صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 506
أخبرنا محمد بن أحمد بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي1 جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فليقل خيرا أو ليسكت" 2.
حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے‘‘۔ ( امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) ابو احور نامی راوی کا نام سلام بن سلیم ہے ‘ جبکہ ابو حصین کانام عثمان بن عاصم ہے‘ اور ابو صالح کا نام ذکوان بن سمان ہے۔ جبکہ حضرت ابو ہریرہؓ کا نام عبد اللہ بن عمرو دوسی ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← محمد بن أحمد بْنِ مَنْصُورٍ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of unveiling of peace and food · Hadith 506
