صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2431
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْأَذَانُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ» (1) . [5: 10]
عروہ بیان کرتے ہیں۔ سیّدہ عائشہؓ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے۔ نبی اکرمﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے لے کر صبح صادق ہونے تک گیارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ آپ ہر دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیتے تھے۔ ایک رکعت وتر ادا کرتے تھے۔ آپ اس میں اپنے سجدے کے دوران اتنی دیر ٹھہرے رہتے تھے جتنی دیر میں کوئی شخص پچاس ( 50) آیات کی تلاوت کرتا ہو‘ جب مؤذن فجر کی اذان دے کر فارغ ہوتاتھا تو آپ اٹھ کر دو رکعات ادا کر لیتے تھے‘ پھر آپ دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے تھے یہاں تک کے مؤذن آپ کو بلانے کے لئے آجاتا تھا۔
حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،
Hadith 2431
