Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 501

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالْأَهْوَازِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَا تبدؤوا تَبْدَؤْوْا اَھْلِ الْکِتَابِ بِالسَّلَامِ وَاِذَا رَاَیْتُمُو ھُمْ فِیْ طَرِیْقِ فَاضْطَرُّو ھُمْ اِلٰی اَضْیَقِہِ

حضرت ابو رہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اہل کتا ب کو سلام میں پہل نہ کرو جب تم انہیں کسی راستے میں دیکھو‘ تو انہیں زیادہ تنگ راستے پر جانے کے لئے مجبور کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالْأَهْوَازِ

Hadith 501

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 502

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه سمع بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ إِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمُ السَّامُ عَلَيْكَ فَقُلْ وَعَلَيْكَ" 2. [4: 3]

عبد اللہ بن دینار بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’یہودی جب تم لوگوں کو سلام کرتے ہیں ‘ تو ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے : السام علیک ( یعنی تمہیں موت آئے) ‘ تو تم یہ کہو: وعلیک ( تمہیں بھی آئے)

بن عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 502

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 503

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فقَالَ "السَّامُ عَلَيْكُمْ فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا قَالَ قَالُوا نَعَمْ سَلَّمَ عَلَيْنَا قَالَ لَا إِنَّمَا قَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ أَيْ تُسَامُونَ دِينَكُمْ فَإِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الكتاب فقولوا وعليك" 1. [1: 78]

حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں : ایک یہودی نے نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب کو سلام کرتے ہوئے السام علیک ( آپ لوگوں کو موت آئے) کہا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے یہ دریافت کیا: کیا تم یہ بات جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے ۔ لوگوں نے عرض کی :جی ہاں ! اس نے ہمیں سلام کیا ہے۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی نہیں۔ اس نے یہ کہا ہے السام علیک یعنی تمہارا دین کمزور ہو ‘تو جب اہل کتاب میں سے کوئی شخص تمہیں ( اس طرح سے ) سلام کرے‘ تو تم یہ کہو وعلیک اور تم پر بھی ایسا ہی ہو‘‘۔

لَا إِنَّمَا ← نَعَمْ سَلَّمَ عَلَيْنَا ← النَّبِيُّ أَتَدْرُونَ مَا ← "السَّامُ عَلَيْكُمْ ← أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 503

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 504

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ بْنِ هَانِئٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ هانئ عن بن هَانِئٍ أَنَّ هَانِئًا لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ فَسَمِعَهُمْ يُكَنُّونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ قَالَ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ رَضُوا بِي حَكَمًا فَأَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فقَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَحَسَنٌ فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ قَالَ شُرَيْحٌ وَعَبْدُ اللَّهِ وَمُسْلِمٌ قَالَ فَأَيُّهُمْ أَكْبَرُ قَالَ شُرَيْحٌ قَالَ فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ فَلَمَّا أَرَادَ الْقَوْمُ الرُّجُوعَ إلىذكر إِيجَابِ الْجَنَّةِ لِلْمَرْءِ بِطِيبِ الْكَلَامِ وَإِطْعَامِ الطَّعَامِ [504] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ بْنِ هَانِئٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ هانئ عن بن هَانِئٍ أَنَّ هَانِئًا لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ فَسَمِعَهُمْ يُكَنُّونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ قَالَ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ رَضُوا بِي حَكَمًا فَأَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فقَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَحَسَنٌ فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ قَالَ شُرَيْحٌ وَعَبْدُ اللَّهِ وَمُسْلِمٌ قَالَ فَأَيُّهُمْ أَكْبَرُ قَالَ شُرَيْحٌ قَالَ فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ فَلَمَّا أَرَادَ الْقَوْمُ الرُّجُوعَ إلى بِلَادِھِمْ اَعْطَی کُلَّ رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَرْضًا حَیْثُ اَحَبَّ فِیْ بِلَادِہٖ قَالَ اَبُوْ شُرَیْحِ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْبِرْنِیْ بِشَیْءٍ یُوجِبُ لِیَ الْجَنَّۃَ قَالَ طِیبُ الْکَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَاِطْعَامُ الطَّعَامِ ۔(2:1)

اب ہانی بیان کرتے ہیں: جب حضرت ہانی ؓ اپنی قوم کے ہمراہ وفدکی شکل میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ان کے قوم کے افراد کو سنا کہ وہ حضرت ہانی ؓ کو ابو الحکم کی کنیت کے ساتھ بلا رہے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے انہیں بلایا اور ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ہی ’’ حکم ‘‘ ہے اور ’’ حکم ‘‘ اسی کی طرف لوٹتا ہے ‘ تو پھر تمہاری کنیت ’’ ابو الحکم ‘‘ کیوں ہے؟ حضرت ہانی ؓ نے عرض کی: جب میری قوم کے افراد کسی چیز کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں‘ تو وہ میرے حکم ( ثالث) ہونے سے راضی ہوتے ہیں ‘‘ تو میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ‘ یہ تو چھی بات ہے اور یہ جو بچے ہیں شریح ہو‘پھر نبی اکرمﷺ نے انہیں اور ان کے بچوں کو بلایا جب ان کی قوم کے افراد اپنے علاقے میں واپس جانے لگے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ان میں سے ہر ایک شخص کو وہ زمین عطا کی جو اسے اپنے علاقے میں پسند ہو‘ تو حضرت ابو شریح نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اآپ مجھے ایسی چیز کے بارے بتایئے جو میرے لئے جنت کو واجب کر دے‘ نبی اکرمﷺ نےفرمایا : پاکیزہ کلام کرنا سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانا۔

بن هاني ← الْمِقْدَامِ بْنِ هانئ ← يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 504

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 505

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ "تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ" 2. [0: 00]

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیا ۔ کون سا اسلام زیادہ بہتر ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اورجسے تم جانتے ہو اور جسے نہیں جانتے اسے سلام کرو۔

"تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ" ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 505

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 506

أخبرنا محمد بن أحمد بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي1 جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فليقل خيرا أو ليسكت" 2.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کہے یا پھر خاموش رہے‘‘۔ ( امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) ابو احور نامی راوی کا نام سلام بن سلیم ہے ‘ جبکہ ابو حصین کانام عثمان بن عاصم ہے‘ اور ابو صالح کا نام ذکوان بن سمان ہے۔ جبکہ حضرت ابو ہریرہؓ کا نام عبد اللہ بن عمرو دوسی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← محمد بن أحمد بْنِ مَنْصُورٍ

Hadith 506

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 507

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أبيهذكر رَجَاءِ دُخُولِ الْجِنَانِ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَفْشَى السَّلَامَ مَعَ عِبَادَةِ الرَّحْمَنِ [507] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اعْبُدُوا الرَّحْمٰنَ وَاَفْشُوا السَّلَامَ وَاَطْعِمُوا الطَّعَامَ تَدْخُلُوْا الْجِنَانَ

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’رحمان کی عبادت کرو‘ سلام کو پھلاؤ ‘ کھانا کھلاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ‘‘۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى ← أبيهذكر رَجَاءِ دُخُولِ الْجِنَانِ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَفْشَى السَّلَامَ مَعَ عِبَادَةِ الرَّحْمَنِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 507

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 508

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ2 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِذَا عَمِلْتُهُ أَوْ عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ "أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلِ الجنة بسلام" 3. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھےکسی ایسی چیز کے بارے میں بتایئے کہ جب میں اس پر عمل کروں‘ تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم سلام کو پھیلاؤ کھانا کھلاؤ صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت نوافل ادا کرو جب لوگ سو رہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

قُلْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مَيْمُونَةَ2 ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو عَامِرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Hadith 508

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ اِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِطْعَامِ الطَّعَامِ · حديث 509

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ بن مُعَانِقٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وأفشى السلام وصلى بالليل والناس نيام" 1.

حضرت ابو مالک اشعری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ‘ جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ان لوگوں کے لئے تیار کئے ہیں جو کھانا کھلاتا ہے ، سلام کو پھیلاتا ہے اور رات کے وقت نماز ادا کرتا ہے‘ جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں‘‘۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں : ابن معانق نامی راوی کا نام عبد اللہ بن معانق اشعری ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← بن مُعَانِقٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 509

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr