صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2419
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: «إِنَّكَ تَقْدُمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ فَلْیَکُنْ اَوَّلَ مَاتَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ عِبَادَۃُ اللہِ ، فَاِذَا عَرَفُوا اللہَ فَاَخْبِرْھُمْ اَنَّ اللہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ یَوْمِھِمْ وَلَیْلَتِھِمْ ، فَاِذَا فَعَلُوہُ فَاَخْبِرْھُمْ اَنَّ اللہَ قَدْ فَرَضَ عَلَیْھِمْ زَکَاۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَمْوَالِھِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ ، فِاِذَا اَطَاعُوْا بِھٰذَا فَخُذْ مِنْھُمْ ، وَتَوَقَّ کَرَائِمَ اَمْوَالِ النَّاسِ ۔(34:5)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے حضرت معاذؓ کو یمن بھیجا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس جا رہے ہو تم نےسب سے پہلے انہیں اس بات کی دعوت دینی ہے‘ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں جب وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل لر لیں‘ تو تم نے انہیں بتانا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں جب وہ ایسا کریں‘ تو تم نے انہیں بتانا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے‘ جو ان کے اموال میں سے وصول کی جائے گی اور ان غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی اگر وہ اس بات میں تمہاری اطاعت کریں‘ تو تم ان سے زکوٰۃ کی وصولی کر لینا اور لوگوں کے عمدہ حاصل کرنے سے بچنے کی کوشش کرنا۔ ( امام ابن حبانؒ فرمانے ہیں: ) اس نوعیت کی روایات سے اس بات پر استدلال کیا جا سکتا ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں اور ہم نے جو چیز پہلے ذکر کی ہے اس میں بکثرت اس بات کا بیان موجود ہے جو اس شخص کو بے نیاز کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ سیدھے راستے کی توفیق عطا کرے اور ہدایت کے راستے کی طرف اس کی رہنمائی کرے کہ وتر فرض نہیں ہے کیونکہ نبی اکرمﷺ نےحضرت معاذؓ کو یمن بھیجا تھا اور آپ نے دنیا سے تشریف لے جانے سے کچھ دن پہلے بھیجا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ ان لوگوں کو بتا دیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وتر بھی فرض ہوتے یا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی نماز میں مزید کسی بات کا اضافہ کیا ہوتا جیسا کہ وہ شخص اس بات کا قائل ہے جو علم حدیث سےناواقف ہے اور صحیح اور غیر مستند روایات کےدرمیان تمیز نہیں کر سکتا تو نبی اکرمﷺ حضرت معاذ بن جبلؓ کو یہ ہدایت کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر چھ نمازیں فرض کی ہیں پانچ نمازیں فرض نہیں کی ہیں تو ہم نےجو چیز ذکر کی ہے اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہےکہ وتر فرض نہیں ہیں ۔ باقی توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہو سکتی ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 2419
