ ؓ کی صاحب زادی سیدہ زینب ؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : سیدہ ام سلیم ؓ جو حضرت ابو طلحہ انصاری کہ اہلیہ ہیں ۔ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاحر ہوئیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر غسل لازم ہو گا ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ جی ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے ( یعنی اس کی منی خارج ہو)

جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَتْ: ← أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Laughing door · Hadith 1167

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1168

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بن شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "الماء من الماء" 2. 57:3

حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " پانی ( یعنی منی کے خروج کی وجہ سے پانی ) پر غسل لازم ہو جاتا ہے ۔"

"الماء من الماء" ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بن شِهَابٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Laughing door · Hadith 1168

chevron_left Previous
1…116117118…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr