Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3108

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثَۃٌ اَخِلَّاءُ : اَمَّا خَلِیْلٌ ، فَیَقُوْلُ : مَا اَنْفَقَتْ فَلَکَ ، وَمَا اَمْسَکَتْ فَلَیْسَ لَکَ ، فَھٰذَا مَالُہُ ، وَاَمَّا خَلِیْلٌ فَیَقُوْلُ : اَنَا مَعَکَ فَاِذَا اَتَیْتَ بَابَ الْمَلِکِ تَرَکْتُکَ وَرَجَعْتُ ، فَذٰلِکَ اَھْلُہٗ وَحَشَمُہٗ ، وَاَمَّا خَلِیْلٌ ، فَیَقُوْلُ : اَنَا مَعَکَ حَیْثُ دَخَلْتَ وَحَیْثُ خَرَجْتَ ، فَھٰذَا عَمَلُہٗ ، فَیَقُوْلُ : اِنْ لَاَھْوَنَ الثَّلَاثَۃِ عَلَیَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " ابن آدم کے تین دوست ہیں جہاں تک ایک دوست کے تعلق ہے، تو وہ یہ کہتا ہے تم جو خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر مل جائے گا اور جو تم خرچ نہیں کرو گے اس کا تمہیں کچھ نہیں ملے گا یہ اس کا مال ہے ایک دوست یہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں جب تم بادشاہ ( یعنی خالق حقیقی ) کے دروازے پر آو گے (یعنی جب تم مر جاو گے) ، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور واپس آجاو ں گا یہ اس کے اہل خانہ اور جاہ و حشم ہیں اور ایک دوست یہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں تم جہاں بھی داخل ہو گے اور جہاں سے نکلو گے یہ اس کا عمل ہے، تو وہ بندہ یہ کہتا ہے تم، تو میرے نزدیک ان تینوں میں سب سے کم حیثیت کے مالک تھے۔"

اِنْ لَاَھْوَنَ الثَّلَاثَۃِ عَلَیَّ ← مَعَکَ حَیْثُ دَخَلْتَ وَحَیْثُ خَرَجْتَ فَھٰذَا عَمَلُہٗ ← مَعَکَ فَاِذَا اَتَیْتَ بَابَ الْمَلِکِ تَرَکْتُکَ وَرَجَعْتُ فَذٰلِکَ اَھْلُہٗ وَحَشَمُہٗ وَاَمَّا خَلِیْلٌ ← مَا اَنْفَقَتْ فَلَکَ وَمَا اَمْسَکَتْ فَلَیْسَ لَکَ فَھٰذَا مَالُہُ وَاَمَّا خَلِیْلٌ ← لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثَۃٌ اَخِلَّاءُ اَمَّا خَلِیْلٌ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3108

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3109

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصديق عن بن عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ قَالَ : بِسْمِ اللہ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا، توآپ ﷺ ییہ پڑھتے تھے۔ "اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ کے رسول کے دین پر (ایمان رکھتے ہوئے ہم اسے سپرد خاک کرتے ہیں)"

بِسْمِ اللہ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ ← بن عُمَرَ ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3109

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3110

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عن بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي اللَّحْدِ فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ" 1. [104:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اَبُو الصِّدِّیقِ بَکَرُ بقنُ قَیْسٍ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: :جب تم اپنے مردوں کو لحد میں رکھ دو، تو یہ پڑھو۔ " اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ کے رسولﷺ کی سنت کے مطابق ( ہم اسے دفن کرتے ہیں)"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو صدیق نامی راوی کا نام بکر بن قیس ہے۔

بن عُمَرَ ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3110

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3111

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ يَقُولُ: قَدِّمُونِي وَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ يَقُولُ: يَا وَيْلَتِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي" يُرِيدُ الْمُسْلِمَ والكافر 1. [71:3] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : رَوٰی ھٰذَا الْخَبَرَ سَعِیْدٌ الْمَقْبُرِیُّ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، وَعَنْ الرَّحْمٰنِ بْنِ مِھْرَانَ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب بندے کو چار پائی پر رکھا جاتا ہے ، تو وہ یہ کہتا ہے مجھے آگے لے جاو مجھے آگے لے جاو اور جب بندے کو چارپائی پر رکھا ہوتا ہے ، تو وہ یہ کہتا ہے ہائے افسوس! افسوس تم لوگ مجھے کہاں لے جا رہے ہو (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم ﷺ کی مراد مسلمان اور کافر (بندہ تھا)"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) یہ روایت سعید مقبری نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہہ سے نقل کی ہے اور عبدالرحمٰن بن مہران کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سے نقل کی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے منقول روایت کا متن حضرت اب ہریرہ رضی اللہ عنہہ کےحوالے سے منقول روایت سے زیادہ مکمل ہے۔ اسے ہم اس باب کے آغاز میں ذکر کر چکے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ وَعَنْ الرَّحْمٰنِ بْنِ مِھْرَانَ ← أَبِيهِ ← اَبُوْ حَاتِمٍ رَوٰی ھٰذَا الْخَبَرَ سَعِیْدٌ الْمَقْبُرِیُّ ← يَا وَيْلَتِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي" يُرِيدُ الْمُسْلِمَ والكافر ← قَدِّمُونِي وَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ ← "إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3111

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3112

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِلْقَبْرِ ضَغْطَةٌ لَوْ نَجَا مِنْهَا أَحَدٌ لَنَجَا مِنْهَا سعد بن معاذ" 1. [8:3]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: قبر (ہر مبردے کو) بھینچتی ہے، اگر کسی کو اس سے نجات ملنا ہوتی، تو سعد بن معاذ کو اس سے نجات مل جاتی۔

"لِلْقَبْرِ ضَغْطَةٌ لَوْ نَجَا مِنْهَا أَحَدٌ لَنَجَا مِنْهَا سعد بن معاذ" ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← صَفِيَّةَ ← نَافِعٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3112

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3113

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ وَكَانَ الصِّيَامُ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَتِ الزَّكَاةُ عَنْ شِمَالِهِ وَكَانَ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ. فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ الصِّيَامُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَسَارِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَتَقُولُ فعل الخيرات من الصدقة والصلة والمعروف وَالْاِحْسَانِ اِلَی النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَیْہِ ، فَیُؤْتٰی مِنْ قِبَلِ رَاْسِہٖ ، فَتَقُوْلُ الصَّلَاۃُ : مَا قِبَلِی مَدْخَلٌ ، ثُمَّ یُؤْتٰی عَنْ یَّمِیْنِہٖ ، فَیَقُوْلُ الصِّیَامُ : مَا قِبَلِی مَدْخَلٌ ، ثُمَّ یُؤْتٰی عَنْ یَّسَارِہِ ، فَتَقُوْلُ الزَّکَاۃُ : مَا قِبَلِی مَدْخَلٌ ، ثُمَ یُؤْتٰی مِنْ قِبَلِ رِجْلَیْہِ فَتَقُوْلُ فَعَلُ الْخَیْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَہِ وَالصِّلَۃِ وَالْمَعْرُوْفِ وَالْاِحْسَانِ اِلَی النَّاسِ : مَا قِبَلِی مَدْخَلٌ فَیُقَالُ لَہٗ : اجْلِسْ فَیَجْلِسُ ، وَقَدْ مُثِّلَتْ لَہُ الشَّمْسُ وََدْ اُدْنِیَتْ لِلْغُرُوبِ ، فَیْقَالُ لَہٗ: اَرَاَیْتَکَ ھٰذَا الرَّجُلَ الَّز،یْ کَانَ فِیکُمْ مَاتَقُوْلُ فِیْہِ ، وَمَاذَا تَشَھَّدُ بِہٖ عَلَیْہِ ؟ فَیَقُوْلُ : دَعُونِیْ حَتّٰی اُصَلِّیَ ، فَیَقُوْلُوْنَ : اِنَّکَ سَتَفْعَلُ ، اَخْبَرَنِیْ عَمَّا نَسْاَلُکُ عَنْہُ ، اَرَاَیْتَکَ ھٰذَا الرَّجُلَ الَّذِیْ کَانَ فِیْکُمْ مَا تَقُوْلُ فِیْہِ ، وَمَاذَا تَشَھَّدُ عَلَیْہِ ؟ قَالَ : فَیَقُولُ : مُحَمَّدٌ اَشْھَدُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللہِ ،وَاَنَّہٗ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللہِ ، فَیُقَالُ لَہٗ : عَلٰی ذٰلِکَ حَیِیتَ وَعَلٰی ذٰلِکَ مِتَّ ، وَعَلٰی ذٰلِکَ تُبْعَثُ اِنْ شَاءَ اللہُ ، ثُمَّ یُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنِّۃِ ، فَیُقَالُ لَہٗ : ھٰذَا مَقْعَدُکَ مِنْھَا ، وَمَا اَعَدَّ اللہُ لَکَ فِیْھَا ، فَیَزْدَادُ غِبْطَۃً وَسُرُورًا ، ثُمَّ یُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ مِنْ اَبْوَابِ النَّارِ ، فَیُقَالُ لَہٗ ، ھٰذَا مَقْعَدُکَ مِنْھَا وَمَا اَعَدَّ اللہُ لَکَ فِیْھَا لَوْ عَصِیْتَہُ ، فَیَزْدَادُ غِبْطَۃً وَسُرُورًا ، ثُمَّ یُفْسَحُ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَیْنُوَّرُ لَہٗ فِیْہِ ، وَیُعَادُ الْجَسَدُ لِمَا بَدَاَ مِنْہُ ، فَتَجْعَلُ نَسْمَتُہٗ فِی النَّسَمِ الطِّیِّبِ وَھِیَ طَیْرٌ یَعْلُقُ فِیْ شَجَرِ الْجَنَّۃِ ، قَالَ : فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ تَعَالٰی (یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا ، بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ) (ابراھیم:27) اِلٰی اٰخِرِ الْاٰیَۃِ قَالَ : وَاِنَّ الْکَافِرَ اِذَا اُتِیَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَیْہِ ، فَلَایُوجَدُ شَیْءٌ ، فَیُقَالُ لَہٗ : اجْلِسْ ، فَیَجْلِسُ خَائِقًا مَرْعُوبًا ، فَیُقَالُ لَہٗ : اَرَاَیْتَکَ ھٰذَا الرَّجُلَ الَّذِی کَانَ فِیکُمْ مَاذَا تَقُوْلُ فِیْہِ ؟ وَمَاذَا تَشَھَّدُ بِہٖ عَلَیْہِ ؟ فَیَقُوْلُ : اَیُّ رَجُلِ ؟ فَیُقَالُ : الَّذِی کَانَ فِیکُمْ ، فَلَا یَھْتَدِی لِاسْمِہٖ حَتّٰی یُقَالَ لَہٗ : مُحَمَّدٌ ، فَیَقُوْلُ : مَا اَدْرِی ، سَمِعْتُ النَّاسَ قَالُوْا قَوْلًا ، فَقُلْتُ کَمَا قَالَ النَّاسُ ، فَیُقَالُ لَہٗ : عَلٰی ذٰلِکَ حَیِیتَ ، وَعَلٰی ذٰلِکَ مِتَّ ، وَعَلٰی ذٰلِکَ تُبْعَثُ اِنْ شَاءَ اللہُ ، ثُمَّ یُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ مِنْ اَبْوَابِ النَّارِ فَیُقَالُ لَہٗ : ھٰذَا مَقْعَدُکَ مِنَا النَّارِ ، وَمَا اَعَدَّ اللہُ لَکَ فِیْھَا ، فَیَزْدَادُ حَسْرَۃً وَثُبُوْرًا ، ثُمَّ یُفْتَحُ لَہٗ بَابٌ مِنْ اَبْوَابِالْجَنَّۃِ ، فَیُقَالُ لَہٗ : ذٰلِکَ مَقْعَدُکَ مِنَ الْجَنَّۃِ ، وَمَا اَعَدَّ اللہُ لَکَ فِیْہِ لَوْ اَطَعْتَہٗ فَیَزْدَادُ حَسْرَۃً وَثُبُوْرًا ، ثُمَّ یُضَیَّقُ عَلَیْہِ قَبْرُہُ حَتّٰی تَخْتَلِفَ فِیْہِ اَضْلَاعُہُ ، فَتِلْکَ الْمَعِیشَۃُ الضَّنْکَۃُ الَّتِیْ قَالَ اللہُ (فَاِنَ لَہٗ مَعِیشَۃً ضَنْکًا وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامۃِ اَعْمَی) (طہ:124)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، تو وہ لوگوں کے جوتے کی چاپ بھی سنتا ہے، یہاں تک کہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور اگر وہ شخص مو من ہوتا ہے، تو نماز اس کے سرہانے آجاتی ہے اور روزہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے، زکوٰۃ اس کے بائیں طرف ہوتی ہے اور صدقہ و خیرات ، صلہ رحمی، بھلائی، لوگوں کے ساتھ احسان وغیرہ کرنے جیسی نیکیاں اس کے پاوں کے پاس آتی ہیں (فرشتے) اس کے سر کی طرف سے آنے کی کوشش کرتے ہیں، تو نماز کہتی ہے تم میری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے پھر وہ اس کے بائیں طر ف سے آتے ہیں، تو روزہ کہتا ہے تم میری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے پھر وہ اس کے پاوں کی طرف سے آتے ہیں، تو صدقہ ، صلہ رحمی، بھلائی اور لوگوں کے ساتھ احسان جیسی نیکیاں یہ کہتی ہیں: ہماری طرف سے داخل نہیں ہو سکتے پھر اس میت سے یہ کہا جاتا ہے: تم بیٹھ جاو وہ بیٹھ جاتا ہے اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج غرو ب ہونے کے قریب ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے: ان صاحب کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے، جو تمہارے درمیان موجود تھے تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم ان کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو وہ کہتا ہے تم لوگ مجھے موقع دو ، تاکہ میں نماز ادا کر لوں، تو فرشتے کہتے ہیں: تم ایسا کر لو گے تم مجھے اس چیز کے بارے میں بتاو جس کے بارے میں ہم نے دریافت کیا ہے: یہ صاحب جو تمہارے درمیان موجود تھے ان کے بار ے میں تمہاری کیا رائے ہے تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم ان کے بارے میں کیا گواہی دیتے ہو۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: وہ شخص کہتا ہے یہ حضرت محمد ﷺ ہیں میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسولﷺ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے طرف سے حق لے کر آئے تھے ، تو اس سے کہا جاتا ہے: تم اسی اعتقاد پر زندہ رہے اور اسی اعتقاد پر تم نے انتقال کیا اور اسی اعتقاد پر تمہیں زندہ کیا جائے گا اور اللہ نے چاہا پھر اس شخص کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا جنت کا ٹھکا نہ ہے اور وہ چیز ہے، جو جنت میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تیار کی ہے، تو اس شخص کے رشک اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے سامنے جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: اگر تم اس ( رسول ﷺ کی ) نافرمانی کرتے، تو تمہارا ٹھکا نہ یہ ہونا تھا اور اس میں اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو تمہارے لیے تیار رکھنا تھا، تو اس شخص کے رشک اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے ستر بالشت تک قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قبر میں روشنی کر دی جاتی ہے اس کے جسم کو اسی حالت میں لوٹا دیا جاتا ہے، جس سے اس کا آغاز ہوا تھا اور پھر اس کو پاکیزہ جسم میں رکھ دیا جاتا ہے، جو ایک پرندے کی شکل میں ہوتا ہے، جو جنت کے درخت سے لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے۔ " اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قو ل پر دنیاوی زند گی میں بھی اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے" یہ آیت آخر تک ہے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : جب کافر شخص کے سر ہانے کی طرف آیا جاتا ہے ( یعنی فرشتہ اس کے اس آنے کی کوشش کرتا ہے)، تو وہاں کوئی چیز نہیں ہوتی پھر دائیں طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کوئی چیز نہیں ہوتی پھر بائیں طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کوئی چیز نہیں ہوتی پھر پاوں کی طرف سے آیا جاتا ہے، تو وہاں بھی کچھ نہیں ہوتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: تم بیٹھ جاو، تو وہ خوف زدہ اور مرعوب ہو کر بیٹھ جا تا ہے اس سے کہا جاتا ہے: ان صاحب کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ جو تمہارے درمیان موجود تھے تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو اور تم اس کے بارے میں کس بات کی گواہی دیتے ہو، تو وہ دریافت کرتا ہے کون سے صاحب؟ تو اس سے کہا جاتا ہے: وہ جو تمہارے درمیان تھے، لیکن اسے ان کے نام کے بارے میں نہیں بتا یا جاتا، یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے: ہم حضرت محمد ﷺ ( کے بارے میں پوچھ رہے ہیں)، تو وہ شخص کہتا ہے مجھے نہیں معلوم میں نے لو گوں کو ایک بات کہتے ہو ئے سنا تھا ، تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جاتا ہے: تم اسی اعتقاد پر زندہ رہے اور اسی اعتقاد پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا، تو اسی اعتقاد پر زندہ ہو گے پھر اس کے لیے جہنم کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ جہنم میں تمہارا ٹھکانہ ہے اور وہ چیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم میں تمہار ے لیے تیار کیا ہے، تو اس کی حسرت اور افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے، اگر تم اس( رسول ﷺ کی) بات مان لیتے، تو یہ جنت تمہارا ٹھکانہ ہوتی تھی اور ، اس میں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو کچھ تیا ر کیا ہے وہ تمہیں ملنا تھا، تو اس کی حسرت اور افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے قبر کو تنگ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں یہ وہ گھٹن والی زند گی ہے اور ہم قیامت کے دن اسے نابینا ہونے کے طور پر اٹھائیں گے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3113

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3114

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ: مَا لِلنَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ, فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ فَأَشَارَتْ: أَيْ نَعَمْ قَالَتْ: فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ فَجَعَلْتُ أُصُبُّ الْمَاءَ فَوْقَ رَأْسِي فَلَمَّا انْصَرَفَ حَمِدَ اللَّهَ رَسُولَ اللَّهِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "مَا مِنْ شَيْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ- لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ- يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ -فَلَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ- فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ صَالِحًا قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ - لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ- فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يقولون شيئا فقلته" 1. [71:3]

سیّد ہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سورج گرہن ہوا ، تو میں عائشہ کے پاس آئی وہاں لوگ کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے عائشہ بھی کھڑی ہوئی نماز ادا کر رہی تھی میں نے کہا : لوگوں کو کیا ہوا ہے، تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا میں نے کہا: کیا کوئی نشانی نمودار ہوئی ہے، تو اس نے اشارے سے جواب دیا جی ہاں سیّد ہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں بھی کھڑی ہوئی یہاں تک کہ مجھ پے بے ہوشی طاری ہونے لگی، تو میں اپنے سر پر پانی انڈیلنے لگی جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کر لی، تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ " ہر وہ چیز جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی وہ میں نے اس جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے، یہاں تک کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھ لیا اور میر ی طرف یہ بات وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا جو دجال کی آزمائش کی مانند ہو گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے قریب ہو گی (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم سیّد ہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ بیان کیا تھا تم میں سے کسی ایک کے پاس (فرشتہ) آئے گا اور اس سے دریافت کیا جائے گا ان صاحب کے بارے میں تمہارا علم کیا ہے، تو اگر ، تو وہ ایمان رکھنے والا شخص ہو گا(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یقین رکھنے والا شخص ہو گا (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم تھا سیّد ہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ بیان کیا تھا، تو ہ یہ کہے گا یہ حضرت محمد ﷺ ہیں جو اللہ کے رسول ﷺ ہیں یہ ہمارے پاس وض تح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے ہم نے ان کی دعوت کو قبول کیا ہم ان پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی پیروی کی، تو اس شخص سے یہ کہا جائے گا تم اچھی حالت میں سو جاو ہمیں پتہ تھا تم ایمان رکھتے ہو اور اگر وہ شخص منافق ہو گا یا شک کا شکار ہو گا (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم کہ سیّد ہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ استعمال کیا تھا، تو وہ یہ کہے گا مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا، تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3114

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3115

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ1 حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فَتَّانَيِ الْقَبْرِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَتُرَدُّ عَلَيْنَا عقولنا يا رسول الله؟ فقال: نَعَمْ ، کَھَیْئَتِکُمْ الْیَوْمَ قَالَ فَبِفِیْہِ الْحَجَرُ

حضر ت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے قبر کی آزمائش کا ذکر کیا ، تو حضرت عمرو بن خطاب رضی اللہ عنہہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہماری عقول ہمیں لوٹائی جائیں گی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں جس طرح تم لوگ آج ہو، تو انہوں نے عرض کی: اس کے منہ پر پابندی ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ1 ← بن وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3115

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3782

وَحَدَّثَنَا اَیُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّرَاوِیْلُ لِمَنْ لَمْ یَجِدِ الْاِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ یَجِدِ النَّعْلَیْنِ قَالَ : فَقَالَ بِیَدِہٖ ، وَاَشَارَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، کَاَنَّہُ لَمْ یَعْبَاْ بِالْحَدِیثِ ، فَقُمْتُ مِنْ عِنْدَہٗ فَتَلَفَّانِی الْحَجَّاجُ بْنُ اَرْطَاۃَ دَاخِلَ الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : یَا اَبَا اَرْطَاۃَ مَا تَقُوْلُ فِیْ مُحْرِمٍ لَبَسَ السَّرَاوِیْلَ ، اَوْلَیَسَ الْخُفَّیْنِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنا عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ ،عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: السَّرَاوِیْلُ لِمَنْ لَمْ یَجِدِ الْاِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنق لَمْ یَجِدَ النَّعْلَیْنِ

): ایوب نے نافع کےحوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ "شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے ، جسے تہبند میسر نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے جوتے میسر نہ ہو"۔ 3782-1 -(سند حدیث): راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا، ابراہیم بن حجاج نے اشارہ کر کے بتایا کہ گویا انہوں نے حدیث کی کوئی پرواہ نہیں کی، تو میں ان کے پاس سے اٹھ گیا پھر حجاج بن ارطاۃ کی مجھ سے ملاقات مسجد کے اندر ہوئی، تو میں نے کہا: اے ارطاۃ ایسے محرم کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں: جو شلوار پہن لیتا ہے یا موزے پہن لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: عمرو بن دینار نے جابر بن زید کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ " شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے تہبند دستیاب نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے ، جسے جوتے دستیاب نہ ہوں"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← وَحَدَّثَنَا اَیُّوبُ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3782

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3783

وَحَدَّثَنِیْ اَبُوْ اِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، اَنَّہٗ قَالَ: السَّرَاوِیْلُ لِمَنْ لَمْ یَجِدِ الْاِزَارَ ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ یَجِدِ النِّعَالَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا بَالُ صَاحِبِکُمْ یَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا؟

ابو اسحاق نے حارث کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: "شلوار وہ شخص پہن سکتا ہے ، جسے تہبند دستیاب نہ ہو اور موزے وہ شخص پہن سکتا ہے، جسے جوتے دستیاب نہ ہوں"۔ حماد بن زید کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ لوگوں کے ساتھ کا کیا معاملہ ہے وہ، تو اس طرح کہتے ہیں۔

کَذَا وَکَذَا؟ ← قُلْتُ فَمَا بَالُ صَاحِبِکُمْ ← السَّرَاوِیْلُ لِمَنْ لَمْ یَجِدِ الْاِزَارَ وَالْخُفَّانِ لِمَنْ یَجِدِ النِّعَالَ ← عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← الْحَارِثِ ← وَحَدَّثَنِیْ اَبُوْ اِسْحَاقَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3783

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3784

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يلبس المحرم من الثياب؟ فقال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَیْنِ ، فَلْیَلْبَسِ الْخُفَّیْنِ ، وَلْیَقْطَعْھُمَا اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ ، وَلَا تَلْبَسُوْا مِنَ الثِّیَابِ شَیْئًا مَسَّہُ الْوَارْسُ وَالزأَعْفَرَانُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قمیض عمامہ شلوار ٹوپی اور موزے نہیں پہنے گا، جس شخص کو جوتے نہیں ملتے ، تو وہ موزے پہن لے، لیکن وہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ لے اور تم ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو ، جس پر ورس یا زعفران لگا ہوا ہو"۔

ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ مَا يلبس المحرم من الثياب؟ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3784

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3785

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِا للہِ بْنِ یَزِیدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنُ زَیْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ لَمْ یَجِدْ اِزَارًا ، فَلقیَلْبِسْ سَرَاوِیْلَ ،وَمَنْ لَمْ یَجِدْ نَعْلَیْنِ ، فَلْیَلْبَسْ خُفَّیْنِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جسے تہبند نہیں ملتا وہ شلوار پہن لے اور جسے جوتے نہیں ملتے وہ موزے پہن لے"۔

مَنْ لَمْ یَجِدْ اِزَارًا فَلقیَلْبِسْ سَرَاوِیْلَ ،وَمَنْ لَمْ یَجِدْ نَعْلَیْنِ فَلْیَلْبَسْ خُفَّیْنِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِا للہِ بْنِ یَزِیدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّۃَ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3785

chevron_left Previous
1…109110111…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr